پردہ اٹھانے وغیرہ کو یا کسی اور علامت کو اجازت ملنے کی علامت مقرر کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُکَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّی أَنْهَاکَ
ابوکامل جحدری قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، ابن زیاد حسن بن عبیداللہ ابراہیم بن سوید عبدالرحمن بن یزید ابن مسعود حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا تیرے لئے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور یہ کہ تم میری راز کی باتیں سن لو یہاں تک کہ میں تمہیں منع کر دوں۔
Ibn Masud reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you.
پردہ اٹھانے وغیرہ کو یا کسی اور علامت کو اجازت ملنے کی علامت مقرر کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عبداللہ بن ادریس حسن بن عبیداللہ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters.
علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا وَکَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَائَ جِسْمًا لَا تَخْفَی عَلَی مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي کَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْکَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّی وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ يَفْرَعُ النِّسَائَ جِسْمُهَا زَادَ أَبُو بَکْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سودہ ؓ پردہ دیئے جانے کے بعد قضائے حاجت کے لئے باہر نکلیں اور وہ قد آور عورتوں میں بڑے قد والی عورت تھیں کہ پہچاننے والے سے پوشیدہ نہ رہ سکتی تھیں انہیں حضرت عمر ؓ بن خطاب نے دیکھا تو کہا اے سودہ اللہ کی قسم تم ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لئے آپ غور کریں کہ آپ باہر کیسے نکلیں گی سیدہ عائشہ ؓ نے کہا کہ وہ یہ سنتے ہی واپس لوٹ آئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہڈی تھی وہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میں باہر نکلی اور حضرت عمر ؓ نے مجھے اس اس طرح کہا سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اسی وقت آپ ﷺ پر وحی نازل کی گئی پھر وحی منقطع ہوئی اور ہڈی آپ ﷺ کے ہاتھ میں رہی آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق تمہیں اپنی حاجت کے لئے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
Aisha reported that Sauda (Allah be pleased with her) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. Umar bin Khattab saw her and said: Sauda, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She (Aisha) said: She turned back. Allahs Messenger ﷺ was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allahs Messenger. I went out and Umar said to me so and so. She (Aisha) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said: "Permission has been granted to you that you may go out for your needs."
علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَکَانَتْ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا قَالَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّی
ابوکریب ابن نمیر، ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے اس میں ہے کہ ان کا جسم لوگوں سے بلند تھا اور مزید ہے کہ آپ ﷺ شام کا کھانا کھا رہے تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, and the words are: She (Sauda) was a woman who looked to be significant amongst the people (so far as the bulk of her) body was concerned. The rest of the hadith is the same.
علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
سوید بن سعید علی بن مسہر، ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.
علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَی الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَائَکَ فَلَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَائً وَکَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاکِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَی أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں اور وہ ایک کھلا میدان تھا اور عمر بن خطاب رسول اللہ ﷺ سے عرض کرتے تھے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج کو پردہ کرا دیں لیکن رسول اللہ ﷺ ایسا نہ کرتے تھے پس حضرت سودہ ؓ بنت زمعہ زوجہ نبی ﷺ راتوں میں سے کسی رات میں عشا کے وقت باہر نکلیں اور وہ دراز قد عورت تھیں انہیں حضرت عمر ؓ نے پکار کر کہا اے سودہ ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے پردہ کے بارے میں احکام نازل ہونے کی حرص کرتے ہوئے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں پھر اللہ تبارک وتعالی نے پردے کے احکام نازل فرمائے۔
Aisha reported that the wives of Allahs Messenger ﷺ used to go out in the cover of night when they went to open fields (in the outskirts of Madinah) for easing themselves. Umar b Khattab used to say: Allahs Messenger, ask your ladies to observe veil, but Allahs Messenger ﷺ did not do that. So there went out Sauda, daughter of Zarna, the wife of Allahs Messenger ﷺ , during one of the nights when it was dark. She was a tall statured lady. Umar called her saying: Sauda, we recognise you. (He did this with the hope that the verses pertaining to veil would be revealed.) Aisha said: Allah, the Exalted and Glorious, then revealed the verses pertaining to veil.
علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عمرو ناقد یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابوصالح ابن شہاب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَکُونَ نَاکِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ
یحییٰ بن یحیی، علی بن حجر یحییٰ ابن حجر ہشیم ابی زبیر جابر، محمد بن صباح زہیر بن حرب ہشیم ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو نکاح کرنے والے یا محرم کے علاوہ کوئی آدمی کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے۔
Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Behold, no person should spend the night with a married woman, but only in case he is married to her or he is her Mahram.
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر عقبہ بن عامر، حضرت عقبہ ؓ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے بچو انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ دیور کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دیور تو موت ہے۔
Uqba bin Amir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Beware of getting, into the houses and meeting women (in seclusion). A person from the Ansar said: Allahs Messenger, what about husbands brother, whereupon he said: Husbands brother is like death.
