زکوۃ کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 14 · 232 hadiths · Page 10 of 12

2443Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا کَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا کُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً

محمد بن ابوعمر مکی، سفیان، عمر بن سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ، حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ اور عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو اونٹ عطا کئے اور عباس بن مرداس کو کچھ کم دئیے تو عباس بن مرد اس نے کہا۔ آپ میرے اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اور اقرع کے درمیان مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر (دادا عیینہ) اور حابس (والد اقرع) مرد اس (والد عباس) سے کسی مجمع میں بڑھ نہ سکتے اور میں دونوں میں سے کسی سے کم نہ تھا اور آج جس کو نیچا کردیا گیا پھر اس کو سر بلندی حاصل نہ ہوگی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے سو اونٹ پورے کر دئیے۔

Rafi bin Khadij reported that the Messenger of Allah; ﷺ gave to Abu Sufyan (RA) bin Harb and Safwan. bin Umayya and Uyaina bin Hisn and Aqra bin Habis, i. e. to every one of these persons, one hundred of camels, and gave to Abbas bin Mirdas less than this number. Upon this Abbas bin Mirdis said: You allot the share of my booty and that of my horse between Uyaina and Aqra. Both Uyaina and Aqra are in no way more eminent than Mirdas (my father) in the assembly. I am in no way inferior to any one of these persons. And he who is let down today would not be elevated. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ then completed one hundred camels for him.

2444Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَی أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَی عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً

احمد بن عبدہ ضبی، ابن عیینہ، عمر بن سعید بن مسروق، اسی حدیث کی دوسری سند میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حنین کی غنیمت تقسیم کی تو ابوسفیان بن حرب کو سو اونٹ دئیے اور علقمہ بن علاثہ کو سو اونٹ دئیے باقی حدیث گزر چکی ہے۔

This hadith has been narrated by Said bin Masruq with the same chain of transmitters (with the words): "The Apostle of Allah ﷺ distributed the spoils of Hunain, and he (the Holy Prophet) gave one hundred camels to Abu Sufyan (RA) bin Harb. The rest of the hadith is the same, but with this addition: "He bestowed upon" Alqama bin Ulatha one hundred (camels)."

2445Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَلَمْ يَذْکُرْ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ

مخلد بن خالد شعیری، سفیان، عمر بن سعید، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر فرمائی ہے لیکن اس حدیث میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس حدیث میں شعر ہیں۔

This hadith has been narrated by Said with the same chain of transmitters, but no mention has been made of Alqama bin Ulatha, nor of safwin bin Umayya, and he did not mention the verse in his hadith.

2446Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَی الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاکُمْ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاکُمْ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَکُمْ اللَّهُ بِي وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَلَا تُجِيبُونِي فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا کَذَا وَکَذَا وَکَانَ مِنْ الْأَمْرِ کَذَا وَکَذَا لِأَشْيَائَ عَدَّدَهَا زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لَا يَحْفَظُهَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی رِحَالِکُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي عَلَی الْحَوْضِ

سریج بن یونس، اسماعیل بن جعفر، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ جب حنین فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے غنائم تقسیم کئے اور مؤلفۃ القلوب کو مال دیا تو آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ انصاریہ چاہتے ہیں کہ جو حصہ اوروں کو ملا ہے انہیں بھی ملے تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ان کو خطبہ دیا اللہ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا اے جماعت انصار کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا۔ پھر اللہ نے تم کو میرے ذریعہ غنی کردیا اور تم متفرق تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں جمع فرما دیا اور انصار کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم مجھے جواب نہیں دیتے؟ تو انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے فرمایا اگر تم چاہتے تو ایسا ایسا کہہ سکتے تھے اور معاملہ ایسا ایسا تھا اور اسی طرح آپ ﷺ نے کئی ساری چیزوں کو شمار کیا۔ عمرو کہتے ہیں کہ میں اس کو یاد نہ رکھ سکا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر لے جاؤ اور انصار اندرونی لباس کی مثل ہیں اور لوگ بالائی لباس کی مثل ہیں اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں۔ عنقریب میرے بعد تم کو اپنے نفوس پر دوسرے لوگوں کی ترجیح نظر آئے گی لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔

Abdullah bin Zaid (RA) reported that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Hunain he distributed the booty, and he bestowed upon those whose hearts it was intended to win. It was conveyed to him (the Holy Prophet) that the Ansar cherished a desire that they should be given (that very portion) which the people (of Quraish) had got. Upon this the Messenger of Allah ﷺ stood up and, after having praised Allah and lauded Him, addressed them thus: O people of Ansar, did I not find you erring and Allah guided you aright through me, and (in the state of) being destitute and Allah made you free from want through me, and in a state of disunity and Allah united you through me, and they (the Ansar) said: Allah and His Messenger are most benevolent. He (again) said: Why do you not answer me? They said: Allah and His Messenger are the most benevolent. He said, If you wish you should say so and so, and the event (should take) such and such course (and in this connection he made a mention) of so many things. Amr is under the impression that he has not been able to remember them. He (the Holy Prophet) further said: Dont you feel happy (over this state of affairs) that the people should go away with goats and camels, and you go to your places along with the Messenger of Allah? ﷺ The Ansar are inner garments (more close to me) and (other) people are outer garments. Had there not been migration, I would have been a man from among the Ansar. If the people were to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (chosen) by the Ansar or narrow path (trodden) by them. And you would soon find after me preferences (over you in getting material benefits). So you should show patience till you meet me at the Haud (Kauthar).

2447Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ قَالَ قُلْتُ لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جنگ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کو ترجیح دی تو آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دئیے اور عیینہ کو بھی اسی کی مثل اور عیینہ کے کچھ سرداروں کو بھی اسی طرح عطا فرمایا اور تقسیم کے وقت ان لوگوں کو ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ قسم میں رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی ضرور خبر دوں گا میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو اس کی بات پہنچا دی جو اس نے کہا تو آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا یہاں تک کہ خون کی طرح ہوگیا پھر فرمایا جب اللہ اور اس کے رسول نے انصاف نہیں کیا تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے کہ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تو انہوں نے صبر کیا میں نے دل میں کہا کہ آج کے بعد آپ ﷺ کو کسی بات کی خبر نہ دوں گا۔

Abdullah reported: On the day of Hunain, the Messenger of Allah ﷺ showed preference to some people in the distribution of the spoils. He bestowed on Aqra bin Habis one hundred camels, and bestowed an equal (number) upon Uyaina, and bestowed on people among the elites of Arabia, and preferred them (to others) on that day, in the distribution (of spoils). Upon this a person said: By Allah, neither justice has been done in this distribution (of spoils), nor has the pleasure of Allah been sought in it. I (the Narrator) said: By Allah, I will certainly inform the Messenger of Allah ﷺ about it. So I came to him and informed him about what he had said. The colour of his (the Prophets) face changed red like blood and he then said: Who would do justice, if Allah and His Messenger do not do justice? He further said: May Allah have mercy upon Moses (علیہ السلام); he was tormented more than this, but he showed patience. I said: Never would I convey him (the Holy Prophet) after this (unpleasant) narration.

2448Sahih Muslim

اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْکُرْهُ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَوُذِيَ مُوسَی بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو چپکے سے اس کی خبر دی تو آپ اس بات سے سخت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ میں آپ ﷺ سے اس کا ذکر نہ کرتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔

Abdullah reported: The Messenger of Allah ﷺ distributed spoils (of war). Upon this a person said: This is a distribution in which the pleasure of Allah has not been sought. I came to the Apostle of Allah ﷺ and informed him in an undertone. He (the Holy Prophet) was deeply angry at this and his face became red till I wished that I had not made a mention of it to him. He (the Holy Prophet) then said: Moses (علیہ السلام) was tormented more than this, but he showed patience.

2449Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ قَالَ وَيْلَکَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْهُ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ

محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ مقام جعرانہ پر ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ حنین سے لوٹے اور حضرت بلال ؓ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہ ﷺ اس سے مٹھی بھر بھر کر لوگوں کو دے رہے تھے اس نے کہا اے محمد ﷺ! انصاف کریں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ویل ہو کون ہے جو انصاف کرے جب میں خائب و خاسر ہوں گا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں اس منافق کو قتل کر دوں تو آپ ﷺ نے کہا اللہ کی پناہ لوگ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرتا اور قرآن سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that a person came to the Messenger of Allah ﷺ at Jirana on his way back from Hunain, and there was in the clothes of Bilal (RA) some silver. The Messenger of Allah ﷺ took a handful out of that and bestowed it upon the people. He (the person who had met the Prophet ﷺ at Jirana) said to him: Muhammad, do justice. He (the Holy Prophet) said: Woe be upon thee, who would do justice if I do not do justice, and you would be very unfortunate and a loser if I do not do justice. Upon this Umar bin Khattab (RA) said: Permit me to kill this hypocrite. The (the Holy Prophet) said: May there be protection of Allah! People would say that I kill my companions. This man and his companions would recite the Quran but it would not go beyond their throat, and they swerve from it just as the arrow goes through the prey.

2450Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مال غنیمت تقسیم کیا کرتے تھے باقی حدیث گزر چکی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah through another chain of transmitters.

2451Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي کِلَابٍ وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَبْهَانَ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ فَقَالُوا أَتُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِکَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ فَجَائَ رَجُلٌ کَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

ہناد بن سری، ابوالاحوص، سعید بن مسروق، عبدالرحمن بن ابی نعم، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی نے یمن کا کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چار آدمیوں اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری ایک بنی بن کلاب میں سے اور زید الخیر الطائی پھر ایک بنی نبہان میں سے، قریش اس بات پر ناراض ہوئے تو انہوں نے کہا کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے اور چھوڑ دیتے ہیں ہم کو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ایسا ان کی تالیفِ قلبی کے لئے کیا پھر ایک آدمی گھنی ڈاڑھی اور پھولے ہوئے رخسار والے آنکھیں اندر گھسی ہوئی والے اور اونچی جبین والے مونڈے ہوئے سر والے نے آ کر کہا اے محمد ﷺ اللہ سے ڈرو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے مجھے امین بنایا اہل زمین پر اور تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے وہ آدمی چلا گیا تو قوم میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی جو کہ غالباً حضرت خالد بن ولید ؓ تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کی نسل سے یہ قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اہل اسلام کو قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے اگر میں ان کو پاتا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا۔

Abu Said Khudri reported that Ali (RA) sent some gold alloyed with dust to the Messenger of Allah ﷺ , and the Messenger of Allah ﷺ distributed that among four men, al-Aqra bin Habis Hanzali and Uyaina bin Badr al-Fazari and Alqama bin Ulatha al-Amiri, then to one person of the tribe of Kilab and to Zaid al-Khair al-Tal, and then to one person of the tribe of Nabhan. Upon this the people of Quraish felt angry and said: He (the Holy Prophet) gave to the chiefs of Najd and ignored us. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: I have done it with a view to con- cillating them. Then there came a person with thick beard, prominent cheeks, deep sunken eyes and protruding forehead and shaven head. He said: Muhammad, fear Allah. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: If I disobey Allah, who would then obey Him? Have I not been (sent as the) most trustworthy among the people of the-world? -but you do not repose trust in me. That person then went back. A person among the people then sought permission (from the Holy Prophet) for his murder. According to some, it was Khalid bin Walid who sought the permission. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: From this very persons progeny there would arise people who would recite the Quran, but it would not go beyond their throat; they would kill the followers of Islam and would spare the idol-worshippers. They would glance through the teachings of Islam so hurriedly just as the arrow passes through the pray. If I were to ever find them I would kill them like Ad.

2452Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا قَالَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَائِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَائِ يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَائِ صَبَاحًا وَمَسَائً قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ فَقَالَ وَيْلَکَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَکُونَ يُصَلِّي قَالَ خَالِدٌ وَکَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ

قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، عمار بن قعقاع، عبدالرحمن بن ابونعم، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے یمن سے کچھ سونا سرخ رنگے ہوئے کپڑے میں بند کر کے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور اسے مٹی سے بھی جدا کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید خیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کیا۔ تو آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ ہم اس کے زیادہ حقدار تھے یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے۔ حالانکہ میں آسمانوں کا امین ہوں میرے پاس آسمان کی خبریں صبح شام آتی ہیں تو ایک آدمی گھسی ہوئی آنکھوں والا بھرے ہوئے گا لوں والا ابھری ہوئی پیشانی والا مونڈے ہوئے سر والا گھنی داڑھی والا اٹھے ہوئے ازار بند والا کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرو تو آپ ﷺ نے فرمایا تیری خرابی ہو کیا میں زمین والوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں کہ اللہ سے ڈروں، پھر وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس کی گردن نہ مار ڈالوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں شاید کہ یہ نماز پڑھتا ہو، خالد نے عرض کیا نماز پڑھنے والے کتنے ایسے ہیں جو زبان سے اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے نہیں مانتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں کو چیرنے اور ان کے پیٹ چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کو پشت موڑ کر جاتے ہوئے دیکھ کر فرمایا اس آدمی کی نسل سے ایک قوم پیدا ہوگی جو عمدہ انداز سے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے گی لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں۔

Abu Said al-Khudri reported: Ali bin Abu Talib sent to the Messenger of Allah ﷺ from Yemen some gold alloyed with clay in a leather bag dyed in the leaves of Mimosa flava. He distributed it among four men. Uyaina bin Hisna, Aqra bin Habis and Zaid al-Khail, and the fourth one was either Alqama bin Ulatha or Amir bin Tufail. A person from among his (Prophets) Companions said: We had a better claim to this (wealth) than these (persons). This (remark) reached the Apostle of Allah ﷺ upon which he said: Will you not trust me, whereas I am a trustee of Him Who is in the heaven? The news come to me from the heaven morning and evening. Then there stood up a person with deep sunken eyes, prominent cheek bones, and elevated forehead, thick beard, shaven head, tucked up loin cloth, and he said: Messenger of Allah, fear Allah. He (the Holy Prophet) said: Woe to thee. Do I not deserve most to fear Allah amongst the people of the earth? That man then returned. Khalid bin Walid then said: Messenger of Allah, should I not strike his neck? Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps he may be observing the prayer. Khalid said: How many observers of prayer are there who profess with their tongue what is not in their heart? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: I have not been commanded to pierce through the hearts of people, nor to split their bellies (insides). He again looked at him and he was going back. Upon this he (the Holy Prophet) said: There would arise a people from the progeny of this (man) who would recite the Quran glibly, but it would not go beyond their throats; they would (hurriedly) pass through (the teachings of their) religion just as the arrow passes through the prey. I conceive that he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them as were killed the (people of) Thamud.

2453Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاتِئُ الْجَبْهَةِ وَلَمْ يَقُلْ نَاشِزُ وَزَادَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا فَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا وَقَالَ قَالَ عُمَارَةُ حَسِبْتُهُ قَالَ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت عما رہ بن قعقاع ؓ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے ذکر کی ہے لیکن علقمہ بن علاثہ کہا ہے اور عامر بن طفیل ذکر نہیں کیا اور نَاتِئُ الْجَبْهَةِ کہا نَاشِزُ نہیں کہا اور اس میں یہ زیادہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اور فرمایا عنقریب اس آدمی کی نسل سے ایک قوم نکلے گی عمارہ کہتے میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ان کو پا لوں تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters and (the narrator) made a mention of elevated forehead, but he made no mention of tucked-up loin cloth and made this addition: "There stood up Umar bin Khattab (RA) , and said: Should I not strike his neck? Upon this he said: No. Then he turned away, and Khalid the Sword of Allah stood up against him, and said: Prophet ﷺ of Allah. shall I not strike off his neck? He said, No, and then said: A people would rise from his progeny who would recite the Book of Allah glibly and fluently. Umar said: I think he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them like Thamud."

2454Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ وَلَمْ يَذْکُرْ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ

ابن نمیر، ابن فضیل، حضرت عمارہ بن قعقاع ؓ سے اسی سند یہ روایت ہے کہ اسی طرح ہے کہ آپ ﷺ نے چار آدمیوں کے درمیان تقسیم کیا زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصین علقمہ بن علاثہ یا عامر طفیل اور عبدالواحد کی روایت کی طرح نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کہا اور فرمایا کہ اس کی نسل سے عنقریب ایک قوم نکلے گی اور اس میں آخری جملہ کہ اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کر دوں مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but no mention has been made of: "If I find them, I would kill them as the Thamud were killed."

2455Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلَاهُ عَنْ الْحَرُورِيَّةِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُهَا قَالَ لَا أَدْرِي مَنْ الْحَرُورِيَّةُ وَلَکِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَکُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ فَيَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ أَوْ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَی سَهْمِهِ إِلَی نَصْلِهِ إِلَی رِصَافِهِ فَيَتَمَارَی فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنْ الدَّمِ شَيْئٌ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ اور عطاء بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حروریہ کے بارے میں کچھ سنا تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون ہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اس امت میں ایک قوم نکلے گی یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ہوگی وہ ایسی قوم ہوگی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز سے حقیر جانو گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلقوں یا گلوں سے نیچے نہ اترے گا وہ دین سے تیر کے نشانہ سے نکلے جانے کی طرح نکل جائیں گے تیرانداز اپنے تیر اس لکڑی اور اس کے پھل کو دیکھتا ہے اور اس کے کنارہ اخیر پر غور کرتا ہے جو اس کی چٹکیوں میں تھا کہ کہیں اس کی کسی چیز کو خون میں سے کوئی چیز لگ گئی ہے۔

Abu Salama and Ata bin Yasar came to Abu Said al-Khudri and asked him about Haruriya, saying: Did you hear the Messenger of Allah ﷺ making a mention of them? He (Abu Said al-Khudri) said: I dont know who the Haruriya are, but I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: There would arise in this nation (and he did not say "out of them") a people and you would hold insignificant your prayers as compared with their prayers. And they would recite the Quran which would not go beyond their throats and would swerve through the religion (as blank) just as a (swift) arrow passes through the prey. The archer looks at his arrow, at its iron head and glances at its end (which he held) in the tip of his fingers to see whether it had any stain of blood.

2456Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالضَّحَّاکُ الْهَمْدَانِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَی نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ وَهُوَ الْقِدْحُ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَی عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَتَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَی حِينِ فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِکَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَوُجِدَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَی نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو بنی تمیم میں سے ایک ہے اس نے کہا اے اللہ کے رسول! انصاف کر۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون ہے جو انصاف کرے گا اور تو بدنصیب اور نقصان اٹھانے والا ہوگیا اگر میں نے عدل نہ کیا تو عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے ساتھی ایسے ہوں گے کہ تمہارا ایک آدمی اپنی نماز کو ان کی نماز سے حقیر تصور کرے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے سے، قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اس کے بھالہ کو دیکھتا ہے تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا پھر اس کے کنارے کو دیکھتا ہے تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا۔ پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو کچھ نہیں پاتا حالانکہ تیر پیٹ کی گندگی اور خون سے نکل چکا ہوتا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی ایسا سیاہ ہے کہ اس کا ایک شانہ عورت کے پستان یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا جو تھرتھراتا ہوگا۔ یہ اس وقت نکلیں گے جب لوگوں میں پھوٹ ہوگی ابوسعید کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہی رسول اللہ ﷺ سے سنا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ان سے جہاد کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا تو آپ نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا وہ ملا تو اسے علی ؓ کے پاس لایا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے ویسا ہی پایا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔

Abu Said al-Khudri reported: When we were in the company of the Messenger of Allah ﷺ and he was distributing the spoils of war, there came to him Dhul-Khuwasira, one of Banu Tamim. He said: Messenger of Allah, do justice. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Woe be upon thee. Who would do justice, if I do not do justice? You would be unsuccessful and incurring a loss, if I do not do justice. Upon this Umar bin Khattab (RA) said: Messenger of Allah, permit me to strike off his neck. The Messenger of Allah ﷺ said: Leave him, for he has friends (who would outwardly look to be so religious and pious) that everyone among you would consider his prayer insignificant as compared with their prayer, and his fast as compared with their fasts. They would recite the Quran but it would not go beyond their collar-bones. They would pass through (the teachings of Islam so hurriedly) just as the arrow passes through the prey. He would look at its Iron head, but would not find anything ticking) there. He would then see at the lowest end, but would not find anything sticking there. He would then see at its grip but would not find anything sticking to it. He would then see at its feathers and he would find nothing sticking to them (as the arrow would pass so quickly that nothing would stick to it) neither excrement nor blood. They would be recognised by the presence of a black man among them whose upper arms would be like a womans breast, or like a piece of meat as it quivers, and they would come forth at the time when there is dissension among the people. Abu Said said: I testify to the fact that I heard it from the Messenger of Allah ﷺ , and I testify to the fact that Ali bin Abu Talib fought against them and I was with him. He gave orders about that man who was sought for, and when he was brought in, and when I looked at him, he was exactly as the Messenger of Allah ﷺ had described him.

2457Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ قَوْمًا يَکُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ سِيمَاهُمْ التَّحَالُقُ قَالَ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ أَشَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَی الطَّائِفَتَيْنِ إِلَی الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ

محمد بن مثنی، ابوعدی، سلیمان، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت سے ہوں گے وہ لوگ لوگوں کی پھوٹ کے وقت نکلیں گے ان کی نشانی سر منڈانا ہوگی وہ بدترین مخلوق ہیں یا بدترین مخلوق میں سے ہیں ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو دو گروہوں میں سے حق کے قریب ہوں گے پھر نبی کریم ﷺ نے ان کی مثال بیان فرمائی یا ایک بات فرمائی اس آدمی کی جو تیر پھینکتا ہے یا نشانہ تو وہ بھالہ میں نظر کرتا ہے لیکن اس میں کچھ اثر نہیں دیکھتا اور تیر کی لکڑی میں دیکھتا ہے اور کچھ نہیں دیکھتا اور اس کے اوپر کے حصہ میں دیکھتا ہے تو کچھ نہیں دیکھتا ہے ابوسعید ؓ نے فرمایا اے اہل عراق تم نے انہیں قتل کیا ہے۔

Abu Said al-Khudri said that the Apostle of Allah ﷺ made a mention of a sect that would be among his Ummah which would emerge out of the dissension of the people. Their distinctive mark would be shaven heads. They would be the worst creatures or the worst of the creatures. The group who would be nearer to the truth out of the two would kill them. The Apostle of Allah ﷺ gave an example (to give their description) or he said: A man throws an arrow at the prey (or he said at the target), and sees at its iron head, but finds no sign (of blood there), or he sees at the lowest end, but would not see or find any sign (of blood there). He would then see into the grip but would not find (anything) sticking to it. Abu Said then said: People of Iraq, it is you who have killed them.

2458Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَی الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

شیبان بن فروخ، قاسم بن فضل حدانی، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے افتراق کے وقت ایک فرقہ مارقہ خروج کرے گا ان کو دو گروہوں میں سے اقرب الی الحق گروہ قتل کرے گا۔

Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ said: A group would secede itself (from the Ummah) when there would be dissension among the Muslims. Out of the two groups who would be nearer the truth would kill them.

2459Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَکُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ

ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو گروہ ہوجائیں گے تو ان میں سے مارقہ فرقہ نکلے گا ان خوارج سے وہ جہاد کرے گا جو سب سے زیادہ حق کے قریب ہوگا۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would be two groups in my Ummah, and there would emerge another group (seceding itself from both of them), and the party nearer to the truth among the two would kill them (the group of the Khwarij).

2460Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَی الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داؤد بن نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے ان میں سے ایک فرقہ مارقہ نکلے گا اور دو گروہوں میں سے ان کو وہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔

Abu Said al-Khudri reported from the Apostle of Allah ﷺ that a group (Khwarij) would emerge from the different parties (the party of Hadrat Ali and the party of Amir Muawiyah), the group nearer the truth between the two would kill them.

2461Sahih Muslim

خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ الضَّحَّاکِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَکَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَی فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ

عبیداللہ قواریری، محمد بن عبداللہ بن سفیان، حبیب بن ابی ثابت، ضحاک مشرقی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں ایسی قوم کا ذکر فرمایا جو اختلاف کے وقت نکلے گی ان کو دو گروہوں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگا وہ قتل کرے گا۔

Abu Said al-Khudri reported from the Apostle of Allah ﷺ that a group (Khwarij) would emerge from the different parties (the party of Hadrat Ali and the party of Amir Muawiyah), the group nearer the truth between the two would kill them.00000

2462Sahih Muslim

خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَائِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ وَإِذَا حَدَّثْتُکُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَائُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن سعید اشج، وکیع، اعمش، خیثمہ، حضرت سو ید بن غفلہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا اگر میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث بیان کروں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی تو مجھے آسمان سے گرپڑنا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں وہ بات کہوں جو آپ ﷺ نے نہیں بیان فرمائی اور جب وہ بات بیان کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے تو جان لو کہ جنگ دھوکہ بازی کا نام ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے عنقریب اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی نوعمر اور ان کے عقل والے بیوقوف ہونگے بات تو سب مخلوق سے اچھی کریں گے قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نہ اترے گا دین سے وہ اسطرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے جب تم ان سے ملو تو ان کو قتل کردینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اللہ کے ہاں قیامت کے دن ثواب ہوگا۔

Ali said: Whenever I narrate to you anything from the Messenger of Allah ﷺ believe it to be absolutely true as falling from the sky is dearer to me than that of attributing anything to him (the Holy Prophet) which he never said. When I talk to you of anything which is between me and you (there might creep some error in it) for battle is an outwitting. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: There would arise at the end of the age a people who would be young in age and immature in thought, but they would talk (in such a manner) as if their words are the best among the creatures. They would recite the Quran, but it would not go beyond their throats, and they would pass through the religion as an arrow goes through the prey. So when you meet them, kill them, for in their killing you would get a reward with Allah on the Day of Judgment.