افضل صدقہ تندرستی اور خوشحالی میں صدقہ کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ أَمَا وَأَبِيکَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَائَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابن فضیل، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سے صدقے کا ثواب بڑا ہے آپ ﷺ نے فرمایا سن تیرے باپ کی قسم تجھے معلوم ہونا چائے کہ اس صدقہ کا دینا افضل ہے جب تو تندرست ہو اور ایسی حالت میں ہو جس میں لوگ بخل کرتے ہیں اور تو فقر و فاقہ کا خوف کرے اور مال کے باقی رکھنے کا امیدوار ہو تو تاخیر نہ کر یہاں تک کہ سانس گلے میں آجائے اور تو کہے فلاں کے لئے اتنا اور فلاں کو اتنا دے دو حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, which charity is the greatest in reward? (The Holy Prophet ﷺ said): By your father, beware, you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, haunted by the fear of poverty, and still hoping to live (as rich). And you must not defer charity (to the time) when you are about to die, and would then say: "This is for so and so, and this for so and so." It has already become the possession of so and so.
افضل صدقہ تندرستی اور خوشحالی میں صدقہ کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ
ابوکامل جحدری، عبدالواحد، عمارہ بن قعقاع، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ کون سا صدقہ افضل ہے۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters except with this change (of words): "Which charity is most excellent?"
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی السَّائِلَةُ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، نافع، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر صدقہ کرنے اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that as Allahs Messenger ﷺ was sitting on the pulpit and talking about Sadaqa and abstention from begging, he said: The upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower one which begs.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًی وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
محمد بن بشار، محمد بن حاتم، احمد بن عبدہ، یحییٰ قطان، یحیی، عمرو بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل یا بہتر صدقہ وہ ہے اس کے بعد بھی دینے والا غنی رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ دینا اپنے عیال سے شروع کرے۔
Hakim bin Hizam reported Allahs Messenger ﷺ having said this: The most excellent Sadaqa or the best of Sadaqa is that after giving which the (giver) remains rich and the upper hand is better than the lower hand, and begin from the members of your household.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدٍ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَکَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، سعید، حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر فرمایا یہ مال ہرا بھرا اور شیریں ہے جو اس کو پاکیزہ نفس سے لیتا ہے تو اس کے لئے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو اس کو نفس کی حرص و ہوس سے لیتا ہے تو اس کے لئے برکت نہیں دی جاتی اور وہ ایسے شخص کی طرح ہوجاتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Hakim bin Hizam reported: I begged the Apostle of Allah ﷺ , and he gave me. I again begged, he again gave me. I again begged, he again gave me, and then said: This property is green and sweet; he who receives it with a cheerful heart is blessed in it, and he who receives it with an avaricious mind would not be blessed in it, he being like one who eats without being satished, and the upper hand is better than the lower hand.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَکَ وَأَنْ تُمْسِکَهُ شَرٌّ لَکَ وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
نصر بن علی جہضمی، زہیر بن حرب، عبد بن حمید، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن آدم اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کردینا تیرے لئے بہتر ہے اگر تو اس کو روک لے گا تو تیرے لئے برا ہوگا اور دینے کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Abu Umama reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O son of Adam, it is better for you if you spend your surplus (wealth), but if you withhold it, it is evil for you. There is (however) no reproach for you (if you withhold means necessary) for a living. And begin (charity) with your dependants; and the upper hand is better than the lower hand.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُا إِيَّاکُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ کَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَکُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید دمشقی، عبداللہ بن عامریحصبی، حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ احادیث سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں مروی تھیں۔ کیونکہ عمر ؓ لوگوں کو اللہ کے بارے میں خوف دیتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں خزانچی ہوں جس کو میں طیب نفس یعنی دلی خوشی سے کچھ عطا کروں تو اس میں اسے برکت ہوتی ہے اور جس کو میں اس کے مانگنے پر اور ستانے پر دوں اس کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Muawiyah said: Be cautious about ahadith except those which were current during the reign of Umar, for he exhorted people to fear Allah, the Exalted and Majestic. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He upon whom Allah intends to bestow goodness, He confers upon him an insight in religion; and I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: I am the treasurer. To one whom I give out of (my own) sweet will, he would be blessed in that, but he whom I give (yielding to his constant begging and for his covetousness is like one who would eat, but would not be satisfied.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْکُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ کَارِهٌ فَيُبَارَکَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، عمرو، وہب بن منبہ، ہمام، حضرت معاو یہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم مانگنے میں لپٹ کر نہ مانگو۔ اللہ کی قسم تم میں کوئی مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو اس کے مانگنے کی وجہ سے وہ چیز مجھ سے نکل جاتی ہے یعنی خرچ ہوجاتی ہے تو اس کو برا جانتا ہوں۔ اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوتی۔
