خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، محمد بن ابوبکر مقدمی، ابوبکر، نافع، عبدالرحمن بن مہدی، اعمش، اس سند کے ساتھ بھی اس سے قبل حدیث مبارکہ مروی ہے
A hadith like this has been narrated through another chain of transmitters.
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، زہیر بن حرب، ابومعاویہ، اعمش، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters, but (these words) are not there: "They pass through the religion clean as the arrow passes through the prey."
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ ذَکَرَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ
محمد بن ابوبکر مقدمی، ابن ابی علیہ، حماد بن زید، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، ایوب، محمد، عبیدہ، علی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے خوارج کا ذکر کیا تو فرمایا ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ والا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہاتھ والا یا عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ہوگا اور اگر تم فخر نہ کرو تو میں تم سے بیان کروں وہ وعدہ جو اللہ نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا محمد ﷺ کی زبانی دیا میں نے عرض کیا آپ نے محمد ﷺ سے سنا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم ہاں رب کعبہ کی قسم ہاں رب کعبہ کی قسم۔
Ubaida narrated from Ali that he made a mention of the Khwarij (and in this connection) said that there would be a person among them with a defective hand. (or with a short hand) or a fleshy hand. If you were to exercise restraint, I would tell you what Allah has promised to those who would kill them on the order of Muhammad ﷺ . I (the narrator) said to him: Did you hear it from Muhammad: ﷺ ? He (Hadrat Ali) said: Yes, by the Lord of the Ka’bah; Yes, by the Lord of the Ka’bah; yes, by the Lord of the Ka’bah.
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَا أُحَدِّثُکُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَکَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا
محمد بن مثنی، ابوعدی، ابن عون، محمد بن عبیدہ، اسی حدیث مبارکہ کی دوسری سند ذکر کردی ہے۔
Abida said: I will not narrate to you except what I heard from him (Hadrat Ali), and then he narrated from him.
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنْ الْعَمَلِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا حَتَّى قَالَ مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ فَقَالَ لَهُمْ أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمْ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ قَالَ وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنْ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْتَمِسُوا فِيهِمْ الْمُخْدَجَ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ
عبد بن حمید، عبدالرزاق بن ہمام، عبدالملک بن ابی سلیمان، سلمہ بن کہیل، زید بن وہب جہنی ؓ سے روایت ہے کہ وہ اس لشکر میں شریک تھا جو سیدنا علی ؓ کی معیت میں خوارج سے جنگ کے لئے چلا۔ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ایک قوم میری امت سے نکلے گی وہ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ تم ان کی قرأت سے مقابلہ نہ کرسکو گے اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کا مقابلہ کرسکے گی اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں جیسے ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوئے گمان کریں گے کہ وہ ان کے لئے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا اور ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ان سے قتال کرنے والے لشکر کو اگر یہ معلوم ہوجائے جو نبی کریم کی زبانی ان کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے اسی عمل پر بھروسہ کرلیں اور نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی کے بازو کی بانہہ نہ ہوگی اور اس کے بازو کی نوک عورت کے پستان کی طرح لوتھڑا ہوگی اس پر سفید بال ہونگے فرمایا تم معاویہ ؓ اور اہل شام سے مقابلہ کے لئے جاتے ہوئے ان کو چھوڑ جاتے ہو کہ یہ تمہارے پیچھے تمہاری اولادوں اور تمہارے اموال کو نقصان پہنچائیں۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حرام خون بہایا اور ان کے مویشی وغیرہ لوٹ لئے تم اور لوگوں کو چھوڑو اور ان کی طرف اللہ کے نام پر چلو سلمہ بن کہیل کہتے ہیں پھر مجھے زید بن و ہب نے ایک منزل کے متعلق بیان کیا۔ یہاں تک کہ ہم ایک پل سے گزرے اور جب ہمارا خوارج سے مقابلہ ہوا تو عبداللہ بن و ہب راسبی انکا سردار تھا۔ اس نے اپنے لشکر سے کہا تیر پھینک دو اور اپنی تلواریں میانوں سے کھینچ لو میں خوف کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ ہو جو تمہارے ساتھ حروراء کے دن ہوا تھا تو وہ لوٹے اور انہوں نے نیزوں کو دور پھینک دیا اور تلواروں کو میان سے نکالا۔ لوگوں نے ان سے نیزوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور یہ ایک دوسرے پر قتل کئے گئے ہم میں صرف دو آدمی کام آئے علی ؓ نے فرمایا ان میں سے ناقص ہاتھ والے کو تلاش کرو تلاش کرنے پر نہ ملا تو علی ؓ خود کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان لوگوں پر آئے جو ایک دوسرے پر قتل ہوچکے تھے آپ نے فرمایا ان کو ہٹاؤ پھر اس کو زمین کے ساتھ ملا ہوا پایا آپ نے اَللَّهُ أَکْبَرُ کہہ کر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول ﷺ نے پہنچایا تو پھر عبیدہ سلمانی نے کھڑے ہو کر کہا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ آپ نے خود نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی۔ تو علی ؓ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی یہاں تک عبیدہ نے تین بار قسم کا مطالبہ کیا اور آپ نے تین بار ہی اس کے لئے قسم کھائی۔
Zaid bin Wahb Jahani reported and he was among the squadron which was under the command of Ali (RA) and which set out (to curb the activities) of the Khwarij. Ali (RA) said: O people, I heard the Messeinger of Allah ﷺ say: There would arise from my Ummah a people who would recite the Quran, and your recital would seem insignificant as compared with their recital, your prayer as compared with their prayer, and your fast, as compared with their fast. They would recite the Quran thinking that it supports them, whereas it is an evidence against them. Their prayer does not get beyond their collar bone; they would swerve through Islam just as the arrow passes through the prey. If the squadron which is to encounter them were to know (what great boon) has been assured to them by their Apostle ﷺ they would completely rely upon this deed (alone and cease to do other good deeds), and their (that of the Khwarij) distinctive mark is that there would be (among them) a person whose wrist would be without the arm, and the end of his wrist would be fleshy like the nipple of the breast on which there would be white hair. You would be marching towards Muawiya and the people of Syria and you would leave them behind among your children and your property (to do harm). By Allah, I believe that these are the people (against whom you have been commanded to fight and get reward) for they have shed forbidden blood, and raided the animals of the people. So go forth in the name of Allah (to fight against them). Salama bin Kuhail mentioned that Zaid bin Wahb made me alight at every stage, till we crossed a bridge. Abdullah bin Wahb al-Rasibi was at the head of the Khwarij when we encountered them. He (Abdullah) said to his army: Throw the spears and draw out your swords from their sheaths, for I fear that they would attack you as they attacked you on the day of Harura. They went back and threw their spears and drew out their swords, and people fought against them with spears and they were killed one after another. Only two persons were killed among the people (among the army led by Hadrat Ali) on that day. Ali (RA) said: Find out from among them (the dead bodies of the Khwarij) (the maimed). They searched but did not find him. Ali (RA) then himself stood up and (walked) till he came to the people who had been killed one after another. He (Ali) said: Search them to the last, and then (Alis companions) found him (the dead body of the maimed) near the earth. He (Hadrat Ali) then pronounced Allah-O-Akbar (Allah is the Greatest) and then said, Allah told the Truth and His Messenger ﷺ conveyed it. Then there stood before him Abida Salmani who said: Commander of the Believers, by Allah, besides Whom there is no god but He, (tell me) whether you heard this hadith from the Messenger of Allah ﷺ . He said: Yes, by Allah, besides Whom there is no god but He. He asked him to take an oath thrice and he took the oath.
خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا لَا حُکْمَ إِلَّا لِلَّهِ قَالَ عَلِيٌّ کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَائِ يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَی يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْظُرُوا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا فَقَالَ ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ فَأَتَوْا بِهِ حَتَّی وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ بُکَيْرٌ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ ذَلِکَ الْأَسْوَدَ
ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیربن اشج، بسربن سعید بن عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ حروریہ کے خروج کے وقت وہ حضرت علی ؓ کے ساتھ تھا خوارج نے کہا اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں حضرت علی ؓ نے فرمایا کلمہ تو حق ہے لیکن اس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کا حال بیان کیا تھا میں ان میں ان لوگوں کی نشانیاں پہچان رہا ہوں یہ زبان سے تو حق کہتے ہیں مگر وہ زبان سے تجاوز نہیں کرتا اور حلق کی طرف اشارہ فرمایا۔ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے ہاں یہی ہیں ان میں سے ایک سیاہ آدمی ہے اس کا ہاتھ بکری کے تھن یا پستان کے سر کی طرح ہے پھر جب ان کو حضرت علی ؓ نے قتل کیا تو فرمایا کہ دیکھو لوگوں نے دیکھا تو وہ نہ ملا پھر کہا دوبارہ جاؤ اللہ کی قسم میں نے جھوٹ بولا نہ مجھے جھوٹ کہا گیا دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر انہوں نے اس کو ایک کھنڈر میں پایا تو اس کو لائے یہاں تک کہ اسے حضرت علی ؓ کے سامنے رکھ دیا حضرت عبیداللہ کہتے ہیں میں اس جگہ موجود تھا جب انہوں نے یہ کام کیا اور حضرت علی ؓ نے ان کے حق میں یہ فرمایا یونس نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ مجھے بکیر نے کہا مجھے ایک شخص نے ابن حنین سے روایت بیان کیا کہ اس نے کہا کہ میں نے اس اسود کو دیکھا۔
Ubaidullah bin Abu Rafi, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ , said: When Haruria (the Khwarij) set out and as he was with Ali bin Abu Talib (RA) they said, "There is no command but that of Allah." Upon this Ali said: The statement is true but it is intentionally applied (to support) a wrong (cause). The Messenger of Allah ﷺ described their characteristics and I found these characteristics in them. They state the truth with their tongue, but it does not go beyond this part of their bodies (and the narrator pointed towards his throat). The most hateful among the creation of Allah is one black man among them (Khwarij). One of his hand is like the teat of a goat or the nipple of the breast. When Ali bin Abu Talib (RA) killed them, he said: Search (for his dead body). They searched for him, but they did not find it (his dead body). Upon this he said: Go and search for him. By Allah, neither I have spoken a lie nor has the lie been spoken to me. Ali said this twice and thrice. They then found him (the dead body) in a rain. They brought (his dead) body till they placed it before him (Hadrat Ali). Ubaidullah said: And, I was present at (that place) when this happened and when Ali said about them. A person narrated to me from Ibn Hanain that he said: I saw that black man.
خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَکُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا الْحَکَمِ الْغِفَارِيِّ قُلْتُ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ کَذَا وَکَذَا فَذَکَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد میری امت سے ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے متجاوز نہ ہوگا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائے گی جیسا تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں نہ لوٹے گی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ شریر اور بد کر دار ہوگی۔ آگے اس سند کی تحقیق فرمائی ہے جو ابن صامت نے کی۔
Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily there would arise from my Ummah after me or soon after me a group (of people) who would recite the Quran, but it would not go beyond their throats, and they would pass clean through their religion just as the arrow passes through the prey, and they would never come back to it. They would be the worst among the creation and the creatures. Ibn Samit (one of the narrators) said: I met Rafi bin Amr Ghifari, the brother of Al-Hakam Ghifari and I said: What is this hadith that I heard from Abu Dharr, i. e. so and so? and then I narrated that hadith to him and said: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ .
خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْخَوَارِجَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ قَوْمٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
ابوبکر بن ابوشیبہ، علی بن مسہر، سیبانی، یسیربن دمرو، حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ میں نے سنا نبی کریم ﷺ خوارج کا ذکر فرما رہے تھے اور آپ نے مشرقی کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک قوم ہے جو اپنی زبانوں سے قرآن پڑھتی ہے لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرتا وہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
Yusair bin Amr reported that he inquired of Sahl bin Hunaif: Did you hear the Apostle of Allah ﷺ making a mention of the Khwarij? He said: I heard him say (and he pointed with his hand towards the east) that these would be a people who would recite the Quran with their tongues and it would not go beyond their collar bones. They would pass clean through their religion just as the arrow passes through the prey.
خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ
ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ ہے کہ اس سے اقوام نکلیں گی۔
This hadith had been transmitted by Sulaiman Shaibani with the same chain of narrators (and the words are), "There would arise out of (this group) many a group"
خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُئُوسُهُمْ
ابوبکر بن ابشیبہ، اسحاق، یزید، یزید بن ہارون، عوام بن حوشب، ابواسحاق شیبانی، اسیربن عمرو، سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مشرق سے ایک قوم آئے گی ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔
Sahl bin Hunaif reported Allahs Apostle ﷺ as saying: There would arise from the east a people with shaven heads.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِخْ کِخْ ارْمِ بِهَا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حسن بن علی ؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھو، تھو! اس کو پھینک دو۔ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Hasan bin Ali took one of the dates of the sadaqa and put it in his mouth, whereupon the Prophet ﷺ said: Leave it, leave it, throw it; dont you know that we do not eat the sadaqah?
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، شعبہ، اسی حدیث کی دوسری سند ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubahh with the same chain of transmitters (and the words of the Holy Prophet) are: "Sadaqa is not permissible for us."
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ کَمَا قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابن مثنی، ابوعدی، شعبہ، حضرت ابن معاذ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
This very hadith has been narrated on the authority of Sbuba with the same chain of transmitters.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَی أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَی فِرَاشِي ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآکُلَهَا ثُمَّ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابویونس، جو کہ مولیٰ ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے اہل کی طرف گیا تو میں نے بستر پر گری ہوئی ایک کھجور پائی میں نے اسے کھانے کے لئے اٹھایا پھر مجھے خوف ہوا کہ وہ صدقہ کی نہ ہو لہذا میں نے اسے پھینک دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I go back to my family and I find a date lying on my bed. I then take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَی أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَی فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لِآکُلَهَا ثُمَّ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً أَوْ مِنْ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيهَا
محمد بن رافع، عبدالرراق بن ہمام، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایات میں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اپنے اہل کی طرف لوٹتا ہوں تو اپنے بستر پر ایک کھجور گری ہوئی پاتا ہوں یا اپنے گھر میں تو اس کو کھانے کے لئے اٹھاتا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ وہ صدقہ کی نہ ہو تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔
Out of so many ahadith which Hammam bin Munabbih narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) from the Messenger of Allah ﷺ one is this that the Messenger of Allah ﷺ said: I go back to my family and I find a date lying on my bed or in my house, and I take it up to eat it, but then I throw it away fearing that it may be a Sadaqa or from Sadaqa.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَکَلْتُهَا
یحییٰ بن یحیی، وکیع، سفیان، منصور، طلحہ بن مصرف، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور پائی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ found a date in the street and said: If it were not of sadaqa I would have eaten it.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَکَلْتُهَا
ابوکریب، ابواسامہ، زائدہ، منصور، طلحہ بن مصرف، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ راستہ میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ found a date lying on the path and said: If it were not out of Sadaqa, I would have eaten it.
رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً لَأَکَلْتُهَا
محمد بن مثنی، ابن بشار، معاذ بن ہشام، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ found a date and said: Were it not (that I fear) it may be part of sadaqah, I would have eaten it.
نبی کریم ﷺ کی آل کیلئے صدقہ کا استعمال ترک کرنے کا بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ قَالَ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ قَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَاهُ فَأَمَّرَهُمَا عَلَی هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِکَ جَائَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَکَرَا لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْکَ عَلَيْنَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ عَلَيْکَ قَالَ عَلِيٌّ أَرْسِلُوهُمَا فَانْطَلَقَا وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ قَالَ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَی الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّی جَائَ فَأَخَذَ بِآذَانِنَا ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ثُمَّ دَخَلَ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَتَوَاکَلْنَا الْکَلَامَ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَحَدُنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ وَقَدْ بَلَغْنَا النِّکَاحَ فَجِئْنَا لِتُؤَمِّرَنَا عَلَی بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُؤَدِّيَ إِلَيْکَ کَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ کَمَا يُصِيبُونَ قَالَ فَسَکَتَ طَوِيلًا حَتَّی أَرَدْنَا أَنْ نُکَلِّمَهُ قَالَ وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُکَلِّمَاهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ وَکَانَ عَلَی الْخُمُسِ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَجَائَاهُ فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ أَنْکِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَکَ لِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَأَنْکَحَهُ وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ أَنْکِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَکَ لِي فَأَنْکَحَنِي وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنْ الْخُمُسِ کَذَا وَکَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، مالک، زہری، عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل بن حارث، حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب جمع ہوئے تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اگر ہم دو نوجوانوں یعنی عباس بن عبدالمطلب اور فضل بن عباس ؓ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجیں اور یہ دونوں جا کر آپ سے گفتگو کریں کہ آپ ﷺ انہیں عامل صدقات بنادیں اور دونوں اسی طرح وصول کر کے ادا کریں جس طرح دوسرے لوگ ادا کرتے ہیں اور انہیں بھی وہی مل جائے جو اور لوگوں کو ملتا ہے، یہ بات ان دونوں کے درمیان جاری تھی کہ علی بن ابی طالب ؓ تشریف لے آئے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے تو انہیں نے اس کا علی ؓ سے ذکر کیا تو علی ؓ نے فرمایا تم ایسا نہ کرو اللہ کی قسم آپ ﷺ ایسا کرنے والے نہیں ہیں ربیعہ بن حارث نے ان کی بات سے اعراض کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم تم ہم پر حسد کرتے ہوئے کہہ رہے ہو اور اللہ کی قسم تمہیں رسول اللہ ﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا تو ہم نے اس پر آپ سے حسد نہیں کیا حضرت علی ؓ نے فرمایا اچھا ان دونوں کو بھیجو پس ہم دونوں چلے گئے اور علی ؓ لیٹ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی تو ہم حضور ﷺ سے پہلے حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے کانوں سے پکڑا پھر فرمایا تمہارے دلوں میں جو بات ہے ظاہر کردو پھر آپ ﷺ گھر تشریف لے گئے اور ہم بھی داخل ہوئے اور آپ اس دن حضرت زینت بنت جحش ؓ کے پاس تھے ہم نے ایک دوسرے سے گفتگو کی پھر ہم میں سے ایک نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی اور سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اب ہم جوان ہوچکے ہیں ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ ہمیں زکوٰۃ وصول کرنے کی خدمت پر مامور فرما دیں ہم بھی اسی طرح ادا کریں گے جیسے اور لوگ آپ کے پاس آ کر ادا کرتے ہیں اور ہم کو بھی کچھ مل جائے گا جیسے اور لوگوں کو ملتا ہے آپ کافی دیر تک خاموش رہے حتی کہ ہم نے ارادہ کیا ہم دوبارہ گفتگو کریں اور حضرت زینب پردہ کے پیچھے سے مزید گفتگو نہ کرنے کا اشارہ فرما رہی تھیں پھر آپ نے فرمایا کہ صدقہ آل محمد ﷺ کے لئے مناسب نہیں۔ کیونکہ یہ لوگوں کا میل کچیل ہوتا ہے میرے پاس محمیہ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطب کو بلاؤ اور وہ خمس پر مامور تھے۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے محمیہ سے کہا اس نوجوان فضل بن عباس سے اپنی بیٹی کا نکاح کردو تو اس نے نکاح کردیا اور نوفل بن حارث سے فرمایا کہ تم اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کردو تو انہوں نے مجھ سے نکاح کردیا اور محمیہ سے کہا کہ خمس سے ان دونوں کا اتنا اتنا مہر ادا کردو، زہری کہتے ہیں کہ میرے شیخ نے مہر کی رقم معین نہیں کی۔
Abdul Muttalib bin Rabia bin al-Harith reported that Rabia bin al-Harith and Abbas bin Abdul Muttalib gathered together and said: By Allah, if we had sent these two young boys (i. e. I and Fadl bin Abbas) to the Messenger of Allah ﷺ and they had spoken to him, he would have appointed them (as the collectors) of these sadaqat; and they would (collect them) and pay (to the Holy Prophet) as other people (collectors) paid and would get a share as other people got it. As they were talking about it there came Ali bin Abu Talib and stood before them, and they made a mention of it to him. Ali bin Abu Talib said: Dont do that; by Allah he (the Holy Prophet) would not do that (would not accept your request). Rabia bin Harith turned to him and said: By Allah, you are not doing so but out of jealousy that you nurse against us. By Allah, you became the son-in-law of the Messenger of Allah ﷺ but we felt no jealousy against you (for this great privilege of yours). Ali then said: Send them (if you like). They set out and Ali lay on the bed. When the Messenger of Allah ﷺ offered the noon prayer we went ahead of him to his apartment and stood near it till he came out. He took hold of our ears (out of love and affection) and then said: Give out what you have kept in your hearts. He then entered (the apartment) and we also went in and he (the Holy Prophet) was on that day (in the house of) Zainab bin jahsh. He urged each (of us) to speak. Then one of us thus spoke: Messenger of Allah, you are the best of humanity and the best to cement the ties of blood-relations. We have reached the-marriageable age. We have come (to you) so that you may appoint us (as collectors) of these sadaqat, and we would pay you just as the people (other collectors) pay you, and get our share as others get it. He (the Holy Prophet) kept silence for a long time till we wished that we should speak with him (again), and Zainab pointed to us from behind the curtain not to talk (any more). He (the Holy Prophet) said; It does not become the family of Muhammad (to accept) sadaqat for they are the impurities of people. You call to me Mahmiya (and he was in charge of khums, i. e, of the one-fifth part that goes to the treasury out of the spoils of war), and Naufal bin Harith bin Abdul Muttalib. They both came to him, and he (the Holy Prophet) said to Mahmiya: Marry your daughter to this young man (i. e. Fadl bin Abbas), and he married her to him. And he said to Naufal bin Harith (RA) : Marry your daughter to this young man (i e. Abdul Muttalib bin Rabia, the narrator of this hadith) and he married her to me, and he said to Mahmiya: Pay so much mahr on behalf of both of them from this khums. Zuhri, however. said: He did not determine (the amount of mahr).
نبی کریم ﷺ کی آل کیلئے صدقہ کا استعمال ترک کرنے کا بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَقَالَ فِيهِ فَأَلْقَی عَلِيٌّ رِدَائَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَکَانِي حَتَّی يَرْجِعَ إِلَيْکُمَا ابْنَاکُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ لَنَا إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ وَقَالَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْئٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَی الْأَخْمَاسِ
ہارون بن معروف، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی، عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب، عباس بن عبدالمطلب، عبدالمطلب بن ربیعہ، فضل بن عباس ؓ، یہ حدیث بھی اسی طرح مروی ہے کچھ تبد یلی اس طرح ہے کہ عبداللہ بن حارث بن نوفل الہاشمی ؓ سے روایت ہے کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبد المطلب ؓ نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ ہے کہ حضرت علی نے اپنی چادر ڈالی اور لیٹ گئے اور فرمایا کہ میں بھی قوم میں صحیح رائے رکھنے والا ہوں اللہ کی قسم میں اس جگہ سے نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ تمہارے دونوں بیٹے تمہارے پاس اس پیغام کا جواب لے کر واپس نہ آجائیں جو تم نے دے کر ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا ہے اور حدیث میں فرمایا پھر آپ نے ہم سے یہ فرمایا یہ صدقات لوگوں کا میل کچیل ہی ہوتے ہیں اور یہ محمد ﷺ کے لئے حلال نہیں اور نہ آل محمد ﷺ کے لئے یہ بھی کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلا لاؤ اور وہ بنی اسد کے آدمی تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں مال خمس کا حاکم بنایا تھا۔
Rabia bin Harith bin Abdul Muttalib and Abbas bin Abdul Muttalib said to Abdul Muttalib bin Rabia and Fadl bin Ibn Abbas (RA) : Go to the Messenger of Allah ﷺ , and the rest of the hadith is the same (but with this addition): "Ali spread his cloak and then lay down on it and said: I am the father of Hasan, and I am the chief. By Allah, I would not move from my place till your sons come back to you with the reply to that for which you sent them to the Messenger of Allah ﷺ . And he then also said: Verily these sadaqat are the impurities of people, and they are not permissible for Muhammad ﷺ , and for the family of Muhammad. And he also said: The Messenger of Allah ﷺ also said to me: Call Mahmiya bin Jaz, and he was person from Banu Asad and the Messenger of Allah ﷺ had apointed him as a collector of khums.