طلاق کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 20 · 91 hadiths · Page 4 of 5

3712Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلَکِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَکَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَکِ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابی بکربن ابی جہم بن صخیر عدوی، حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے نہ مکان تجویز کیا نہ نفقہ۔ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تم جب اپنی عدت پوری کر چکو تو مجھے اطلاع دینا میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ معاویہ اور ابوجہم اور اسامہ بن زید ؓ نے مجھے پیغام نکاح بھیجے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معاویہ تو غریب مفلس آدمی ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابوجہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے لیکن اسامہ بہتر ہے تو فاطمہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اسامہ؟ اسامہ؟ یعنی انکار کیا اور آپ ﷺ نے اسے فرمایا اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں تیرے لئے بہتری ہے میں نے اس سے شادی کرلی تو مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔

Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported that her husband divorced her with three pronouncements and Allahs Messenger ﷺ made no provision for her lodging and maintenance allowance. She (further said): Allahs Messenger ﷺ said to me: When your period of Idda is over, inform me. So I informed him. (By that time) Muawiyah, Abu Jahm and Usama bin Zaid had given her the proposal of marriage. Allahs Messenger ﷺ said: So far as Muawiyah is concerned, he is a poor man without any property. So far as Abu Jahm is concerned, he is a great beater of women, but Usama bin Zaid... She pointed with her hand that she did not approve of the idea of marrying Usama. But Allahs Messenger (may peace be upon himn) said: Obedience to Allah and obedience to His Messenger is better for thee. She said: So I married him, and I became an object of envy.

3713Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا وَلَا أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِکُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَمْ طَلَّقَکِ قُلْتُ ثَلَاثًا قَالَ صَدَقَ لَيْسَ لَکِ نَفَقَةٌ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّکِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِي ثَوْبَکِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُکِ فَآذِنِينِي قَالَتْ فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَی النِّسَائِ أَوْ يَضْرِبُ النِّسَائَ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَلَکِنْ عَلَيْکِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، ابی بکر بن ابی جہم، حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ کو طلاق دے کر بھیجا جبکہ اس کے ساتھ پانچ صاع کھجور اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے میں نے کہا کیا میرے لئے اس کے علاوہ کوئی نفقہ نہیں ہے اور کیا میں عدت بھی تمہارے گھر نہ گزاروں گی؟ اس نے کہا نہیں۔ کہتی ہیں میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا اس نے تجھے کتنی طلاقیں دیں میں نے کہا تین آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا تیرا نفقہ نہیں ہے اور تو اپنی عدت اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے پاس پوری کر وہ نابینا ہیں تو اپنے کپڑے اس کے ہاں اتار سکتی ہے پس جب تیری عدت پوری ہوجائے تو مجھے اطلاع کرنا پس مجھے پیغام نکاح دئیے گئے اور ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ معاویہ غریب اور کمزور حالات والے ہیں اور ابوجہم کی طرف سے عورت پر سختی ہوتی ہے یا عورتوں کو مارتا ہے یا اسی طرح فرمایا لیکن تم اسامہ بن زید کو اختیار (نکاح) کرلو۔

Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported: My husband Abu Amr bin Hafs bin al-Mughirahh sent Ayyish bin Abu Rabia to me with a divorce, and he also sent through him five sas of dates and five sas of barley. I said: Is there no maintenance allowance for me but only this, and I cannot even spend my Idda period in your house? He said: No. She said: I dressed myself and came to Allahs Messenger ﷺ . He said: How many pronouncements of divorce have been made for you? I said: Three. He said what he (Ayyish bin Abu Rabia) had stated was true. There is no maintenance allowance for you. Spend Idda period in the house of your cousin, Ibn Umm Maktum. He is blind and you can put off your garment in his presence. And when you have spent your Idda period, you inform me. She said: Muawiyah and Abul-Jahm (RA) were among those who had given me the proposal of marriage. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Muawiyah is destitute and in poor condition and Abul-Jahm is very harsh with women (or he beats women, or like that), you should take Usama bin Zaid (as your husband).

