فتنوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 55 · 182 hadiths · Page 6 of 10

7335Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم یہودیوں سے لڑو گے تو انہیں قتل کردو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان ادھر آ یہ یہودی ہے اسے قتل کر دے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You will fight against the Jews and you will kill them until even a stone would say: Come here, Muslim, there is a Jew (hiding himself behind me); kill him.

7336Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي

محمد بن مثنی عبیداللہ بن سعید یحییٰ عبیداللہ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ پتھر کہے گا یہ میرے پیچھے یہودی ہے۔

Ubaidullah has reported this hadith with this chain of transmitters (and the Words are): "There is a Jew behind me."

7337Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عمر بن حمزہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اور یہودی باہم جنگ کرو گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے ادھر آؤ اور اسے قتل کردو۔

Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: You and the Jews would fight against one another until a stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; come and kill him.

7338Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُقَاتِلُکُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّی يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم ابن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم یہود سے جنگ کرو گے پس تم ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بھی کہے گا کہ اے مسلمان میرے پیچھے یہود ہے اسے قتل کر دے۔

Abdullah bin Umar reported that Allahs Messenger ﷺ said: The Jews will fight against you and you will gain victory over them until the stone would say: Muslim, here is a Jew behind me; kill him.

7339Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ حَتَّی يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَائِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The last hour would not come unless the Muslims will fight against the Jews and the Muslims would kill them until the Jews would hide themselves behind a stone or a tree and a stone or a tree would say: Muslim, or the servant of Allah, there is a Jew behind me; come and kill him; but the tree Gharqad would not say, for it is the tree of the Jews.

7340Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ کَذَّابِينَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ ابوبکر ابوالاحوص، ابوکامل جحدری ابوعوانہ، سماک حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت سے پہلے کئی کذاب ہوں گے اور ابوالاحوص نے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے ان سے کہا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں

Jabir bin ahadeeth reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Before the Last Hour there would be many liars, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu Ahwas of these words: "I said to him: Did you hear it from Allahs Messenger ﷺ ? He said: Yes."

7341Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

و حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ سِمَاکٌ وَسَمِعْتُ أَخِي يَقُولُ قَالَ جَابِرٌ فَاحْذَرُوهُمْ

ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، سماک اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ حضرت جابر ؓ نے کہا ان سے بچو۔

This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters. And Simak said: I heard my brother say that jabir had stated: Be on your guard against them.

7342Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يُبْعَثَ دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ

زہیر بن حرب، اسحاق بن منصور اسحاق زہیر عبدالرحمن ابن مہدی مالک ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تیس کے قریب دجالوں اور کذابوں کو بھیجے جانے تک قیامت قائم نہ ہوگی وہ سب دعوی کریں گے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour would not come until there would arise about thirty impostors, liars, and each one of them would claim that he is a messenger of Allah.

7343Sahih Muslim

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزر کر مصیبتوں کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ اس جگہ ہوتا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ يَنْبَعِثَ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، اس سند سے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ سے نبی ﷺ کی وہی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں يَنْبَعِثَ کا لفظ ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.

7344Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ فَکَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَرِهَ ذَلِکَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَدَاکَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّی أَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْ الَّذِي تَرَی فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ چند بچوں کے پاس سے گزرے ان میں ابن صیاد بھی تھا پس بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا تو گویا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو پسند نہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا نہیں بلکہ کیا آپ ﷺ گواہی دیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں عمر بن خطاب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ وہی ہو جس کے بارے میں تمہارا گمان ہے تو تم اسے قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

Abdullah reported: We were along with Allahs Messenger ﷺ that we happened to pass by children amongst whom there was Ibn Sayyad. The children made their way but Ibn Sayyad kept sitting there (and it seemed) as if Allahs Messenger ﷺ did not like it (his sitting with the children) and said to him: May your nose he besmeared with dust, dont you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? ﷺ Thereupon he said: No, but you should bear testimony that I am the messenger of Allah. Thereupon Umar bin Khattab said: Allahs Messenger, permit me that I should kill him. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: If he is that person who is in your mind (Dajjal ), you will not be able to kill him.

7345Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ دُخٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنْ يَکُنْ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابی کریب ابن نمیر، ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے کہ آپ ﷺ ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے تیرے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے؟ بتا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا دخ ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دور ہوجا اور تو اپنے اندازے سے تجاوز نہیں کرسکتا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو پس اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خدشہ ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

Abdullah reported: We were walking with Allahs Messenger ﷺ that Ibn Sayyad happened to pass by him. Allahs Messenger ﷺ said to him: I have concealed for you (something to test you, so tell me that). He said: It is Dukh. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said to him: Be off. You cannot get farther than your rank, whereupon Umar said: Allahs Messenger, permit me to strike his neck. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Leave him; if he is that one (Dajjal) whom you apprehend, you will not be able to kill him.

