نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَی بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ
حجاج بن شاعر، عبدالصمد حماد ابن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ بن جراح اور حضرت ابوطلحہ ؓ کے درمیان آپس میں بھائی چارہ قائم کرایا تھا۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ established fraternity between Abu Ubaida bin Jarrah and Abu Talha.
نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ قِيلَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ أَنَسٌ قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ
ابوجعفر محمد بن صباح حفص بن غیاث حضرت عاصم بن احول ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام میں حلف نہیں ہے۔ تو حضرت انس ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان حلف کروایا تھا۔
It was said to Anas bin Malik (RA): You must have heard this that Allahs Messenger ﷺ said: There is no alliance (hilf) of brotherhood in Islam. Anas said: Allahs Messenger ﷺ established the bond of fraternity between the Quraish and the Ansar in his home.
نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدہ بن سلیمان عاصم، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں جو کہ مدینہ منورہ میں تھا قریش اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرایا تھا۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ established fraternity between the Quraish and the Ansar in his house at Madinah.
نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابواسامہ زکریا، سعد بن ابراہیم، حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جائیداد کا وارث بنانے والے حلف (قسم) کا اسلام میں کوئی اعتبار نہیں اور زمانہ جاہلیت میں جو حلف نیکی کے لئے تھا وہ اب اسلام میں اور زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔
Jubair bin Mutim reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is no alliance (hilf) in Islam but (the hilf) established in the pre-Islamic days (for good). Islam intensifies and strengthens it.
اس بات کے بیان میں کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے لئے امن کا باعث تھے اور آپ کے صحابہ (رض) امت کے لئے امن کا باعث ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ کُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ جَلَسْنَا حَتَّی نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَائَ قَالَ فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَکَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّی نُصَلِّيَ مَعَکَ الْعِشَائَ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَی السَّمَائِ وَکَانَ کَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَی أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَی أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عمر بن ابان حسین ابوبکر حسین بن علی جعفی مجمع بن یحییٰ سعید بن حضرت ابوبردہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے رہیں یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھ لیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کیا تم یہیں ہو؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی پھر ہم نے سوچا کہ ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کے ساتھ پڑھ لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا یا آپ نے فرمایا تم نے درست کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ بہت کثرت سے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہوجائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا (یعنی قیامت)۔ تو میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے آئیں گے جن سے ڈرایا گیا ہے اور میرے صحابہ ؓ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام ؓ چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔
Abu Burda reported on the authority of his father: We offered the sunset prayer along with Allahs Apostle ﷺ . We then said: If we sit (along with Allahs Messenger) and observe night prayer with him it would be very good, so we sat down and he came to us and said: You are still sitting here. I said: Allahs Messenger, we observed evening prayer with you, then we said: Let us sit down and observe night prayer along with you, whereupon he said: You have done well or you have done right. He then lifted his head towards the sky and it often happened that as he lifted his head towards the sky, he said: The stars are a source of security for the sky and when the stars disappear there comes to the sky, i. e. (it meets the same fate) as it has been promised (it would plunge into darkness). And I am a source of safety and security to my Companions and when I would go away there would fall to the lot (of my Companions) as they have been promised with and my Companions are a source of security for the Umma and as they would go there would fall to the lot of my Umma as (its people) have been promised.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ
ابوخیثمہ زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ضبی زہیر سفیان بن عیینہ، عمرو جابر، حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کے لئے نکلیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو وہ کہیں گے جی ہاں ہے تو پھر ان کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں لوگ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی کے ساتھ (تابعی) کو دیکھا ہو تو وہ کہیں گے کہ جی ہاں ہے تو پھر انہیں فتح حاصل ہوگی۔
Abu Said Khudri reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A time would come for the people when groups of people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw Allahs Messenger ﷺ ? And they would say: Yes, and they would be victorious. Then the people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw those (who have had the privilege of sitting in the company of Allahs Messenger ﷺ ? And they would say: Yes, and victory would be granted to them. Then a group of persons would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw one of those who saw those who (had the privilege) of sitting in the company of Allahs Messenger ﷺ ? And they would say: Yes, and the Victory would be granted to them.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمْ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيکُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَی مَنْ رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَکُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَی مَنْ رَأَی أَحَدًا رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ
سعید بن یحییٰ بن سعید اموی، ابن جریح، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ دیکھو کیا تمہارے اندر نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی صحابی ہے تو ایک صحابی پایا جائے گا جس کی وجہ سے ان لوگوں کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک دوسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے کیا ان میں کوئی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو تو پھر اس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک تیسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والوں (یعنی تبع تابعین) کو دیکھا ہے اور ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک چوتھی جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں (یعنی تبع تابعی کو دیکھنے والا) کو دیکھا ہے تو ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی ہوگا جس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہوگی۔
Abu Said Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would come to the people a time when a detachment would be sent for fighting in the cause of Allah and they would say: See, if you can find amongst them someone from amongst the Companions of Allahs Apostle ﷺ . They would find a person and they would be granted victory because of him. Then a second detachment would be sent to them and they would say: Do you find amongst them one who had had the privilege of seeing the Companions of the Apostle of Allah ﷺ ? -and the victory would be granted to them because of him. Then the third detachment would be sent and it would be said to them: See, if you find amongst them (who had had the honour of seeing one) who saw those who saw the Companions of Allahs Apostle ﷺ . Then the fourth detachment would be sent and it would be said to them: See it you find amongst them one who had the privilege (of seeing) one who saw those who saw those who saw the Companions of Allahs Apostle ﷺ , and a person would be found and they would be granted victory because of him.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ لَمْ يَذْکُرْ هَنَّادٌ الْقَرْنَ فِي حَدِيثِهِ و قَالَ قُتَيْبَةُ ثُمَّ يَجِيئُ أَقْوَامٌ
قتیبہ بن سعید، ہناد بن سری ابوالاحوص منصور ابراہیم، بن یزید عبیدہ سلیمانی حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہوں گے جو مجھ سے متصل بعد میں آئیں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ کے جو ان کے بعد آئیں گے پر ایک ایسی قوم آئے گی کہ جن کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی نہاد نے اپنی روایت میں قرن یعنی زمانے کا ذکر نہیں کیا قتیبہ نے " اقوام " کا لفظ کہا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best of my Umma would be those of the generation nearest to mine. Then those nearest to them, then those nearest to them, then people would come whose witness would precede the oath and the oath will precede the witness. Hannad has not made the mention of Qarn in his narration. Qutaiba said that, instead of the word Qaum, the word Aqwam has been used.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ کَانُوا يَنْهَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ عَنْ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، حنظلی اسحاق عثمان جریر، منصور ابراہیم، عبیدہ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے زمانے کے لوگ اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ کہ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر ایک ایسی قوم آئے گی جن میں سے کچھ کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔
Abdullah reported: It was asked from Allahs Apostle ﷺ who amongst the people were the best. He said: (People) of my generation, then those next to them, then those next to them, then there would come a people whose evidence would precede their oath and their oath would precede their evidence. Ibrahim said: They forbade us to make vows and bear witness when we were too young.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَجَرِيرٍ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت منصور ابوالاحوص اور جریر کی سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں لیکن ان دونوں روایتوں میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا۔
This hadith has been transmitted by Mansur on the authority of Abu al-Ahwas and Jarir with a slight variation of wording.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ
حسن بن علی حلوانی، ازہر بن سعد سمان، ابن عون، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جن میں سے کچھ کی گواہی قسم سے پہلے اور کچھ کی قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔
Abdullah (b. Masud) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The best among people are of my generation, then those next to them. (The narrator said): I do not know whether (he said) it three times or four times. Then there would fellow after them such persons whose evidence would precede the oath, and in case of some others, the oath (would precede) the evidence.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
یعقوب بن ابراہیم، ہشیم ابی بشر اسماعیل بن سالم ہشیم ابوبشر عبداللہ بن شقیق حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں کہ جن میں میں بھیجا گیا ہوں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور اللہ زیادہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے لوگوں کا ذکر کیا یا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے کہ جو موٹا ہونے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی مانگے گواہی دیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may, peace be upon him) as saying: The best age of my Umma is one in which I was sent (by Allah as an Apostle), then the one next to that. (The narrator said): And Allah knows best whether he stated this third (time) or not. Then there would come people who would love (to look) bulky and they would hasten to the witness box before they are asked to bear witness.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن نافع غندر شعبہ، حجاج بن شاعر، ابو ولید ابوعوانہ، حضرت ابوبشر ؓ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ حضرت شعبہ ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے دوسرے نمبر پر فرمایا یا تیسرے نمبر پر فرمایا۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters (but with this variation) that Abu Hurairah (RA) said: I do not know whether he (the Holy Prophet) said (these words:" Then next") twice or thrice.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ عِمْرَانُ فَلَا أَدْرِي أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار غندر شعبہ، حضرت عمران بن حصین بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ حضرت عمران ؓ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بعد دو نمبر ذکر فرمائے یا تین نمبر پھر کہ ان کے بعد ایک ایسی قوم کے لوگ آئیں گے جو بغیر گواہی مانگے کے گواہی دیں گے اور خیانت کریں گے اور انہیں امانت دار نہیں سمجھا جائے گا اور منتیں مانیں گے لیکن ان کو پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔
Imran bin Husain reported Allahs-Messenger ﷺ as saying: The best among you (are) the people (who belong to) my age. Then those next to them, then those next to them, then those next to them. Imran said: I do not know whether Allahs Messenger ﷺ said twice or thrice (the words:" Then next") after (saying) about his (own age but he then said): Then after them (after successors or those who would succeed them) would come a people who would give evidence before they are asked for it, and would be dishonest and not trustworthy, who would make vows but would not fulfil them, and would be significant in being bulky.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ قَالَ لَا أَدْرِي أَذَکَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ وَجَائَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَی فَرَسٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَی وَشَبَابَةَ يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ يُوفُونَ کَمَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید عبدالرحمن بن بشر عبدی بہز محمد بن رافع شبابہ، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ان ساری روایات میں یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں یا تین زمانوں کا ذکر فرمایا اور شبابہ کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے زہدم بن مضرب سے سنا اور وہ میرے پاس گھوڑے پر اپنی کسی ضرورت کے لئے آئے تھے انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین ؓ سے سنا اور یحییٰ اور شبابہ کی روایت میں (يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ ) کے الفاظ ہیں اور بہز کی روایت میں يُوفُونَ ہے جیسا کہ ابن جعفر نے کہا۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters (and the words are): I do not know whether he made a mention of two generations after his generation or of the third one too. Shababa said: I heard this from Zahdam bin Mudarrib as he came to me riding a horse for some need and he narrated it to me that he had heard it from Imran bin Husain, and in the hadith transmitted on the authority of Yahya and Shababa (the words are): They take an oath but they do not fulfil it, and in the hadith transmitted on the authority of Bahz there the word is Yafun as transmitted on the authority of Ibn Jafar.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ عَنْ عِمْرَانَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ
قتیبہ بن سعید، محمد بن عبدالملک اموی ابوعوانہ، محمد بن مثنی، ابن بشار معاذ بن ہشام ابوقتادہ، زرارہ بن اوفی حضرت عمران بن حصین نبی ﷺ سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں اس امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جس زمانے میں مجھے بھیجا گیا ہے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ابوعوانہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے زمانے کا بھی ذکر فرمایا نہیں اور حضرت ہشام عن قتادہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ لوگ قسمیں کھائیں گے حالانکہ ان سے قسم نہیں مانگی جائے گی۔
This hadith has been narrated on the authority of Imran bin Husain through another chain of transmitters (and the words are): The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of Imran. And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ
ابوبکر بن ابی شبیہ شجاع بن مخلد ابوبکر حسین بن علی جعفی زئدہ سدی عبداللہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے بہترین لوگ کون سے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس زمانے کے لوگ کہ جس میں میں ہوں پھر دوسرے زمانے کے لوگ پھر تیسرے زمانے کے لوگ۔
Aisha reported that a person asked Allahs Apostle ﷺ as to who amongst the people were the best. He said: Of the generation to which I belong, then of the second generation (generation adjacent to my generation), then of the third generation (generation adjacent to the second generation).
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَائِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ أَرَأَيْتَکُمْ لَيْلَتَکُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِکَ الْقَرْنُ
محمد بن رافع عبد بن حمید، محمد بن رافع عبد عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم بن عبداللہ ابوبکر بن سلیمان حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارک کے آخر میں ایک رات ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی تو جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا ہے کیونکہ اب سے سو سال کے بعد زمین والوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مبارک سمجھنے میں لغزش ہوگئی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان مبارک کا مطلب یہ تھا کہ اس روئے زمین پر آج کے دن تک جو انسان موجود ہے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اور یہ زمانہ ختم ہوجائے گا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ led us Isha prayer at the latter part of the night and when he had concluded it by salutations he stood up and said: Have you seen this night of yours? At the end of one hundred years after this none would survive on the surface of the earth (from amount my Companions). Ibn Umar (RA) said: People were (not understanding) these words of the Messenger of Allah ﷺ which had been uttered pertaining to one hundred years. Allahs Messenger ﷺ in fact meant (by these words) that on that day none from amongst those who had been living upon the earth (from amongst his Companions) would survive (after one hundred years) and that would be the end of this generation.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَعْمَرٍ کَمِثْلِ حَدِيثِهِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب و لیث، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر، حضرت زہری ؓ سے معمر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been transmitted by Zuhri on the authority of Mamar.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ
ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج ابن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرما رہے تھے کہ تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو لیکن قیامت کا علم تو صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے اور ہاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے کہ اس پر سو سال کا عرضہ گزر جائے اور پھر وہ زندہ رہے (یعنی سرزمین عرب پر آج موجود کوئی جاندار سو سال بعد باقی نہیں رہے گا)۔
Jabir bin Abdullah reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying this one month before his death: You asked me about the Last Hour whereas its knowledge is with Allah. I, however, take an oath and say that none upon the earth, the created beings (from amongst my Companions), would survive at the end of one hundred years.