و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ
ہارون بن عبداللہ روح بن عبادہ، شعبہ، ہشام بن زید حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملا دیا پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی باقی حدیث مبارکہ گزر چکی۔
Anas bin Malik (RA) reported that a Jewess brought poisoned meat and then served it to Allahs Messenger ﷺ
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَکَی مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا کَانَ يَصْنَعُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَی قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَی
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق زہیر جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو رسول اللہ اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے پھر فرماتے تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پروردگار شفاء دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے ایسی شفا دینے والا ہے تیری شفا کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے، جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور بیماری شدید ہوگئی تو میں نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑا تاکہ میں بھی آپ ﷺ کے ہاتھ سے اسی طرح کروں جس طرح آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھینچ لیا پھر فرمایا اے اللہ میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ کر دے سیدہ فرماتی ہیں میں نے آپ کی طرف دیکھنا شروع کیا تو آپ ﷺ وَاصِل اِلَی اللہِ ہوچکے تھے۔
Aisha reported: When any person amongst us fell ill, Allahs Messenger (may peace he upon him) used to rub him with his right hand and then say: O Lord of the people, grant him health, heal him, for Thou art a Great Healer. There is no healer, but with Thy healing Power one is healed and illness is removed. She further added: When Allahs Messenger ﷺ fell ill, and his illness took a serious turn I took hold of his hand so that I should do with it what he had done with that (i. e. I would rub his body with his sacred hand). But he withdrew his hand from my hand and then said: O Allah, pardon me and make me join the highest companion. She said: I was gazing at him constantly whereas he had passed away.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ مَسَحَهُ بِيَدِهِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ و قَالَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ بشر بن خالد محمد بن جعفر، ابن بشار ابن ابی عدی، شعبہ، ابوبکر بن ابی شبیہ ابوبکر بن خلاد یحییٰ قطان سفیان، اعمش، جریر، ہشیم شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیرا اور ثوری کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیرا۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah through another chain of transmitters (and the words are): "He rubbed him with his hand" and (in) the hadith transmitted on the authority of Thauri (the words are). "He used to rub with his right hand." This hadith has been reported through another chain of transmitters.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
شیبان بن فروخ ابوعوانہ، منصور ابراہیم، مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب کسی مریض کی عیادت کرتے تو (أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا)۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When Allahs Messenger ﷺ visited the sick he would say: Lord of the people, remove the disease, cure him, for Thou art the great Curer, there is no cure but through Thine healing Power, which leaves nothing of the disease.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ فَدَعَا لَهُ وَقَالَ وَأَنْتَ الشَّافِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، جریر، منصور ابی ضحی مسروق، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مریض کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو فرماتے (أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ ) اور ابوبکر ؓ کی روایت میں ہے آپ ﷺ اس کے لئے دعا کرتے تو فرماتے تُو (یعنی اللہ) ہی شفاء دینے والا ہے۔
Aisha reported that when Allahs Messenger ﷺ came to visit any sick he supplicated for him and said: Lord of the people, remove the malady, cure him for Thou art a great Curer. There is no cure but through Thine healing Power which leaves no trouble, and in the narration transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) there is a slight variation of wording.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ
قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسیٰ اسرائیل منصور ابراہیم، مسلم بن صبیح مسروق، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Aisha through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِکَ الشِّفَائُ لَا کَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ذریعہ دم کیا کرتے تھے (أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ) اے لوگوں کے پروردگار تکلیف دور کر دے شفاء تیرے ہاتھ میں ہے تیرے سوا کوئی مصیبت کو دور کرنے والا نہیں۔
Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ used to recite (this supplication) as the words of incantation: "Lord of the people, remove the trouble for in Thine Hand is the cure; none is there to relieve him (the burden of disease) but only Thou.
