فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 11 of 29

6142Sahih Muslim

حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّکِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي کَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَی قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں جب انہوں نے فرمایا اے پروردگار مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیوں نہیں لیکن میں اپنے دل کا اطمینان چاہتا ہوں اور اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ ایک مضبوط قلعہ کی پناہ چاہتے تھے اور اگر اتنے عرصے تک مجھے قید میں رکھا جاتا جتنا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں بلانے والے کے ساتھ فورا چلا جاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: We have more claim to doubt than Ibrahim (peace be upon him) when he said, My Lord, show me how thou wilt quicken the dead. He said: Believeth thou not? He said: Yes, but that my heart rest at ease (the Holy Quran. 260). May Lord have mercy on Lot that he wanted a strong support and had I stayed in the prison as long as Yusuf stayed I would have responded to him who invited me.

6143Sahih Muslim

حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِنْ شَائَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ

عبداللہ بن محمد بن اسما جویر نہ مالک زہری، سعید بن مسیب ابوعبید، حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri through another chain of transmitters.

6144Sahih Muslim

حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنَّهُ أَوَی إِلَی رُکْنٍ شَدِيدٍ

زہیر بن حرب، شبابہ ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت لوط (علیہ السلام) کی مغفرت فرمائے کہ انہوں نے ایک مضبوط قلعہ کی پناہ چاہی

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

6145Sahih Muslim

حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَکْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ کَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ کَبِيرُهُمْ هَذَا وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ وَکَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ فَقَالَ لَهَا إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّکِ امْرَأَتِي يَغْلِبْنِي عَلَيْکِ فَإِنْ سَأَلَکِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّکِ أُخْتِي فَإِنَّکِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَکِ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ فَقَالَ لَهُ لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَکَ امْرَأَةٌ لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَکُونَ إِلَّا لَکَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَی الصَّلَاةِ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَکْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً فَقَالَ لَهَا ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي وَلَا أَضُرُّکِ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنْ الْقَبْضَةِ الْأُولَی فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِکَ فَفَعَلَتْ فَعَادَ فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنْ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي فَلَکِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّکِ فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ وَدَعَا الَّذِي جَائَ بِهَا فَقَالَ لَهُ إِنَّکَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي وَأَعْطِهَا هَاجَرَ قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام انْصَرَفَ فَقَالَ لَهَا مَهْيَمْ قَالَتْ خَيْرًا کَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ وَأَخْدَمَ خَادِمًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَتِلْکَ أُمُّکُمْ يَا بَنِي مَائِ السَّمَائِ