7346Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ مَا تَرَی قَالَ أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَی عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَی الْبَحْرِ وَمَا تَرَی قَالَ أَرَی صَادِقَيْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ

محمد بن مثنی، سالم بن نوح جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر وعمر ؓ کی ملاقات ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ ﷺ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر۔ تو نے کیا دیکھا اس نے کہا میں نے پانی پر تخت دیکھا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھا ہے اور کیا دیکھا اس نے کہا میں نے دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے اس لئے اسے چھوڑ دو۔

Abu Said reported that Allahs Messenger ﷺ met him (Ibn Sayyad) and so did Abu Bakr (RA) and Umar on some of the roads of Madinah. Allahs Messenger ﷺ said: Do you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? ﷺ Thereupon he said: Do you bear testimony to the fact that I am the messenger of Allah? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: I affirm my faith in Allah and in His Angels and in His Books, and what do you see? He said: I see the throne over water. Whereupon Allahs Messenger ﷺ said: You see the throne of Iblis upon the water, and what else do you see? He said: I see two truthful ones and a liar or two liars and one truthful. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Leave him He has been confounded.

7347Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ

یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبدالاعلی معتمر ابونضرہ ؓ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ابن صائد سے ملے اور آپ ﷺ کے ساتھ ابوبکر وعمر ؓ بھی تھے اور ابن صائد کے ساتھ لڑکے تھے باقی حدیث جریری کی حدیث ہی کی طرح ہے۔

Jabir b Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ met Ibn Said (Sayyad) and there were with him Abu Bakr (RA) and Umar and Ibn Sayyad was in the company of children. The rest of the hadith is the same.

7348Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَی مَکَّةَ فَقَالَ لِي أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنْ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَقَدْ وُلِدَ لِي أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَکَّةَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَکَّةَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَکَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فَلَبَسَنِي

عبیداللہ بن عمر قواریری محمد بن مثنی، عبدالاعلی داؤد ابی نضرہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں مکہ میں ابن صائد کے ساتھ رہا تو اس نے مجھے کہا میں جن لوگوں سے ملا ہوں وہ گمان کرتے ہیں کہ میں دجال ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دجال کی کوئی اولاد نہ ہوگی میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا حالانکہ میری تو اولاد ہے پھر اس نے کہا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا میں تو مدینہ میں پیدا ہوچکا ہوں اور یہ کہ میں اب مکہ کا ارادہ کرتا ہوں پھر اس نے اپنی آخری بات میں مجھے کہا اللہ کی قسم میں دجال کے پیدا ہونے اور اس کے رہنے اور اس کے رہنے کی جگہ کو اور اس وقت وہ کہاں ہے جانتا ہوں اس اخیری کلام نے معاملہ کو مجھ پر مشتبہ کردیا۔

Abu Said reported: I accompanied Ibn Sayyad to Makkah and he said to me: What I have gathered from people is that they think that I am Dajjal. Have you not heard Allahs Messenger (may peace upon him) as saying: He will have no children, I said: Yes, of course. Thereupon he said: But I have children. Have you not heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He would not enter Makkah and Madinah? I said: Yes, of course. Thereupon he said I have been once in Madinah and now I intend to go to Makkah. And he said to me at the end of his talk: By Allah: I know his place of birth his abode where he is just now. He (Abu Said) said: This caused confusion in my mind (in regard to his identity).

7349Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي وَلَکُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ وَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَکَّةَ وَقَدْ حَجَجْتُ قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّی کَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّکَ أَنَّکَ ذَاکَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا کَرِهْتُ

یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبد الاعلی معتمر ابی نضرہ ؓ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ابن صائد نے مجھ سے بات کہی جس سے مجھے شرم آئی کہنے لگا کہ لوگوں کو تو میں نے معذور جانا اور تمہیں میرے بارے میں اصحاب محمد کیا ہوگیا؟ کیا اللہ کے نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال یہودی ہوگا حالانکہ میں اسلام لا چکا ہوں اور کہنے لگا کہ اور اس کی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میری تو اولاد بھی ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اس پر مکہ کو حرام کردیا ہے میں تحقیق حج کرچکا ہوں اور وہ مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا قریب تھا کہ میں اس کی باتوں میں آجاتا اس نے کہا اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اس بلکہ وقت (دَجَّال) کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور والدہ کو بھی جانتا ہوں اور اس سے کہا گیا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو ہی وہ آدمی (دَجَّال) ہو اس نے کہا اگر یہ بات مجھ پر پیش کی گئی تو میں اسے ناپسند نہ کروں گا۔

