نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَقَالَ لِأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مَا لِي أَرَی أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمْ الْحَاجَةُ قَالَتْ لَا وَلَکِنْ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ ارْقِيهِمْ قَالَتْ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
عقبہ بن مکرم ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے آل حزم کو سانپ کے ڈنک میں دم کرنے کی اجازت دی تھی اور آپ ﷺ نے اسماء بنت عمیس ؓ سے کہا کیا بات ہے کہ میں اپنے بھائی یعنی حضرت جعفر کے بیٹوں کے جسموں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں کیا انہیں فقر و فاقہ رہتا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ نظر بد انہیں بہت جلد لگ جاتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا انہیں دم کرو انہوں نے کہا میں نے آپ ﷺ کے سامنے چند کلمات پیش کئے آپ ﷺ نے فرمایا انہیں دم کر۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ granted sanction to the family of Hazm for incantation in mitigating the effect of the poison of the snake, and, he said to Asma daughter of Umais: What is this that I see the children of my brother lean? Are they not fed properly? She said: No, but they fall under the influence of an evil eve. He said: Use incantation. She recited (the words of incantation before him), whereupon he (by approving them) said: Yes, use this incantation for them.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِي قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بنی عمرو کو سانپ کے ڈسنے پر دم کرنے کی اجازت دی تھی اور ابوزبیر نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا جبکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں دم کروں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اسے فائدہ پہنچا دے۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle ﷺ granted a special sanction for incantation in case of the snake poison to a tribe of Amr. Abu Zubair said: I heard Jabir bin Abdullah as saying that the scorpion stung one of us as we were sitting with Allahs Messenger (may peace upon him). A person said: Allahs Messenger, I use incantation (for curing the effect of sting), whereupon he said: He who is competent amongst you to benefit his brother should do so.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي
سعید بن یحییٰ اموی ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ابی سفیان، جابر ؓ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق یہ ہے کہ قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں اسے دم کر دوں یہ نہیں کہا میں دم کروں؟
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَی قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَی وَأَنَا أَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ فَقَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میرے ایک ماموں بچھو کے ڈسنے کا دم کیا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے دم کرنے سے روک دیا اس نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے دم کرنے سے روک دیا ہے اور میں بچھو کے ڈسنے کا دم کرتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ فائدہ پہنچا دے۔
Jabir bin Abdullah reported I had a maternal uncle who treated the sting of the scorpion with the help of incantation. Allahs Messenger ﷺ forbade incantation. He came to him and said: Allahs Messenger, you forbade to practise incantation, whereas I employ it for curing the sting of the scorpion, whereupon he said: He who amongst you is capable of employing it as a means to do good should do that.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَی فَجَائَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ کَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنْ الْعَقْرَبِ وَإِنَّکَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَی قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ مَا أَرَی بَأْسًا مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ
ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دم کرنے سے منع کردیا تھا عمرو بن حزم کی آل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس ایک دم (یعنی وظیفہ یا کچھ کلمات) ہے جس کے ذریعے ہم بچھو کے ڈسنے پر دم کرتے ہیں اور آپ ﷺ نے تو دم کرنے سے منع فرمایا ہے راوی کہتا ہیں کہ پھر انہوں نے اس دم کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اس دم کے الفاظ میں کوئی قباحت نہیں پاتا تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ اسے فائدہ پہنچائے۔
Jabir reported Allahs Messenger ﷺ prohibited incantation. Then the people of Amr bin Hazm came to Allahs Messenger ﷺ and said: We know an incantation which we use for curing the sting of the scorpion but you have prohibited it. They recited (the words of incantation) before him, whereupon he said: I do not see any harm (in it), so he who amongst you is competent to do good to his brother should do that.
جس دم کے کلمات میں شرک نہ ہو اس کے ساتھ دم کرنے میں کوئی حرج نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ کُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي ذَلِکَ فَقَالَ اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاکُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَی مَا لَمْ يَکُنْ فِيهِ شِرْکٌ
ابوطاہر ابن وہب، معاویہ عبدالرحمن بن جبیر عوف ابن مالک اشجعی حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ آپ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کلمات دم میرے سامنے پیش کرو اور ایسے دم میں کوئی حرج نہیں جس میں شرک نہ ہو۔
Auf bin Malik Ashja (RA) i reported: We practised incantation in the pre-Islamic days and we said: Allahs Messenger. what is your opinion about it? He said: Let me know your incantation and said: There is no harm in the incantation which does not smack of polytheism.
