قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ وَأَسْلَمُ وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ قَالَ جُهَيْنَةُ وَمَنْ کَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اللہ کے ہاں قیامت کے دن قبیلہ اسد، غطفان، ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, (the tribes of) Ghifar, Aslam, Muzaina, or from the tribe of Juhaina or from the tribe of Muzaina, they would be better in the eye of Allah than Asad, Tayyi, and Ghatfan on the Day of Resurrection.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْئٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ شَيْئٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ
زہیر بن حرب، یعقوب دورقی اسماعیل یعینان ابن علیہ، ایوب محمد حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبیلہ اسلم، غفار اور مزنیہ میں سے کچھ اور جہینہ یا جہنیہ میں سے کچھ اور قبیلہ مزنیہ میں سے اللہ کے ہاں بہترین ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسد، غطفان، ہوازن اور تمیم سے ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) This hadith has been transmitted on the authority of Sad bin Ibrahim with a slight variation of wording.
reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Aslam, Ghifar or some people from Muzaina, Juhaina (with the variation of words) are better in the eye of Allah than Asad, Ghatfan, Hawizin and Tamim. The narrator said: I think he also said:" On the Day of Resurrection."
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا بَايَعَکَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةَ مُحَمَّدٌ الَّذِي شَکَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَحْسِبُ جُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ مُحَمَّدٌ الَّذِي شَکَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن ابی یعقوب حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقرع بن حابس ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ قبیلہ اسلام، غفار، مزنیہ اور میرا گمان ہے کہ جہینہ نے آپ ﷺ کی بیعت کی ہے یہ حاجیوں کا مال چوری کرنے والے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر قبیلہ اسلم، غفار، مزنیہ اور جہینہ کے لوگ بنی تمیم اور بنی عامر اور اسد غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ ناکامی اور خسارے میں رہیں گے؟ حضرت اقرع ؓ نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ یہ لوگ اسلم و غفار وغیرہ ان لوگوں سے بہتر ہیں اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں راوی محمد کے شک کا ذکر نہیں
Abu Bakra (RA) reported from his father that al-Aqra bin Habis reported that he came to Allahs Messenger ﷺ and said to him: How did the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina (and I think he also said Juhaina and the narrator is in doubt about it) owe allegiance to you, whereas they plundered the pilgrims? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said:" you were to say that Aslam, Ghifar, Muzaina and I think Juhaina are better than Banu Tamim, Banu Amir and Asad, Ghatfan, then would these people (of latter group of tribes) be in loss? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, these people are better than Banu Tamim, Banu Amir, Asad and Ghatfan, and in this hadith of Abu Shaiba (these words are not found) that Muhammad (the narrator) had a doubt about.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ وَجُهَيْنَةُ وَلَمْ يَقُلْ أَحْسِبُ
ہارون بن عبداللہ عبدالصمد شعبہ، سید بنی تیمیم محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب ضبی اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں لیکن اس میں جہنیہ کے بارے میں راوی نے یہ نہیں کہا میرا گمان ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Yaqub Dabbi with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسَدٍ وَغَطَفَانَ
نصر بن علی ابوشعبہ، ابی بشر عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبیلہ اسلم، غفار، مزنیہ، جہینہ، بنی تمیم اور بن عامر اور دو حلیفوں بنی اسد اور عطفان سے بہتر ہیں۔
Abu Bakra (RA) reported from the Messenger of Allah ﷺ that Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than Banu Tamim, Banu Amir and their allies Banu Asad and Ghatfan.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ح و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن مثنی، ہارون بن عبداللہ عبدالصمد عمر ناقد شبابہ بن سوار شعبہ، ابی بشر حضرت ابی بشر سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same chain of transmitters.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ کَانَ جُهَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ أَرَأَيْتُمْ إِنْ کَانَ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابوبکر وکیع، سفیان، عبدالملک ابن عمیر عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر قبیلہ جہنیہ، اسلم، غفار، بنی تمیم اور بنی عبداللہ، بنی غطفان اور عامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں اور آپ ﷺ نے اپنی آواز کو بلند فرمایا صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر تو وہ لوگ ناکامی اور خسارے میں ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا بلا شبہ وہ ان سے بہتر ہیں۔
Abu Bakra (RA) reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said: What is your view if Juhaina, Aslam, Ghifar were better than Banu Tamim, Banu Abdullah bin Ghatfan and Amir bin Sasaa respectively (then what would be status of the latter one)? He said this in a loud voice. They said: Allahs Messenger, they would be definitely at a loss and disadvantage. Thereupon he said: They (the first group) are decidedly better than the others; and in the hadith transmitted on the authority of Abu Kuraib the words are: It you were to find that Juhaina, Muzaina and Aslam and Ghifar (are better than...).