ابوطاہر عبداللہ بن وہب، جریر، بن حازم ایوب سختیانی محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تین مرتبہ کے علاوہ کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ دو جھوٹ تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے تھے اور ایک انہوں نے یہ فرمایا کہ میں بیمار ہوں۔ دوسرا یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے بت نے توڑا ہے اور تیسرا حضرت سارہ کے بارے میں ان کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ظالم و جابر بادشاہ کے ملک میں پہنچے اور ان کے ساتھ (ان کی بیوی) حضرت سارہ بھی تھیں اور وہ بڑی خوبصورت خاتون تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے فرمایا اگر اس ظالم باد شاہ کو اس بات کا علم ہوگیا کہ تو میری بیوی ہے تو وہ تجھے مجھ سے چھین لے گا اور اگر وہ بادشاہ تجھ سے پوچھے تو تو اسے بتانا کہ یہ میرا بھائی ہے کیونکہ تو میری اسلامی بہن ہے اور اس وقت پوری دنیا میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان بھی نہیں پھر جب یہ دونوں اس ظالم باد شاہ کے ملک میں پہنچے تو اس بادشاہ کے ملازم حضرت سارہ کو دیکھنے کے لئے آن پہنچے (حضرت سارہ کو دیکھنے کے بعد) ملازموں نے بادشاہ سے کہا کہ تمہارے ملک میں ایک ایسی عورت آئی ہے جو تمہارے علاوہ کسی کے لائق نہیں اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلوا لیا حضرت سارہ کو بادشاہ کی طرف لایا گیا تو حضرت ابراہیم ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے تو جب حضرت سارہ اس ظالم بادشاہ کے پاس آگئیں تو اس ظالم نے بےاختیار اپنا ہاتھ حضرت سارہ کی طرف بڑھایا تو اس ظالم کا ہاتھ جکڑ دیا گیا وہ ظالم کہنے لگا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے میں تجھے کوئی تکلیف نہیں دوں گا حضرت سارہ نے دعا کی اس کا ہاتھ کھل گیا پھر دوبارہ اس ظالم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو پہلے سے زیادہ اس کا ہاتھ جکڑ دیا گیا اس نے پھر دعا کے لئے سارہ سے کہا حضرت سارہ نے پھر اس کے لئے دعا کردی اس ظالم نے تیسری مرتبہ پھر اپنا (ناپاک) ہاتھ بڑھایا پھر پہلی دونوں مرتبہ سے زیادہ اس کا ہاتھ جکڑ دیا گیا وہ ظالم کہنے لگا کہ تو اللہ سے دعا کر کہ میرا ہاتھ کھل جائے اللہ کی قسم! تجھے کبھی تکلیف نہیں دوں گا حضرت سارہ نے دعا کی تو اس کا ہاتھ کھل گیا اور اس ظالم نے پھر اس آدمی کو بلایا کہ جو سارہ کو لے آیا تھا وہ ظالم بادشاہ اس ملازم آدمی سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس (اَلعَیَاذُ بِاللہِ ) شیطاننی کو لایا ہے اور انسان نہیں لایا تو اس ظالم نے حضرت سارہ کو اپنے ملک سے نکال دیا اور حضرت ہاجرہ کو بھی ان کو دے دیا حضرت سارہ حضرت ہاجرہ کو لے کر چل پڑیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ان کو دیکھا تو پلٹے اور ان سے فرمایا کہ کیا ہوا حضرت سارہ کہنے لگیں خیر ہے اور اللہ نے اس بد کردار ظالم کا ہاتھ مجھ سے روک دیا اور اس نے مجھے ایک خادمہ بھی دلوا دی حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اے اولاد مَائِ السَّمَائِ۔ یہی حضرت ہاجرہ تمہاری ماں ہے

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying Prophet ﷺ Ibrahim (peace be upon him) never told a lie but only thrice: two times for the sake of Allah (for example, his words): "I am sick," and his words: "But it was the big one amongst them which has done that" and because of Sara (his wife). He had come in a land inhabited by haughty and cruel men along with Sara. She was very good-looking amongst the people, so he said to her: If these were to know that you are my wife they would snatch you away from me, so if they ask you tell that you are my sister and in fact you are my sister in Islam, and I do not know of any other Muslim in this land besides I and you. And when they entered that land the tyrants came to see her and said to him (the king): there comes to your land a woman, whom you alone deserve to possess, so he (the king sent someone (towards her) and she was brought and Ibrahim (peace be upon him) stood in prayer, and when she visited him, the tyrant king came and he could not help but stretch his hand towards her and his hand was tied up. He said: Supplicate Allah so that He may release my hand and I will do no harm to you. She did that and the man repeated (the same high handedness) and his hand was again tied up more tightly than on the first occasion and he said to her like that and she again did that (supplicated), but he repeated (the same highhandedness and his hands were tied up more tightly than on the previous occasion). He then again said: Supplicate your Lord so that He may set my hand free; by Allah I shall do no harm to you. She did and his hand was freed. Then he called the person who had brought her and said to him: You have brought to me the satan and you have not brought to me a human being, so turn them out from my land, and he gave Hajira as a gift to her. She returned (along with Hajira) and when Ibrahim (peace be upon him) saw her, he said: How have you returned? She said: With full safety (have I returned). Allah held the hand of that debauch and he gave me a maid-servant. Abu Hurairah (RA) said: O sons of the rain of the sky, she is your mother.

