نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، حضرت ابن جریج ؓ اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس روایت میں آپ ﷺ کی وفات سے ایک ماہ پہلے کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters, but there is no mention of the words:" one month before his death".
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی کِلَاهُمَا عَنْ الْمُعْتَمِرِ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ذَلِکَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ نَقْصُ الْعُمُرِ
یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبد اعلی معتمر ابن حبیب معتمر بن سلیمان ابونضرہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے تقریبا ایک ماہ قبل فرمایا اس وقت کوئی انسان بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک سو سال گزر جانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے صاحب السقایہ حضرت عبدالرحمن نے اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ نقل کی ہے اور حضرت عبدالرحمن ؓ نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ عمریں بہت کم ہوجائیں گی۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Apostle ﷺ as saying one mouth before his death (or something like it): None amongst the created beings who had been living by that time (during the lifetime of Allahs Apostle) ﷺ .... Abdul Rahman has interpreted these words of Allahs Apostle ﷺ as: The ages (of the people) would be diminished.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حضرت سلیمان تیمی ؓ سے دونوں سندوں کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman Taimi through other chains of transmitters.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوکَ سَأَلُوهُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَی الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ
ابن نمیر، ابوخالد داؤد ابوبکر بن ابی شیبہ، سلیمان بن حیان داؤد ابی نضرہ حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روئے زمین پر آج جتنے بھی انسان موجود ہیں ان میں سے کسی پر بھی سو سال نہیں گزریں گے۔
Abu Said reported that when Allahs Apostle ﷺ came back from Tabuk they (his Companions) asked about the Last Hour. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: There would be none amongst the created beings living on the earth (who would survive this century).
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ فَقَالَ سَالِمٌ تَذَاکَرْنَا ذَلِکَ عِنْدَهُ إِنَّمَا هِيَ کُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ
اسحاق بن منصور ابو ولید ابوعوانہ، حصین سالم، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے کہ وہ سو سال تک کو پہنچ جائے حضرت سالم ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اس چیز کا ذکر حضرت جابر ؓ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہر وہ انسان ہے کہ جو اس دن پیدا ہوا۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ said: None amongst the created beings (from my Companions) would survive after one hundred years. Salim said: We made a mention of it to him (Jabir), whereupon he said: It means those who had been living on that day.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، یحییٰ ابومعاویہ اعمش ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ؓ کو برا نہ کہو میرے صحابہ کو برا نہ کہو اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے گا تو وہ صحابہ کے ایک مد خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکے گا اور نہ ہی صحابہ کے آدھے مد کا صدقہ کرنے کو پہنچ سکتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not revile my Companions, do not revile my Companions. By Him in Whose Hand is my life, if one amongst you would have spent as much gold as Uhud it would not amount to as much as one much on behalf of one of them or half of it.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْئٌ فَسَبَّهُ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا حضرت خالد نے حضرت عبدالرحمن کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ میرے صحابی کو دو مد یا آدھے مد کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتا۔
Abu Said reported there was some altercation between Khalid bin Walid and Abdul Rahman bin Auf and Khalid reviled him. Thereupon Allahs Messwger ﷺ said: None should revile my Companions. for if one amongst you were to spend as much gold as Uhud, it would not amount to as much as one mudd of one of them or half of it.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَکِيعٍ ذِکْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ
ابوسعید اشج ابوکریب وکیع، اعمش، عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، شعبہ، حضرت اعمش ؓ جریر اور ابومعاویہ ؓ کی سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور وکیع کی روایت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت خالد بن ولید ؓ کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of al-Amash and there is no mention by Shubah and Waki of Abdul Rahman bin Auf and Khalid.
