ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَی النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ
سالم بن عبداللہ ابن عمر ؓ حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ اور حضرت ابی بن کعب انصاری ؓ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا یہاں تک کہ جب رسول اللہ اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں پس رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے اور کچھ گنگنا رہا ہے پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف اور یہ ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فورا اٹھ کھڑا ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کردیتا۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ happened to pass by Ibn Sayyad along with his Companions including Umar bin Khattab as he was playing with children near the battlement of Bani Maghala and he was also a child by that time. The rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Umar (RA) (in which there is a mention of) setting out of Allahs Apostle ﷺ along with Ubayy bin Kab towards the date-palm trees.
ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُکُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَکِنْ أَقُولُ لَکُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ کَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ وَقَالَ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَی أَحَدٌ مِنْکُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی يَمُوتَ
سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی (علیہم السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے تحقیق نوح بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرا چکے ہیں لیکن میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں بتائی جان رکھو کہ وہ (دجال) بیشک کانا ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی کانا نہیں ہے ابن شہاب نے کہا مجھے عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے خبر دی کہ آپ نے دجال سے ڈراتے ہوئے اس دن فرمایا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جسے وہی پڑھ سکے گا جو اس کے عمل کو ناپسند کرتا ہوگا یا ہر مومن اسے پڑھ سکے گا اور آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنے رب العزت کو مرنے تک ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔
Abdullah b. Umar reported:
Umar b. Khattab went along with Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) struck his back with his hands. Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: Ibn Sayyad, dont you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers علیہم السلام. Then Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It is a Dukh. Thereupon Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. Umar b. Khattabr said: Allahs Messenger, permit me that I should strike his neck. Thereupon Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not that there is no good for you to kill him. Abdullah b. Umar further narrated that after some time Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) and Ubayy b. Kab went towards the palm trees where Ibn Sayyad was. When Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) went near the tree he hid himself behind a tree with the intention of hearing something from Ibn sayyad before Ibn Sayyad could see him, but Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) saw him on a bed with a blanket around him from which a murmuring sound was being heard and Ibn Sayyads mother saw Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) behind the trunk of the palm tree. She said to Ibn Sayyad: Saf (that being his name), here is Muhammad. Thereupon Ibn Sayyad jumped up murmuring and Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: If she had left him alone he would have made things clear. Abdullah b. Umar told that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) stood up amongst the people and lauded Allah as He deserved, then he made a mention of the Dajjal and said: I warn you of him and there is no Prophet who has not warned his people against the Dajjal. Even Noah warned (against him) but I am going to tell you a thing which no Prophet told his people. You must know that he (the Dajjal) is one-eyed and Allah, the Exalted and Glorious, is not one-eyed. Ibn Shihab said: Umar b. Thabit al-Ansari informed me that some of the Companions of Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) informed him that the day when Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) warned people against the Dajjal, he also said: There would be written between his two eyes (the word) Kafir (infidel) and everyone who would resent his deeds would be able to read or every Muslim would be about to read, and he also said: Bear this thing in mind that none amongst you would be able to see Allah, the Exalted and Glorious, until he dies.
ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّی وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَی مُنْتَهَی حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ قَالَ لَوْ تَرَکَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ
حسن بن علی حلوانی بن حمید یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ چلے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی جن میں عمر بن خطاب ؓ بھی تھے یہاں تک کہ ابن صیاد بچے کو پایا جو کہ بلوغت کے قریب تھا اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس کھیل رہا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کاش اس کی والدہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا سارا معاملہ واضح ہوجاتا۔
Abdullah b. Umar reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) went along with him in the company of some persons and there was Umar b. Khattabrr also amongst them till they saw Ibn Sayyad as a young boy just on the threshold of adolescence playing with children near the battlement of Bani Muawiyah; the rest of the hadith is the same but with these concluding words:
" Had his mother left him (to murmur) his matter would have become clear."
ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِلَی النَّخْلِ
عبد بن حمید سلمہ بن شبیب عبدالرزاق، معمر، زہری سالم حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے تو وہ بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ بھی لڑکا تھا حضرت ابن عمر ؓ کی اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی ﷺ ابی بن کعب کے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف تشریف لے گئے۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) happened to pass by Ibn Sayyad along with his Companions including Umar b. Khattab as he was playing with children near the battlement of Bani Maghala and he was also a child by that time. The rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Umar (in which there is a mention of) setting out of Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) along with Ubayy b. Kab towards the date-palm trees.
ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّی مَلَأَ السِّکَّةَ فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَی حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا فَقَالَتْ لَهُ رَحِمَکَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا
عبد بن حمید روح بن عبادہ، ہشام ایوب حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی تو ابن عمر نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصۃ دلانے والی تھی پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا پھر ابن عمر ؓ ام المومنین سیدہ حفصہ کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی تو انہوں نے ابن عمر ؓ سے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے تو نے ابن صائد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔
Nafi reported that Ibn Umar met Ibn Siid on some of the paths of Madinah and he said to him a word which enraged him and he was so much swollen with anger that the way was blocked. Ibn Umar went to Hafsa and informed her about this. Thereupon she said: May Allah have mercy upon you, why did you incite Ibn Sayyad in spite of the fact that you knew it would be the extreme anger which would make Dajjal appear in the world?
ابن صیاد کے تذکرے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ نَافِعٌ يَقُولُ ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ قُلْتُ کَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُکُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّی يَکُونَ أَکْثَرَکُمْ مَالًا وَوَلَدًا فَکَذَلِکَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ قَالَ فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَی وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ قَالَ فَقُلْتُ مَتَی فَعَلَتْ عَيْنُکَ مَا أَرَی قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ قُلْتُ لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِکَ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاکَ هَذِهِ قَالَ فَنَخَرَ کَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ قَالَ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا کَانَتْ مَعِيَ حَتَّی تَکَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ وَجَائَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَی النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ
محمد بن مثنی حسین ابن حسن بن یسار ابن عون حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر نے کہا میں نے ابن صیاد سے دو مرتبہ ملاقات کی میں اس سے ملا تو میں نے بعض لوگوں سے کہا کیا تم بیان کرتے ہو کہ وہ وہی (دجال) ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا تم نے مجھے جھوٹا کردیا اللہ کی قسم تم میں سے بعض نے مجھے خبر دی کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا یہاں تک کہ تم میں سے زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہوجائے گا پس وہ ان دنوں لوگوں کے گمان میں ایسا ہی ہے پھر ابن صیاد ہم سے باتیں کر کے جدا ہوگیا پھر میں اس سے دوسری مرتبہ ملا تو اس کی آنکھ پھول چکی تھی تو میں نے اس سے کہا میں تیری آنکھ جو اس طرح دیکھ رہا ہوں یہ کب سے ہوئی ہے اس نے کہا میں نہیں جانتا میں نے کہا تو جانتا ہی نہیں حالانکہ یہ تو تیرے سر میں موجود ہے اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیری لاٹھی میں اسے پیدا کر دے گا پھر اس نے گدھے کی طرح زور سے آواز نکالی اس سے زیادہ سخت آواز میں نے نہیں سنی تھی اور میرے بعض ساتھیوں نے اندازہ لگایا کہ میں نے اسے اپنے پاس موجود لاٹھی سے مارا ہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئی ہے حالانکہ اللہ کی قسم مجھے اس کا علم تک نہ تھا یہاں تک کہ ام المومنین کے پاس حاضر ہوئے تو انہیں یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا تیرا اس سے کیا کام تھا کیا تو جانتا نہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کے پاس دجال کو بھیجنے والی سب سے پہلے وہ غصہ ہوگا جو اسے کسی پر آئے گا۔
Nafi reported that Ibn Umar said: I met ibn Sayyad twice and said to some of them (his friends): You state that it was he (the Dajjal). He said: By Allah, it is not so. I said: You have not told me the truth; by Allah some of you informed me that he would not die until he would have the largest number of offspring and huge wealth and it is he about whom it is thought so. Then Ibn Sayyad talked to us. I then departed and met him again for the second time and his eye had been swollen. I said: What has happened to your eye? He said: I do not know. I said: This is in your head and you do not know about it? He said: If Allah so wills He can create it (eye) in your staff. He then produced a sound like the braying of a donkey. Some of my companions thought that I had struck him with the staff as he was with me that the staff broke into pieces, but, by Allah, I was not conscious of it. He then came to the Mother of the Faithful (Hafsa) and narrated it to her and she said: What concern do you have with him? Dont you know that Allahs Apostle ﷺ said that the first thing (by the incitement of which) he would come out before the public would be his anger?