6146Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَی سَوْأَةِ بَعْضٍ وَکَانَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَی أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ قَالَ فَجَمَحَ مُوسَی بِأَثَرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّی نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَی سَوْأَةِ مُوسَی فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَی مِنْ بَأْسٍ فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّی نُظِرَ إِلَيْهِ قَالَ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبُ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحَجَرِ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا نبی اسرائیل کے لوگ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علیحدگی میں غسل کرتے تھے تو بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں یہی چیز رکاوٹ ہے کہ ان کو فتق کی بیماری ہے یعنی ان کے خصیوں میں سوج ہے چناچہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھا ہوا تھا، پتھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑوں کو لے کر بھاگ پڑا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پتھر کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے اے پتھر میرے کپڑے دے دے اے پتھر میرے کپڑے دے دے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شرمگاہ کو دیکھ لیا اور وہ کہنے لگے اللہ کی قسم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو کوئی بیماری نہیں ہے جب سب لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ لیا تو پتھر کھڑا ہوگیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑوں کو پکڑا اور پتھر کو مارنے لگے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مارنے کی وجہ سے اس پتھر پر چھ یا سات نشان پڑگئے

Hammam bin Munabbih reported that Abu Hurairah (RA) reported many ahadith from Allahs Messenger ﷺ and one of them speaks that Allahs Messenger ﷺ is reported to have said: Banu Israil used to take bath (together) naked and thus saw private parts of one another, but Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) used to take bath alone (in privacy), and they said: By Allah, nothing prevents Moses (علیہ السلام) to take bath along with us; but scrotal hernia. One day when he ( Moses (علیہ السلام)) was taking bath (alone) he placed his clothes upon a stone, but the stone began to move along with his clothes. Moses (علیہ السلام) raced after it saying: My garment, stone; until (some of the people) of Banu Israil looked at the private parts of Moses (علیہ السلام), and they said: By Allah, there is no trouble with Moses (علیہ السلام). The stone stopped after he ( Moses (علیہ السلام)) had been seen. He took hold of his garments and struck the stone. Abu Hurairah (RA) said: I swear by Allah that there were six or seven scars on the stone because of the striking of stone by Moses (علیہ السلام) (peace be upon him).

6147Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا حَيِيًّا قَالَ فَکَانَ لَا يُرَی مُتَجَرِّدًا قَالَ فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِنَّهُ آدَرُ قَالَ فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ فَوَضَعَ ثَوْبهُ عَلَی حَجَرٍ فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَی وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَکُونُوا کَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَکَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا

یحییٰ بن حبیب حارثی، یزید بن زریع خالد حذاء عبداللہ بن شقیق حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک حیاء والے آدمی تھے اور کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے راوی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فتق کی بیماری ہے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی پانی کے پاس غسل کرتے وقت ایک پتھر پر اپنے کپڑے رکھے تو وہ پتھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کپڑے لے کر دوڑ پڑا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی مارتے ہوئے اس کے پیچھے چلے اور کہتے ہوئے جا رہے تھے میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر اور جب آپ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے اور نبی ﷺ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی تھی پھر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی تہمت سے بری کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عزت والے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ملک الموت موت کا فرشتہ بھیجا گیا تو جب وہ ان کے پاس آیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک الموت کے ایک تھپڑ مار دیا جس سے ملک الموت کی آنکھ نکل گئی تو ملک الموت اپنے ربّ کی طرف لوٹا اور اس نے کہا اے پروردگار! آپ نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے کہ جو مرنا نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا دوبارہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جا اور ان سے کہہ کہ اپنا ہاتھ مبارک ایک بیل کی پشت پر رکھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اتنی عمر بڑھا دی جائے گی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار پھر کیا ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر موت آجائے گی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا پھر ابھی سہی اور پھر حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے اللہ مجھے ارض مقدس سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلے پر کر دے رسول ﷺ نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو میں تمہیں کثیب احمر کے نیچے ایک راستہ کی جانب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر دکھاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Moses (علیہ السلام) was a modest person. He was never seen naked and Banu Israil said: (He was afraid to expose his private part) because he had been suffering from scrotal hernia. He (one day) took bath in water and placed his garments upon a stone. The stone began to move on quickly. He followed that and struck it with the help of a stone (saying): O stone, my garment; O stone, my garments, O stone; until it stopped near the big gathering of Israil, and this verse was revealed (pertaining to the incident): "O you who believe, be not like those who maligned Moses (علیہ السلام), but Allah cleared him of what they said, and he was worthy of regard with Allah" (xxxiii. 69).

