نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
نصر بن علی بشر بن مفضل خالد خذا عمار مولیٰ بنی ہاسم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی وفات پینسٹھ سال کی عمر میں ہوئی۔
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported that Ibn Abbas said that Allahs Messenger ﷺ died when he had attained the age of sixty-five.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، حضرت خالد سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Khalid with the same chain of transmitters.
نبی ﷺ کا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی ضرورت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَی الضَّوْئَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَی شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَی إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
اسحاق بن ابراہیم، حنظلی روح حماد بن سلمہ عمار بن ابی عمار حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال قیام پذیر رہے آپ آواز سنتے (یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کی) اور روشنی دیکھتے (یعنی راتوں کی تاریکی میں عظیم نور دیکھتے اور یہ سلسلہ) سات سال تک رہا لیکن آپ ﷺ کوئی صورت نہ دیکھتے اور پھر آٹھ سال تک وحی آنے لگی اور آپ ﷺ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ stayed in Makkah for fifteen years (after his advent as a Prophet) and he heard the voice of Gabriel (علیہ السلام) and saw his radiance for seven years but did not see any visible form, and then received revelation for ten years, and he stayed in Madinah for ten years.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَی بِيَ الْکُفْرُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمرو زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت محمد بن جبیر ؓ بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں اور میں احمد بھی ہوں اور میں ماحی بھی ہوں یعنی اللہ میری وجہ سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں (قیامت کے دن) سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں (یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں، اس وجہ سے میرا ایک عاقب بھی ہے)۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I am Muhammad and I am Ahmad, and I am al-Mahi (the obliterator) by whom unbelief would be obliterated, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet mankind will be gathered, and I am Aqib (the last to come) after whom there will be no Prophet.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي أَسْمَائً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمَيَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَئُوفًا رَحِيمًا
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت محمد بن جبیر ؓ بن مطعم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بہت سے نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں اور میں حاشر ہوں (حاشر کا معنی یہ کہ قیامت کے دن) اللہ سب لوگوں کو میرے پاؤں پر جمع فرمائے گا اور میں عاقب ہوں (عاقب کا معنی یہ ہے کہ) جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا نام رؤف اور رحیم رکھا ہے۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I have many names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am al-Mahi through whom Allah obliterates unbelief, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet people will be gathered, and I am Aqib (after whom there would be none), and Allah has named him as compassionate and merciful.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ قَالَ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ الْکَفَرَةَ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ الْکُفْرَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوسمان شعیب حضرت زہری ؓ سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور معمر کی حدیث میں سمعت رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں اور عقیل کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت زہری سے پوچھا کہ عاقب کے کیا معنی ہیں انہوں نے فرمایا جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو اور عقیل نے اپنے روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے اور شعیب نے اپنی روایت میں " کفر " کا لفظ کہا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Mamar (and the words are): I said to Zuhri: What does (the word) al-Aqib imply? He said: One after whom there is no Prophet, and in the hadith transmitted on the authority of Mamar and Uqail there is a slight variation of wording.
نبی ﷺ کے اسماء مبارک کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَائً فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، اعمش، عمرو بن مرہ ابی عبیدہ حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اپنے کئی نام بیان فرمائے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں محمد اور احمد اور مُقَفِّي اور حاشر، نبی التوبہ اور نبی الرحمت ہوں۔
Abu Musa Ashari reported that Allahs Messenger ﷺ mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet ﷺ of repentance, and the Prophet ﷺ of Mercy.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَکَأَنَّهُمْ کَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَکَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابن ضحی مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کام کیا اور اس میں رخصت رکھی تو یہ بات آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگوں تک پہنچی تو ان لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور اس سے پرہیز کیا آپ ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ جن کو یہ بات پہنچی ہے کہ میں نے ایک کام کرنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ اسے ناپسند سمجھ رہے ہیں اور اس سے پرہیز کر رہے ہیں اللہ کی قسم میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور میں ہی اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔
Abu Musa Ashari reported that Allahs Messenger ﷺ mentioned many names of his and said: I am Muhammad, Ahmad, Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet ﷺ of repentance, and the Prophet ﷺ of Mercy.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ
ابوسعید اشج حفص ابن عیاث اسحاق بن ابراہیم، علی بن حشرم عیسیٰ بن یونس، اعمش حضرت اعمش ؓ سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash through a different chain of transmitters.
