سلام کرنے کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 41 · 177 hadiths · Page 3 of 9

5686Sahih Muslim

کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی معمر، زہری، سالم ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اور ابن عمر ؓ کے لئے جب کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None should make ones brother stand and then sit at his place. And it was common with Ibn Umar (RA) that when any person stood in the company (with a view to making room for him) he did not sit there.

5687Sahih Muslim

کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Mamar with the same chain of transmitters.

5688Sahih Muslim

کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَی مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ وَلَکِنْ يَقُولُ افْسَحُوا

سلمہ بن شبیب حسن معقل ابن عبیداللہ ابی زبیر حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر خود نہ بیٹھے لیکن یوں کہو کشادہ ہوجاؤ۔

Jabir reported Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) as saying: None amongst you should make his brother stand on Friday (during the congregational prayer) and then occupy his place, but he should only say to him (Accommodate me).

5689Sahih Muslim

کوئی آدمی جب اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر واپس آئے تو اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ

قتیبہ بن سعید ابوعوانہ، عبدالعزیز ابن محمد سہیل ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھڑا ہوجائے اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے جو آدمی اپنی جگہ سے اٹھ گیا پھر اس کی طرف لوٹ آیا تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When anyone amongst you stands up, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Awina, the words are: "He who stands in his place and (goes away) and then comes back to it, he has the greatest right (to occupy that).

5690Sahih Muslim

اجنبی عورتوں کے پاس مخنث کے جانے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَيْضًا وَاللَّفْظُ هَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ مُخَنَّثًا کَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ الطَّائِفَ غَدًا فَإِنِّي أَدُلُّکَ عَلَی بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَدْخُلْ هَؤُلَائِ عَلَيْکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابوکریب ابومعاویہ ہشام ابوکریب ابن نمیر، ہشام زینب بنت ام سلمہ، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک مخنث تھا اور رسول اللہ ﷺ گھر میں موجود تھے تو اس مخنث نے حضرت ام سلمہ کے بھائی سے کہا اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں کل طائف پر فتح عطا کردی تو میں تجھے غیلان کی بیٹی کے بارے میں راہنمائی کردیتا ہوں کہ وہ چار سلوٹوں سے آتی ہے اور آٹھ سلوٹوں سے جاتی ہے یعنی خوب موٹی ہے اس سے رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سنی تو ارشاد فرمایا ایسے لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔

Umm Salamah reported that she had a eunuch (as a slave) in her house. Allahs Messenger ﷺ was once in the house that he (the eunuch) said to the brother of Umm Salamah (RA) :Abdullah bin Aba Umayya. If Allah grants you victory in Taif on the next day, I will show you the daughter of Ghailan for she has four folds (upon her body) on the front side of her stomach and eight folds on the back. Allahs Messenger ﷺ heard this and he said: Such (people) should not visit you.

5691Sahih Muslim

اجنبی عورتوں کے پاس مخنث کے جانے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَکَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ قَالَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَرَی هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْکُنَّ قَالَتْ فَحَجَبُوهُ

عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور لوگ اسے جنسی خواہش نہ رکھنے والوں میں شمار کرتے تھے نبی ﷺ ایک دن تشریف لائے تو وہ آپ ﷺ کی بعض بیویوں کے پاس بیٹھا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا اس نے کہا جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں سے آتی ہے اور جب جاتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ جاتی ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ مخنث جو چیز یہاں دیکھتا ہوگا (ہو سکتا ہے کہ دوسری جگہ جا کر بیان کرے) کہ یہ تمہارے پاس نہ آیا کرے سیدہ ؓ فرماتی ہیں پھر لوگوں نے اسے پردہ کروا دیا۔

Aisha reported that a eunuch used to come to the wives of Allahs Apostle ﷺ and they did not find anything objectionable in his visit considering him to be a male without any sexual desire. Allahs Apostle ﷺ one day came as he was sitting with some of his wives and he was busy in describing the bodily characteristics of a lady and saying: As she comes in front four folds appear on her front side and as she turns her back eight folds appear on the back side. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: It seems that he knows these things; do not, therefore, allow him to cater. She (Aisha) said: Then they began to observe veil from him.