Abu Said Khudri reported: Ibn Said said to me something for which I felt ashamed. He said: I can excuse others; but what has gone wrong with you, O Companions of Muhammad, that you take me as Dajjal? Has Allahs Apostle ﷺ not said that he would be a Jew whereas I am a Muslim and he also said that he would not have children, whereas I have children, and he also said: verily, Allah has prohibited him to enter Makkah whereas I have performed Pilgrimage, and he went on saying this that I was about to be impressed by his talk. He (however) said this also: I know where he (Dajjal) is and I know his father and mother, and it was said to him: Wont you feel pleased if you would be the same person? Thereupon he said: If this offer is made to me, I would not resent that.

7350Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ قَالَ وَجَائَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْکَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَائَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَکْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيْکُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ کَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ تَرَکْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَکَّةَ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَکَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّی کِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْيَوْمِ

محمد بن مثنی، سالم بن نوح جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے چلے اور ابن صائد ہمارے ساتھ تھا ہم ایک جگہ اترے تو لوگ منتشر ہوگئے میں اور وہ باقی رہ گئے اور مجھے اس سے سخت وحشت و خوف آیا جو اس کے بارے میں کہا جاتا تھا اور اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا تو میں نے کہا گرمی سخت ہے اگر تو اپنا سامان درخت کے نیچے رکھ دے ( تو بہتر ہے) پس اس نے ایسا ہی کیا پھر ہمیں کچھ بکریاں نظر پڑیں وہ گیا اور ایک (دودھ کا) بھرا ہوا پیالہ لے آیا اور کہنے لگا اے ابوسعید پیو میں نے کہا گرمی بہت سخت ہے اور دودھ بھی گرم ہے اور دودھ کے ناپسند کرنے کے سوائے اس کے ہاتھ سے بچنے کی اور کوئی بات نہ تھی یا کہا اس کے ہاتھ سے لینا ہی ناپسند تھا تو اس نے کہا اے ابوسعید میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت کے ساتھ لٹکاؤں پھر اپنا گلا گھونٹ لوں اس وجہ سے جو میرے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں اے ابوسعید جن سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث مخفی ہے (ان کی تو الگ بات ہے) اے انصار کی جماعت! تجھ پر تو پوشیدہ نہیں ہے کیا تو لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ کی حدیث کو جاننے والا نہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کافر ہوگا اور میں مسلمان ہوں کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا وہ بانجھ ہوگا کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی حالانکہ میں اپنی اولاد مدینہ میں چھوڑ کر آیا ہوں کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہ ہوگا حالانکہ میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ ہے حضرت ابوسعید خدری نے کہا قریب تھا کہ میں اس کے عذر قبول کرلیتا پھر اس نے کہا اللہ کی قسم میں اسے پہچانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش سے بھی واقف ہوں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے میں نے اس سے کہا تیرے لئے سارے دن کی ہلاکت و بربادی ہو۔

Abu Said Khudri reported: We came back after having performed Pilgrimage or Umrah and ibn Said was along with us. And we encamped at a place and the people dispersed and I and he were left behind. I felt terribly frightened from him as it was said about him that he was the Dajjal. He brought his goods and placed them by my luggage and I said: It is intense heat. Would you not place that under that tree? And he did that. Then there appeared before us a flock of sheep. He went and brought a cup of milk and said: Abu Said, drink that. I said it is intense heat and the milk is also hot (whereas the fact was) that I did not like to drink from his hands (or said: to take it from his hand) and he said: Abu Said, I think that I should take a rope and suspend it by the tree and then commit suicide because of the talks of the people, and he further said. Abu Said he who is ignorant of the saying of Allahs Messenger ﷺ (he is to be pardoned), but O people of Ansar, is this hadith of Allahs Messenger ﷺ concealed from you whereas you have the best knowledge of this hadith of Allahs Messenger ﷺ amongst people? Did Allahs Messenger ﷺ not say that he (Dajjal) would be a non believer whereas I am a believer? Did Allahs Messenger ﷺ not say he would be barren and no child would be born to him, whereas I have left my children in Madinah? Did Allahs Messenger (may peace upon him) not say: He would not get into Madinah and Makkah whereas I have been coming from Madinah and now I intend to go to Makkah? Abu Said said: I was about to accept the excuse put forward by him. That he said: I know the place where he would be born and where he is now. So I said to him: May your whole days be spent in grief for you.