اس بات کے بیان مٰن کہ جناب نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جاننے والے اور اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّی بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
ابوکریب ابومعاویہ اعمش، مسلم مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے کرنے کے بارے میں اجازت عطا فرمائی تو لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے بچنے لگے جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ غصہ میں آگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام کے کرنے کی میں اجازت دی ہے اور وہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اللہ کی قسم میں سب سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور میں ہی سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allahs Apostle ﷺ , and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said: What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them.
رسول اللہ کی اتباع کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِّحْ الْمَائَ يَمُرُّ فَأَبَی عَلَيْهِمْ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَائَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِکَ فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب عروہ ابن زبیر حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی حرہ کے ایک مہرے کے بارے میں کہ جس سے کھجور کے درختوں کو پانی لگاتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کرنے لگا انصاری نے کہا کہ پانی کو چھوڑ دے تاکہ وہ بہتا رہے۔ حضرت زبیر ؓ نے انکار کردیا تو سب نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس جھگڑے کا (ذکر کیا) رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا اے زبیر! تو اپنے درختوں کو پانی دے پھر پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دے۔ انصاری (یہ بات سن کر) غصہ میں آگیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! یہ زبیر تو آپ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی تھے (یہ بات سن کر) اللہ کے نبی ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل گیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے زبیر! اپنے درختوں کو پانی دے پھر پانی کو روک لے یہاں تک کہ پانی دیواروں تک چڑھ جائے۔ حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا) 4۔ النسآء: 65) اس بارے میں نازل ہوئی ہے " اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ ﷺ کو حکم تسلیم نہ کرلیں اور پھر آپ "۔
Urwa bin Zubair reported that Abdullah bin Zubair had narrated to him that a person from the Ansar disputed with Zubair in the presence of Allahs Messenger ﷺ in regard to the watering places of Harra from which they watered the date-palms. The Ansari said: Let the water flow, but he (Zubair) refused to do this and the dispute was brought to Allahs Messenger ﷺ and he said to Zubair: Zubair, water (your date-palms), then let the water flow to your neighbor. The Ansari was enraged and said: Allahs Messenger, (you have given this decision) for he is the son of your fathers sister. The face of Allahs Apostle ﷺ underwent a change, and then said: Zubair, water (your date-palms), then hold it until it rises up to the walls. Zubair said: I think, by Allah, that this verse: "Nay, by the Lord, they will not (really) (believe) until they make thee a judge of what is in dispute among them, and find in this no dislike of what thou decidest and submit with full submission" (iv. 65).
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَا کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا نَهَيْتُکُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ وَمَا أَمَرْتُکُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَی أَنْبِيَائِهِمْ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ میں جس کام سے تمہیں روکتا ہوں تم اس سے رک جاؤ اور جس کام کے کرنے کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں تو تم اپنی استطاعت کے مطابق اس کام کو کرو کیونکہ تم سے پہلے وہ لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے کثرت سے سوال اور اختلاف کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Avoid that which I forbid you to do and do that which I command you to do to the best of your capacity. Verily the people before you went to their doom because they had put too many questions to their Prophets and then disagreed with their teachings.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَائً
محمد بن احمد بن ابی خلف ابوسلمہ منصور بن سلمہ خزاعی لیث، یزید بن ہاد حضرت ابن شہاب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کُلُّهُمْ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَکْتُکُمْ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ مَا تُرِکْتُمْ فَإِنَّمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ثُمَّ ذَکَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ، قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابن ابی عمر، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ، عبیداللہ بن معاذ، ابی شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ۔ ان سب سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس کام کو میں چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو اور ہمام کی روایت میں ترکتم کا لفظ ہے مطلب یہ کہ جس معاملہ میں تمہیں چھوڑ دیا جائے پھر آگے روایت میں زہری عن سعید اور ابوسلمہ عن ابوہریرہ ؓ کی روایت کی طرح ذکر کیا گیا ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) through a different chain of transmitters (and the words are) that he reported Allahs Messenger ﷺ having said: Abandon that which I have asked you to abandon, for the people before you went to their doom (for asking too many questions).