5692Sahih Muslim

تھکی ہوئی اجنبی عورت کو راستہ میں سواری پر پیچھے سوار کرنے کے جواز کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوکٍ وَلَا شَيْئٍ غَيْرَ فَرَسِهِ قَالَتْ فَکُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَکْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَی لِنَاضِحِهِ وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَائَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَکُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَکَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَکُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ قَالَتْ وَکُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَی مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَأْسِي وَهِيَ عَلَی ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَی عَلَی رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ قَالَتْ فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَکَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُکِ النَّوَی عَلَی رَأْسِکِ أَشَدُّ مِنْ رُکُوبِکِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّی أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَ ذَلِکَ بِخَادِمٍ فَکَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَکَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي

محمد بن علا، ابوکریب ہمدانی، ابواسامہ، ہشام، ابی، حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت زبیر بن العوام ؓ نے مجھ سے نکاح کیا اور ان کے پاس نہ زمین تھی نہ مال نہ خادم اور نہ ایک گھوڑے کے سوا اور کوئی چیز میں ان کے گھوڑے کو چارہ ڈالتی تھی اور ان کی طرف سے اس کی خبر گیری اور خدمت کرتی تھی اور ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کو ٹتی تھی اس کو گھاس ڈالتی اور پانی پلاتی تھی اور ڈول کے ذریعہ پانی نکالتی تھی اور میری انصاری ہمسائیاں مجھے روٹی پکا دیتی تھیں اور وہ بڑے اخلاص والی عورتیں تھیں اور میں حضرت زبیر ؓ کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے عطا کی تھی اور وہ زمین دو تہائی فرسخ دور تھی میں ایک دن اس حال میں آئی کہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوگئی اور آپ ﷺ کے اصحاب میں سے چند آدمی آپ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے مجھے بلایا پھر اونٹ بٹھانے کے لئے اخ اخ کہا تاکہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیں فرماتی ہیں مجھے حیاء آئی اور اے زبیر میں تیری غیرت سے واقف تھی۔ تو حضرت زبیر ؓ نے کہا تیرا اپنے سر پر گٹھلیاں اٹھانا مجھے آپ ﷺ کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت دشوار تھا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اس واقعہ کے بعد میرے پاس ایک خادمہ بھیج دی پھر اس نے مجھے گھاس کے کام سے دور کردیا گویا کہ اس خادمہ نے مجھے آزاد کردیا۔

Asma daughter of Abu Bakr (RA) reported that she was married to Zubair. He had neither land nor wealth nor slave nor anything else like it except a home. She further said: I grazed his horse, provided fodder to it and looked after it, and ground dates for his camel. Besides this, I grazed the camel, made arrangements for providing it with water and patched up the leather bucket and kneaded the flour. But I was not proficient in baking the bread, so my female neighbours used to bake bread for me and they were sincere women. She further said: I was carrying on my head the stones of the dates from the land of Zubair which Allahs Messenger ﷺ had endowed him and it was at a distance of two miles (from Madinah). She said: As I was one day carrying the stones of dates upon my head I happened to meet Allahs Messenger ﷺ along with a group of his Companions. He called me and said (to the camel) to sit down so that he should make me ride behind him. (I told my husband:) I felt shy and remembered your jealousy, whereupon he said: By Allah, the carrying of the stone dates upon your head is more severe a burden than riding with him. She said: (I led the life of hardship) until Abu Bakr (RA) sent afterwards a female servant who took upon herself the responsibility of looking after the horse and I felt as if she had emancipated me.

5693Sahih Muslim

تھکی ہوئی اجنبی عورت کو راستہ میں سواری پر پیچھے سوار کرنے کے جواز کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ أَسْمَائَ قَالَتْ کُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ وَکَانَ لَهُ فَرَسٌ وَکُنْتُ أَسُوسُهُ فَلَمْ يَکُنْ مِنْ الْخِدْمَةِ شَيْئٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ کُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَائَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا قَالَتْ کَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَائَنِي رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِکِ قَالَتْ إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَکَ أَبَی ذَاکَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ فَجَائَ فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِکِ فَقَالَتْ مَا لَکَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ مَا لَکِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ فَکَانَ يَبِيعُ إِلَی أَنْ کَسَبَ فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي فَقَالَ هَبِيهَا لِي قَالَتْ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا

محمد بن عبیدالغبری حماد بن زید ایوب بن ابی ملیکہ حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت زبیر ؓ کے گھر کا کام کاج کرتی تھی اور ان کا ایک گھوڑا تھا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتی اور میرے لئے گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے سے زیادہ سخت کوئی کام نہ تھا پھر انہیں ایک خادمہ مل گئی نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک خادم انہیں عطا کردیا کہتی ہیں کہ اس نے میرے گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے کی مشقت کو اپنے اوپر ڈال لیا ایک آدمی نے آکر کہا اے ام عبداللہ میں غریب آدمی ہوں میں نے تیرے گھر کے سایہ میں خریدو فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے انہوں نے کہا میں اگر تجھے اجازت دے بھی دوں لیکن زبیر اس سے انکار کریں گے اس لئے اس وقت آکر اجازت طلب کرو جب حضرت زبیر ؓ گھر پر موجود ہوں پھر وہ آیا اور عرض کیا اے ام عبداللہ میں ایک غریب آدمی ہوں میں نے آپ کے گھر کے سایہ میں خریدو فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے اسماء نے کہا کیا تیرے لئے میرے گھر کے علاوہ پورے مدینہ میں کوئی اور جگہ نہیں ہے تو اسماء سے حضرت زبیر نے کہا تجھے کیا ہوگیا ہے کہ ایک ضرورت مند آدمی کو خریدو فروخت سے منع کر رہی ہے پس وہ دکانداری کرنے لگا اور خوب کمائی کی اور میں نے وہی باندی اس کے ہاتھ فروخت کردی پس زبیر ؓ اس حال میں آئے کہ میرے پاس اس کی قیمت میری گود میں تھی تو انہوں نے کہا اس رقم کو میرے لئے ہبہ کردو اسماء نے کہا میں انہیں صدقہ کرچکی ہوں۔

Asma reported: I performed the household duties of Zubair and he had a horse; I used to look after it. Nothing was more burdensome for me than looking after the horse. I used to bring grass for it and looked after it, then I got a servant as Allahs Apostle ﷺ had some prisoners of war in his possession. He gave me a female servant. She (the female servant) then began to look after the horse and thus relieved me of this burden. A person came and he said: Mother of Abdullah, I am a destitute person and I intend that I should start business under the shadow of your house. I (Asma) said: If I grant you permission, Zubair may not agree to that, so you come and make a demand of it when Zubair is also present there. He came accordingly and said: Mother of Abdullah. I am a destitute person. I intend to start a small business in the shadow of your house. I said: Is there not in Madinah (any place for starting the business) except my house? Zubair said: Why is it that you prohibit the destitute man to start business here? So he started business and he (earned so much) that we sold our slave-girl to him. There came Zubair to me while the money was in my lap. He said: Give this to me. I said: (I intend) to spend it as charity.

5694Sahih Muslim

دو آدمیوں کا تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ

یحییٰ بن یحیی، مالک نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تین آدمی ہوں تو وہ آدمی ایک کو چھوڑ کو آپس میں سرگوشی نہ کریں۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When there are three (persons), two should not converse secretly between themselves to the exclusion of the (third) one.

5695Sahih Muslim

دو آدمیوں کا تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَی کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابن نمیر، ابن نمیر، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ ابن سعید عبیداللہ قتیبہ ابن رمح لیث بن سعد ابوربیع ابوکامل حماد ایوب ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ایوب بن موسیٰ نافع، حضرت ابن عمر ؓ کی نبی ﷺ سے یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of ibn Umar through two different chains of transmitters.

5696Sahih Muslim

دو آدمیوں کا تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّی تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری ابوالاحوص منصور زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، منصور ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم اور لوگوں سے مل جاؤ اس کی دل آزاری کی وجہ سے۔

Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If you are three, two amongst you should not converse secretly between yourselves to the exclusion of the other (third one), until some other people join him (and dispel his loneliness), for it may hurt his feelings.

5697Sahih Muslim

دو آدمیوں کا تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِکَ يُحْزِنُهُ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوکریب یحییٰ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کیا کرو کیونکہ اس سے اس کی دل آزاری ہوگی۔

Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If you are three, two should not converse secretly to the exclusion of your companion for that hurts his feelings.

5698Sahih Muslim

دو آدمیوں کا تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر سفیان ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters.