مریض کو دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوکریب ابواسامہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ہشام ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Hisham with the same chain of transmitted.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا کَانَتْ أَعْظَمَ بَرَکَةً مِنْ يَدِي وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ
سریج بن یونس یحییٰ بن ایوب عباد بن ہشام بن عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے جب کوئی بیمار ہوجاتا تو آپ ﷺ الفَلَق اور النّاس پڑھ کر اس پر پھونک مارتے یعنی دم کرتے تھے جب آپ ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے آپ ﷺ کو دم کرنا چاہا اور آپ ﷺ کے ہاتھ کو ہی آپ ﷺ پر پھیرنا شروع کیا کیونکہ آپ ﷺ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا۔
Aisha reported that when any of the members of the household fell ill Allahs Messenger ﷺ used to blow over him by reciting Muawwidhatan, and when he suffered from illness of which he died I used to blow over him and rubbed his body with his hand for his hand had greater healing power than my hand.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی يَقْرَأُ عَلَی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَائَ بَرَکَتِهَا
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے سورت فَلَق اور سورت نَاس پڑھ کر خود ہی دم کرنا شروع کردیا جب آپ ﷺ کی تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو میں یہ سورتیں آپ ﷺ پر پڑھتی تھی اور آپ ﷺ کے ہاتھ کی برکت کی وجہ سے آپ ﷺ پر پھیرتی تھی۔
Aisha reported that when Allahs Messenger ﷺ fell ill, he recited over his body Muawwidhatan and blew over him and when his sickness was aggravated I used to recite over him and rub him with his hand with the hope that it was more blessed.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ رَجَائَ بَرَکَتِهَا إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی نَفَثَ عَلَی نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ
ابوطاہر حرملہ وہب یونس عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، محمد بن عبداللہ ابن نمیر، روح عقبہ بن مکرم احمد بن عثمان نوفلی ابوعاصم، ابن جریج، شہاب ابن شہاب مالک ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ مالک کی سند کے علاوہ کسی نے آپ ﷺ کے ہاتھ کی برکت کی امید سے کے الفاظ نقل نہیں کئے اور یونس اور زیاد کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ جب بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے معوذات کے ذریعہ اپنے اوپر دم کیا اور اپنا ہاتھ پھیرا۔
This hadith has been narrated through some other chains of transmitters but with a slight variation of wording. In the hadith transmitted on the authority of Yanus and Ziyari (the words are): "When Allahs Apostle ﷺ fell ill, he blew over his body by reciting Muawwidhatan and rubbed him with his hand.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرُّقْيَةِ فَقَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ کُلِّ ذِي حُمَةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، شیبانی عبدالرحمن بن اسود حضرت اسود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے دم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے ایک گھر والوں کو دم کرنے کی اجازت دی تھی ہر زہریلے جانور کے ڈنک مارنے سے۔
Abdul Rahman bin al-Aswad reported on the authority of his father: I asked Aisha about incantation. She said: Allahs Messenger ﷺ had granted its sanction to the members of a family of the Ansar for incantation in curing every type of poison.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْحُمَةِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم مغیرہ ابراہیم، اسود حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر والوں کو زہریلے جانور کے ڈنک مارنے کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ granted sanction to the members of a family of the Ansar for incantation (for removing the effects) of the poison of the scorpion.
مریض کو دم کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی الْإِنْسَانُ الشَّيْئَ مِنْهُ أَوْ کَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ هَکَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا بِاسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَی بِهِ سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ يُشْفَی و قَالَ زُهَيْرٌ لِيُشْفَی سَقِيمُنَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر ابن ابی عمر سفیان، عبد سعید عمرہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کسی انسان کے کسی عضو میں کوئی تکلیف ہوتی یا پھوڑا یا زخم ہوتا تو نبی ﷺ اپنی انگلی اس طرح رکھتے اور سفیان نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اسے اٹھا کر فرمایا بِاسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَی بِهِ سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا، اللہ ( عزوجل) کے نام سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے لعاب سے ہمارے رب کے حکم سے ہمارا مریض شفا پائے گا اور زہیر کی روایت میں ہے تاکہ ہمارے مریض کو شفا دی جائے۔
Aisha reported that when any person fell ill with a disease or he had any ailment or he had any injury, the Apostle of Allah ﷺ placed his forefinger upon the ground and then lifted it by reciting the name of Allah (and said): The dust of our ground with the saliva of any one of us would serve as a means whereby our illness would be cured with the sanction of Allah.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق ابن ابراہیم، اسحاق ابوبکر ابوکریب محمد بن بشر مسعر معبد بن خالد ابن شداد حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انہیں نظربد سے دم کرانے کی اجازت دیتے تھے۔
This hadith has been transmitted on the authority of IbnAisha reported that Allahs Messenger ﷺ commanded the use of incantation for curing the influence of an evil eye. Abu Shaiba and Zubair with a slight variation of wording.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر ابی مسعر اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Misar with the same chain of transmitters.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنْ الْعَيْنِ
ابن نمیر، ابی سفیان، معبد بن خالد عبداللہ بن شداد حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے نظر بد سے دم کرانے کا حکم دتیے تھے۔
Aisha reported: Allahs Messenger (may peace he upon him) commanded me that I should make use of incantation for curing the influence of an evil eye.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي الرُّقَی قَالَ رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ عاصم احول یوسف بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے دم کرنے کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا بخار، پہلو کے پھوڑے اور نظر بد میں دم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported in connection with incantation that he had been granted sanction (to use incantation as a remedy) for the sting of the scorpion and for curing small pustules and dispelling the influence of an evil eye.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم سفیان، زہیر بن حرب، حمید بن عبدالرحمن حسن ابن صالح عاصم، یوسف بن عبداللہ انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظر بد اور پہلو کے پھوڑے میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔
Anas reported that Allahs Messenger ﷺ granted him sanction to use incantation (as a cure) for the influence of an evil eye, the sting of the scorpion and small pustules.
نظر لگنے پھنسی یرقان اور بخار کے لئے دم کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی بِوَجْهِهَا سَفْعَةً فَقَالَ بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً
ابوربیع سلیمان بن داؤد محمد بن حرب محمد بن ولید زبید زہری، عروہ بن زبیر، حضرت زینب بنت ام سلمہ ؓ نے حضرت ام المومنین ام سلمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑکی کو ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر میں دیکھا جس کے چہرے پر چھائیاں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ نظربد کی وجہ سے ہے پس اسے دم کرو اور اس کے چہرے پر زردی یرقان کی تھی۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ said to a small girl in the house of Umm Salamah that he had been seeing on her face black stains and told her that that was due to the influence of an evil eye, and he asked that she should be cured with the help of incantation (hoping) that her face should become spotless.