حضرت اویس قرنی (رح) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ أَهْلَ الْکُوفَةِ وَفَدُوا إِلَی عُمَرَ وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ الْقَرَنِيِّينَ فَجَائَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيکُمْ مِنْ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ کَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوْ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْکُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَکُمْ
زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ سعید جریر، ابی نضرہ، حضرت اسیر بن جابر ؓ سے روایت ہے کہ کوفہ کے لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں آئے اس وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا کہ جو حضرت اویس قرنی (رح) کے ساتھ تمسخر کیا کرتا تھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہاں کوئی قرنی ہے تو وہی آدمی (حضرت اویس قرنی (رح) ) آئے تو حضرت عمر ؓ فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا جسے اویس کہا جاتا ہے۔ وہ یمن کو اپنی والدہ کے سوا نہیں چھوڑے گا اسے برص کی بیماری ہوگی۔ وہ اللہ سے دعا کرے گا تو اللہ اس سے اس بیماری کو دور فرمادے گا سوائے ایک دینار یا ایک درہم کے ( یعنی دینار یا درہم کے بقدر برص کی بیماری کے نشان باقی رہ جائے گا) تو تم میں سے جو کوئی بھی اس سے ملاقات کرے تو وہ اپنے لئے ان سے مغفرت کی دعا کرائے۔
Usair bin Jabir reported that a delegation from Kufa came to Umar and there was a person amongst them who jeered at Uwais. Thereupon Umar said: Is there amongst us one from Qaran? That person came and Umar said: Verily Allahs Messenger ﷺ has said: There would come to you a person from Yemen who would be called Uwais and he would leave none in Yemen (behind him) except his mother, and he would have the whiteness (due to leprosy) and he supplicated Allah and it was cured except for the size of a dinar or dirham. He who amongst you meets him should ask him to supplicate for forgiveness (from Allah) for you.
حضرت اویس قرنی (رح) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَکَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَکُمْ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عفان بن مسلم حماد بن سلمہ حضرت سعید بن جریری ؓ سے اس سند کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ تابعین میں سے سب سے بہترین وہ آدمی ہوگا جسے اویس کہا جائے گا اس کی ایک والدہ ہوگی اور اس کے جسم پر سفیدی کا ایک نشان ہوگا تو تمہیں چاہئے کہ اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا۔
Umar bin Khattab reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Worthy amongst the successors would be a person who would be called Uwais. He would have his mother (living with him) and he would have (a small) sign of leprosy. Ask him to beg pardon for you (from Allah).
حضرت اویس قرنی (رح) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَی عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ سَأَلَهُمْ أَفِيکُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ حَتَّی أَتَی عَلَی أُوَيْسٍ فَقَالَ أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَکَانَ بِکَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ لَکَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي عَلَيْکُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ کَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَکَ فَافْعَلْ فَاسْتَغْفِرْ لِي فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ الْکُوفَةَ قَالَ أَلَا أَکْتُبُ لَکَ إِلَی عَامِلِهَا قَالَ أَکُونُ فِي غَبْرَائِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ فَوَافَقَ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ قَالَ تَرَکْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ قَلِيلَ الْمَتَاعِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي عَلَيْکُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ کَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَکَ فَافْعَلْ فَأَتَی أُوَيْسًا فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي قَالَ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ فَاسْتَغْفِرْ لِي قَالَ لَقِيتَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ فَانْطَلَقَ عَلَی وَجْهِهِ قَالَ أُسَيْرٌ وَکَسَوْتُهُ بُرْدَةً فَکَانَ کُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ قَالَ مِنْ أَيْنَ لِأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن بشار، اسحاق ابن مثنی معاذ بن ہشام ابوقتادہ، زراوہ بن اوفی، حضرت اسیر بن جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس جب بھی یمن سے کوئی جماعت آتی تو حضرت عمر ؓ ان سے پوچھتے کہ کیا تم میں کوئی اویس بن عامر ہے یہاں تک کہ ایک جماعت میں حضرت اویس آگئے تو حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا آپ قبیلہ مراد سے اور قرن سے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا آپ کو برص کی بیماری تھی جو کہ ایک درہم جگہ کے علاوہ ساری ٹھیک ہوگئی انہوں نے فرمایا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا آپ کی والدہ ہیں انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس حضرت اویس بن عامر یمن کی ایک جماعت کے ساتھ آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی پھر ایک درہم جگہ کے علاوہ صحیح ہوجائیں گے ان کی والدہ ہوگی اور وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے گا اگر تم سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا۔ تو آپ میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیں۔ حضرت اویس قرنی (رح) نے حضرت عمر ؓ کے لئے دعائے مغفرت کردی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ حضرت اویس (رح) فرمانے لگے کوفہ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا میں وہاں کے حکام کو لکھ دوں۔ حضرت اویس (رح) فرمانے لگے کہ مجھے مسکین لوگوں میں رہنا زیادہ پسندیدہ ہے۔ پھر جب آئندہ سال آیا تو کوفہ کے سرداروں میں سے ایک آدمی حج کے لئے آیا تو حضرت عمر ؓ نے ان سے حضرت اویس (رح) کے بارے میں پوچھا تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں حضرت اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ ان کا گھر ٹوٹا پھوٹا اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تمہارے پاس یمن کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت اویس بن عامر آئیں گے جو کہ قبیلہ مراد اور علاقہ قرن سے ہوں گے ان کو برص کی بیماری ہوگی جس سے سوائے ایک درہم کی جگہ کے ٹھیک ہوجائیں گے ان کی والدہ ہوں گی وہ اپنی والدہ کے فرمانبردار ہوں گے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے اگر آپ سے ہو سکے تو ان سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا تو اس آدمی نے اسی طرح کیا کہ حضرت اویس (رح) کی خدمت میں آیا اور ان سے کہا: میرے لئے دعائے مغفرت کردیں۔ حضرت اویس (رح) نے فرمایا تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو تم میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ اس آدمی نے کہا کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ حضرت اویس (رح) پھر فرمانے لگے کہ تم ایک نیک سفر سے واپس آئے ہو، تم میرے لئے دعائے مغفرت کرو۔ حضرت ایوس (رح) نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیا تم حضرت سے ملے تھے؟ اس آدمی نے کہا ہاں۔ تو پھر حضرت اویس (رح) نے اس آدمی کے لئے دعائے مغفرت فرما دی۔ پھر لوگ حضرت اویس قرنی (رح) کا مقام سمجھے۔ راوی اسیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اویس کو ایک چادر اوڑھا دی تھی تو جب بھی کوئی آدمی حضرت اویس کو دیکھتا تو کہتا کہ حضرت اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آگئی؟
Usair bin Jabir reported that when people from Yemen came to help (the Muslim army at the time of jihad) he asked them: Is there amongst you Uwais bin Amir? (He continued finding him out) until he met Uwais. He said: Are you Uwais bin , Amir? He said: Yes. He said: Are you from the tribe of Qaran? He said: Yes. He (Hadrat) Umar (again) said: Did you suffer from leprosy and then you were cured from it but for the space of a dirham? He said: Yes. He (Umar) said: Is your mother (living)? He said: Yes. He (Umar) said: I heard Allahs Messenger ﷺ say: There would come to you Uwais bin Amir with the reinforcement from the people of Yemen. (He would be) from Qaran, (the branch) of Murid. He had been suffering from leprosy from which he was cured but for a spot of a dirham. His treatment with his mother would have been excellent. If he were to take an oath in the name of Allah, He would honour that. And if it is possible for you, then do ask him to beg forgiveness for you (from your Lord). So he (Uwais) begged forgiveness for him. Umar said: Where do you intend to go? He said: To Kufa. He (Umar) said: Let me write a letter for you to its governor, whereupon he (Uwais) said: I love to live amongst the poor people. When it was the next year, a person from among the elite (of Kufa) performed Hajj and he met Umar. He asked him about Uwais. He said: I left him in a state with meagre means of sustenance. (Thereupon) Umar said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: There would come to you Uwais bin Amir, of Qaran, a branch (of the tribe) of Murid, along with the reinforcement of the people of Yemen. He had been suffering from leprosy which would have been cured but for the space of a dirham. His treatment with his mother would have been very kind. If he would take an oath in the name of Allah (for something) He would honour it. Ask him to beg forgiveness for you (from Allah) in case it is possible for you. So he came to Uwais and said.: Beg forgiveness (from Allah) for me. He (Uwais) said: You have just come from a sacred journey (Hajj) ; you, therefore, ask forgiveness for me. He (the person who had performed Hajj) said: Ask forgiveness for me (from Allah). He (Uwais again) said: You have just come from the sacred journey, so you ask forgiveness for me. (Uwais further) said: Did you meet Umar? He said: Yes. He (Uwais) then begged forgiveness for him (from Allah). So the people came to know about (the status of religious piety) of Uwais. He went away (from that place). Usair said: His clothing consisted of a mantle, and whosoever saw him said: From where did Uwais get this mantle?
