دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْکُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَسَکَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُکَ تُکَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُکَلِّمُکَ قَالَ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَائَ وَقَالَ إِنَّ هَذَا السَّائِلَ وَکَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَی مِنْهُ الْمِسْکِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلَ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَکُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
علی بن حجر، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحییٰ بن ابی کثیر، ہلال بن ابی میمونہ، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور ہم آپ ﷺ کے ارد گرد بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تم پر اپنے بعد اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تم پر دنیا کی زینت کھول دے اور دنیا کا نفع تو ایک صحابی ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا خیر کا انجام شر ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات پر خاموش ہوگئے تو اس سے کہا گیا تیری بات کا کیا حال ہے کہ تم نے ایسی بات کی جس سے رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے اور تجھ سے گفتگو نہ کی اور ہم نے خیال کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے پھر آپ ﷺ نے تھوڑی دیر بعد پسینہ پونچھ کر ارشاد فرمایا یہ سوال کرنے والا کیسا ہے گویا آپ ﷺ اس کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بھلائی کا بدلہ برائی نہیں ہوتا لیکن موسم بہار کی پیداوار جانور کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کردیتی ہے سوائے اس سبزے کے جس کو اس نے کھایا یہاں تک کہ اس کی کو کھیں بھر گئیں وہ دھوپ میں چلا گیا پس جگالی کی اور پیشاب کیا اور معدہ کا اگال چبا کر کھایا یہ مال سرسبز و شاداب اور مٹیھا ہے اور اس مسلمان کا اچھا ساتھی ہے جو اس میں سے مسکین، یتیم، مسافر کو دیتا ہے یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور جس نے اس کو ناحق حاصل کیا اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اس پر گواہ ہوگا۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ was sitting on the pulpit and we were sitting around him, and he said: What I am afraid of in regard to you after my death is that there would be opened for you the adornments of the world and its beauties. A person said: Messenger of Allah, does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ remained silent. And it was said to him (the man who had asked the question from the Holy Prophet): What Is the matter with you, that you speak with the Messenger of Allah ﷺ but he does not speak with you? We thought as if revelation was descending upon him. He regained himself and wiped the sweat from him and said: He was the inquirer (and his style of expression showed as if he praised him and then added): Verily good does not produce evil. Whatever the spring rainfall causes to grow kills or is about to kill, but that (animal) which feeds on vegetation. It eats till its flanks are filled; it faces the sun and dungs and urinates, and then returns to eat. And this Wealth is a sweet vegetation, and it is a good companion for a Muslim who gives out of it to the needy, to the orphan, to the wayfarer, or something like that as the Messenger of Allah ﷺ said: He who takes it without his right is like one who eats but does not feel satisfied, and it would stand witness against him on the Day of Judgment.
سوال سے بچنے اور صبر و قناعت کی فضیلت اور ان سب کی ترغیب کے بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَکُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَائٍ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے بعض انصاری صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ طلب فرمایا آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہوگیا۔ تو فرمایا میرے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہرگز تم سے بچا کر نہ رکھوں گا۔ جو شخص سوال سے بچتا ہے اللہ اس کو بچاتا ہے اور جو استغناء اختیار کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے جو کچھ تم میں سے کسی کو دیا جائے وہ بہتر ہے اور صبر سے بڑھ کر کوئی وسعت نہیں۔
Abu Said al-Khudri reported that some people from among the Ansar begged from the Messenger of Allah ﷺ and he gave them. They again begged him and he again gave them, till when what was in his possession was exhausted he said: Whatever good (riches, goods) I have, I will not withhold it from you. He who refrains from begging Allah safeguards him against want. and he who seeks sufficiency, Allah would keep him in a state of sufficiency, and he who shows endurance. Allah would grant him power to endure, and none is blessed with an endowment better and greater than endurance.
سوال سے بچنے اور صبر و قناعت کی فضیلت اور ان سب کی ترغیب کے بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، دوسری سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.
کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ شَرِيکٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ کَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوعبدالرحمن مقری، سعید بن ابوایوب، شرحبیل بن شریک، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت ابن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام قبول کیا اور اسے بقدر کفایت رزق عطا کیا گیا اور اللہ نے اپنے عطا کردہ مال پر قناعت عطا کردی تو وہ شحض کامیاب ہوا۔
Amr bin al-As reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He is successful who has accepted Islam, who has been provided with sufficient for his want and been made contented by Allah with what He has given him.
کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ کِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، زہیر بن حرب، محمد بن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ آل محمد ﷺ کو بقدر ضرورت رزق عطا فرما۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, make the provision of Muhammads family sufficient just to sustain life.
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَائِ کَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ
عثمان بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، اسحاق، جریر، اعمش، ابو وائل، سلمان بن ربیعہ، حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال تقیسم فرمایا تو میں نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگ زیادہ مستحق و حقدار تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے مجھے اختیار دیا کہ یہ مجھ سے بےحیائی کے ساتھ مانگیں یا مجھے بخیل کہیں پس میں تو بخل کرنے والا نہیں ہوں۔
Umar bin Khattab (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ distributed something. Upon this I said: Messenger of Allah, I swear by God, the others besides them were more deserving than these (to whom you gave charity). He said: They had in fact left no other alternative for me. but (that they should) either beg importunately from me or they would regard me as a miser, but I am not a miser.
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا ح و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَائٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَکَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَائِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَائٍ
عمرو ناقد، اسحاق بن سلیمان رازی، مالک، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ ﷺ پر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی آپ ﷺ کو ایک دیہاتی ملا اس نے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی چادر کے ساتھ بہت شدت و سختی کے ساتھ کھنچا جس سے رسول اللہ ﷺ کی گردن مبارک پر چادر کی کناری کا نشان پڑگیا اور یہ کناری کا نشان اس کے سختی کے ساتھ کھینچے کی وجہ سے پڑا پھر اس نے کہا اے محمد ﷺ اللہ کے مال میں سے جو تیرے پاس ہے میرے لئے حکم کرو آپ ﷺ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔
Anas bin Malik (RA) reported: I was walking with the Messenger of Allah ﷺ and he had put on a mantle of Najran with a thick border. A bedouin met him and pulled the mantle so violently that I saw this violent pulling leaving marks of the border of the mantle on the skin of the neck of the Messenger of Allah ﷺ . And he (the bedouin) said: Muhammad, issue command that I should be given out of the wealth of Allah which is at your disposal. The Messenger of Allah ﷺ turned his attention to him and smiled, and then ordered for him a gift (provision).
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنْ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ فَجَاذَبَهُ حَتَّی انْشَقَّ الْبُرْدُ وَحَتَّی بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، ہمام، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، سلمہ بن شبیب، ابومغیرہ، ابواوزاعی، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے اور عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ زیادتی ہے پھر اس نے آپ کو اتنا کھینچا کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک اس قدر پھٹ گئی کہ اس کا کنارہ رسول اللہ ﷺ کی گردن میں رہ گیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters. And In the hadith transmitted by Ikrima bin Amir there is an addition: "He (the bedouin) pulled his (mantle) so violently that the Apostle of Allah ﷺ was drifted very close to the bedouin." And in the hadith transmitted by Hammam, (the words are): "He pulled it so violently that the mantle was torn and the border was left around the neck of the Messenger of Allah ﷺ ."
