ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّکُونِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ کَمَا بَيْنَ صَنْعَائَ وَأَيْلَةَ کَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ
ولید بن شجاع، بن ولید سکونی ابی ؓ زیادہ بن خیثمہ سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارے لئے پیش خیمہ ہوں گا اور اس حوض کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ مقام صنعاء اور مقام ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں کوزے ستاروں کی طرح ہوں گے۔
Jabir bin ahadeeth reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Behold, I shall be present ahead of you on the Cistern, and the distance between its different sides would be like that between Sana and Aila, and its jugs would be like stars in the sky.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ أَخْبِرْنِي بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَنَا الْفَرَطُ عَلَی الْحَوْضِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، حاتم بن اسماعیل مہاجر بن مسمار حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ کی طرف اپنے غلام نافع کے ہاتھ ایک خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے اس چیز کی خبر دو کہ جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں میں حوض کوثر پر تمہارے پیش خیمہ ہوں گا۔
Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported: I wrote (a letter) to Jabir bin ahadeeth (and it was sent) through my servant Nafi asking him to inform me about something (pertaining to the Haud Kauthar). He wrote to me: I heard him (the Holy Prophet) say: I shall be there ahead of you at the Haud Kauthar.
نبی ﷺ کے اس اکرام کے بیان میں کہ فرشتوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر کفار سے قتال کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيکَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابواسامہ مسعر سعد بن ابراہیم، حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا میں نے ان کو نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی دیکھا یعنی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام۔
Sad reported that on the Day of Ubud I saw on the right side of Allahs Messenger ﷺ and on his left side two persons dressed in white clothes and whom I did not see before nor after that, and they were Gabriel (علیہ السلام) and Michael (Allah be pleased with both of them).
نبی ﷺ کے اس اکرام کے بیان میں کہ فرشتوں نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر کفار سے قتال کیا ہے۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا سَعْدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ عَنْهُ کَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
اسحاق بن منصور عبدالصمد عبدالوارث ابراہیم بن سعد، سعد، ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں طرف دو آدمیوں کو دیکھا جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آدمی آپ ﷺ کی طرف خوب شدت سے قتال کر رہے تھے میں نے ان کو نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔
Sad bin Abu Waqqas reported: I saw on the right side of Allahs Messenger ﷺ and on his left side two persons with white clothes on the Day of Uhad fighting a desperate fight, and I saw them neither before nor after that.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَی الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَی فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ وَکَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، سعید بن منصور، ابوربیع عتکی ابوکامل یحییٰ یحیی حماد بن زید ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور تمام لوگوں سے زیادہ سخی اور تمام لوگوں سے زیادہ بہادر تھے ایک رات مدینہ منورہ والے گھبرا گئے اور جس طرف سے آواز آرہی تھی صحابہ کرام ؓ اس طرف چل پڑے راستے میں آپ ﷺ ان لوگوں کو واپس آتے ہوئے ملے اور آپ ﷺ اس آواز کی طرف سب سے پہلے تشریف لے گئے اور آپ ﷺ حضرت ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے پر سوار تھے جو کہ ننگی پیٹھ تھا اور آپ کی گردن میں تلوار (لٹکی ہوئی) تھی اور فرما رہے تھے کوئی گھبرانے کی بات نہیں کوئی گھبرانے کی بات نہیں اور آپ ﷺ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں سمندر کی طرح پایا اور یہ تو دریا ہے اور وہ گھوڑا پہلے سست رفتاری میں مشہور تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was the sublimest among people (in character) and the most generous amongst them and he was the bravest of men. One night the people of Madinah felt disturbed and set forth in the direction of a sound when Allahs Messenger ﷺ met them on his way back as he had gone towards that sound ahead of them. He was on the horse of Abu Talha which had no saddle over it, and a sword was slung round his neck, and he was saying: There was nothing to be afraid of, and he also said: We found it (this horse) like a torrent of water (indicating its swift-footedness), whereas the horse had been slow before that time.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَکِبَهُ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوگئی تو نبی ﷺ نے حضرت ابوطلحہ ؓ کا گھوڑا مانگا جسے مندوب کہا جاتا تھا آپ ﷺ اس گھوڑے پر سوار ہوئے اور فرمایا ہم نے تو کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا۔
Anas reported that there was consternation in Madinah. The Messenger of Allah ﷺ borrowed the horse from Abu Talha which was called Mandub. He rode it and said: We have found no reason for consternation, and we have found it to be (as quick as a torrent) of water.