قرآن مجید اور اذکار مسنونہ کے ذریعے سے دم کرنے پر اجرت لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا فِي سَفَرٍ فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ فَقَالُوا لَهُمْ هَلْ فِيکُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعَمْ فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَی أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ حَتَّی أَذْکُرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ فَتَبَسَّمَ وَقَالَ وَمَا أَدْرَاکَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَکُمْ
یحییٰ بن یحیی، تیمی ہشیم ابن بشر ابن متوکل حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بعض صحابہ ؓ ایک سفر میں جا رہے تھے وہ عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان قبیلہ والوں سے مہمانی طلب کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی نہ کی پھر انہوں نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قبیلہ کے سردار کو (کسی جانور نے) ڈس لیا ہے یا کوئی تکلیف ہے صحابہ ؓ میں سے کسی نے کہا جی ہاں پس وہ اس کے پاس آئے اور اسے سورت فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو وہ آدمی تندرست ہوگیا انہیں بکریوں کا ریوڑ دیا گیا لیکن اس صحابی نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک اس کا ذکر میں نبی ﷺ سے نہ کرلوں نہیں لوں گا، وہ نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے یہ سارا واقعہ ذکر کیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں نے سورة فاتحہ ہی کے ذریعے دم کیا ہے آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ دم ہے پھر فرمایا ان سے (ریوڑ) لے لو اور ان میں سے اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔
Abu Said Khudri reported that some persons amongst the Companions of Allahs Messenger ﷺ set out on a journey and they happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They demanded hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any hospitality to them. They said to them: Is there any incantator amongst you, as the chief of the tribe has been stung by a scorpion? A person amongst us said: Yes. So he came to him and he practised incantation with the help of Sura al-Fatiha and the person became all right. He was given a flock of sheep (as recompense), but he refused to accept that, saying: I shall make a mention of it to Allahs Apostle ﷺ , and if he approves of it then I shall accept it. So we came to Allahs Apostle ﷺ and made a mention of that to him and he (that person) said: Allahs Messenger by Allah, I did not practice incantation but with the help of Sura al-Fatiha of the Holy Book. He (the Holy Prophet) smiled and said: How did you come to know that it can be used (as incantation)? and then said: Take out of that and allocate a share for me along with your share.
قرآن مجید اور اذکار مسنونہ کے ذریعے سے دم کرنے پر اجرت لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع غندر محمد بن جعفر، شعبہ، ابی بشر اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس صحابی نے سورت فاتحہ کو پڑھنا شروع کیا اور اپنے لعاب کو منہ میں جمع کیا اور اس پر تھوکا پس وہ آدمی تندرست ہوگیا۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Bishr with the same the same chain of transmitters (with these words): That he recited Umm-ul-Quran (Sura Fatiha), and he collected his spittle and he applied that and the person became all right.