6148Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَلَمَّا جَائَهُ صَکَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَی رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَی عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِکُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ قَالَ أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُکُمْ قَبْرَهُ إِلَی جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْکَثِيبِ الْأَحْمَرِ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبد، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس، حضررت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت (موت کا فرشتہ) آیا اور حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگا اے موسیٰ اپنے رب کی طرف چلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرشتے کے ایک تھپڑ مار کر اس کی آنکھ نکال دی موت کا فرشتہ واپس اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا اور اس نے عرض کیا اے پروردگار تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے کہ جو موت نہیں چاہتا اور اس نے میری آنکھ نکال دی اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا: میرے بندے کی طرف دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ کیا آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھیں جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ کی عمر بڑھا دی جائے گی حضرت موسیٰ کہنے لگے کہ پھر کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا پھر موت ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ پھر موت ہے تو ابھی سہی اور حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے پروردگار ارض مقدس سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلے پر میری روح نکالنا رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! اگر میں اس جگہ کے پاس ہوتا تو میں تم کو کثیب احمر کے پاس راستے کے ایک طرف موسیٰ کی قبر دکھاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Angel of Death was sent to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) to inform of his Lords summons. When he came, he ( Moses (علیہ السلام)) boxed him and his eye was knocked out. He (the Angel of Death) came back to the Lord and said: You sent me to a servant who did not want to die. Allah restored his eye to its proper place (and revived his eyesight), and then said: Go back to him and tell him that if he wants life he must place his hand on the back of an ox, and he would be granted as many years of life as the number of hair covered by his hand. He ( Moses (علیہ السلام)) said: My Lord what would happen then? He said: Then you must court death. He said: Let it be now. And he supplicated Allah to bring him close to the sacred land. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: If I were there, I would have shown you his grave beside the road at the red mound.

6149Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ مَلَکُ الْمَوْتِ إِلَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ أَجِبْ رَبَّکَ قَالَ فَلَطَمَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَکِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا قَالَ فَرَجَعَ الْمَلَکُ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی فَقَالَ إِنَّکَ أَرْسَلْتَنِي إِلَی عَبْدٍ لَکَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَی عَبْدِي فَقُلْ الْحَيَاةَ تُرِيدُ فَإِنْ کُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَکَ عَلَی مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ يَدُکَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّکَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ تَمُوتُ قَالَ فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ رَبِّ أَمِتْنِي مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُکُمْ قَبْرَهُ إِلَی جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْکَثِيبِ الْأَحْمَرِ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہشام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت (موت کا فرشتہ) آیا اور حضرت موسیٰ سے عرض کرنے لگا اے موسیٰ اپنے رب کی طرف چلئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرشتے کے ایک تھپڑ مار کر اس کی آنکھ نکال دی موت کا فرشتہ واپس اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا اور اس نے عرض کیا اے پروردگار تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے کہ جو موت نہیں چاہتا اور اس نے میری آنکھ نکال دی اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا بندے کی طرف دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ کیا آپ زندگی چاہتے ہیں؟ اگر آپ زندگی چاہتے ہیں تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھیں جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال آپ کی عمر بڑھا دی جائے گی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ پھر کیا ہوگا انہوں نے کہا پھر موت ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے کہ پھر موت ہے تو ابھی سہی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار ارض مقدس سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلے پر میری روح نکالنا۔ رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں اس جگہ کے پاس ہوتا تو میں تم کو کثیب احمر کے پاس راستے کے ایک طرف موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر دکھاتا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said that the Angel of Death came to Moses (علیہ السلام) and said: Respond (to the call) of Allah (i. e. be prepared for death). Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) gave a blow at the eye of the Angel of Death and knocked it out. The Angel went back to Allah (the Exalted) and said: You sent me to your servant who does not like to die and he knocked out my eye. Allah restored his eye to its proper place (and revived his eyesight) and said: Go to My servant and say: Do you want life? And in case you want life, keep your hand on the body of the ox and you would live such number of years as the (number of) hair your hand covers. He ( Moses (علیہ السلام)) said: What, then? He said: Then you would die, whereupon he ( Moses (علیہ السلام)) said: Then why not now? (He then prayed): Allah, cause me to die close to the sacred land. Allahs Messenger ﷺ said: Had I been near that place I would have shown his grave by the side of the path at the red mound.

