بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْکُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَی مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت حمید بن نافع ؓ اکٹھی دو حدیثوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں حضرت ام سلمہ ؓ یا نبی کریم ﷺ کی کسی دوسری زوجہ مطہرہ سے گزری ہوئی حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
Humaid bin Nafi narrated two traditions from Umm Salamah dealing with collyrium and the other hadith from the wives of Allahs Prophet ﷺ except with this that no mention was made of Zainab.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ تَذْکُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَکَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَکْحُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، حضرت حمید بن نافع ؓ سے روایت ہے انہوں نے حضرت زینب ؓ بنت ابی سلمہ ؓ سے سنا وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی ایک بیٹی ہے جس کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی ہے وہ اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالنا چاہتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں تو تم عورتوں میں سے کوئی سال کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھیں اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔
Zainab bint Abu Salama reported: Umm Salamah and Umm Habiba (RA) were talking with each other (and saying) that a woman came to Allahs Messenger ﷺ and mentioned to him that her daughter had lost her husband, and her eyes were sore and she wanted to use collyrium, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: One among you used to throw dung at the end of a year, and now (this abstinence from adornment) is only for four months and ten days.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَی أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَتْ کُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
عمرو ناقد، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابوب بن موسی، حمیدابن نافع، حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ جب ام حبیبہ ؓ کو حضرت ابوسفیان کی وفات کی خبر آئی تو حضرت ام حبیبہ ؓ نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں اور اپنے رخساروں پر لگائی اور فرماتی ہیں کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ اپنی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند پر کہ اس پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔
Zainab bint Abu Salama reported that when the news of the death of Abu Safyan came to Umm Habiba she sent for yellow (perfume) on the third day and rubbed it on her forearms and on her cheeks and said: I had in fact no need of it, but I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not permissible for the women believing in Allah and the Hereafter to abstain from adornment beyond three days except (at the death of) husband (in which case she must abstain from adornment) for four months and ten days.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ کِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَی زَوْجِهَا
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعید، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ بنت ابی عبید ؓ حضرت حفصہ یا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ یا دونوں سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یا اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ وہ اپنے خاوند پر تین دن سے زیادہ یعنی چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے۔
Safiyya bint Abu Ubaid reported on the authority of Hafsa or Aisha (Allah be pleased with thein) or from both of them that Allahs Messenger (may peace he upon him) said: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter (or believing in Allah and His Messenger) that she should observe mourning for the dead beyond three days except in case of her husband.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ مِثْلَ رِوَايَتِهِ
شیبان بن فروخ، عبدالعزیز ابن مسلم، عبداللہ بن دینار، حضرت نافع ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this is transmitted on the authority of Nafi.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، نافع، حضرت صفیہ ؓ بنت ابی عبید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت صفیہ ؓ بنت عمر ؓ سے سنا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا آگے حدیث اسی طرح سے ہے۔
Safiyya bint Abu Ubaid reported that she heard Hafsa daughter of Umar (RA) , (and) wife of Allahs Prophet ﷺ , narrating a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ , and she made this addition: "She should abstain from adorning herself (in case of the death of her husband) for four months and ten days."
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
ابوربیع، حماد، ایوب، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت صفیہ ؓ بنت ابی عبید ؓ نے بنی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث اسی طرح نقل کی۔
Safiyya bint Abu Ubaid narrated this tradition of Allahs Prophet ﷺ on the authority of some wives of Allahs Apostle ﷺ
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجِهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to observe mourning on the dead for more than three (days), except in case of her husband.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَکْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ
حسن بن ربیع، ابن ادریس، ہشام، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے اور وہ عورت رنگ دار کپڑے نہیں پہن سکتی سوائے رنگ دار بنے ہوئے کپڑوں کے اور سرمہ نہیں لگا سکتی اور نہ ہی خوشبو لگا سکتی ہے سوائے اس کے کہ حیض سے طہارت حاصل کرتے وقت لگا سکتی ہے۔
Umm Atiyya (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ had said: A woman must not observe mourning for one who had died for more than three (days) except for four months and ten days in the case of her husband. and she must not wear a dyed garment except one of the types made of dyed yarn, or apply collyrium, or touch perfume except a little perfume or incense, when she has been purified after her courses.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا عِنْدَ أَدْنَی طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of narrators but with a slight variation of words.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ کُنَّا نُنْهَی أَنْ نُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَکْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہمیں منع کردیا گیا ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کریں سوائے خاوند کے اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ ہی خوشبو لگائیں اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنیں اور عورت کے لئے اس کی پاکی میں رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم سے کوئی حیض سے فارغ ہو کر غسل کرے تو وہ خوشبودار چیز سے غسل کرسکتی ہے۔
Umm Atiyya (Allah be pleased with her) said: We were forbidden to observe mourning for the dead beyond three days except in the case of husband (where it is permissible) for four months and ten days, and (that during this period) we should neither use collyrium nor touch perfume, nor wear dyed clothes, but concession was given to a woman when one of us was purified of our courses to make use of a little incense or scent.