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، محمد بن بشر عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال آنکھ سے کانا ہوگا گویا کہ اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہوگی۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ made a mention of Dajjal in the presence of the people and said: Allah is not one-eyed and behold that Dajjal is blind of the right eye and his eye would be like a floating grape.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوربیع ابوکامل حماد ابن زید ایوب محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل موسیٰ بن عقبہ نافع ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْکَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو کانے دجال سے ڈرایا ہے آگاہ رہو بیشک وہ کانا ہوگا اور بیشک تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر، لکھا ہوا ہوگا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: There is never a prophet who has not warned the Ummah of that one-eyed liar; behold he is one-eyed and your Lord is not one-eyed. On his forehead are the letters k. f. r. (Kafir).
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ک ف ر أَيْ کَافِرٌ
ابن مثنی ابن بشار ابن مثنی معاذ بن ہشام ابوقتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کفر یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا۔
Anas b. Malik reported that Allahs Messenger (ﷺ) said:
There would be written three letters k. f. r., i. e. Kafir, between the eyes of the Dajjal.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ ثُمَّ تَهَجَّاهَا ک ف ر يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُسْلِمٍ
زہیر بن حرب عفان عبدالوارث شعیب بن حبحاب حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی ایک آنکھ اندھی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہے پھر اس کے ہجے کئے یعنی ک، ف، ر اور ہر مسلمان اسے پڑھ لے گا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Dajjal is blind of one eye and there is written between his eyes the word "Kafir". He then spelled the word as k. f. r., which every Muslim would be able to read.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَی جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہم اسحاق ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی گھنے بالوں والا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اور (در حقیقت) اس کی دوزخ جنت اور اس کی جنت جہنم ہے۔
Hudhaifa reported that Allahs Messenger ﷺ said: Dajjal is blind of left eye with thick hair and there would be a garden and fire with him and his fire would be a garden and his garden would be fire.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَائٌ أَبْيَضُ وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِمَّا أَدْرَکَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ ثُمَّ لْيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَيَشْرَبَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مَائٌ بَارِدٌ وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ يَقْرَؤُهُ کُلُّ مُؤْمِنٍ کَاتِبٍ وَغَيْرِ کَاتِبٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون ابی مالک اشجعی ربعی بن حراش حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی پس اگر کوئی آدمی اس کو پالے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے پھر اس سے پئے بیشک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور بیشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پھلی ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ہر لکھنے والا اور جاہل مومن اسے پڑھے گا۔
Hudhaifa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: the Dajjal would have with him water and fire and his fire would have the effect of cold water and his water would have the effect of fire, so dont put yourself to ruin. Abu Masud reported: I also heard it from Allahs Messenger ﷺ .
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ إِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَنَارُهُ مَائٌ بَارِدٌ وَمَاؤُهُ نَارٌ فَلَا تَهْلِکُوا
عیبد اللہ بن معاذ ابی شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر ربعی حراش حضرت حذیفہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کی پانی آگ ہوگی پس تم ہلاک نہ ہونا۔
Hudhaifa reported Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying:
the Dajjal would have with him water and fire and his fire would have the effect of cold water and his water would have the effect of fire, so dont put yourself to ruin. Abu Masud reported: I also heard it from Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ).
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی۔
This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَی حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَائً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَائً فَنَارٌ تُحْرِقُ وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَائٌ بَارِدٌ عَذْبٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَإِنَّهُ مَائٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ
علی بن حجر شعیب بن صفوان عبدالملک بن عمیر ربعی حراش عقبہ بن عمرو ابی مسعود انصاری ؓ حضرت ربعی بن حراش ؓ سے روایت ہے کہ میں عقبہ بن عمرو بن ابی مسعود انصاری ؓ کے ساتھ حذیفہ بن یمان کی طرف چلا تو عقبہ نے ان سے کہا مجھ سے وہ حدیث روایت کریں جو آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنی کہا بیشک دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی پس لوگ جسے آگ تصور کریں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا تو عقبہ نے حذیفہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آپ ﷺ سے اسی طرح سنا۔
Uqba bin Amr Abu Masud al-Ansari reported: I went to Hudhaifa bin Yaman and said to him: Narrate what you have heard from Allahs Messenger ﷺ pertaining to the Dajjal. He said that the Dajjal would appear and there would be along with him water ant fire and what the people would see as water that would be fire and that would burn and what would appear as fire that would be water and any one of you who would see that should plunge in that which he sees as fire for it would be sweet, pure water, and Uqba said: I also heard it, testifying Hudhaifa.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لَأَنَا بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا مِنْ مَائٍ وَنَهْرًا مِنْ نَارٍ فَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَائٌ وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَائٌ نَارٌ فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَأَرَادَ الْمَائَ فَلْيَشْرَبْ مِنْ الَّذِي يَرَاهُ أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ سَيَجِدُهُ مَائً قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَکَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