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْئٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَی الْمُسْلِمِينَ فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
یحییٰ بن یحیی، ابرہیم بن سعد ابن شہاب حضرت عامر بن سعد ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان میں سے سب بڑا جرم اس مسلمان کا ہے کہ جس نے کسی چیز کے بارے میں پوچھا (جب کہ وہ حرام) مسلمانوں پر حرام نہیں تھی لیکن ان کے سوال کرنے کی وجہ سے ان پر وہ چیز حرام کردی گئی۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said: The greatest sinner amongst the Muslims is one who asked about a thing (from Allahs Apostle) ﷺ which had not been forbidden for the Muslims and it was forbidden for them because of his persistently asking about it.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَحْفَظُهُ کَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، زہری، محمد بن عباد سفیان، حضرت عامر بن سعد ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس مسلمان کا ہے کہ جس نے کسی ایسے کام کے بارے میں سوال کیا جو حرام نہیں تھا تو پھر وہ کام اس مسلمان کے سوال کرنے کی وجہ سے لوگوں پر حرام کردیا گیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amir bin Sad and the words are. Allahs Messenger ﷺ said: The greatest sinner of the Muslims amongst Muslims is one who asked about a certain thing which had not been prohibited and it was prohibited because of his asking about it.
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْئٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن معمر کی روایت میں یہ الفاظ زائدہ ہیں کہ ایک آدمی نے کسی چیز کے بارے میں پوچھا اور اس کے بارے میں موشگافی کی اور یونس نے اپنے روایت میں عامر بن سَعْدٍ أَنَّهُ سے سَمِعَ سَعْدًا کے الفاظ ذکر کئے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters and with this addition: "A person asked about a thing from Allahs Apostle ﷺ and he indulged in hair-splitting."
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ وَيَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ اللُّؤْلُؤِيُّ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْئٌ فَخَطَبَ فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا قَالَ فَمَا أَتَی عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ قَالَ غَطَّوْا رُئُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا قَالَ فَقَامَ ذَاکَ الرَّجُلُ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ فُلَانٌ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ
محمود بن غیلان محمد بن قدامہ سلمہ یحییٰ بن محمد لولوی محمود نضر بن شمیل نضر شعبہ، موسیٰ بن انس، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کو اپنے صحابہ کرام ؓ کی طرف سے کوئی بات پہنچی تو آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا تو میں نے آج کے دن کی طرح کوئی خیر اور کوئی شر کبھی نہیں دیکھی اور اگر تم بھی جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم لوگ کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔ راوی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر اس دن سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں آیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان سب نے اپنے سروں کو جھکا لیا اور ان پر گریہ طاری ہوگیا راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور وہ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں پھر اس کے بعد وہی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میرے باپ کون تھے آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ فلاں تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (يٰ اَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْ َ لُوْا عَنْ اَشْيَا ءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ) 5۔ المائدہ: 101) اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھا کرو کہ اگر وہ ظاہر ہوجائیں تو تم کو بری معلوم ہونے لگیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that something was conveyed to him (the Holy prophet) about his Companions, so he addressed them and said: Paradise and Hell were presented to me and I have never seen the good and evil as (I did) today. And if you were to know you would have wept more and laughed less. He (the narrator) said: There was nothing more burdensome for the Companions of Allahs Messenger ﷺ than this. They covered their heads and the sound of weeping was heard from them. Then there stood up Umar and he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as our Apostle, and it was at that time that a person stood up and he said: Who is my father? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Your father is so and so; and there was revealed the verse: "O you who believe, do not ask about matters which, if they were to be made manifest to you (in terms of law), might cause to you harm" (v. 101).
