بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا قَالَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ قَالَتْ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن اعبدالرحمن دارمی ابویمان شعیب زہری، حضرت انس نے نبی ﷺ سے یہ حدیث یونس کی روایت کی طرح نقل کی ہے اور شعیب کی روایت میں ہے کہ حضرت زہری ؓ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ اہل علم میں سے کسی آدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن حذیفہ ؓ کی ماں نے ان سے کہا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ سَلُونِي لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَکُمْ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا وَرَهِبُوا أَنْ يَکُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا کُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْکِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنْ الْمَسْجِدِ کَانَ يُلَاحَی فَيُدْعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوئِ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ
یوسف بن حماد عبدالاعلی سعید بن قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھنا شروع کردیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ ﷺ کو تنگ کردیا تو ایک دن آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے پوچھو اور جس چیز کے بارے میں پوچھو گے میں تمہیں بتادوں گا جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہوگئے اور اس بات سے ڈرنے لگے کہ کہیں کوئی بات تو پیش آنے والی نہیں ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر آدمی اپنا منہ اپنے کپڑے میں لپیٹے رو رہا تھا بالاآخر مسجد کے ایک آدمی کہ جس سے لوگ جھگڑتے تھے اور اسے اس کے غیر باپ کی طرف منسوب کرتے تھے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میرا باپ کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ حذیفہ ہے پھر حضرت عمر نے ہمت کر کے عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں تمام برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے آج کے دن کی طرح کی بھلائی اور برائی کبھی نہیں دیکھی کیونکہ جنت اور دوزخ کو میرے سامنے لایا گیا اور میں نے اس دیوار کے کونے میں ان دونوں کو دیکھا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that the people asked Allahs Apostle ﷺ until he was hard pressed. He went out one day and he occupied the pulpit and said: Ask me and I shall leave no question of yours unanswered for you, and when the people heard about it they were overawed, as if (something tragic) was going to happen. Anas said: I began to look towards the right and the left and (found) that every person was weeping wrapping his head with the cloth. Then a person in the mosque broke the ice and they used to dispute with him by attributing his fatherhood to another man than his own father. He said: Allahs Apostle, who is my father? He said: Your father is Hudhafa. Then Umar bin Khattab (RA) dared say something and said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as our Messenger, seeking refuge with Allah from the evil of Turmoil. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Never did I see the good and evil as today. Paradise and Hell were given a visible shape before me (in this worldly life) and I saw both of them near this well.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، محمد بن بشار، محمد بن ابی عدی ہشام عاصم، بن نضر معتمر ان سندوں کے ساتھ حضرت انس ؓ سے یہی واقعہ نقل کی گیا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Qatada.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَائَ کَرِهَهَا فَلَمَّا أُکْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوکَ سَالِمٌ مَوْلَی شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَضَبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَی اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ قَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوکَ سَالِمٌ مَوْلَی شَيْبَةَ
عبداللہ بن براء، اشعری محمد بن علاء، ہمدانی ابواسامہ برید حضرت ابوموسی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے لوگوں نے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا کہ جو آپ ﷺ کو ناگوار معلوم ہوئیں تو جب لوگوں نے بار بار ایسی چیزوں کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ غصہ میں آگئے پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا جو چاہو مجھ سے پوچھ لو ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا باپ کون ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ حذیفہ ہے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا باپ کون ہے آپ نے فرمایا سالم مولیٰ شیبہ پھر حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات دیکھے تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔
Abu Musa reported that Allahs Apostle ﷺ was asked such things which he disapproved and when they persisted on asking him he felt enraged and then said to the people: Ask me what you wish to ask. Thereupon a person said: Who is my father? He said: Your father is Hudhafa. Then another person stood up and said: Allahs Messenger, who is my father? He said: Your father is Salim, the freed slave of Shaiba. When Umar saw the signs of anger upon the face of Allahs Apostle ﷺ , he said: Allahs Messenger, we ask repentance from Allah. And in the hadith transmitted on the authority of Abu Kuraib (the words are): "Allahs Messenger, who is my father? He said: Your father is Salim, the freed slave of Shaiba."