مصروالوں کو نبی ﷺ کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْکَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا قَالَ فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجَ مِنْهَا
ابوطاہر ابن وہب، حرملہ ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، حرملہ ابن عمران تجیبی عبدالرحمن بن شماسہ مہری حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب تم ایک ایسا علاقہ فتح کرو گے کہ جس میں قیراط کا رواج ہوگا تو تم اس علاقے والوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ ان لوگوں کا تم پر حق بھی ہے اور رشتہ بھی اور جب تم وہاں دو آدمیوں کے درمیان ایک اینٹ جگہ کے لئے لڑتے ہوئے دیکھو تو پھر وہاں سے نکل جانا۔ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ ربیعہ اور عبدالرحمن بن سرجیل ایک اینٹ کی جگہ کی خاطر لڑ رہے ہیں تو پھر وہ اس جگہ سے نکل آئے۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You would soon conquer a land where people are in the habit of using foul language. They have a right of kinship upon you. And when you see two persons fighting for the space of a brick, then get out of that. He (Abu Dharr) then happened to pass by Rabila and Abdul Rahman, the two sons of Shurahbil bin Hasana, and they had been disputing for the space of a brick. So he left the land.
مصروالوں کو نبی ﷺ کی وصیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّی فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَی أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا
زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید وہب بن جریر، حرملہ مصری عبدالرحمن بن شماشہ ابی بصرہ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب تم لوگ مصر کو فتح کرو گے وہ ایسی زمین ہے کہ جس میں قیراط کا لفظ بولا جاتا ہے تو جب تم مصر میں داخل ہو تو وہاں کے رہنے والوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ ان کا تم پر حق بھی ہے اور رشتہ بھی۔ یا آپ ﷺ نے فرمایا ان کا حق بھی ہے اور دامادی کا رشتہ بھی تو جب تو دو آدمیوں کو دیکھے کہ وہ ایک اینٹ کی جگہ میں جھگڑ رہے ہیں تو وہاں سے نکل جانا ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن شرجیل بن حسنہ اور اس کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ پر جھگڑتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You would soon conquer Egypt and that is a land which is known (as the land of al-qirat). So when you conquer it, treat its inhabitants well. For there lies upon you the responsibility because of blood-tie or relationship of marriage (with them). And when you see two persons falling into dispute amongst themselves for the space of a brick, than get out of that. He (Abu Dharr) said: I saw Abdul Rahman bin Shurahbil bin Hasana and his brother Rabiah disputing with one another for the space of a brick. So I left that (land).
عمان والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَی حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا سَبُّوکَ وَلَا ضَرَبُوکَ
سعید بن منصور، مہدی بن میمون ابی وازع جابر، بن عمرو راسبی حضرت ابوبرزہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کی طرف بھیجا تو اس قبیلے والوں نے اس آدمی کو گالیاں دیں اور انہوں نے اسے مارا تو وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ کو خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو عمان والوں کے پاس جاتا تو وہ تجھے نہ تو گالیاں دیتے اور نہ ہی تجھے مارتے۔
Abu Barza reported that Allahs Messenger ﷺ sent a person to a tribe amongst the tribes of Arabia. They reviled him and beat him. He came to Allahs Messenger ﷺ and narrated to him (the story of atrocities perpetrated upon him by the people of the tribe). Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you were to come to the people of Uman, they would have neither reviled you nor beaten you.
قبیلہ ثقیف کے کذاب اور اس کے ظالم کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَی عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ حَتَّی مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ کُنْتُ أَنْهَاکَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ کُنْتُ أَنْهَاکَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ کُنْتُ أَنْهَاکَ عَنْ هَذَا أَمَا وَاللَّهِ إِنْ کُنْتَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا وَصُولًا لِلرَّحِمِ أَمَا وَاللَّهِ لَأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لَأُمَّةٌ خَيْرٌ ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ وَقَوْلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی أُمِّهِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْکِ مَنْ يَسْحَبُکِ بِقُرُونِکِ قَالَ فَأَبَتْ وَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا آتِيکَ حَتَّی تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي قَالَ فَقَالَ أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّی دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ کَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ قَالَتْ رَأَيْتُکَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ عَلَيْکَ آخِرَتَکَ بَلَغَنِي أَنَّکَ تَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَکْرٍ مِنْ الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفٍ کَذَّابًا وَمُبِيرًا فَأَمَّا الْکَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُکَ إِلَّا إِيَّاهُ قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا
عقبہ بن مکرم، یعقوب ابن اسحاق، حضرمی، اسود بن شیبان، عقبہ حضرت ابونوفل ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زیبر ؓ کو مدینہ کی ایک گھاٹی پر (سولی لٹکتے ہوئے) دیکھا۔ حضرت ابو نوفل ؓ کہتے ہیں کہ قریشی اور دوسرے لوگ بھی اس طرف سے گزرتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت ابن عمر ؓ اس طرف سے گزرے تو وہاں پر کھڑے ہو کر فرمایا اے ابوخبیب تجھ پر سلامتی ہو۔ اے ابو خبیب تجھ پر سلامتی ہو۔ اے ابو خبیب تجھ پر سلامتی ہو۔ اللہ کی قسم میں آپ کو اس سے (یعنی خدمت سے) پہلے ہی روکتا تھا۔ اللہ کی قسم میں آپ کو اس سے پہلے ہی روکتا تھا۔ اللہ کی قسم میں آپ کی طرح روزہ دار شب زندہ دار اور صلہ رحم کسی کو نہیں جانتا۔ اللہ کی قسم! (دشمن کی نظر میں) آپ کا جو گروہ برا تھا وہ بہت اچھا گروہ تھا۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ چلے آئے۔ حجاج کو حضرت عبداللہ ؓ کے یہاں کھڑے ہونے اور کلام کرنے کی اطلاع پہنچی تو حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی نعش اس گھاٹی سے اتروا کر یہود کے قبرستان میں پھنکوا دی۔ پھر اس نے حضرت عبداللہ کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کی طرف آدمی بھیج کر ان کو بلوایا حضرت اسماء ؓ نے آنے سے انکار کردیا۔ حجاج نے دوبارہ بلوانے بھیجا اور کہنے لگے کہ اگر کوئی ہے تو (ٹھیک ہے) ورنہ میں تیری طرف ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا کہ جو تیرے بالوں کو کھنیچتا ہوا تجھے میرے پاس لے آئے گا۔ حضرت اسماء ؓ نے پھر انکار کردیا اور فرمانے لگیں اللہ کی قسم میں تیرے پاس نہیں آؤں گی چاہے تو میری طرف ایسے آدمی کو بھیجے کہ وہ میرے بالوں کو کھینچتا ہوا لائے۔ راوی کہتے ہیں کہ بالآخر حجاج کہنے لگا کہ میری جوتیاں لاؤ وہ جوتیاں پہن کر اکڑتا ہوا حضرت اسماء کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا تو نے دیکھا ہے کہ میں نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا کیا ہے؟ حضرت اسماء نے فرمایا میں نے دیکھا ہے کہ تو نے اس کی دنیا خراب کردی ہے اور اس نے تیری آخرت خراب کردی ہے۔ (حضرت اسماء ؓ فرماتی ہیں) مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے عبداللہ کو (طنزیہ انداز میں) دو کمر بندوں والی کا بیٹا کہا ہے؟ اللہ کی قسم میں دو کمر بندوں والی ہوں۔ ایک کمر بند سے تو میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو کھانا (ہجرت کے موقع پر) باندھا تھا اور دوسرا کمر بند وہی تھا کہ جس کی عورت کو ضرورت ہوتی ہے اور (اے حجاج) سن رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ایک حدیث بیان فرمائی تھی (آپ ﷺ نے فرمایا) قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہوگا کہ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا (یعنی مختار بن ابی عبید ثقفی) اور ظالم میں تیرے علاوہ کسی کو نہیں سمجھتی۔ راوی کہتے ہیں کہ حجاج (یہ سن کر) اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت اسماء ؓ کو کوئی جواب نہیں دیا۔
Abu Naufal reported: I saw (the dead body) of Abdullah bin Zubair hanging on the road of Madinah (leading to Makkah). The Quraish passed by it and other people too, that Abdullah bin Umar (RA) happened to pass by it. He stood up there and said: May there be peace upon you, Abu Khubaib (the Kunya of Hadrat Abdullah bin Zubair), may there be peace upon you Abu Khubaib, may there be peace upon you, Abu Khubaib! By Allah, I used to forbid you from this; by Allah, I used to forbid you from this, by Allah I used to forbid you from this. By Allah, so far as I know, you had been very much devoted to fasting and prayer and you had been paying very much care to cementing the ties of blood. By Allah, the group to which you belong (are labelled) as (a) wicked (person) is indeed a fine group. Then Abdullah bin Umar went away. The stand Abdullah (b. Umar) took in regard to the inhuman treatment (meted out to Abdullah bin Zubair) and his words (in that connection) were conveyed to Hajjaj (b. Yusuf) and (as a consequence of that) he (the body of Abdullah bin Zubair) was brought down from the stump (the scaffold) by which it was hanging and thrown into the graves of the Jews. He (Hajjaj) sent (his messenger) to Asma (bint Abu Bakr, Abdullahs mother). But she refused to come. He again sent the messenger to her with the message that she must come, otherwise he would bring her forcibly catching hold of her hair. But she again refused and said: By Allah, I will not come to you until you send one to me who would drag me by pulling my hair. Thereupon he said: Bring me my shoes. He