نبی ﷺ کی شجاعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ فَرَسًا لَنَا وَلَمْ يَقُلْ لِأَبِي طَلْحَةَ وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث شعبہ، ابن جعفر حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ ہمارا گھوڑا لیا اور اس میں حضرت ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے کا ذکر نہیں اور خالد کی روایت میں عَنْ قَتَادَةَ کی جگہ سَمِعْتُ أَنَسًا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Anas with a slight variation of wording.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَکَانَ أَجْوَدَ مَا يَکُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَلْقَاهُ فِي کُلِّ سَنَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّی يَنْسَلِخَ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد زہری، ابوعمران محمد بن جعفر، بن زیاد ابراہیم ابن شہاب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ابن مسعود حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں میں سے مال کے عطا کرنے میں سخی تھے اور تمام اوقات سے زیادہ رمضان کے مہینے میں آپ ﷺ کی سخاوت ہوتی تھی اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال رمضان کے اختتام تک آپ سے ملاقات کرتے تھے رسول اللہ ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو قرآن مجید سناتے تھے اور جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو آپ ﷺ چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ was the most generous of people in charity, but he was generous to the utmost in the month of Ramadan. Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) would meet him every year during the month of Ramadan until it ended, and Allahs Messenger ﷺ recited to him the Quran; and when Gabriel (علیہ السلام) met him, Allahs Messenger ﷺ was most generous in giving charity like the blowing wind.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوکریب ابن مبارک یونس عبد حمید عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفًّا قَطُّ وَلَا قَالَ لِي لِشَيْئٍ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَهَلَّا فَعَلْتَ کَذَا زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَهُ وَاللَّهِ
سعید بن منصور، ابوربیع حماد بن زید ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کا شرف حاصل ہوا اللہ کی قسم آپ ﷺ نے مجھے کبھی بھی اف تک نہیں فرمایا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا۔ حضرت ابوالربیع نے یہ الفاظ زائد کہے ہیں کہ جو کام خادم کو کرنا چاہئے اور وَاللَّهِ کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported: I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and, by Allah, he never said to me any harsh word, and he never said to me about a thing as to why I had done that and as to why I had not done that. Abu Rabi has made this addition (in this narration): "The work which a servant should do." There is no mention of his words "By Allah".
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْکِينٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ
شیبان بن فروخ سلام بن مسکین بنانی حضرت انس ؓ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْکَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَکَذَا وَلَا لِشَيْئٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَکَذَا
احمد بن حنبل زہیر بن حرب، اسماعیل احمد بن اسماعیل بن ابراہیم، عبدالعزیز، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف لے کر چل پڑے اور عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ انس عقلمند لڑکا ہے یہ آپ ﷺ کی خدمت کرے گا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سفر اور حضر میں آپ کی خدمت کی اللہ کی قسم آپ ﷺ نے کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا ہو کبھی نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور نہ ہی اس کام کے بارے میں جس کو میں نے کیا ہو آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ یہ کام تو نے کیوں نہیں کیا۔
Anas reported: When Allahs Messenger ﷺ came to Madinah, Abu Talha took hold of my hand and brought me to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, Anas is a prudent young boy, and he will serve you. He (Anas) said: I served him in journey and at home, but, by Allah, he never asked me about a thing which I did as to why I did so, nor about a thing which I did not do as to why I had not done that.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر زکریا، سعید بن انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مجھے نو سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا ہے میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کبھی فرمایا ہو تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے کوئی نکتہ چینی کی۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I served the Messenger of Allah ﷺ for nine years, and I do not know (of any instance) when he said to me: Why you have done this and that, and he never found fault with me in anything.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ إِسْحَقُ قَالَ أَنَسٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّی أَمُرَّ عَلَی صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقَالَ يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