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، لیث، ابن سعد حیوہ بن شریح یزید ابی حبیب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Yazid bin Abu Habib with the same chain of transmitters.
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُا الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ
ابوطاہر ابن وہب، لیث بن سعد حضرت لیث بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ دیور سے خاوند کا بھائی اور جو اس کے مشابہ ہو خاوند کے رشتہ داروں میں سے چچا زاد بھائی وغیرہ مراد ہے۔
Ibn Wahb reported: I heard Laith bin Said as saying: Al-Hamu means the brother of husband or like it from amongst the relatives of the husband, for example, cousin, etc.
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بَکْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَکَرِهَ ذَلِکَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَی مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوْ اثْنَانِ
ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، عمرو ابوطاہر عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ حضرت عبداللہ عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ بنی ہاشم میں سے چند آدمی اسماء بنت عمیس کے پاس گئے اتنے میں ابوبکر ؓ بھی تشریف لے آئے اور یہ ان دنوں ان کے نکاح میں تھیں سیدنا صدیق اکبر نے انہیں دیکھا تو اس بات کو ناپسند کیا حضرت ابوبکر ؓ نے پھر اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا مگر یہ بھی کہا کہ میں نے اس میں سوائے بھلائی و نیکی کے کوئی بات نہیں دیکھی پھر رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی آدمی آج کے دن کے بعد کسی عورت کے پاس اس کے خاوند کی غیر موجودگی میں نہ جائے ہاں اگر اس کے ساتھ ایک ایک دو آدمی ہوں تو پھر حرج نہیں۔
Abdullah bin Amr. bin al-As reported that some persons from Banu Hisham entered the house of Asma daughter of Umais when Abu Bakr (RA) also entered (and she was at that time his wife). He (Abu Bakr) saw it and disapproved of it and he made a mention of that to Allahs Messenger ﷺ and said: I did not see but good only (in my wife). Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Verily Allah has made her immune from all this. Then Allahs Messenger ﷺ stood on the pulpit and said: After this day no man should enter the house of another person in his absence, but only when he is accompanied by one person or two persons.
جس آدمی کو اکیلے عورت کے ساتھ دیکھا جائے اور وہ اس کی بیوی یا محرم ہو تو بد گمانی دور کرنے کے لئے اس کا یہ کہہ دنیا کہ یہ فلانہ ہے کے مستحب ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مَعَ إِحْدَی نِسَائِهِ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ فَجَائَ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب حماد بن سلمہ ثابت بنانی، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کی ازواج میں سے ایک تھیں کہ آپ ﷺ کے پاس سے ایک آدمی گزرا آپ نے اسے بلایا وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں یہ میری فلاں بیوی ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں کون ہوتا ہوں کہ میں ایسا گمان کروں اور نہ ہی میں نے آپ کے بارے میں کوئی ایسا گمان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔
Anas reported that when Allahs Messenger ﷺ was in the company of one of his wives a person happened to pass by them. He called him and when he came, he said to him: O so and so, she was my such and such wife. Thereupon he said, Allahs Messenger, if I were to doubt at all, I would have entertained no doubt about you at least. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Verily Satan circulates in the body like blood.
جس آدمی کو اکیلے عورت کے ساتھ دیکھا جائے اور وہ اس کی بیوی یا محرم ہو تو بد گمانی دور کرنے کے لئے اس کا یہ کہہ دنیا کہ یہ فلانہ ہے کے مستحب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَکِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي وَکَانَ مَسْکَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ فَقَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِکُمَا شَرًّا أَوْ قَالَ شَيْئًا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، علی بن حسین ام المومنین صفیہ بنت حیی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ معتکف تھے میں رات کے وقت آپ ﷺ سے ملاقات کرنے آئی تو میں نے آپ ﷺ سے گفتگو کی پھر واپس لوٹنے کے لئے کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ میرے ساتھ مجھے رخصت کرنے کے لئے اٹھے اور ان کی رہائش اسامہ بن زید کے گھر میں تھی دو انصاری آدمی گزرے جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے نبی ﷺ نے فرمایا اپنی چال میں ہی چلو یہ صفیہ بنت حیی ہے انہوں نے عرض کیا سبحان اللہ اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا انسان کے اندر شیطان خون کی طرح چلتا ہے اور مجھے خوف ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بری بات نہ ڈال دے یا اور کچھ فرمایا۔
Safiyya daughter of Huyyay (the wife of Allahs Apostle) ﷺ reported that while Allahs Messenger ﷺ had been observing Itikaf, I came to visit him one night and talked with him for some time. Then I stood up to go back and he (Allahs Apostle) ﷺ also stood up with me in order to bid me good-bye. She was at that time residing in the house of Usama bin Zaid. The two persons from the Ansar happened to pass by him. When they saw Allahs Apostle ﷺ , they began to walk swiftly. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said to them: Walk calmy, she is Safiyya daughter of Huyyay... Both of them said: Messenger, hallowed be Allah, we cannot conceive of being doubtful even in the remotest corners of our minds), whereupon He said: Satan circulates in the body of man like the circulation of blood and I was afraid lest it should instill any evil in your heart or anything.
جس آدمی کو اکیلے عورت کے ساتھ دیکھا جائے اور وہ اس کی بیوی یا محرم ہو تو بد گمانی دور کرنے کے لئے اس کا یہ کہہ دنیا کہ یہ فلانہ ہے کے مستحب ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَائَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِکَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنْ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، علی بن حسین صفیہ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ سے آپ ﷺ کے اعتکاف میں مسجد میں ملاقات کرنے کے لئے رمضان کے آخری عشرہ میں حاضر ہوئیں انہوں نے آپ ﷺ سے تھوڑی دیر گفتگو کی پھر واپسی کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور نبی کریم بھی انہیں رخصت کرنے کے لئے اٹھے باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شیطان انسان میں خون پہنچنے کی جگہ تک پہنچ جاتا ہے دوڑنے کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been reported on the authority of Safiyya, the wife of Allahs Apostle ﷺ , through another chain of transmitters (and the words) are: "She went to Allahs Apostle ﷺ to visit him as he was observing Itikaf in the mosque during Ramadan. She talked with him for some time and then stood up to go back and Allahs Apostle ﷺ stood up in order to bid her good-bye." The rest of the hadith is the same except with the variation of the words that Allahs Apostle ﷺ said: "Satan penetrates in man like the penetration of blood (in every part of body)."
جو آدمی کسی مجلس میں آئے اور مجلس میں کوئی جگہ خالی دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے ورنہ ان کے پیچھے ہی بیٹھ جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ قَالَ فَوَقَفَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَی فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنْ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَی إِلَی اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ مرہ عقیل بن ابی طالب حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھنے والے تھے اور صحابہ ؓ آپ ﷺ کے ساتھ موجود تھے کہ تین آدمی آئے ان میں سے دو تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک چلا گیا وہ رسول اللہ کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے پھر ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ دیکھی تو وہاں جا کر بیٹھ گیا اور دوسرا ان کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا پشت پھیر کر جانے لگا جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں خبر نہ دوں ان میں سے ایک نے اللہ سے ٹھکانہ طلب کیا تو اللہ نے اسے ٹھکانہ دے دیا دوسرے نے حیاء کی اللہ بھی اس سے حیاء کرے گا اور تیسرے نے اعراض کیا پس اللہ بھی اس سے اعراض کرے گا۔
Abu Waqid al-Laith reported that Allahs Messenger ﷺ was sitting in the mosque along with some people when there came to him three persons; two of them stepped forward to the direction of Allahs Messenger ﷺ , and one of them went away. The two stood by the side of Allahs Messenger ﷺ , and one of them found a space in his circle and he sat in that; and the other one sat behind him and the third one went away. When Allahs Messenger ﷺ had finished his work, he said. Should I not inform you about these three persons? One of them sought refuge with Allah and Allah gave him refuge and the second one felt shy and Allah showed kindness to has shyness (and so he was accommodated in that meeting), and the last one reverted and Allah turned away His attention from him.
جو آدمی کسی مجلس میں آئے اور مجلس میں کوئی جگہ خالی دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے ورنہ ان کے پیچھے ہی بیٹھ جانے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ إِسْحَقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَی
احمد بن منذر عبدالصمد حرب ابن شداد اسحاق بن منصور حبان یحییٰ بن ابی کثیر اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ishaq bin Abdullah bin Talha with the same chain of transmitters.
کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُکُمْ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، نافع ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور پھر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ having said: None of you should make another one stand in the meeting and then occupy his place.
کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَکِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا
یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن نمیر ابن نمیر زہیر بن حرب، یحییٰ قطان ابن مثنی عبدالوہاب ثقفی عبیداللہ ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر ابواسامہ بن نمیر عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے اور پھر اس جگہ خود بیٹھ جائے البتہ جگہ فراخ کردیا کرو اور وسعت سے کام لو۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No person should ask another person to stand at his place and then he should himself sit there, but he should simply say: Make room and accommodate.
کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَلَمْ يَذْکُرُوا فِي الْحَدِيثِ وَلَکِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ قُلْتُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا
ابوربیع ابوکامل حماد ایوب یحییٰ بن حبیب، روح محمد بن رافع عبدالرزاق، ابن جریج، محمد بن رافع ابن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع ابن عمر لیث، حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن اس حدیث میں تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا مذکور نہیں ابن جریج نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے پوچھا کہ کیا یہ حکم جمعہ میں بھی ہے انہوں نے فرمایا ہاں یہ حکم جمعہ وغیرہ سب کے لئے ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.