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ لِي إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، احمد بن اسحاق ابوعوانہ، مغیرہ عامر، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا تو حضرت عمر ؓ نے مجھ سے فرمایا سب سے پہلا وہ صدقہ جس نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کے چہروں کو منور کردیا تھا وہ قبیلہ طی کے صدقہ کا مال تھا جسے لے کر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تھا۔
Adi bin Hatim reported: I came to Umar bin Khattab and he said to me: The first consignment of Sadaqa brought to Allahs Messenger ﷺ which brightened the face of Allahs Messenger ﷺ and the faces of his Companions was that of Tayyi.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ دَوْسًا قَدْ کَفَرَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا فَقِيلَ هَلَکَتْ دَوْسٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ
یحییٰ بن یحیی، مغیرہ بن عبدالرحمن ابوزناد اعرج ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت طفیل ؓ اور ان کے ساتھی آئے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دوس نے کفر کیا انکار کردیا ہے تو آپ ﷺ نے ان پر بد دعا فرمائی پھر کہا جانے لگا کہ اب وہ ہلاک ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور ان کو اسلام کی طرف لے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Tufail and his companions said: Allahs Messenger, the tribe of Daws has disbelieved and has belied you, so invoke curse upon them. It was said: Let Daws be destroyed, whereupon he (Allahs Messenger) said: Allah guide aright the tribe of Daws and direct them to me.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَی الدَّجَّالِ قَالَ وَجَائَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا قَالَ وَکَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ
قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ حارث ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں جن کی وجہ سے میں ہمیشہ ان سے محبت کرتا ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ میری امت میں سے سب سے زیادہ سخت دجال پر ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ان کے صدقات آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ انہی میں سے حضرت سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ایک باندی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا اسے آزاد کردو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Since I heard three things from Allahs Messenger ﷺ my love for Banu Tamim is never on the decline (and these things are): I heard Allahs Messenger ﷺ as saying about them that they would put up stout resistance against Dajjal amongst my Umma. And he (the narrator) said: (When) the consignment of Zakat was brought to him, Allahs Messenger ﷺ said: This is the charity of our people, and there was one slave-girl in the house of Aisha and she was from the tribe of Banu Tamim; thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Set her free, for she is from the offspring of Ismail.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں جس کے بعد سے میں ہمیشہ بنی تمیم سے محبت کرنے لگا ہوں پھر اس کے بعد مذکورہ حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
The other hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.
قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثَلَاثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي تَمِيمٍ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَی غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ وَلَمْ يَذْکُرْ الدَّجَّالَ
حامد بن عمر بکراوی مسلمہ بن علقمہ مازنی امام مسجد داؤد شعبی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنی تمیم کے بارے میں سنا (کہ) تین خصلتیں جن کی وجہ سے میں ان سے ہمیشہ محبت کرنے لگا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: There are some distinguishing features of Banu Tamim which I heard from Allahs Messenger ﷺ and my love for them is never on the decline after that and the words are: They are the bravest amongst people in the battlefield and there is no mention of (the word)" Dajjal".
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَکْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو معدنیات جیسا پاؤ گے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ بہترین تھے زمانہ اسلام میں بھی وہ لوگ بہترین ہوں گے جبکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تم اسلام کے معاملے میں لوگوں میں سے بہتر اس آدمی کو پاؤ گے جو اسلام لانے سے پہلے اس سے زیادہ نفرت کرتا ہو اور تم لوگوں میں سے بد ترین اس آدمی کو پاؤ گے جو دو رخا آدمی ہوں جو ان کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You would find people like those of mine, the good amongst you in the Days of Ignorance would be good amongst you in the days of Islam, provided they have an understanding of it and you will find good amongst people the persons who would be averse to position of authority until it is thrust upon them, and you will find the worst amongst persons one who has double face. He comes with one face to them and with the other face to the others.
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالْأَعْرَجِ تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ کَرَاهِيَةً حَتَّی يَقَعَ فِيهِ
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابوزرعہ ابوہریرہ، قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کو معدنیات جیسا پاؤ گے زہری کی حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ ابوزرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے کہ تم لوگوں میں سے اسلام لانے کے معاملہ میں لوگوں میں سے بہترین اس آدمی کو پاؤ گے جو اسلام لانے سے پہلے اس سے زیادہ نفرت کرتا ہو۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zura with a slight variation of wording.
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ قَالَ أَحَدُهُمَا صَالِحُ نِسَائِ قُرَيْشٍ و قَالَ الْآخَرُ نِسَائُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَی يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ
ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین عورتیں اونٹوں پر سوار ہونے والی ہیں راویوں میں سے ایک راوی نے کہا کہ وہ قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے راوی نے کہ قریش کی وہ عورتیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہیں اور اپنے خاوندوں کے مال کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Good amongst the women are those who ride camels. One of them said: They are pious women of the Quraish, and the other one said: The women of the Quraish are kind to the orphans in their childhood and look after the wealth of their spouses.
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَرْعَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ
عمرو ناقد سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے اور ابن طاؤس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کرتے ہوئے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی لیکن اس روایت میں یتیم کا لفظ نہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording and there is no word" orphan".
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِسَائُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَی طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ قَالَ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ قریشی عورتیں اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہترین ہیں اور بچوں پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے خاوندوں کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں اس روایت کے بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے تھے کہ حضرت مریم بنت عمران (علیہ السلام) اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The women of the Quraish are good amongst the womenfolk. They ride camels and show affection to their children and zealously guard the wealth of their husbands. Abu Hurairah (RA) said at the end of this narration that Mary, the daughter of Imran, never rode the camel.
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ کَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَحْنَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ
محمد بن رافع عبد بن حمید عبد ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت ام ہانی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں تو بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین عورتین سوار ہونے والی ہیں اور پھر یونس کی روایت کی طرح حدیث ذکر کی صرف لفظی فرق ہے ترجمہ وہی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ gave a proposal of marriage to Umm Hani, the daughter of Abu Talib, whereupon she said: Allahs Messenger, I am of an advanced age with a (large) family. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: The best women are those who ride (the camels) ; the rest of the hadith is the same but with this difference that, instead of the word Ara the word Ahna has been used (and the complete sentence is like this): That they treat children in their childhood with affection.
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَائِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ
محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبد عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریشی عورتیں ہیں جو کہ چھوٹے بچوں پر مہربان اور اپنے خاوندوں کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The best women who ride the camels are the pious women of the Quraish; they treat with affection children in their childhood and keep a strict watch on the wealth of their spouses.
قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ هَذَا سَوَائً
احمد بن عثمان بن حکیم اودی خالد ابن مخلد سلیمان ابن بلال سہیل ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح اس طریقے سے روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) with the same chain of transmitters.