7351Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ قَالَ دَرْمَکَةٌ بَيْضَائُ مِسْکٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ صَدَقْتَ

نصر بن علی بشر ابن مفضل ابی مسلمہ ابی نضرہ ؓ حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صائد سے فرمایا جنت کی مٹی کیسی ہوگی اس نے کہا اے ابوالقاسم سفید باریک مشک کی طرح ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔

This hadith has transmitted on the authority of Abu Said that Allahs Messenger ﷺ asked Ibn Said about the earth of Paradise. Thereupon he said: Abul-Qasim, It is like a fine white musk, whereupon he (the Holy Prophet) said: You have told the the truth.

7352Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَکَةٌ بَيْضَائُ مِسْکٌ خَالِصٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ جریر، ابی نضرہ ؓ حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا خالص سفید باریک مشک۔

Abu Said reported that Ibn Sayyad asked Allahs Messenger ﷺ about the earth of Paradise. Whereupon he said: It is like white shining pure musk.

7353Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ فَقُلْتُ أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَی ذَلِکَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْکِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے دیکھا کہ ابن صائد دجال ہے تو میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم اٹھاتے ہو انہوں نے کہا میں نے عمر کو سنا وہ اس بات پر نبی ﷺ کے پاس قسم اٹھا رہے تھے اور نبی ﷺ نے انکار نہ فرمایا۔

Muhammad bin Munkadir reported: As I saw Jabir bin Abdullah taking an oath in the name of Allah that it was Ibn Said who was the Dajjal I said: Do you take an oath in the name of Allah? Thereupon he said: I heard Umar taking an oath in the presence of Allahs Apostle ﷺ to this effect but Allahs Apostle ﷺ did not disapprove of it.

7354Sahih Muslim

ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّی وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّی ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَی قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَکَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْکَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَکَ فِي قَتْلِهِ

حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن حرملہ بن عمران ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا اور ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا اور اسے کچھ معلوم نہ ہوسکا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب ماری پھر رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے آپ ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ امیوں کے رسول ہیں پھر ابن صیاد نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کیا آپ ﷺ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر پھر رسول ﷺ نے اس سے فرمایا تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد نے کہا میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات چھپائی ہوئی ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ دخ ہے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا دور ہو تو اپنے اندازہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا پھر عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported: Umar bin Khattab went along with Allahs Messenger ﷺ in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allahs Messenger ﷺ struck his back with his hands. Allahs Messenger ﷺ said: Ibn Sayyad, dont you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you are the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allahs Messenger ﷺ : Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allahs Messenger ﷺ rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers. Then Allahs Messenger ﷺ said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It us a Dukh. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. Umar bin Khattab said: Allahs Messenger, permit me that I should strike his neck. Therupon Allahs Messenger ﷺ said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not, then there is no good for you to kill him. Abdullah bin Umar further narrated that after some time Allahs Messenger ﷺ and Ubayy bin Kab went towards the palm trees where Ibn Sayyad was. When Allahs Messenger ﷺ went near the tree he hid himself behind a tree with the intention of hearing something from Ibn Sayyad before Ibn Sayyad could see him, but Allahs Messenger ﷺ saw him on a bed with a blanket around him from which a murmuring sound was being heard and Ibn Sayyads mother saw Allahs Messenger ﷺ behind the trunk of the palm tree. She said to Ibn Sayyad: Saf (that being his name), here is Muhammad. Thereupon Ibn Sayyad jumped up murmuring and Allahs Messenger ﷺ said: If she had left him alone he would have made things clear. Abdullah bin Umar (RA) told that Allahs Messenger ﷺ stood up amongst the people and lauded Allah as He deserved, then he made a mention of the Dajjal and said: I warn you of him and there is no Prophet ﷺ who has not warned his people against the Dajjal. Even Noah warned (against him) but I am going to tell you a thing which no Prophet ﷺ told his people. You must know that he (the Dajjal) is one-eyed and Allah, the Exalted and Glorious, is not one-eyed. Ibn Shihab said: Umar bin Thabit al-Ansari informed me that some of the Companions of Allahs Messenger ﷺ informed him that the day when Allahs Messenger ﷺ warned people against the Dajjal, he also said: There would be written between his two eyes (the word) Kafir (infidel) and everyone who would resent his deeds would be able to read or every Muslim would be about to read, and he also said: Bear this thing in mind that none amongst you would be able to see Allah, the Exalted and Glorious, until he dies.