اس بات کے بیان میں کہ رسول اللہ ﷺ شریعت کا جو حکم بھی فرمائیں اس پر عمل کرنا واجب ہے اور دنیوں معیشت کے بارے میں جو مشورہ یا جو بات اپنی رائے سے فرمائیں اس پر عمل کرنے میں اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ عَلَی رُئُوسِ النَّخْلِ فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَائِ فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ يَجْعَلُونَ الذَّکَرَ فِي الْأُنْثَی فَيَلْقَحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِکَ شَيْئًا قَالَ فَأُخْبِرُوا بِذَلِکَ فَتَرَکُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ فَقَالَ إِنْ کَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِکَ فَلْيَصْنَعُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَکِنْ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
قتیبہ بن سعید، ثقفی ابوکامل جحدر قتیبہ ابوعوانہ، سماک حضرت موسیٰ بن طلحہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو کہ کھجور کے درختوں کے پاس تھے آپ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یہ لوگ قلم لگاتے ہیں یعنی نر کو مادہ کے ساتھ ملاتے ہیں تو وہ پھل دار ہوجاتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے خیال میں اس چیز میں کچھ فائدہ نہیں راوی کہتے ہیں کہ جب اس بات کی خبر ان لوگوں کو ہوئی تو انہوں نے اس طرح کرنا چھوڑ دیا رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ کام ان کو نفع دیتا ہے تو وہ لوگ یہ کام کریں کیونکہ میرے خیال پر تم مجھے نہ پکڑو لیکن جب میں تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو تم اس پر عمل کرو کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں۔
Musa bin Talha reported: I and Allahs Messenger ﷺ happened to pass by people near the date-palm trees. He (the Holy Prophet) said: What are these people doing? They said: They are grafting, i.e, they combine the male with the female (tree) and thus they yield more fruit. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I do not find it to be of any use. The people were informed about it and they abandoned this practice. Allahs Messenger ﷺ was later on informed that the yield had dwindled, whereupon he said: If there is any use of it, then they should do it, for it was just a personal opinion of mine, and do not go after my personal opinion; but when I say to you anything on behalf of Allah, then do accept it, for I do not attribute lie to Allah, the Exalted and Glorious.
اس بات کے بیان میں کہ رسول اللہ ﷺ شریعت کا جو حکم بھی فرمائیں اس پر عمل کرنا واجب ہے اور دنیوں معیشت کے بارے میں جو مشورہ یا جو بات اپنی رائے سے فرمائیں اس پر عمل کرنے میں اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کَانَ خَيْرًا فَتَرَکُوهُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ دِينِکُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ رَأْيٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ قَالَ عِکْرِمَةُ أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ الْمَعْقِرِيُّ فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُکَّ
عبداللہ بن رومی یمامی عباس بن عبدالعظیم عنبری احمد بن جعفر نضر بن محمد عکرمہ ابن عمار ابونجاشی حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ کہ اللہ کے نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ لوگ کھجوروں کو قلم لگا رہے تھے یعنی کھجوروں کو گابھن کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا کر رہے ہو انہوں نے کہا ہم لوگ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو شاید تمہارے لئے یہ بہتر ہو انہوں نے اس طرح کرنا چھوڑ دیا تو کھجوریں کم ہوگئیں صحابہ کرام نے اس بارے میں آپ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ایک انسان ہوں جب میں تمہیں کوئی دین کی بات کا حکم دوں تو تم اس کو اپنا لو اور جب میں اپنی رائے سے کسی چیز کے بارے میں بتاؤں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ یا اسی طرح کچھ اور آپ ﷺ نے فرمایا۔
Rafi bin Khadij reported that Allahs Messenger ﷺ came to Madinah and the people had been grafting the trees. He said: What are you doing? They said: We are grafting them, whereupon he said: It may perhaps be good for you if you do not do that, so they abandoned this practice (and the date-palms) began to yield less fruit. They made a mention of it (to the Holy Prophet), whereupon he said: I am a human being, so when I command you about a thing pertaining to religion, do accept it, and when I command you about a thing out of my personal opinion, keep it in mind that I am a human being. Ikrima reported that he said something like this.
اس بات کے بیان میں کہ رسول اللہ ﷺ شریعت کا جو حکم بھی فرمائیں اس پر عمل کرنا واجب ہے اور دنیوں معیشت کے بارے میں جو مشورہ یا جو بات اپنی رائے سے فرمائیں اس پر عمل کرنے میں اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ فَقَالَ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ قَالَ فَخَرَجَ شِيصًا فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ مَا لِنَخْلِکُمْ قَالُوا قُلْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اسود بن عمار ابوبکر اسود بن عامر حماد بن سلمہ ہشام بن عروہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو کہ قلم لگا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم اس طرح کرو تو بہتر ہوگا (آپ کے فرمان کے مطابق انہوں نے اس طرح نہ کیا) تو کھجور خراب آئی راوی کہتے ہیں کہ کہ آپ ﷺ پھر اس طرف سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے درختوں کو کیا ہوا ان لوگوں نے کہا آپ نے ایسے ایسے فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے دنیوی معاملات کو میرے نسبت زیادہ بہتر جانتے ہو۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ happened to pass by the people who had been busy in grafting the trees. Thereupon he said: If you were not to do it, it might be good for you. (So they abandoned this practice) and there was a decline in the yield. He (the Holy Prophet) happened to pass by them (and said): What has gone wrong with your trees? They said: You said so and so. Thereupon he said: You have better knowledge (of a technical skill) in the affairs of the world.