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَائٌ مِنْهَا فَقَالَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن ابی ملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ق بائیں تقسیم فرمائیں لیکن مخرمہ ؓ کو کچھ نہ عطا فرمایا تو مخرمہ نے کہا اے میرے بیٹو! ہمیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلو میں ان کے ساتھ چلا (دروازہ پر) مخرمہ نے کہا جاؤ اور آپ ﷺ کو میرے پاس بلا لاؤ تو میں نے آپ ﷺ کو ان کے پاس بلایا۔ آپ اس کی طرف نکلے اور آپ پر ان میں سے ایک قبا تھی تو آپ نے فرمایا یہ میں نے تیرے لئے رکھ چھوڑی پھر مخرمہ نے چادر کی طرف دیکھا اور مسور کہتے ہیں مخرمہ خوش ہوگئے۔
Miswar bin Makhrama reported that the Messenger of Allah ﷺ distributed some cloaks but did not bestow one upon Makhrama. Upon this Makhrama said: O my son, come along with me to the Messenger of Allah ﷺ . So I went with him. He said: Enter the house and call him (to come out) for me. So I called him and he (the Holy Prophet) came out, and there was a cloak (from those already distributed) on him. He (the Holy Prophet) said: I had kept it for you. He (Makhrama), looked at it and was pleased.
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَی أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَی الْبَابِ فَتَکَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَائٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ خَبَأْتُ هَذَا لَکَ
ابوخطاب، زیاد بن یحییٰ حسانی، حاتم بن وردان ابوصالح، ایوب سختیانی، عبداللہ بن ابی ملیکہ، حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ ق بائیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئیں تو مجھے میرے باپ مخرمہ نے کہا ہمیں آپ ﷺ کے پاس لے چلو۔ قریب ہے کہ آپ ﷺ اس میں سے کچھ ہمیں بھی عطا فرما دیں۔ میرے باپ نے کھڑے ہو کر بات کی پس نبی کریم ﷺ نے اس کی آواز پہچان لی اور آپ ﷺ نے ایک قباء لی اور آپ ﷺ ایک قباء لے کر نکلے اور آپ اس کی خوبصورتی دکھاتے ہوئے فرما رہے تھے کہ یہ میں نے آپ کے لئے رکھ چھوڑی تھی یہ میں نے تیرے لئے رکھ چھوڑی تھی۔
Miswar bin Makhrama reported: Some cloaks were presented to the Messenger of Allah ﷺ . My father Makhrama said to me: Come along with me to him; perhaps we may be able to get anything out of that (stock of cloaks). My father stood at the door and began to talk. The Apostle of Allah ﷺ recognised him by his voice and came out and there was a cloak with him, and he was showing its beauties and saying: I kept it for you, I kept it for you.
جس کے ایمان کا خوف ہو اسے عطا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَکْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد، حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں عطا فرمایا اور انہی میں میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا یعنی کچھ نہ دیا حالانکہ اس کو دینا میرے نزدیک ان سب سے اچھا تھا تو میں نے کھڑے ہو کر چپکے سے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے فلاں کو کیوں نہ دیا حالانکہ میری نظر میں وہ مومن یا مسلمان ہے۔ پھر میں تھوڑی دیر خاموش رہا اس کے حالات کی واقفیت کی وجہ سے مجھ پر غلبہ ہوا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے فلاں شخص کو کیوں نہ دیا اللہ کی قسم میں تو اس کو مومن یا مسلمان گمان کرتا ہوں۔ آپ ﷺ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر اس کے حالات کی واقفیت مجھ پر غالب ہوئی تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے فلاں کو کیوں نہ دیا اللہ کی قسم میں تو اسے مومن یا مسلمان تصور کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا بعض آدمی مجھے محبوب ہوتے ہیں لیکن ان کو چھوڑ کر میں دوسروں کو صرف اس ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتا ہو کہ اگر اسے نہ دوں تو یہ اوندھے منہ دوزخ میں جائے گا اور حلونی کی روایت میں حضرت سعد کے قول کا تکرار دو مرتبہ ہے۔
Sad reported that the Messenger of Allah ﷺ bestowed (some gifts) upon a group of people and I was sitting amongst them. The Messenger of Allah ﷺ , however, left a person and he did not give him anything, and he seemed to me the most excellent among them (and thus deserved the gifts more than anyone else). So I stood up before the Messenger of Allah ﷺ and said to him in undertone: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. He (the Messenger of Allah) ﷺ said: He may be a Muslim. I kept quiet for a short while, and then what I knew of him urged me (to plead his case again) and I said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I again remained quiet for a short while, and what I knew of him again urged me to plead his case so I said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I often bestow (something) upon a person, whereas someone else is dearer to me than he, because of the fear that he may fall headling into the fire. And in the hadith transmitted by Hulwani this statement was repeated twice.