علی بن حجر اسحاق ابن حجر جریر، مغیرہ، نعیم، ابی ہند، ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور ابومسعود ؓ اکٹھے ہوگئے تو حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا؟ بیشک اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی اور ایک نہر آگ کی ہوگی پس جسے تم آگ تصور کرو گے وہ پانی ہوگا اور جسے تم پانی تصور کرو گے وہ آگ ہوگی پس تم میں سے جو اسے پالے اور پانی کا ارادہ کرے تو چاہے کہ وہ اسی سے پیے جسے آگ تصور کرے کیونکہ وہ اسے پانی ہی پائے گا ابومسعود نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔
Hudhaifa and Ibn Masud met together. Hudhaifa said: I know more than you as to what there would be along with the Dajjal. There would be along with him two canals (one flowing with water) and the other one (having) fire (within it), and what you would see as fire would be water and what you would see as water would be fire. So he who amongst you is able to see that and is desirous of water should drink out of that which he sees as fire.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيئُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أَنْذَرْتُکُمْ بِهِ کَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ
محمد بن رافع حسین بن محمد شیبان یحییٰ ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں دی بیشک وہ کانا ہوگا اور وہ جنت اور دوزخ کی مثل لے کر آئے گا پس جسے وہ جنت کہے گا وہ جہنم ہوگا اور میں تمہیں اس سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: May I not inform you about the Dajjal what no Apostle of Allah ﷺ narrated to his people? He would be blind and he would bring along with him an Image of Paradise and Hell-Fire and what he would call as Paradise that would be Hell-Fire and I warn you as Noah warned his people.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِکَ فِينَا فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَکَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّی ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَقَالَ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْکُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيکُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَکُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيکُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ کَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْکَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ کَسَنَةٍ وَيَوْمٌ کَشَهْرٍ وَيَوْمٌ کَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ کَأَيَّامِکُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِکَ الْيَوْمُ الَّذِي کَسَنَةٍ أَتَکْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ کَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَی الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَائَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا کَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْئٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي کُنُوزَکِ فَتَتْبَعُهُ کُنُوزُهَا کَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَکُ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَائِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا کَفَّيْهِ عَلَی أَجْنِحَةِ مَلَکَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ کَاللُّؤْلُؤِ فَلَا يَحِلُّ لِکَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّی يُدْرِکَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمْ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ کَذَلِکَ إِذْ أَوْحَی اللَّهُ إِلَی عِيسَی إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَی الطُّورِ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَی بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ حَتَّی يَکُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِکُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَی وَأَصْحَابُهُ إِلَی اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا کَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لَا يَکُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّی يَتْرُکَهَا کَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَکِ وَرُدِّي بَرَکَتَکِ فَيَوْمَئِذٍ تَأْکُلُ الْعِصَابَةُ مِنْ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَکُ فِي الرِّسْلِ حَتَّی أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنْ الْإِبِلِ لَتَکْفِي الْفِئَامَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْبَقَرِ لَتَکْفِي الْقَبِيلَةَ مِنْ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنْ الْغَنَمِ لَتَکْفِي الْفَخِذَ مِنْ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ کُلِّ مُؤْمِنٍ وَکُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَی شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ
ابوخیثمہ زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، یحییٰ بن جا رب طائی ؓ حضرت نو اس ؓ بن سمعان سے روایت ہے کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے نے کبھی تحقیر کی (یعنی گھٹایا) اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ ﷺ نے کبھی تحقیر کی اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا بیشک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بیشک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ ﷺ نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوں گیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کوکھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کردیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہوجائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا اور اسے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گے۔ جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس آتی ہیں، پھر وہ ایک کڑیل اور کامل الشباب آدمی کو بلائے گا اور اسے تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کردے گا اور دونوں ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے ایک تیر کی مسافت پر رکھ دے گا، پھر وہ اس (مردہ) کو آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا۔ دجال کے اسی افعال کے دوران اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس زرد رنگ کے حلے پہنے ہوئے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے جب وہ اپنے سر کو جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے اور جب اپنے سر کو اٹھائیں گے تو اس سے سفید موتیوں کی طرح قطرے ٹپکیں گے اور جو کافر بھی ان کی خوشبو سونگھے گا وہ مرے بغیر رہ نہ سکے گا اور ان کی خوشبو وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ پس حضرت مسیح (علیہ السلام) (دجال کو) طلب کریں گے، اسے باب لد پر پائیں گے تو اسے قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے پاس وہ قوم آئے گی جسے اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تھا، پس عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے چہروں کو صاف کریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ پس اسی دوران حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ رب العزت وحی نازل فرمائٰں گے کہ تحقیق میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ کسی کو ان کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ پس آپ میرے بندوں کو حفاظت کے لئے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ہر اونچائی سے نکل پڑیں گے، ان کی اگلی جماعتیں بحیرہ طبری پر سے گزریں گی اور اس کا سارا پانی پی جائٰیں گے اور ان کی آخری جماعتیں گزریں گی تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی موجود تھا اور اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ محصور ہوجائیں گے، یہاں تک کہ ان میں کسی ایک کے لئے بیل کی سری بھی تم میں سے کسی ایک کے لئے آج کل کے سو دینار سے افضل و بہتر ہوگی۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، وہ ایک جان کی موت کی طرح سب کے سب یک لخت مرجائیں گے، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت کی جگہ بھی یاجوج ماجوج کی علامات اور بدبو سے انہیں خالی نہ ملے گی۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے بھیجیں گے جو انہیں اٹھا کرلے جائیں گے اور جہاں اللہ چاہے وہ انہیں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش بھیجے گا جس سے ہر مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا بالوں کا آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا اور زمین مثل باغ یا حوض کے دھل جائے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل کو اگا دے اور اپنی برکت کو لوٹا دے، پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی کہ ایک انار کو ایک پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے میں سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں اتنی برکت دے دی جائے گی کہ ایک دودھ دینے والی گائے قبیلہ کے لوگوں کے لئے کافی ہوجائے گی اور ایک دودھ دینے والی اونٹنی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہوگی اور ایک دودھ دینے والی بکری پوری گھرانے کے لئے کفایت کرجائے گی، اسی دوران اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو لوگوں کی بغلوں کے نیچے تک پہنچ جائے گی، پھر ہر مسلمان اور ہر مومن کی روح قبض کرلی جائے گی اور بد لوگ ہی باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح کھلے بندوں جماع کریں گے، پس انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔
An-Nawwas bin Saman reported that Allahs Messenger ﷺ made a mention of the Dajjal one day in the morning. He sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant and we felt as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he said: What is the matter with you? We said: Allahs Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the datepalm trees. Thereupon he said: I harbour fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to Abd-ul-Uzza bin Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii.). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allahs Messenger, how long would he stay on the earth? He said.. For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allahs Messenger, would one days prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allahs Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their posturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth.
He would then walk through the wasteland and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would at this very time that Allah would send Christ, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damscus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odour of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur, and then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tibering and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allahs Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allahs Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allahs Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of bactrin camels and they would carry them and throw them where God would will.
Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them.
مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الْآخَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ مَا ذَکَرْنَا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ لَقَدْ کَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَائٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّی يَنْتَهُوا إِلَی جَبَلِ الْخَمَرِ وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الْأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَائِ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَی السَّمَائِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَيْ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ
علی بن حجر سعدی عبداللہ بن عبدالرحمن بن یزید بن جابر، ولید بن مسلم، ابن حجر حضرت جابر ؓ سے بھی یہ حدیث اس سند سے مروی ہے اس میں اس جملہ کے بعد کہ اس جگہ کسی موقعہ پر پانی تھا یہ اضافہ ہے کہ پھر وہ حمر کے پہاڑ کے پاس پہنچیں گے اور وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے تو وہ کہیں گے تحقیق ہم نے زمین والے سب کو قتل کردیا آؤ ہم آسمان والوں کو بھی قتل کریں پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے پس اللہ تعالیٰ ان پر ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹائے گا اور ابن حجر کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو نازل کیا ہے جنہیں قتل کرنے پر کسی کو قدرت حاصل نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Jabir with the same chain of transmitters but with this addition that Gog and Magog would walk until they would reach the mountain of al-Khamar and it is a mountain of Bait-ul-Maqdis and they would say: We have killed those who are upon the earth. Let us now kill those who are in the sky and they would throw their arrows towards the sky and the arrows would return to them besmeared with blood. And in the narration of Ibn Hujr (the words are): "I have sent such persons (Gog and Magog) that none would dare fight against them.