قرآن مجید اور اذکار مسنونہ کے ذریعے سے دم کرنے پر اجرت لینے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ لُدِغَ فَهَلْ فِيکُمْ مِنْ رَاقٍ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا کُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا فَقُلْنَا أَکُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً فَقَالَ مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ لَا تُحَرِّکُوهَا حَتَّی نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ مَا کَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان محمد بن سیرین اخیہ معبد بن سیرین حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک مقام پر ٹھہرے ہمارے پاس ایک عورت آئی اس نے کہا قبیلہ کے سردار کو ڈس لیا گیا ہے کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ جانے کے لئے کھڑا ہوگیا اور ہم اس کے بارے میں یہ گمان بھی نہ کرتے تھے کہ اسے کوئی دم اچھی طرح آتا ہے اس نے اس سردار کو سورت فاتحہ کے ساتھ دم کیا وہ تندرست ہوگیا تو انہوں نے اسے بکریاں دیں اور ہمیں دودھ پلایا ہم نے کہا کیا تجھے واقعتا اچھی طرح دم کرنا آتا تھا اس نے کہا میں نے سورت فاتحہ ہی سے دم کیا ہے حضرت خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ان بکریوں کو نہ چھیڑو یہاں تک کہ ہم نبی اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کیسے معلوم ہوگیا کہ سورت فاتحہ دم ہے بکریوں کو تقسیم کرو اور ان میں اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔
Abu Said al-Khudri reported. We landed at a place where a woman came to us and said: A scorpiorn has bitten the chief of the tribe. Is there any incantator amongst you? A person amongst us stood up and went with her. We had no idea that he had been a good incantator but he practised incantation with the help of Sura al-Fatiha and the chief was all right. They gave him a flock of sheep and served us milk. We said (to him): Are you a good incantator? Thereupon he said: I did not do it but by the help of Sura al-Fitiha. He said: Do not drive these goats until we go to Allahs Messenger ﷺ and find out whether it is permissible to accept (this reward of incantation). So we came to Allahs Apostle ﷺ and made a mention of that to him, whereupon he said: How did you come to know that this (Sura al-Fatiha) could be used as an incantation? So distribute them (amongst those who had been present there with him) and allocate a share of mine also.
قرآن مجید اور اذکار مسنونہ کے ذریعے سے دم کرنے پر اجرت لینے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا کُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ
محمد بن مثنی، وہب بن جریر، ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ جانے کے لئے کھڑا ہوا اور ہمارا گمان بھی نہ تھا کہ اسے دم کرنا آتا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he said: There stood up with her a person amongst us whom we did not know before as an incantator.
درد کی جگہ پر دعا پڑھنے کے ساتھ ہاتھ رکھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ شَکَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْ يَدَکَ عَلَی الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِکَ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
ابوطاہر حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب نافع بن جبیر بن مطعم عثمان بن ابی عاص ثقفی حضرت عثمان بن ابوالعاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درد کی شکایت کی جسے وہ اپنے جسم میں اسلام لانے کے وقت محسوس کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ جہاں تو اپنے جسم سے درد محسوس کرتا ہے اور تین مرتبہ بِاسْمِ اللَّهِ کہو اور سات مرتبہ أَعُوذُ بِاللَّهِ میں اللہ کی ذات اور قدرت سے ہر اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں جسے میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے میں خوف کرتا ہوں۔
Uthman bin Abu al-As Al-Thaqafi reported that he made a complaint of pain to Allahs Messenger ﷺ that he felt in his body at the time he had become Muslim. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Place your hand at the place where you feel pain in your body and say Bismillah (in the name of Allah) three times and seven times Audhu billahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa ukhdhiru (I seek refuge with Allah and with His Power from the evil that I find and that I fear).
نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَائَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفِلْ عَلَی يَسَارِکَ ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِکَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي
یحییٰ بن خلف باہلی الاعلی سعید جریری ابوعلاء حضرت عثمان بن ابوالعاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! شیطان میری نماز اور قرأت کے درمیان حائل ہوتا اور مجھ پر نماز میں شبہ ڈالتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شیطان ہے جسے خنزب کہا جاتا ہے جب تو ایسی بات محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کر اور اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دیا کر پس میں نے ایسے ہی کیا تو شیطان مجھ سے دور ہوگیا۔
Uthman bin Abu al-As reported that he came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, the Satan intervenes between me and my prayer and my reciting of the Quran and he confounds me. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: That is (the doing of the Satan) who is known as Khinzab, and when you perceive its effect, seek refuge with Allah from it and spit three times to your left. I did that and Allah dispelled that from me.
نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلَاثًا
محمد بن مثنی، سلام بن نوح ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ جریر ابی علاء عثمان بن ابی عاص اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
Uthman bin Abu al-As reported that he came to Allahs Apostle ﷺ and he narrated like this. In the hadith transmitted on the authority of Salam bin Nuh there is no mention of three times.
نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
محمد بن رافع عبدالرزاق، سفیان بن سعید جریری یزید بن عبداللہ بن شخیر حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Uthman bin Abu al-As with a slight variation of wording.
ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِکُلِّ دَائٍ دَوَائٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَائُ الدَّائِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ہارون بن معروف، ابوطاہر احمد بن عیسیٰ ابن وہب، عمرو ابن حارث عبدربہ بن سعید ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے جب بیمار کی دوا پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے وہ بیماری دور ہوجاتی ہے۔
Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is a remedy for every malady, and when the remedy is applied to the disease it is cured with the permission of Allah, the Exalted and Glorious.
ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّی تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ شِفَائً
ہارون بن معروف، ابوطاہر ابن وہب، عمرو بکیر عاصم بن عمر بن قتادہ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مُقَنَّعَ کی عیادت کی پھر کہا جب تک تم پچھنے نہ لگواؤ میں یہاں سے نہ جاؤں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اس میں شفاء ہے۔
Jabir reported that he visited Muqanna and then said: I will not go away unless you get yourself cupped, for I heard Allahs Messenger ﷺ say: It is a remedy.
ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ جَائَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَکِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا فَقَالَ مَا تَشْتَکِي قَالَ خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ فَقَالَ لَهُ مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا قَالَ وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَی تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِکَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ کَانَ فِي شَيْئٍ مِنْ أَدْوِيَتِکُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَکْتَوِيَ قَالَ فَجَائَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ
نصر بن علی جہضمی، عبدالرحمن بن سلیمان، عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے ہمارے گھر تشریف لائے اور ایک آدمی پھوڑے یا زخم کی تکلیف کی شکایت کر رہا تھا آپ نے کہا تجھے کیا تکلیف ہے اس نے کہا مجھے پھوڑا ہے جو سخت تکلیف دے رہا ہے جابر نے کہا اے نوجوان! میرے پچھنے لگانے والے کو بلا لاؤ اس نے کہا اے ابوعبداللہ پچھنے لگانے والے کا کیا کریں گے حضرت جابر ؓ نے کہا میں زخم میں پچھنے لگوانا چاہتا ہوں اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی یا کپڑا لگے گا جو مجھے تکلیف دے گا اور یہ مجھ پر سخت گزرے گا جب انہوں نے دیکھا کہ یہ شخص پچھنے لگوانے سے بچنا چاہتا ہے تو کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگوانے شہد کے شربت اور آگ سے داغنے میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں داغ لگوانے کو پسند کرتا پس ایک حجام آیا اور اس نے اسے پچھنے لگائے جس سے اس کی تکلیف دور ہوگئی۔
Asim bin Umar bin Qatada reported: There came to our house Abdullah and another person from amongst the members of the household who complained of a wound. Jabir said: What ails you? He said: There is a wound which is very painful for me, whereupon he said: Boy, bring to me a cupper. He said: Abdullah, what do you intend to do with the cupper? I said: I would get this wound cupped. He said: By Allah, even the touch of fly or cloth causes me pain and cupping would thus cause me (unbearable) pain. And when he saw him feeling pain (at the idea of cupping), he said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: If there is any effective remedy amongst your remedies, these are (three): Cupping, drinking of honey and cauterisation with the help of fire. Allahs Messenger ﷺ had said: As for myself I do not like cauterisation. The cupper was called and he cupped him and he was all right.
ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ کَانَ أَخَاهَا مِنْ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پچھنے لگوانے کی اجازت طلب کی تو نبی ﷺ نے ابوطیبہ کو انہیں پچھنے لگانے کا حکم دیا حضرت جابر ؓ نے کہا میرا گمان ہے کہ وہ حضرت ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی یا نابالغ لڑکے تھے۔
Jabir reported that Umm Salamah sought permission from Allahs messenger (may Allahs peace upon him) for getting herself cupped. The Apostle of Allah ﷺ asked Abu Taiba to cup her. He (Jabir) said: I think he (Abu Taiba) was her foster brother or a young boy before entering upon the adolescent period.
ہر بیماری کے لئے دوا ہے اور علاج کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ کَوَاهُ عَلَيْهِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب یحییٰ ابومعاویہ اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ کے پاس ایک طبیب بھیجا جس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی پھر اس کو داغ دیا۔
Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ sent a physician to Ubayy bin Kab. He cut the vein and then cauterised it.