put on his shoes and walked on quickly swollen with vanity and pride until he came to her and said: How do you find what I have done with the enemy of Allah? She said: I find that you wronged him in this world, whereas he has spoiled your next life. It has been conveyed to me that you used to call him (Abdullah bin Zubair) as the son of one having two belts. By Allah, I am indeed (a woman) of two belts. One is that with the help of which I used to suspend high the food of Allahs Messenger ﷺ and that of Abu Bakr (RA) (making it out of the reach) of animals and, so far as the second belt is concerned, that is the belt which no woman can dispense with. Verily Allahs Messenger ﷺ told us that in Thaqif, there would be born a great liar and great murderer. The liar we have seen, and as far as the murderer is concerned, I do not find anyone else besides you. Thereupon he (Hajjaj) stood up and did not give any reply to her.
فارس والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ قَالَ مِنْ أَبْنَائِ فَارِسَ حَتَّی يَتَنَاوَلَهُ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبد ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، جعفر جزری، یزید بن اصم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر دین ثریا پر بھی ہو تو پھر بھی فارس کا ایک آدمی اسے لے جاتا یا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا فارس کی اولاد میں سے کوئی آدمی اسے لے لیتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If the din were at the Pleiades, even then a person from Persia would have taken hold of it, or one amongst the Persian descent would have surely found it.
فارس والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا قَرَأَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالَ رَجُلٌ مَنْ هَؤُلَائِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَأَلَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ کَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَائِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد ثور، ابی غیث، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ پر سورت الجمعہ نازل ہوئی تو جب آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ) 62۔ الجمعہ: 3) یعنی پاک ہے وہ ذات کہ جس نے عرب اور دوسری قوموں کی طرف اپنے رسولوں کو بھیجا ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ (یہ عرب کے علاوہ دوسرے لوگوں سے کون مراد ہیں؟ ) نبی ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ اس آدمی نے آپ سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ پوچھا حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں حضرت سلمان فارسی ؓ بھی تھے پھر نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک حضرت سلمان ؓ پر رکھا اور فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو بھی ان کی قوم میں سے کچھ لوگ وہاں تک پہنچ جاتے۔
Abu Hurairah (RA) reported: We were sitting in the company of Allahs Apostle ﷺ that Sura al-Jumua was revealed to him and when he recited (these words):" Others from amongst them who have not yet joined them," a person amongst them (those who were sitting there) said: Allahs Messenger! But Allahs Apostle ﷺ made no reply, until he questioned him once, twice or thrice. And there was amongst us Salman the Persian. The Apostle of Allah ﷺ placed his hand on Salman and then said: Even if faith were near the Pleiades, a man from amongst these would surely find it.
نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ النَّاسَ کَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً
محمد بن رافع عبد بن حمید محمد ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو سو اونٹوں کی طرح پاؤ گے کہ ان میں کوئی بھی سوار ہونے کے قابل اونٹ نہ پائے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You would find people like one hundred camels and you would not find even one (camel) fit for riding.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ «إِنَّهُمْ مِنِّي»، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: «سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي»
انھوں ( نعمان بن ابی عیاش ) نے کہا: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے سنا، وہ اس ( حدیث ) میں مزید یہ بیان کرتے تھےکہ آپ ﷺ فرمائیں گے: " یہ میرے ( لوگ ) ہیں تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔ تو میں کہوں گا: دوری ہو، ہلاکت ہو!ان کے لئے جنھوں نے میرے بعد ( دین میں ) تبدیلی کردی
Same as Hadees 5968
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ» أَصْحَابِي، أَصْحَابِي
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور " میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں، کے الفاظ بیان نہیں کیے
The hadith has been narrated on the authority ot al-A'mash with the same chain of transmitters but no mention is made of: They are my companions; they are my companions.