5699Sahih Muslim

دوا بیماری اور جھاڑ پھونک کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ إِذَا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيکَ وَمِنْ کُلِّ دَائٍ يَشْفِيکَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ کُلِّ ذِي عَيْنٍ

محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز در اور دی یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ عبدالرحمن، عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو تکلیف ہوتی تو جبریئل (علیہ السلام) آپ ﷺ کو دم کرتے تھے اور انہوں نے یہ کلمات کہے (باسْمِ اللَّهِ يُبْرِيکَ ) اللہ کے نام سے وہ آپ ﷺ کو تندرست کرے گا اور ہر بیماری سے آپ ﷺ کو شفا دے گا اور حسد کرنے والے کے حسد کے شر سے جب وہ حسد کرے اور ہر نظر لگانے والی آنکھ کے شر سے آپ ﷺ کو پناہ میں رکھے گا۔

Aisha (the wife of Allahs Apostle) ﷺ said: When Allahs Messenger ﷺ fell ill. Gabriel (علیہ السلام) used to recite these verses. "In the name of Allah. He may cure you from all kinds of illness and safeguard you from the evil of a jealous one when he feels jealous and from the evil influence of eye."

5700Sahih Muslim

دوا بیماری اور جھاڑ پھونک کے بیان میں

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اشْتَکَيْتَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ يُؤْذِيکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيکَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيکَ

بشر بن ہلال صواف عبدالوارث عبدالعزیز ابن صہیب ابی نضرہ ابوسعید حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد! آپ ﷺ بیمار ہوگئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں انہوں نے کہا اللہ کے نام سے ہر اس چیز کے شر سے جو آپ ﷺ کو تکلیف دینے والی ہو اور ہر نفس یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے میں آپ ﷺ کو دم کرتا ہوں اللہ آپ ﷺ کو شفا دے گا میں اللہ کے نام سے آپ ﷺ کو دم کرتا ہوں۔

Abu Said reported that Gabriel (علیہ السلام) came to Allahs Messenger ﷺ and said: Muhammad, have you fallen ill? Thereupon he said: Yes. He ( Gabriel (علیہ السلام)) said: "In the name of Allah I exercise you from everything and safeguard you from every evil that may harm you and from the eye of a jealous one. Allah would cure you and I invoke the name of Allah for you."

5701Sahih Muslim

دوا بیماری اور جھاڑ پھونک کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نظر لگ جانا حق ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported so many ahadith from Allahs Messenger ﷺ and he reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The influence of an evil eye is a fact.

5702Sahih Muslim

دوا بیماری اور جھاڑ پھونک کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حجاج بن شاعر، احمد بن خراش عبداللہ مسلم بن ابراہیم، وہیب ابن طاؤس حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا نظر لگ جانا حق ہے اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرنے والی ہو تو نظر ہے جو اس سے سبقت کر جاتی ہے جب تم سے (بغرض علاج نظر) غسل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کرلو۔

Ibn Abbas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The influence of an evil eye is a fact; if anything would precede the destiny it would be the influence of an evil eye, and when you are asked to take bath (as a cure) from the influence of an evil eye, you should take bath.

5703Sahih Muslim

جادو کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَتْ حَتَّی کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْئَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّی إِذَا کَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَائَنِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوْ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي أَيِّ شَيْئٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ قَالَ وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَکَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ قَالَتْ فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَکَأَنَّ مَائَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّائِ وَلَکَأَنَّ نَخْلَهَا رُئُوسُ الشَّيَاطِينِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَکَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ

ابوکریب ابن نمیر، ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بنو رزیق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جادو کیا جسے لبید بن اعصم کہا جاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ خیال آیا کہ آپ ﷺ فلاں کام کر رہے ہیں حالانکہ آپ ﷺ وہ کام نہ کر رہے ہوتے یہاں تک کہ ایک دن یا رات میں رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگی، پھر دعا مانگی، پھر دعا مانگی پھر فرمایا اے عائشہ کیا تو جانتی ہے کہ جو چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھی اللہ نے وہ مجھے بتادی میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک آدمی میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس موجود تھا ایک نے دوسرے کو کہا یا جو میرے پاؤں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس موجود سے کہا کہ اس آدمی کو کیا تکلیف ہے اس نے کہا یہ جادو کیا ہوا ہے اس نے کہا اس پر کس نے جادو کیا دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے، اس نے کہا کس چیز میں جادو کیا ہے دوسرے نے کہا کنگھی اور کنگھی سے جھڑنے والے بالوں میں اور کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس نے کہا اب وہ چیزیں کہاں ہیں دوسرے نے کہا ذی اروان کے کنویں میں۔ سیدہ ؓ فرماتی ہیں پھر رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں کے ساتھ اس کنویں پر گئے پھر فرمایا اے عائشہ ؓ! اللہ کی قسم اس کنویں کا پانی مہندی کے رنگ دار پانی کی طرح تھا اور گویا کہ کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں کی طرح دکھائی دیتے تھے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے انہیں جلا کیوں نہ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے عافیت عطا کردی اور میں نے لوگوں میں فساد بھڑکانے کو ناپسند کیا۔ اس لئے میں نے حکم دیا تو انہیں دفن کردیا گیا۔

Aisha reported that a Jew from among the Jews of Banu Zuraiq who was called Labid bin al-Asam cast a spell upon Allahs Messenger ﷺ with the result that he (under the influence of the spell) felt that he had been doing something whereas in fact he had not been doing that. This state of affairs lasted until one day or during one night Allahs Messenger ﷺ made supplication (to dispel its effects). He again made a supplication and he again did this and said to Aisha: Do you know that Allah has told me what I had asked Him? There came to me two men and one amongst them sat near my head and the other one near my feet and he who sat near my head said to one who sat near my feet or one who sat near my feet said to one who sat near my head: What is the trouble with the man? He said: The spell has affected him. He said: Who has cast that? He (the other one) said: It was Labid bin Asam (who has done it). He said: What is the thing by which he transmitted its effect? He said: By the comb and by the hair stuck to the comb and the spathe of the date-palm. He said: Where is that? He replied: In the well of Dhi Arwan. She said: Allahs Messenger ﷺ sent some of the persons from among his Companions there and then said: Aisha. by Allah, its water was yellow like henna and its trees were like heads of the devils. She said that she asked Allahs Messenger ﷺ as to why he did not burn that. He said: No, Allah has cured me and I do not like that I should induce people to commit any high-handedness in regard (to one another), but I only commanded that it should be buried.

5704Sahih Muslim

جادو کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ أَبُو کُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ وَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ

ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ پر جادو کیا گیا باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کنوئیں کی طرف گئے اس کی طرف دیکھا تو اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ اسے نکال لیں آپ ﷺ نے اسے جلا کیوں نہ دیا نہیں کہا اور یہ ہی آخری جملہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے انہیں دفن کرنے کا حکم دیا۔

Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ was affected with a spell, the rest of the hadith is the same but with this variation of wording: "Allahs Messenger ﷺ went to the well and looked towards it and there were trees of date-palm near it. I (Aisha) said: I asked Allahs Messenger ﷺ to bring it out, and I did not say: Why did not you burn it?" And there is no mention of these words: "I commanded to bury them and they buried."

5705Sahih Muslim

زہر کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَکَلَ مِنْهَا فَجِيئَ بِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ أَرَدْتُ لِأَقْتُلَکَ قَالَ مَا کَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَکِ عَلَی ذَاکِ قَالَ أَوْ قَالَ عَلَيَّ قَالَ قَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، ہشام بن زید حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ کے پاس بکری کا زہر آلود گوشت لائی اور آپ ﷺ نے اس میں سے کھالیا پھر اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا میں نے آپ ﷺ کو (معاذاللہ) قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تجھے اس بات پر قدرت نہیں دے گا یا فرمایا اللہ تجھے مجھ پر قدرت نہ دے گا صحابہ ؓ نے عرض کیا کیا ہم اسے قتل نہ کردیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے حلق کے کوے میں ہمیشہ اس زہر کو دیکھتا تھا۔

Anas reported that a Jewess came to Allahs Messenger ﷺ with poisoned mutton and he took of that what had been brought to him (Allahs Messenger). When the effect of this poison were felt by him he called for her and asked her about that, whereupon she said: I had determined to kill you. Thereupon he said: Allah will never give you the power to do it. He (the narrator) said that they (the Companions of the Holy Prophet) said: Should we not kill her? He said: No. He (Anas) said: I felt (the affects of this poison) on the uvula of Allahs Messenger.