جس کے ایمان کا خوف ہو اسے عطا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَی مَعْنَی حَدِيثِ صَالِحٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ
ابن ابی عمر، سفیان، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اوپر والی حدیث اب اسناد سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
جس کے ایمان کا خوف ہو اسے عطا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَکَرْنَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَکَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ
حسن بن علی حلوانی، یعقوب، صالح، اسماعیل بن محمد بن سعد، محمد بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے محمد بن سعد سے زہری کی حدیث ہی کی طرح بیان کرتے ہوئے سنا جو ہم نے اوپر ذکر کی محمد بن سعد کی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے اور گردن کے درمیان مارا پھر ارشاد فرمایا اے سعد کیا تو لڑتا ہے اس بات پر کہ میں اس کو دوں۔
This hadith has been narrated on the authority of Muhammad bin Sad through another chain of transmitters (and the words are): "The Messenger of Allah ﷺ struck between my neck and shoulder with his hand and said: Do you wrangle, O Sad, because I bestow (some gifts) upon a person?"
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَائَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُکُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَحُدِّثَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکُمْ فَقَالَ لَهُ فُقَهَائُ الْأَنْصَارِ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُکُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِکُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَی رِحَالِکُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ فَقَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا قَالَ فَإِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَی الْحَوْضِ قَالُوا سَنَصْبِرُ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک ؓ روایت ہے انصار میں سے بعض لوگوں نے حنین کے دن عرض کیا جب اللہ نے اپنے رسول کو اموالِ ہوازن میں سے کچھ مال فے (یعنی بغیر جہاد) عطا فرمایا پس رسول اللہ ﷺ نے قریشیوں کو سو سو اونٹ دینے شروع فرمائے تو انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول سے درگزر فرمائے کہ آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہماری تلواریں ان کا خون بہاتی ہیں، انس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان کی بات بیان کی گئی تو آپ نے انصار کو بلوایا کہ وہ چمڑے کے قبہ میں جمع ہوں جب وہ جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس جا کر فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے؟ تو آپ سے انصار کے سمجھدار لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم سے بعض نوعمر عام لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول اللہ ﷺ سے درگزر فرمائے کہ آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کو عطا کر رہے ہیں اور ہماری تلواریں ان کا خون بہاتی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے کفر کا زمانہ قریب ہی گزرا ہے تاکہ ان کو جمع کروں تاکہ تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹو اللہ کی قسم جو چیز لے کر تم واپس لوٹو گے وہ بہتر ہے اس سے جو وہ لے کر لوٹیں گے تو انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ہم خوش ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم اس کے رسول ﷺ سے ملاقات کرو گے اور میں حوض پر ہوں گا انصار نے عرض کیا ہم صبر کریں گے۔
Anas bin Malik (RA) reported that when on the Day of Hunain Allah conferred upon His Apostle ﷺ the riches of Hawazin (without armed encounter), the Messenger of Allah ﷺ set about distributing to some persons of Quraish one hundred camels. Upon this they (the young people from the Ansar) said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah ﷺ that he bestowed (these camels) upon the people of Quraish, and he ignored us, whereas our swords are still dripping blood. Anas bin Malik (RA) said: Their statement was conveyed to the Messenger of Allah ﷺ and he sent (someone) to the Ansar and gathered them under a tent of leather. When they had assembled, the Messenger of Allah ﷺ came to thera and said: What is this news that has reached me from you? The wise people of the Ansar said: Messenger of Allah, so far as the sagacious amongst us are concerned they have said nothing, but we have amongst us persons of immature age; they said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah ﷺ that he gave to the Quraish and ignored us (despite the fact) that our swords are besmeared with their blood. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: I give (at times material gifts) to persons who were quite recently in the state of unbelief, so that I may incline them to truth. Dont you feel delighted that people should go with riches, and you should go back to your places with the Apostle of Allah ﷺ ? By Allah, that with which you would return is better than that with which they would return. They said: Yes, Messenger of Allah, we are pleased. The Holy Prophet ﷺ said too: You would find marked preference (in conferring of the material gifts) in future, so you should show patience till you meet Allah and His Messenger and I would he at the Haud Kauthar. They said: We would show patience.
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مَا أَفَائَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ فَلَمْ نَصْبِرْ وَقَالَ فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے اموال سے مال فئی عطا فرمایا باقی حدیث اسی جیسی ہے سوائے اس کے کہ انس ؓ کہتے ہیں ہم نے صبر نہ کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that when Allah conferred upon His Messenger ﷺ the riches of Hawazin (without armed encounter); the rest of the hadith is the same except some variation (of words): "Anas said: We could not tolerate it and he also said: The people were immature in age."
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالُوا نَصْبِرُ کَرِوَايَةِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، انہوں نے اپنے چچا سے، حضرت انس بن مالک ؓ یہی حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے مفہوم و معنی ایک ہی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ أَفِيکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِکُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی بُيُوتِکُمْ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَکَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَکْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی نہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا سوائے ہماری بہن کے لڑکے کے کوئی نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قوم کی بہن کا بیٹا انہی میں سے ہوتا ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا قریش نے ابھی زمانہ جاہلیت اور مصیبت سے نجات پائی ہے اور میں نے ان کی دلجوئی اور تالیف قلبی کا ارادہ کیا کیا تم خوش نہیں کہ لوگ تو دنیا لے کر گھروں کو لوٹیں اور تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ gathered the Ansar and said: Is there someone alien among you? They said: No, but only the son of our sister. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: The son of the sister of the people is included among the tribe, and (farther) said: The Quraish have recently abandoned Jahiliya and have just been delivered from distress; I, therefore, intend to help them and conciliate them. Dont you feel happy that the people should return with worldly riches and you return with the Messenger of Allah ﷺ to your houses? (So far as my love for you is concerned I should say) if the people were to tread a valley and the Ansar tread a narrow path (in a mountain) I would tread the narrow path of the Ansar.
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَکَّةُ قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْکُمْ قَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَکَ وَکَانُوا لَا يَکْذِبُونَ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَی بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی بُيُوتِکُمْ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ
محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوتیاح، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو غنیمتیں قریش میں تقسیم کی گئیں تو انصار نے کہا یہ بھی عجیب بات ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا مال غنیمت قریش پر لٹایا جا رہا ہے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کو جمع کر کے فرمایا مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے اور وہ جھوٹ نہ بولتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا کے ساتھ لوٹیں گے اپنے گھروں کی طرف اور تم اپنے گھروں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹو گے اگر قریش ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔
Anas bin Malik (RA) reported: When Makkah was conquered, he (the Holy Prophet) distributed the spoils among the Quraish. Upon this the Ansar said: It is strange that our swords are dripping with their blood, whereas our spoils have been given to them (to the Quraish). This (remark) reached the Messenger of Allah ﷺ , and so he gathered them and said: What is this that has been conveyed to me about you? They said: (Yes) it is that very thing that has reached you- and they were not (the people) to speak lie. Upon this he said: Dont you like that the people should return to their houses along with worldly riches, whereas you should return to your houses with the Messenger of Allah? ﷺ If the people were to tread a valley or a narrow path, and the Ansar were also to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley along with the Ansar or the narrow path along with the Ansar.
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ الْحَرْفَ بَعْدَ الْحَرْفِ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَائُ فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّی بَقِيَ وَحْدَهُ قَالَ فَنَادَی يَوْمَئِذٍ نِدَائَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَکَ قَالَ وَهُوَ عَلَی بَغْلَةٍ بَيْضَائَ فَنَزَلَ فَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِکُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ کَثِيرَةً فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَائِ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا کَانَتْ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَی وَتُعْطَی الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکُمْ فَسَکَتُوا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَی بُيُوتِکُمْ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ فَقَالَ لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَکَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ قَالَ هِشَامٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاکَ قَالَ وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ
محمد بن مثنی، ابراہیم بن محمد بن عرعرہ، معاذ بن معاذ، ابن عون، ہشام بن زید بن انس، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو ہوازن اور غطفان وغیرہ اپنی اولاد اور اونٹوں سمیت مقابلہ کو آئے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس دن دس ہزار لوگ تھے اور آزاد کئے ہوئے بھی ساتھ تھے پس ان سب نے ایک مرتبہ پیٹھ پھیرلی یہاں تک کہ آپ ﷺ اکیلے رہ گئے۔ اس دن آپ ﷺ نے دو آوازیں دیں ان کے درمیان کوئی چیز نہیں کہی آپ نے اپنی دائیں طرف توجہ کی تو فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں کہا لبیک اے اللہ کے رسول آپ ﷺ خوش ہوں ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں پھر آپ ﷺ نے اپنی بائیں طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے عرض کیا لبیک اے اللہ رسول آپ ﷺ خوش ہوجائیں ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں اور آپ ﷺ ایک سفید خچر پر سوار تھے آپ ﷺ اترے اور فرمایا اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ مشرکوں کو شکست ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کو بہت غنیمتیں حاصل ہوئیں تو آپ ﷺ نے مہاجرین اور طلقاء مکہ میں تقسیم کیں اور انصار کو کچھ نہ دیا تو انصار نے کہا جب سختی ہوتی ہے تو ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمت ہمارے غیر کو دی جاتی ہے آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کو ایک خیمہ میں جمع کر کے فرمایا اے انصار کی جماعت مجھے تم سے کیا بات پہنچی ہے تو وہ خاموش ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے جماعت انصار کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے جائیں اور تم محمد ﷺ کو گھیرے ہوئے اپنے گھروں کو جاؤ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں ہم خوش ہیں اور حضور ﷺ نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوحمزہ ؓ آپ اس وقت وہاں حاضر تھے تو انہوں نے فرمایا میں آپ ﷺ کو چھوڑ کر کہاں غائب ہوتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that when it was the Day of Hunain there came the tribes of Hawazin, Ghatafan and others along with their children and animals, and there were with the Apostle of Allah ﷺ that day ten thousand (soldiers), and newly freed men (of Makkah after its conquest). All these men (once) turned their backs, till he (the Holy Prophet) was left alone. He (the Messenger of Allah) ﷺ on that day called twice and he did not interpose anything between these two (announcements) He turned towards his right and said: O people of Ansar! They said: At thy beck and call (are we), Messenger of Allah. Be glad we are with thee. He then turned towards his left and said: O people of Ansar. They said: At thy beck and call (are we). Be glad we are with thee. He (the Holy Prophet) was riding a white mule. He dismounted and said: I am the servant of Allah and His Apostle. The polytheists suffered defeat and the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) acquired a large quantity of spoils, and he distributed them among the refugees and the people recently delivered (of Makkah) but did not give anything to the Ansar. The Ansar said: In the hour of distress it is we who are called (for help), but the spoils are given to other people besides us. This (remark) reached him (the Holy Prophet), and he gathered them in a tent and said: What is this news that has reached me on your behalf? They kept silence. Upon this he said: O people of Ansar, dont you like that people should go away with worldly (riches), and you go away with Muhammad taking him to your houses? They said: Yes, happy we are Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: If the people were to tread a valley, and the Ansar were to tread a narrow path, I would take the narrow path of the Ansar. Hisham said: I asked Abu Hamza if he was present there. He said: How could I be absent from him?
اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ افْتَتَحْنَا مَکَّةَ ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا فَجَائَ الْمُشْرِکُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ قَالَ فَصُفَّتْ الْخَيْلُ ثُمَّ صُفَّتْ الْمُقَاتِلَةُ ثُمَّ صُفَّتْ النِّسَائُ مِنْ وَرَائِ ذَلِکَ ثُمَّ صُفَّتْ الْغَنَمُ ثُمَّ صُفَّتْ النَّعَمُ قَالَ وَنَحْنُ بَشَرٌ کَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ وَعَلَی مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ انْکَشَفَتْ خَيْلُنَا وَفَرَّتْ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَنَادَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَالَ الْمُهَاجِرِينَ يَالَ الْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ قَالَ يَالَ الْأَنْصَارِ يَالَ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ أَنَسٌ هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ قُلْنَا لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّی هَزَمَهُمْ اللَّهُ قَالَ فَقَبَضْنَا ذَلِکَ الْمَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَی الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی مَکَّةَ فَنَزَلْنَا قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنْ الْإِبِلِ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ کَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ وَأَبِي التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ
عبیداللہ بن معاذ، حامد بن عمر، محمد بن عبدالعلی، ابن معاذ، معتمر بن سلیمان، سمیط، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ہم نے مکہ فتح کرلیا پھر ہم نے جہاد کیا۔ مشرکین اچھی صف بندی کر کے آئے جو میں نے دیکھیں پہلے گھڑ سواروں نے صف باندھی پھر پیدل لڑنے والوں نے اس کے پیچھے عورتوں نے صف باندھی پھر بکریوں کی صف باندھی گئی پھر اونٹوں کی صف بندی کی گئی اور ہم بہت لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ چکی تھی اور ایک جانب کے سواروں پر حضرت خالد بن ولید ؓ سپہ سالار تھے پس ہمارے سوار ہماری پشتوں کے پیچھے پناہ گزیں ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے گھوڑے ننگے ہوئے اور دیہاتی بھاگے اور وہ لوگ جن کو ہم جانتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے پکارا اے مہاجرین! اے مہاجرین پھر فرمایا اے انصار اے انصار حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ یہ حدیث میرے چچاؤں کی ہے ہم نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ آگے بڑھے پس اللہ کی قسم ہم پہنچنے بھی نہ پائے تھے کہ اللہ نے ان کو شکست دے دی پھر ہم نے ان کا چالیس روز محاصرہ کیا پھر ہم مکہ کی طرف لوٹے اور اترے اور رسول اللہ ﷺ نے ایک ایک کو سو سو اونٹ دینے شروع کردیئے پھر باقی حدیث اسی طرح ذکر فرمائی۔
Anas bin Malik (RA) reported: We conquered Makkah and then we went on an expedition to Hunain. The polytheists came, forming themselves into the best rows that I have seen. They first formed the rows of cavalry, then those of infantry, and then those of women behind them. Then there were formed the rows of sheep and goats and then of other animals. We were also people large in number, and our (number) had reached six thousand. And on one side Khalid bin Walid was in charge of the cavalry. And our horses at once turned back from our rear. And we could hardly hold our own when our horses were exposed, and the bedouins and the people whom we knew took to their heels. (Seeing this) the Messenger of Allah ﷺ called thus: O refugees,O refugees. He then said: O Ansar,O Ansar. (Anas said: This hadith is transmitted by a group of eminent persons.) We said: At thy beck and call are we, Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ then advanced and he (Anas) said: By Allah, we had not yet reached them when Allah defeated them, and we took possession of the wealth and we then marched towards Taif, and we besieged them for forty nights, and then came back to Makkah and encamped (at a place). The Messenger of Allah ﷺ began to bestow a hundred camels upon each individual. The rest of the hadith is the same.