6150Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ

ابو اسحاق محمد بن یحییٰ عبدالرزاق، حضرت معمر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

This hadith has been transmitted on the authority of Mamar.

6151Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا کَرِهَهُ أَوْ لَمْ يَرْضَهُ شَکَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ لَا وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی الْبَشَرِ قَالَ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَطَمَ وَجْهَهُ قَالَ تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی الْبَشَرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَالَ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا وَقَالَ فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ قَالَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی الْبَشَرِ وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَائِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَی فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَوْ بُعِثَ قَبْلِي وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی عَلَيْهِ السَّلَام

ابو اسحاق محمد بن یحییٰ عبدالرزاق، معمر، زہیر بن حرب، حجین بن مثنی عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابوسلمہ عبداللہ بن فضل ہاشمی عبدالرحمن حضرت ابوپریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی اپنا کچھ سامان بیچ رہا تھا جب اس کو اس کے سامان کی کچھ قیمت دی گئی تو اس نے اسے ناپسند کیا یا وہ اس قیمت پر راضی نہ ہوا راوی عبد العزیز کو شک ہے یہودی نے کہا نہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا فرمائی انصار کے ایک آدمی نے جب یہودی کی یہ بات سنی تو اس نے یہودی کو چہرے پر تھپڑ مارا اور کہا کہ تو کہتا ہے کہ قسم اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا فرمائی حلان کہ رسول ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں وہ یہودی رسول ﷺ کی طرف گیا اور عرض کرنے لگا اے ابا القاسم! بیشک میں ذمی ہوں اور مجھے امان دی گئی ہے اور اس نے کہا کہ فلاں آدمی نے میرے چہرے پر تھپڑ مارا ہے رسول ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا تو نے اس کے چہرے پر تھپڑ کیوں مارا ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اس یہودی نے یہ کہا تھا کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا فرمائی جبکہ آپ ہمارے درمیان موجود ہیں رسول ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ غصہ کے آثار آپ کے چہرے میں پہچانے گئے پھر آپ نے فرمایا تم مجھے اللہ کے نبیوں کے درمیان فضیلت نہ دو کیونکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گا سوائے اس کے کہ جسے اللہ چاہے پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا یا فرمایا کہ اٹھنے والوں میں سب سے پہلے میں ہوں گا تو حضرت موسیٰ کو میں دیکھوں گا کہ وہ عرش کو پکڑے ہوئے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ طور کے دن کی بیہوشی میں ان کا حساب لیا گیا یا وہ مجھ سے پہلے اٹھائے گئے اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی آدمی بھی حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) سے افضل ہے