نبی ﷺ کا دیدار کرنے اور اس کی تمنا کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَی أَحَدِکُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ الْمَعْنَی فِيهِ عِنْدِي لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم پر ایک دن آئے گا کہ تم لوگ مجھے دیکھ نہیں سکو گے اور تمہارے لئے مجھے دیکھنا تمہیں اہل و عیال اور مال و دولت سے زیادہ پسندیدہ ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported so many ahadith from Allahs Messenger ﷺ and one among them was that Allahs Messenger ﷺ is reported to have said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, a day would come to you when you would not be able to see me, and the glimpse of my face would be dearer to one than ones own family, ones property and in fact everything. This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording.
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ الْأَنْبِيَائُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابا سلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہوں اور انبیاء کرام (علیہم السلام) سب علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I am most akin to the son of Mary among the whole of mankind and the Prophets are of different mothers, but of one religion, and no Prophet ﷺ was raised between me and him (Jesus Christ).
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِيسَی الْأَنْبِيَائُ أَبْنَائُ عَلَّاتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَی نَبِيٌّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوداؤد عمر بن سعد سفیان، ابی زناد اعرج ابوسلمہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہوں اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I am most akin to Jesus Christ among the whole of mankind, and all the Prophets are of different mothers but belong to one religion and no Prophet ﷺ was raised between me and Jesus.
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَی وَالْآخِرَةِ قَالُوا کَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْأَنْبِيَائُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّی وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں سے زیادہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے قریب ہوں صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں اور ان سب کا دین ایک ہی ہے اور ہمارے (یعنی میرے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے) درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported many ahadith from Allahs Messenger ﷺ and one is that Allahs Messenger ﷺ said: I am most close to Jesus, son of Mary, among the whole of mankind in this worldly life and the next life. They said: Allahs Messenger how is it? Thereupon he said: Prophets are brothers in faith, having different mothers. Their religion is, however, one and there is no Apostle ﷺ between us (between I and Jesus Christ).
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِکَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی معمر، زہری، سعید، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بچہ ایسا نہیں کہ جس کی ولادت کے وقت شیطان اس کے کو نچہ نہ مارتا ہو پھر وہ بچہ شیطان کے کو نچہ مارنے کی وجہ سے چیختا (روتا) ہے سوائے حضرت ابن مریم (علیہ السلام) کے اور ان کی والدہ کے پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھو (وَاِنِّىْ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ) 3۔ آل عمران: 36)
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No child is born but he is pricked by the satan and he begins to weep because of the pricking of the satan except the son of Mary and his mother. Abu Hurairah (RA) then said: You may recite if you so like (the verse): "I seek Thy protection for her and her offspring against satan the accursed" (iii. 36).
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس روایت میں ہے کہ جس وقت بچہ کی ولادت ہوتی ہے تو شیطان اسے چھوتا ہے تو شیطان کے چھونے کی وجہ سے وہ بچہ چلا کر روتا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are): "The newborn child is touched by the satan (when he comes in the world) and he starts crying because of the touch of satan." In the hadith transmitted on the authority of Shuaib there is a slight variation of wording.
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ کُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا
ابوطاہر ابن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر انسان کی پیدائش کے دن شیطان اسے چھوتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے (علیہ السلام) کے کہ شیطان نے ان کو نہیں چھوا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The satan touches every son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامon the day when his mother gives birth to him with the exception of Mary and her son.
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ
شیبان بن فروخ ابوعوانہ، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ولادت کے وقت بچے کا چیخنا شیطان کے کو نچے مارنے کی وجہ سے ہوتا ہے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The crying of the child (starts) when the satan begins to prick him.
حضرت عیسیٰ کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَی سَرَقْتَ قَالَ کَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ عِيسَی آمَنْتُ بِاللَّهِ وَکَذَّبْتُ نَفْسِي
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چوری کر رہا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس آدمی سے فرمایا تو چوری کرتا ہے؟ اس آدمی نے کہا ہرگز نہیں اور قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لایا اور میں نے اپنے نفس کو جھٹلایا۔
Abu Hurairah (RA) reported ahadith from the Messenger of Allah ﷺ (and one of them was) that Allahs Messenger ﷺ said Jesus son of Mary saw a person committing theft; thereupon Jesus said to him: You committed theft. He said: Nay. By Him besides Whom there is no god (I have not committed theft). Thereupon Jesus said: I affirm my faith in Allah. It is my ownself that deceived me.
حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْمُخْتَارِ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن فضیل مختار علی بن سعدی علی بن مسہر، مختار بن فلفل، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا یا خیرالبریہ! تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person came to Allahs Messenger ﷺ and said: O, the best of creation; thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He is Ibrahim (peace be upon him).
حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِهِ
ابوکریب ابن ادریس مختار بن فلفل بن مثنی عبدالرحمن سفیان، مختار، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی
This hadith has been narrated on the authority of Anas through a different chain of transmitters.
حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمُخْتَارِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن سفیان، مختار، حضرت انس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Anas reported a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ through another chain of transmitters.
حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن خزامی ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی سال کی عمر میں بسولہ (درانتی) سے اپنا ختنہ خود کیا
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said that Ibrahim circumcised himself with the help of adze when he was eighty years old.