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوکَ فُلَانٌ وَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ تَمَامَ الْآيَةِ
محمد بن معمر، بن ربعی قیسی روح بن عبادہ، شعبہ، موسیٰ بن انس، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ کون تھا آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ فلاں آدمی تھا اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (یااَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْلُوْا عَنْ اَشْيَا ءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ) 5۔ المائدہ: 101) اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھا کرو کہ اگر وہ ظاہر ہوجائیں تو تم کو بری معلوم ہونے لگیں۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, who is my father? And he said: Your father is so and so, and there was revealed this verse: "Do not ask about matters which, if they were to be made manifest to you, might cause you harm" (v. 101).
بغیر ضرورت کے کثرت سے سوال کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ السَّاعَةَ وَذَکَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْئٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَأَکْثَرَ النَّاسُ الْبُکَائَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَکْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوکَ حُذَافَةُ فَلَمَّا أَکْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي بَرَکَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَی وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ أَعَقَّ مِنْکَ أَأَمِنْتَ أَنْ تَکُونَ أُمُّکَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَائُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فَتَفْضَحَهَا عَلَی أَعْيُنِ النَّاسِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ لَلَحِقْتُهُ
حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے صحابہ ؓ کو ظہر کی نماز پڑھائی پھر جب سلام پھیرا تو آپ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر فرمایا اور آپ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے بہت سی بڑی بڑی باتیں ظاہر ہوں گی پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ مجھ سے پوچھ لے اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں پوچھو گے تو میں تم کو اس کے بارے میں خبر دے دوں گا جب تک کہ میں اپنی اس جگہ پر ہوں حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سنی تو بہت سے لوگوں نے رونا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمانا شروع کردیا کہ مجھ سے پوچھو حضرت عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا باپ کون تھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیرا باپ حذیفہ تھا رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمانا شروع کردیا کہ تم لوگ مجھ سے پوچھو تو حضرت عمر ؓ اپنے گھٹنوں کے بل گرپڑے اور عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں راوی کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت عمر ؓ نے یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آفت قریب ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میں محمد ﷺ کی جان ہے اور اس دیوار کے کونے میں میرے سامنے جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا تو میں نے آج کے دن کی طرح کی کوئی بھلائی اور برائی کبھی نہیں دیکھی ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن حذافہ کی ماں نے ان سے کہا کہ میں نے تیرے جیسا نافرمان بیٹا کوئی نہیں دیکھا کہ تجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تیری ماں نے بھی وہ گناہ کیا ہوگا کہ جو زمانہ جاہلیت کی عورتیں کیا کرتی تھیں پھر تو اپنی ماں کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رسوا کرے حضرت عبداللہ بن حذافہ کہنے لگے کہ اگر میرا رشتہ ایک حبشی غلام سے بھی ملایا جاتا تو میں اس سے مل جاتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (may peace be upon him stood when the sun had passed the meridian and he led the noon prayer and after observing salutations (completing the prayer) he stood upon the pulpit and talked about the Last Hour and made a mention of the important facts prior to it and then said: He who desires to ask anything from me let him ask me about it. By Allah, I shall not move from this place so long as I do not inform you about that which you ask. Anas bin Malik (RA) said: People began to shed tears profusely when they heard this from Allahs Messenger ﷺ and Allahs Messenger ﷺ said it repeatedly: You ask me. Thereupon Abdullah bin Hudhafa stood up and said: Allahs Messenger, who is my father? He said: Your father is Hudhafa, and Allahs Messenger ﷺ said repeatedly: Ask me, and (it was at this juncture that Umar knelt down and said): We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as the Messenger (of Allah). Allahs Messenger ﷺ kept quiet so long as Umar spoke. Then Allahs Messenger ﷺ said: (The Doom) is near; by Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, there was presented to me the Paradise and Hell in the nook of this enclosure, and I did not see good and evil like that of the present day. Ibn Shihab reported: Ubaidullah bin Abdullah bin Utba told me that the mother of Abdullah bin Hudhafa told Abdullah bin Hudhafa: I have never heard of a son more disobedient than you. Do you feel yourself immune from the fact that your mother committed a sin which the women in the pre-Islamic period committed and then you disgrace her in the eyes of the people? Abdullah bin Hudhafa said: If my fatherhood were to be attributed to a black slave I would have connected myself with him.