Abu Hurairah (RA) reported: While a Jew was selling goods, he was given something which he did not accept or he did not agree (to accept) that Abdul Azlz (one of the narrators) is doubtful about it. He (the Jew) said: By Allah, Who chose Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) among mankind. A person from the Ansar heard it and gave a blow at his face saying: (You have the audacity) to say: By Him Who chose Moses (علیہ السلام) amongst mankind, whereas Allahs Messenger ﷺ is living amongst us. The Jew went to Allahs Messenger ﷺ and said: Abul-Qasim, I am a Dhimmi and (thus need your protection) by a covenant, and added: Such and such person has given a blow upon my face. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Why did you give a blow on his face? He said: Allahs Messenger, this man said: By Him Who chose Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) amongst mankind, whereas you are living amongst us. Allahs Messenger ﷺ became angry and signs of anger could be seen on his face, and then said: Dont make distinction amongst the Prophets of Allah. When the horn will be blown and whatever is in the heavens and the earth would swoon but he whom Allah grants exception, then another horn will be blown and I would be the first amongst those who would recover and Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) would be catching hold of the Throne and I do not know whether it is a compensation for that when he swooned on the Day of Tur or he would be resurrected before me and I do not say that anyone is more excellent than Yunus son of Matta (peace he upon him).

6152Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَائً

محمد بن حاتم، یزید بن ہارون، حضرت عبدالعزیز بن ابی سلمہ ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with the same chain of transmitters.

6153Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ وَرَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْعَالَمِينَ وَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی الْعَالَمِينَ قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَمْ کَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَی اللَّهُ

زہیر بن حرب، ابوبکر بن نضر، یعقوب بن ابرہیم، ابی، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی جھگڑ پڑے ایک آدمی یہودیوں میں سے تھا اور ایک آدمی مسلمانوں میں سے تھا مسلمان آدمی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی اور یہودی آدمی کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی راوی کہتے ہیں کہ مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا تو یہودی آدمی رسول ﷺ کی طرف گیا اور آپ کو اس کی خبر دی جو اس کے اور مسلمان کے درمیان معاملہ پیش آیا تو رسول ﷺ نے فرمایا مجھے حضرت موسیٰ پر فضیلت نہ دو کیونکہ روز قیامت لوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے اور سب سے پہلے میں ہوں گا جسے ہوش آئے گا تو میں حضرت موسیٰ کو عرش کا ایک کونہ پکڑے ہوئے دیکھوں گا اور میں نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ کے ہوش اڑ گئے تھے اور وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا وہ ان میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنی رکھا۔

Abu Hurairah (RA) reported that two persons, one from amongst the Jews and the other from amongst the Muslims, fell into dispute and began to abuse one another. The Muslim said: By Him Who chose Muhammad ﷺ in the worlds. And the Jew said: By Him Who chose Moses (علیہ السلام) in the worlds. Thereupon the Muslim lifted his hand and slapped at the face of the Jew. The Jew went to Allahs Messenger ﷺ and told him about his affair and the affair of the Muslim. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont make me superior to Moses (علیہ السلام) for mankind will swoon and I would be the first to recover from it and Moses (علیہ السلام) would be at that time seizing the side of the Throne and I do not know (whether) he would swoon and would recover before me or Allah would make an exception for him.

6154Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعیب زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اور یہودیوں میں سے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا ہوا اور پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A person from amongst the Muslims and a person from amongst the Jews fell into dispute and reviled each other. The rest of the hadith is the same.

6155Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَ يَهُودِيٌّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَکَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ اکْتَفَی بِصَعْقَةِ الطُّورِ

عمرو ناقد ابواحمد زبیری سفیان، عمرو بن یحییٰ حضرت ابوسعد خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ (موسیٰ علیہ السلام) ان میں سے تھے کہ جن کے ہوش اڑ گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا طور کی بیہوشی کی وجہ سے اکتفاء کرلیا گیا۔

Abu Said Khudri reported that a Jew who had received a blow at his face came to Allahs Messenger ﷺ ; the rest of the hadith is the same, up to the hand (where the words are): That he (the Holy Prophet) said: I do not know whether he would be one who would fall into swoon and would recover before me or he would be compensated for his swooning at Tur (and thus he would not swoon on this occasion) of Resurrection.

6156Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَائِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابن نمیر، ابی سفیان، عمرو بن یحییٰ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا تم مجھے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے درمیان فضیلت نہ دو۔

Abu Said Kudari reported Allahs Messenger ﷺ having said this: Dont make distinction amongst the Apostles. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also.

6157Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ مَرَرْتُ عَلَی مُوسَی لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْکَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

ہداب بن خالد، شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، سلیمان تیمی، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا میں آیا اور ہداب کی روایت میں ہے کہ معراج کی رات میں حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کثیب احمر کے پاس اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔

Anas bin malik reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I came. And in the narration transmitted on the authority of Haddab (the words are): I happened to pass by Moses (علیہ السلام) on the occasion of the Night journey near the red mound (and found him) saying his prayer in his grave.

6158Sahih Muslim

موسیٰ (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ عَلَی مُوسَی وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عِيسَی مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي

علی بن خشرم عیسیٰ ابن یونس عثمان بن ابی شیبہ جریر، سلیمان تیمی انس، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان سفیان، سلیمان تیمی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ حضرت موسیٰ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں گزرا۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I happened to pass by Moses (علیہ السلام) as he was busy in saying prayer in his grave, and in the hadith transmitted on the authority of Isa there is an addition of these words: "I happened to pass on the occasion of the Night journey." In the hadith pertaining to Yunus (peace be upon him) the words of the Holy Prophet ﷺ are: "It is not for a servant that he should say: "I am better than Yunus (jonah) son of Matta."

6159Sahih Muslim

یونس (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا قول کہ میرے کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں حضرت یونس سے بہتر ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَعْنِي اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ لِي و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی لِعَبْدِي أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابرہیم حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے کسی بندے کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Majestic, said: It is not meant for a servant of Mine that he should say: I am better than Yunus bin Matta (peace be upon him).

6160Sahih Muslim

یونس (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا قول کہ میرے کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں حضرت یونس سے بہتر ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی وَنَسَبَهُ إِلَی أَبِيهِ

محمد بن مثنی ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابوعالیہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر ہوں اور آپ ﷺ نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔

Abu al-Aliya said: The son of the uncle of your Prophet ﷺ , i. e. Ibn Abbas (RA) , reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not meant for a servant that he should say: I am better than Yunus bin Matta (and this Matta) is the name of his father.

6161Sahih Muslim

یوسف (علیہ السلام) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ قَالَ أَتْقَاهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبداللہ بن سعید یحییٰ بن سعید عبداللہ ابوسعید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول! ﷺ لوگوں میں سے سب سے زیادہ مکرم (معزز) کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ہم آپ سے اس کا سوال نہیں کرتے آپ نے فرمایا وہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں جو کہ اللہ کے نبی ہیں اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کے پو تے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا ہم آپ ﷺ سے اس کا بھی سوال نہیں کرتے آپ نے فرمایا پھر تم مجھ سے عرب کے قبیلوں کے بارے میں پوچھتے ہو وہ جو زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام کے زمانہ میں بھی بہترین لوگ ہیں جبکہ وہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرلیں

Abu Hurairah (RA) reported: It was said to Allahs Messenger ﷺ as to who was the most worthy of respect amongst people. He said: The most God-conscious amongst you. They said: It is not this that we are asking about, whereupon he said: Then he is Yusuf, the Apostle ﷺ of Aliah and the son of Allahs Apostle, Yaqub, who was also the son of Allahs Apostle, the friend of Allah (Ibrahim). They said: This is not what we are asking you. He said: You mean the tribes of Arabia? Those who are good in pre-Islamic days are good in Islam (after embracing Islam) when they get an understanding of it.