ابومعن رقاشی زید بن زید عمر بن یونس عکرمہ ابن عمار اسحاق، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے ایک دن آپ ﷺ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا اور میرے جی میں یہ بات تھی کہ جس کام کا اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے حکم فرمایا ہے اس کے لئے میں ضرور جاؤں گا تو میں نکلا یہاں تک کہ میں کچھ ایسے بچوں کے پاس سے گزرا کہ وہ بازار میں کھیل رہے تھے اچانک میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ پیچھے سے میری گدی پکڑے ہوئے ہیں حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ مسکرا رہے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے انس کیا تو وہاں گیا تھا؟ جہاں جانے کا میں نے تجھے حکم دیا تھا حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول میں اب جا رہا ہوں۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ had the best disposition amongst people. He sent me on an errand one day, and I said: By Allah, I would not go. I had, however, this idea in my mind that I would do as Allahs Apostle ﷺ had commanded me to do. I went out until I happened to come across children who had been playing in the street. In the meanwhile, Allahs Messenger ﷺ came there and he caught me by the back of my neck from behind me. As I looked towards him I found him smiling and he said: Anas, did you go where I commanded you to go? I said: Allahs Messenger, yes, I am going.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا أَوْ لِشَيْئٍ تَرَکْتُهُ هَلَّا فَعَلْتَ کَذَا وَکَذَا
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے نو سال تک آپ ﷺ کی خدمت کی میں نہیں جانتا کہ کسی کام کے بارے میں آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا یا کسی ایسے کام کے بارے میں کہ جس کو میں نے نہ کیا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔
Anas further said: I served him for nine years but I know not that he ever said to me about a thing which I had done why I did that, or about a thing I had left as to why I had not done that.
رسول اللہ ﷺ کی سخاوت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا
شیبان بن فروخ ابوربیع عبدالورث ابوتیاح، حضرت انس ؓ بن مالک سے روایت ہے کہ (کبھی بھی ایسا نہیں ہوا) کہ رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ was the best amongst people in disposition and behaviour.
رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا و
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو بن منکدر جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ ﷺ نے " نہ " فرمایا ہو (یعنی آپ ﷺ سے جس چیز کا بھی سوال کیا گیا آپ ﷺ نے وہ چیز فوراً عطا فرما دی )۔
Jabir bin Abdullah reported: It never happened that Allahs Messenger ﷺ was asked for anything and he said: No.
رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا مِثْلَهُ سَوَائً
ابوکریب اشجعی محمد بن مثنی، عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah through another chain of transmitters.
رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ قَالَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَی قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَائً لَا يَخْشَی الْفَاقَةَ
عاصم، بن نضر تیمی خالد ابن حارث حمید موسیٰ بن انس، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (جس کسی نے) اسلام قبول کرنے پر رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی آپ نے وہ چیز عطا فرما دی راوی کہتے ہیں ایک آدمی آیا آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ واپس اپنی قوم کی طرف آیا اور اس نے کہا اے قوم اسلام قبول کرلو کیونکہ محمد ﷺ اتنا عطا فرماتے ہیں کہ فاقہ کشی کا خوف ہی نہیں رہتا۔
Musa bin Anas reported on the authority of his father: It never happened that Allahs Messenger ﷺ was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want.
رسول اللہ ﷺ کی جود وسخاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَی قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَائً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُسْلِمُ حَتَّی يَکُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے دو پہاڑوں کی بکریاں مانگیں تو آپ نے اسے اتنی ہی بکریاں عطا فرما دیں وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے قوم اسلام قبول کرلو اللہ کی قسم! محمد ﷺ اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ پھر محتاجی کا خوف ہی نہیں رہتا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سوائے دنیا حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول نہیں کرتا لیکن مسلمان ہونے کے بعد اسلام اس کی نظر میں آپ ﷺ کی صحبت اختیار کرنے کی وجہ سے ساری دنیا سے زیادہ اسے محبوب ہوجاتا ہے۔
Anas b. Malik reported that a person requested Allahs Apostle ﷺ to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains.