زکوۃ کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 14 · 232 hadiths · Page 8 of 12

2403Sahih Muslim

لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ وَکُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُکَ قَالَ عَلَی أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ کَلِمَةً خَفِيَّةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِکَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، سلمہ بن شبیب، سلمہ، مروان بن محمد دمشقی، سعید بن عبدالعزیز، ربیعہ بن یزید، ابوادریس خولانی، ابومسلم خولانی، حبیب امین، حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نو یا آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے۔ حالانکہ ہم قریب ہی زمانہ میں بیعت کرچکے تھے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم آپ ﷺ سے بیعت کرچکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے ہم نے اپنے ہاتھ دراز کئے اور عرض کیا ہم آپ ﷺ سے بیعت کرچکے ہیں اب ہم کس بات پر بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے اور پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے تو یہ بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو گے۔ تو میں نے ان میں سے بعض آدمیوں کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا اگر چابک (سواری سے) گر جاتا تو وہ کسی سے اٹھا کر دے دینے کی خواہش نہ کرتا تھا۔

Malik al-Ashjai reported: We, nine, eight or seven men, were in the company of the Messenger of Allah ﷺ and he said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ -while we had recently pledged allegiance. So we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ And we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ We stretched our hands and said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. Now tell (on what things) should we pledge allegiance to you. He said: you must pledge allegiance that you would worship Allah only and would not associate with Him anything, (and observe) five prayers, and obey- (and he said one thing in an undertone) -that you would not beg people of anything. (And as a consequence of that) I saw that some of these people did not ask anyone to pick up the whip for them if it fell down.

2404Sahih Muslim

مانگنا کس کے لے حلال ہے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِي کِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ أَقِمْ حَتَّی تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِکُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّی يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْکُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، یحیی، حماد بن زید، ہارون بن ریاب، کنا نہ بن نعیم عدوی، قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے (کسی امر کے لئے) چندہ جمع کرنے کا بار اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھنے کے لئے حاضر ہوا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جاؤ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے تو ہم تم کو دینے کا حکم دے دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے قبیصہ! تین آدمیوں کے علاوہ کسی کے لئے مانگنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے اپنے اوپر چندہ کا بوجھ ڈالا ہو تو اس کے لئے اتنی رقم پوری کرنے تک مانگنا جائز ہے پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس کے مال کو کسی آفت نے ختم کردیا ہو تو اس کے لئے اپنے گزر بسر تک یا گزر اوقات کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے تیسرا وہ آدمی ہے جس کے تین دن فاقہ میں گزر جائیں اور اس کی قوم میں سے تین کامل العقل آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں آدمی کو فاقہ پہنچا ہے تو اس کے لئے گزر بسر کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے اے قبیصہ! ان تین کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگ کر کھانے والا حرام کھاتا ہے۔

Qabisa bin Mukhariq al-Hilali said: I was under debt and I came to the Messenger of Allah ﷺ and begged from him regarding it. He said: Wait till we receive Sadaqa, so that we order that to be given to you. He again said: Qabisa, begging is not permissible but for one of the three (classes) of persons: one who has incurred debt, for him begging is permissible till he pays that off, after which he must stop it; a man whose property has been destroyed by a calamity which has smitten him, for him begging is permissible till he gets what will support life, or will provide him reasonable subsistence; and a person who has been smitten by poverty, the genuineness of which is confirmed by three intelligent members of this peoples for him begging is permissible till he gets what will support him, or will provide him subsistence. Qabisa, besides these three (every other reason) for begging is forbidden, and one who engages in such, consumes that what is forbidden.

2405Sahih Muslim

بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَائَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّی أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ وَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ

ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ عطا کیا کرتے تھے۔ تو میں عرض کرتا کہ آپ ﷺ مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو عطا فرمائیں۔ حسب معمول آپ ﷺ نے ایک مرتبہ کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو اسے عطا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے لے لے اور تیرے پاس اگر بغیر لالچ کے اور بغیر مانگنے کے کچھ مال آجائے تو اس کو حاصل کرلیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے اس کا دل میں خیال نہ کرو۔

Salim binAbdullah bin Umar reported on the authority of his father (Abdullah bin Umar) that he had heard Umar bin Khattab (RA) saying: The Messenger of Allah ﷺ gave me a gift, but I said: Give it to one who needs it more than I. He gave me wealth for the second time but I said: Give it to one who needs it more than I. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Take out of this wealth which comes to you without your being avaricious and without begging, but in other circumstances do not let your heart hanker after it.

2406Sahih Muslim

بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَائَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ

ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عمر بن خطاب ؓ کو کچھ مال عطا کیا کرتے تھے۔ تو عمر نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو مجھ سے زیادہ فقیر ہو اس کو عطا کیا کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا اسے لے لو اپنے پاس رکھو یا صدقہ کرو اور تیرے پاس جو مال اس طرح آئے کہ تو نہ خوا ہش کرنے والا ہو اور نہ مانگنے والا تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کی طرف ہی نہ لگاؤ۔ حضرت سالم کہتے ہیں اسی وجہ سے حضرت ابن عمر ؓ کسی سے کچھ نہ مانگتے تھے اور اگر کوئی آپ کو کچھ دے دیتا تو اسے لوٹاتے بھی نہ تھے۔

Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ gave to Umar bin Khattab some gift. Umar said to him: Messenger of Allah, give it to one who needs it more than I. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Take it; either keep it with you or give it as a charity, and whatever comes to you in the form of this type of wealth, without your being avaricious or begging for it, accept it, but in other circumstances do not let your heart hanker after it. And it was on account of this that Ibn Umar never begged anything from anyone, nor refused anything given to him.

2407Sahih Muslim

بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوطاہر، ابن وہب، عمرو، ابن شہاب، سائب بن یزید، عبداللہ بن سعدی، عمر بن خطاب، اسی حدیث کی دوسری سند عمر بن خطاب ؓ سے ذکر فرمائی۔

This hadith has been narrated byAbdullah bin al-Sadi from Umar bin al-Khattab who heard it from the Messenger of Allah ﷺ .

2408Sahih Muslim

بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِکِيِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَی اللَّهِ فَقَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِکَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَکُلْ وَتَصَدَّقْ

قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر، بسر بن سعید، ابن ساعدی مالکی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے مجھے صدقہ پر عامل مقرر فرمایا۔ جب میں اس سے فارغ ہوا اور رقم زکوٰۃ لا کر جمع کرا دی تو آپ ؓ نے میرے لئے کچھ اجرت کا حکم فرمایا۔ تو میں نے عرض کیا میں نے اللہ کی رضا کے لئے کام کیا اور میرا ثواب اللہ پر ہے تو آپ نے فرمایا جو تجھے دیا جائے وصول کرلے کیونکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عامل مقرر ہوا تھا آپ ﷺ نے مجھے اجرت دی تھی۔ تو میں نے تیرے کہنے کی طرح عرض کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا جو تجھے تیرے بغیر مانگے مل جائے تم اس کو کھاؤ اور صدقہ بھی کرو۔

Ibn al-Sadi Maliki reported: Umar bin Khattab (RA) appointed me as a collector of Sadaqa. When I had finished that (the task assigned to me) and I handed over that to him (to Umar), he commanded me to (accept) some remuneration (for the work). I said: I performed this duty for Allah and my reward is with Allah. He said: Take whatever has been given to you, for I also performed this duty during the time of the Messenger of Allah ﷺ . He assigned me the task of a collector and I said as you say, and the Messenger of Allah ﷺ said to me: When you are given anything without your begging for it, (then accept it), eat it and give it in charity.

2409Sahih Muslim

بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی الصَّدَقَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، ابن سعدی، عمر بن خطاب، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ابن ساعدی کے بجائے ابن سعدی ہے۔

Ibn al-Sadi reported: Umar bin Khattab (RA) appointed me as a collector of Sadaqat. The rest of the hadith is the same.

2410Sahih Muslim

دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَتَيْنِ حُبِّ الْعَيْشِ وَالْمَالِ

زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے۔ زندگی اور مال کی محبت۔

Abu Hurairah (RA) reported from the Messenger of Allah ﷺ as having said this: The heart of an old person feels young for the love of two things: love for long life and wealth.

2411Sahih Muslim

دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولُ الْحَيَاةِ وَحُبُّ الْمَالِ

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بوڑھے آدمی کا دل زندگی کے لمبے ہونے اور مال کی محبت میں جوان رہتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said this: The heart of an old person is young for two things: for long life and love for wealth.

2412Sahih Muslim

دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَی الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَی الْعُمُرِ

یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، یحیی، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال اور عمر پر حرص۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The son of Adam علیہ السلامgrows old, but two (desires) in him remain young: desire for wealth and desire for life.

2413Sahih Muslim

دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس ؓ اوپر والی حدیث اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Anas through another chain of transmitters.

2414Sahih Muslim

دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک ؓ، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

2415Sahih Muslim

اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَی مَنْ تَابَ

یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ابن آدم کے لئے دو وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تب بھی وہ تیسری وادی کی تلاش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور اللہ اسی پر رجوع فرماتے ہیں جو توبہ کرتا ہے۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If the son of Adam علیہ السلامwere to possess two valleys of riches, he would long for the third one. And the stomach of the son of Adam علیہ السلامis not filled but with dust. And Allah returns to him who repents.

2416Sahih Muslim

اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْئٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْئٌ کَانَ يَقُولُهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اور میں نہیں جانتا یہ بات اتری تھی یا آپ ﷺ خود فرماتے تھے باقی حدیث ابوعوانہ کی طرح ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying this, but I do not know whether this thing was revealed to him or not, but he said no.

2417Sahih Muslim

اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَی مَنْ تَابَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی ہو تب بھی دوسری وادی کی خواہش کرے گا۔ اور اس کا منہ مٹی ہی بھرے گی اور اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والے ہی پر رجوع فرماتے ہیں۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If there were two valleys of gold for the son of Adam, he would long for another one, and his mouth will not be filled but with dust, and Allah returns to him who repents.

2418Sahih Muslim

اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْئَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبَّ أَنْ يَکُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَی مَنْ تَابَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَذْکُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ

زہیر بن حرب، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر ابن آدم کے لئے وادی بھر مال ہو تو بھی وہ پسند کرے گا کہ اس کی مثل اور ہو اور ابن آدم کا جی سوائے مٹی کے کسی چیز سے نہیں بھرتا اور اللہ اسی پر رجوع فرماتے ہیں جو توبہ کرتا ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If there were for the son of Adam علیہ السلامa valley full of riches, he would long to possess another one like it. And Ibn Adam علیہ السلامdoes not feel satiated but with dust. And Allah returns to him who returns (to HiM). Ibn Abbas (RA) said: I do not know whether it is from the Quran or not; and in the narration transmitted by Zuhair it was said: I do not know whether it is from the Quran, and he made no mention of Ibn Abbas (RA) .

2419Sahih Muslim

اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ إِلَی قُرَّائِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ قَدْ قَرَئُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْکُمْ الْأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ کَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً کُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَائَةَ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَکُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً کُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَی الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُکْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِکُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

سوید بن سعید، علی بن مسہر، حضرت ابوالاسود ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوموسی ؓ کو اہل بصرہ کے قراء کی طرف بھیجا گیا آپ ان کے پاس پہنچے تو تین سو فارسیوں نے قرآن پڑھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اہل بصرہ کے سب لوگوں سے افضل ہو اور ان کے قاری ہو تو تم ان کو قرآن پڑھاؤ اور بہت مدت تک تم تلاوت قرآن پڑھاؤ اور بہت مدت تک تم تلاوت قرآن سے غافل نہ ہوا کرو ورنہ تمہارے دل اسی طرح سخت ہوجائیں گے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کے ہوگئے تھے اور ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو لمبائی میں اور سخت وعیدات میں سورت برأت کے برابر تھی پھر میں سوائے اس آیت کے سب بھول گیا (لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ ) کہ اگر ابن آدم کے لئے مال کے دو میدان ہوں تو بھی وہ تیسرا میدان طلب کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور ہم ایک سورت اور پڑھتے تھے جس کو ہم مسبحات میں سے ایک سورت کے برابر جانتے تھے میں اس کو بھول گیا سوائے اس کے کہ اس میں سے میں نے (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ) 61۔ الصف: 2) کو یاد رکھا ہے یعنی اے ایمان والوں وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں تو تمہاری گردنوں میں شہادت کے طور پر لکھ دی جاتی ہے قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔

Abu Harb bin Abu al-Aswad reported on the authority of his father that Abu Musa al-Ashari sent for the reciters of Basrah. They came to him and they were three hundred in number. They recited the Quran and he said: You are the best among the inhabitants of Basrah, for you are the reciters among them. So continue to recite it. (But bear in mind) that your reciting for a long time may not harden your hearts as were hardened the hearts of those before you. We used to recite a surah which resembled in length and severity to (Surah) Baraat. I have, however, forgotten it with the exception of this which I remember out of it: "If there were two valleys full of riches, for the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلام, he would long for a third valley, and nothing would fill the stomach of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامbut dust." And we used so recite a surah which resembled one of the surahs of Musabbihat, and I have forgotten it, but remember (this much) out of it: "Oh people who believe, why do you say that which you do not practise" (lxi 2.) and "that is recorded in your necks as a witness (against you) and you would be asked about it on the Day of Resurrection" (xvii. 13).

2420Sahih Muslim

قناعت کی فضیلت اور ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ

زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دولت مندی کثرت مال سے نہیں ہوتی بلکہ دولت مندی دل کے غنی ہونے کا نام ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: Richness does not lie in the abundance of (worldly) goods but richness is the richness of the soul (heart, self).

2421Sahih Muslim

دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَی عَلَيْکُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ کُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَکَلَتْ فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ

یحییٰ بن یحیی، لیث بن سعد، قتیبہ بن سعید، سعید بن ابوسعید مقبری، عیاض بن عبداللہ بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں تم پر اس سے زیادہ کسی چیز کی وجہ سے نہیں ڈرتا جو اللہ تمہارے لئے دنیا کی زینت کی چیز نکالتا ہے ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا بھلائی سے برائی بھی آسکتی ہے تو رسول اللہ ﷺ کچھ خاموش رہے۔ پھر فرمایا تو نے کیسے کہا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں نے عرض کیا کیا بھلائی سے بھی برائی آسکتی ہے۔ تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بھلائی کا نتیجہ تو بھلائی ہی ہوتا ہے لیکن موسم بہار میں اگنے والا سبزہ جانوروں کو ہلاک کردیتا ہے۔ یا ہلاکت کے قریب کردیتا ہے سوائے اس سبزہ کھانے والے جانور کے جو کھائے جب اس کی کو کھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں چلا جائے اور جگالی یا پیشاب کرلے۔ پھر جگالی کرے اور اس میں اس کے لئے برکت دی جائے گی اور جو مال ناحق لے گا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کی جو کھاتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔

Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ stood up and addressed the people thus: O people, by Allah, I do not entertain fear about you in regard to anything else than that which Allah would bring forth for you in the form of adornment of the world. A person said: Messenger of Allah, does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ remained silent for a while and he then said: What did you say? He replied: Messenger of Allah, I said: Does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ said to him: The good does not produce but good, but among the plants the spring rain produces there some which kill with a tremour or nearly kill all but the animal which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the can. Then when it has donged or urinated and chewed, it returns and eats. He who accepts wealth rightly, Allah confers blessing on it for him. And he who takes wealth without any right, he is like one who eats and is not satisfied.

2422Sahih Muslim

دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا قَالُوا وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَرَکَاتُ الْأَرْضِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ قَالَ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ کُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا تَأْکُلُ حَتَّی إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَتْ وَثَلَطَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَکَلَتْ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ مجھے تمہارے متعلق خوف اس بات کا ہے جو اللہ تمہارے لئے دنیا کی زینت سے نکالے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دنیا کی زینت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زمین کی برکات۔ صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول کیا خیر کا بدلہ برائی بھی ہوتا ہے فرمایا نہیں خیر کا نتیجہ خیر ہی ہوتا ہے ہاں یہ ہے کہ بہار میں اگنے و الا سبزہ مار دیتا ہے یا قریب المرگ کردیتا ہے۔ سوائے ان سبزہ خور جانوروں کے جو کھاتے ہیں یہاں تک کہ ان کی کو کھیں پھول جاتی ہیں پھر دھوپ میں آجاتے ہیں پھر جگالی اور پیشاب کرتے ہیں اور اگال نگل لیتے ہیں پھر دوبارہ لوٹتے ہیں تو کھاتے ہیں (یعنی انہیں کچھ نہیں ہوتا) بیشک ہر مال سبز و شاداب اور میٹھا ہے پس جو اس کو حق کے ساتھ وصول کرے اور اس کے حق ہی میں خرچ کرے تو یہ بہترین مددگار ہے اور جو اسے ناحق طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اسی کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔

Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: The most dreadful thing I fear in your case is what Allah brings forth for you in the form of the adornment of the world. They (the Prophets Companions) said: Messenger of Allah, what is the adornment of the world? He said: Blessings (the natural resources) of the earth. They (again) said: Messenger of Allah, does good produce evil? He said: No, only good comes out of good. No, only good comes out of good. No. only good comes out of good. All that which the spring rain helps to grow kills or is about to kill but (the animal) which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the sun, it chews the cud, it has dunged and urinated. it returns and eats. This wealth is green and sweet, and he who accepts it and applies it rightly, finds it a good help, but he who takes it wrongfully is like one who eats without being satisfied.