3714Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَخَرَجَ فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَزَادَ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَشَرَّفَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ وَکَرَّمَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ

اسحاق بن منصور، ابوعاصم، سفیان ثوری، حضرت ابوبکر بن ابوجہم سے روایت ہے کہ میں اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے اور ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں ابوعمر بن حفص بن مغیرہ کے پاس تھی وہ غزوہ نجران میں نکلے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ زیادتی ہے کہ میں نے اسامہ ؓ سے شادی کرلی تو اللہ نے مجھے ابوزید کی وجہ سے معزز بنایا اور اللہ نے مجھے ابوزید کی وجہ سے مکرم بنایا۔

Abu Bakr (RA) bin Abul-Jahm reported: I and Abu Salama b Abdul Rahman came to fatima bint Qais (Allah be pleased with her) and asked her (about divorce, etc.). She said: I was the wife of Abu Amr bin Hafs bin al-Mughirah, and he set out to join the battle of Najran. The rest of the hadith is the same, but he made this addition: "She said: I married him and Allah hornoured me on account of Ibn Zaid and Allah favoured me because of him."

3715Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَاتًّا بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت ابوبکر، فاطمہ بنت قیس، ابن زبیر سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ ابن زبیر ؓ کے زمانہ خلافت میں فاطمہ بنت قیس کے پاس آئے اس نے ہمیں بیان کیا کہ اس کے شوہر نے اسے قطعی طلاق دے دی تھی حدیث مبارکہ حدیث سفیان کی طرح ہے۔

Abu Bakr (RA) reported: I and Abu Salama came to Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) during the time of Ibn Zubair (RA) and she narrated to us that her husband gave her an irrevocable divorce. (The rest of the hadith is the same.)

3716Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً

حسن بن علی حلوائی، یحییٰ بن آدم، حسن بن صالح، حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے مکان اور نفقہ کو لازم قرار نہ دیا۔

Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported: My husband divorced me with three pronouncements and Allahs Messenger ﷺ made no provision for lodging and maintenance allowance.

3717Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ تَزَوَّجَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ قَالَ عُرْوَةُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِکَ فَقَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْکُرَ هَذَا الْحَدِيثَ

ابوکریب، ابواسامہ، حضرت ہشام سے روایت ہے کہ مجھے میرے باپ نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی سے نکاح کیا پھر اسے طلاق دی تو اسے اپنے پاس سے نکال دیا تو عروہ نے ان لوگوں پر عیب لگایا جنہوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کی انہوں نے کہا فاطمہ کو بھی نکال دیا تھا عروہ نے کہا میں عائشہ ؓ کے پاس آیا اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کے لئے بھلائی نہیں کہ وہ اس حدیث کو ذکر کرے۔

Hisham reported on the authority of his father that Yahya bin Said bin al-As married the daughter of Abdul Rahman bin al-Hakam, and he divorced her and he turned her out from his house. Urwa (RA) criticised this (action) of theirs (the members of the family of her in-laws). They said: Verily, Fatima too went out (of her in-laws house). Urwa said: I came to Aisha (Allah be pleased with her) and told her about it and she said: There is no good for Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) in making mention of it.

3718Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيَّ قَالَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ

محمد بن مثنی، حفص بن غیاث، ہشام، حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ مجھ پر سختی کی جائے تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوسری جگہ چلی جائے۔

Fatima bint Qais (Allah be pleased with her) reported that she said: Allahs Messenger, my husband has divorced me with three pronouncements and I am afraid that I may be put to hardship, and so he commanded her and so she moved (to another house).

3719Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْکُرَ هَذَا قَالَ تَعْنِي قَوْلَهَا لَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةَ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ کے لئے بھلائی نہیں ہے کہ وہ یہ ذکر کرتی یعنی اس کا قول ( قَوْلَهَا لَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةَ ) نہ رہائش اور نہ خرچہ۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: It is no good for Fatima to make mention of it,i.e. her statement: "There is no lodging and maintenance allowance (for the divorced women)."

3720Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَی فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَکَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَی قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِکْرِ ذَلِکَ

اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عروہ بن زبیر ؓ، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا کہ اس کے خاوند نے اسے قطعی طلاق دے دی تو وہ نکل گئی تو سیدہ نے کہا اس نے کیا برا کیا؟ تو عروہ نے کہا کیا فاطمہ کا قول نہیں سنتیں تو سیدہ نے کہا کہ اس کے لئے اس بات کو ذکر کرنے میں کوئی خیر و خوبی نہیں ہے۔

Ibn al-Qasim narrated on the authority of his father that Urwa bin Zubair (RA) said to Aisha (Allah be pleased with her): Didnt you see that such and such daughter of al-Hakam was divorced by her husband with an irrevocable divorce, and she left (the house of her husband)? Thereupon Aisha (Allah be pleased with her) said: It was bad that she did. He (Urwa) said: Have you not heard the words of Fatima? Thereupon she said: There is no good for her in making mention of it.

3721Sahih Muslim

مطلقہ بائنہ اور متوفی عنہا زوجہا کا دوران عدت دن کے وقت اپنی ضرورت وحاجت میں باہر نکلنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَی فَجُدِّي نَخْلَکِ فَإِنَّکِ عَسَی أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا

محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اس نے اپنی کھجوروں کو کاٹنا چاہا تو اسے ایک آدمی نے ڈانٹ دیا کہ وہ نکل جائے وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں تو اپنی کھجور کاٹ کیونکہ قریب ہے کہ تو صدقہ یا اور کوئی نیکی کا کام کرے گی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: My maternal aunt was divorced, and she intended to pluck her dates. A person scolded her for having come out (during the period of Idda). She came to Allahs Prophet ﷺ (may peace be upon him.) and he said: Certainly you can pluck (dates) from your palm trees, for perhaps you may give charity or do an act of kindness.

3722Sahih Muslim

جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَاهُ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَی سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاکِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّکِ تَرْجِينَ النِّکَاحَ إِنَّکِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتَّی تَمُرَّ عَلَيْکِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِکَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلَا أَرَی بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ کَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّی تَطْهُرَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کے پاس لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اور اس سے اس کی مروی حدیث کے بارے میں پوچھے اور اس کے بارے میں پوچھو جو اس کے فتویٰ طلب کرنے کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تو عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا اور اسے اس کی خبر دی کہ سبیعہ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی جو نبی عامر بن لوئی میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور ان کی وفات حجۃ الوداع میں ہوگئی اور وہ حاملہ تھی پس اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا پس جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبداللہ میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا تو اس نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تجھے بناؤ سنگار کئے ہوئے دیکھتا ہوں شاید کہ تو نکاح کی امید رکھتی ہے اللہ کی قسم تو اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتی جب تک تجھ پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹے اور شام کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ وضع حمل ہوتے ہی آزاد ہوچکی ہوں اور مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں چاہوں ابن شہاب نے کہا کہ میں وضع حمل ہوتے ہی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں خیال کرتا اگرچہ وہ خون نفاس میں مبتلا ہو لیکن جب تک خون نفاس سے پاک نہ ہوجائے شوہر اس سے صحبت نہیں کرسکتا۔

Ubaidullah bin Abdullah bin Utba (b. Masud) reported that his father wrote to Umar bin Abdullah b al Arqam al-Zuhri that he would go to Subaiah bint al-Hirith al-Aslamiyya (Allah be pleased with her) and ask her about a verdict from him which Allahs Messenger ﷺ gave her when she had asked that from him (in regard to the termination of Idda at the birth of a child) Umar binAbdullah wrote to Abdullah bin Utba informing him that Subaiah had told him that she had been married to Sad bin Khaula and he belonged to the tribe of Amir bin Luayy, and was one of those who participated in the Battle of Badr, and he died in the Farewell Pilgrimage and she had been in the family way at that time. And much time had not elapsed that she gave birth to a child after his death and when she was free from the effects of childbirth she embellished herself for those who had to give proposals of marriage. Abdul Sunabil bin Bakak (from Banu Abdul Dar) came to her and said: What is this that I see you embellished; perhaps you are inclined to marry, By Allah, you cannot marry unless four months and ten days (of Idda are passed). When he said that, I dressed myself, and as it was evening I came to Allahs Messenger ﷺ and asked him about it, and he gave me a religious verdict that I was allowed to marry when I had given birth to a child and asked me to marry if I so liked. Ibn Shihab said: I do not find any harm fur her in marrying when she has given birth to a child even when she is bleeding (after the birth of the child) except that her husband should not go near her until she is purified.

3723Sahih Muslim

جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْکُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَجَائَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ

محمد بن مثنی عنبری، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، حضرت سلیمان بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور ابن عباس دونوں ابوہریرہ ؓ کے پاس جمع ہوئے اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے اس عورت کا جسے اس کے شوہر کی وفات کے چند دنوں بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو ابن عباس ؓ نے کہا اس کی عدت دونوں سے لمبی ہوگئی اور ابوسلمہ نے کہا وہ حلال یعنی آزاد ہوچکی ہے اور وہ دونوں اس میں جھگڑنے لگے ابوہریرہ ؓ نے کہا میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں پھر انہوں نے ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا وہ ان کے پاس آئے اور انہیں خبر دی کہ ام سلمہ نے کہا ہے سبیعہ اسلمیہ کو اس کے خاوند کی وفات کے چند دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ نکاح کرلے۔

Abu Salama bin Abdul Rahman and Ibn Abbas (RA) got together in the house of Abu Hurairah (RA) and began to discuss about the woman who gave birth to a child a few nights after the death of her husband. Ibn Abbas (RA) said: Her Idda is that period which is longer of the two (between four months and ten days and the birth of the child, whichever is longer). AbuSalama, however said: Her period of Idda is over (with the birth of the child), and they were contending with each other over this issue, whereupon Abu Hurairah (RA) said: I subscribe (to the view) held by my nephew (i. e. Abu Salama). They sent Kuraib (the freed slave of Ibn Abbas) to Umm Salamah to ask her about it. He came (back) to them and informed them that Umm Salamah (Allah be pleased with her) said that Subaiah al-Aslamiyya gave birth to a child after the death of her husband when the few flights (had hardly) passed and she made mention of that to Allahs Messenger ﷺ and he commanded her to marry.

3724Sahih Muslim

جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَأَرْسَلُوا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ وَلَمْ يُسَمِّ کُرَيْبًا

محمد بن رمح، لیث، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، لیث اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیث نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ انہوں نے یعنی ابوسلمہ ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ نے ام سلمہ کی طرف پیغام بھیجا کریب کا نام ذکر نہیں کیا

This hadith has been narated with the same chain of transrmitters except with a small change of words (and that is): They sent him to Umm Salamah, but no mention was made of Kuraib.

3725Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے ان کو ان تین حدیثوں کی خبر دی انہوں نے فرمایا کہ حضرت زینب ؓ فرماتی ہیں حضرت ام حبیبہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ؓ کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے باپ حضرت ابوسفیان ؓ وفات پا گئے تو حضرت زینب ؓ نے ایک خوشبو منگوائی جس میں زرد رنگ تھا ایک باندی نے وہ زرد رنگ کی خوشبو ان کے رخساروں پر لگائی پھر حضرت زینب ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے اس خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے ایسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ خاوند کی وفات پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔

Zainab (bint Abu Salama) (Allah be pleased with her) reported: I went to Umm Habiba, the wife of Allahs Apostle ﷺ , when her father Abu Sufyan (RA) had died. Umm Habiba sent for a perfume having yellowness in it or something else like it, and she applied it to a girl and then rubbed it on her cheeks and then said: By Allah, I need no perfume but for the fact that I heard Allahs Messenger ﷺ say on the pulpit: "It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn for the dead beyond three days, but (in case of the death) of the husband it is permissible for four months and ten days." Zainab said: I then visited Zainab bint Jahsh (Allah be pleased with her) when her brother died and she sent for perfume and applied it and then said: By Allah, I dont feel any need for the perfume but that I heard Allahs Messenger ﷺ say on the pulpit: "It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn the dead beyond three days except in case of her husband (for whom she can mourn) for four months and ten days."

3726Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

حضرت زینب ؓ فرماتی ہیں پھر میں حضرت زینب بنت جحش کے پاس گئی جس وقت ان کے بھائی وفات پا گئے تو انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمانے لگیں اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ایسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ جس کا خاوند وفات پا جائے تو وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔

." Zainab said: I then visited Zainab bint Jahsh (Allah be pleased with her) when her brother died and she sent for perfume and applied it and then said: By Allah, I dont feel any need for the perfume but that I heard Allahs Messenger ﷺ say on the pulpit: "It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn the dead beyond three days except in case of her husband (for whom she can mourn) for four months and ten days.

3727Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

قَالَتْ زَيْنَبُ سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنُهَا أَفَنَکْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلَّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ

حضرت زینب ؓ، ام سلمہ بیان کرتی ہیں میں نے اپنی ماں حضرت ام سلمہ ؓ سے سنا وہ فرماتی ہیں ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری بیٹی کا خاوند وفات پا گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا ہم اس کی آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرمایا نہیں دو یا تین مرتبہ پوچھا گیا ہر مرتبہ آپ ﷺ فرماتے نہیں پھر فرمایا کہ یہ سوگ چار ماہ اور دس دن تک ہے جاہلیت کے زمانہ میں تو تم سال کے گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھیں۔

Zainab (Allah be pleased with her) said: I heard my mother Umm Salamah (Allah be pleased with her) as saying: A woman came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger. I have a daughter whose husband has died and there has developed some trouble in her eye; should we apply collyrium to it? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: No (repeating it twice or thrice, saying only, NO" all the time). Then he said: It is only four months and ten days, whereas in the preIslamic period none of you threw away the dung until one year had passed.

3728Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ

راوی حمید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب ؓ سے پوچھا سال گزرنے کے بعد مینگنی کے پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو حضرت زینب ؓ نے فرمایا جب کسی عورت کا خاوند وفات پا جاتا تو وہ ایک تنگ مکان میں چلی جاتی تھی اور خراب کپڑے پہنتی تھی اور خوشبو نہیں لگاتی تھی اور نہ ہی کوئی اور چیز، یہاں تک کہ جب اس طرح ایک سال گزر جاتا تو پھر ایک جانور گدھا یا بکری یا کوئی اور پرندہ وغیرہ اس کے پاس لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی بسا اوقات ایسا ہوجاتا تھا کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرتی وہ مرجاتا پھر وہ اس مکان سے باہر نکلتی اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ یا جو چاہتی استعمال کرتی۔

Humaid said: I said to Zainab: What is this throwing of dung until a year is passed? Zainab said: When the husband of a woman died, she went into a hut and put on her worst clothes, and did not apply perfume or something like it until a year was over. Then an animal like a donkey, or a goat, or a bird was brought to her and she rubbed her hand over it, and it so happened that one on which she rubbed her hand died. She then came out of her house and she was given dung and she threw it and then she made use of anything like perfume or something else as she liked.

3729Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع ؓ سے روایت ہے میں نے حضرت زینب ؓ بنت ام سلمہ ؓ سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ ؓ کا کوئی رشتہ دار فوت ہوگیا تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں پر لگائی اور کہنے لگیں کہ میں یہ اس وجہ سے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔

Zainab bint Umm Salamah (Allah be pleased with her) reported that a relative of Umm Habiba (Allah be pleased with her) died. She sent for a yellow (perfume) and applied that to her forearm and said: I am doing it, for I have heard Allahs Messenger ﷺ saying: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn beyond three days except the husband (for whom she can mourn) for four months and ten days.

3730Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت زینب ؓ نے اس حدیث کو اپنی والدہ سے روایت کر کے بیان کیا یا حضرت زینب ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے یا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ میں سے کسی عورت سے روایت کیا۔

This hadith was narrated by Zainab from her mother and from Zainab, the wife of Allahs Apostle ﷺ , or from some other lady from among the wives of the Prophet ﷺ .

3731Sahih Muslim

بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَی عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْکُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَکُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ ؓ سے سنا وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند وفات پا گیا لوگوں کو اس کی آنکھوں کی تکلیف کا خوف ہوا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عورتوں میں سے پہلے جس کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تھا تو وہ اپنے گھر کے برے حصہ میں چادر پہنے چلی جاتی تھی یا وہ بری چادر پہنے ایک سال تک اس گھر میں رہتی تھی اور جب ایک سال بعد کوئی کتا گزرتا تو اس پر مینگنی پھینک کر باہر نکلتی تھی تو اب تم کیا چار مہینے دس دن تک بھی نہیں ٹھہر سکتی؟

Zainab bint Umm Salamah (Allah be pleased with her) reported on the authority of her mother that a woman lost her husband. As her eyes were ailing, they (her kith and kin) entertained fear about her eyes, so they came to Allahs Apostle ﷺ and sought permission for the use of collyrium, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: One among you used to spend one year in a dungeon dressed in worst clothes. And at the end of this period she threw dung at the dog which happened to pass that way and then she came out (of her Idda). Cant she (wait) even for four months and ten days?