Muawiyah reported AUahs Messenger ﷺ as saying: Do not beg importunately, for, I swear by Allah, none of you who asks me for anything and manages to get what he asks for when I disapprove to it will he be blessed in that which I give him.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَائَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
ابوعمرم کی، سفیان، عمرو بن دینار، وہب بن منبہ حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت و ہب بن منبہ نے حدیث بیان کی اور میں ان کے گھر صنعاء میں داخل ہوا تو مجھے انہوں نے اپنے گھر میں اخروٹ کھلائے اور ان کے بھائی نے مجھے حضرت معاویہ ؓ کی حدیث بیان فرمائی جو گزر چکی ہے۔
Amr bin Dinar reported from Wahb bin Munabbih: I went to his house in Sana and he offered me nuts grown in his house to eat. And his brother said: I heard Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) saying that he had heard the Messenger of Allah ﷺ as saying, and then he made a mention (of a hadith) like one mentioned above.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کرتے ہیں اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اسے عطا کرتا ہوں۔
Abdul Rahman bin Auf reported: I heard Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) saying in an address that he had heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He to whom Allah intends to do good, He gives him insight into religion. And I am only the distributor while Allah is the Bestower.
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْکِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا
قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں جو گھومتا رہتا ہے اور لوگوں کے اردگرد پھرتا رہتا ہے پھر ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں لے کر لوٹ جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول پھر مسکین کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ ہے جو اتنا مالدار نہ ہو جس سے ضرورت زندگی پوری کرسکے اور نہ لوگ اسے مسکین تصور کرتے ہوں کہ اس کو صدقہ دیں اور نہ وہ لوگوں سے کچھ مانگتا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The poor man (miskin) is not the one who goes round to the people and is dismissed with one or two morsels, and one or two dates. They (the Prophets Companions) said: Messenger of Allah, then who is miskin? He said: He who does not get enough to satisfy him, and he is not considered so needy (as to elicit the attention of the benevolent people), so that charity may be given to him, and he does not beg anything from people.
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْکِينُ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن ایوب، اسماعیل، ابن جعفر، شریک، عطاء بن یسار، میمونہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ شخص نہیں ہے کہ جو ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقموں کے ساتھ لوٹ جاتا ہے۔ مسکین تو وہ ہے جو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ اگر چاہو تو تم یہ آیت پڑھو وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Miskin is not he who is dismissed with one or two dates, and with one morsel or two morsels. (In fact) miskin is he who abstains (from begging). Read if you so desire (the verse): "They beg not of men importunately)" (ii. 273).
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکٌ أَخْبَرَنِي عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک، عطاء بن یسار، عبدالرحمن بن ابوعمرہ، ابوہریرہ، اوپر والی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِکُمْ حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، معمر، عبداللہ بن مسلم، زہری، حمزہ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے مانگنے والا ہمیشہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔
Hamza. son of Abdullah, reported on the authority of his father that the Apostle of Allah ﷺ said: When a man is always begging from people, he would meet Allah (in a state) that there would be no flesh on his face.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مُزْعَةُ
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، معمر، زہری، اسی حدیث کی دوسری سند میں مزعہ (ٹکڑے) کا لفظ نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of the brother of Zuhri with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the word "muza" (piece).
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، لیث، عبیداللہ بن ابوجعفر، حمزہ بن عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ آدمی لوگوں سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے اور اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔
Hamza bin Abdullah bin Umar (RA) heard his father say that the Messenger of Allah ﷺ had said: The person would continue begging from people till he would come on the Day of Resurrection and there would be no flesh on his face.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَکَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَکْثِرْ
ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں سے صرف اپنا مال بڑ ھانے کی غرض سے مانگتا ہے تو یہ انگاروں کو مانگتا ہے خواہ کم لے یا زیادہ جمع کرلے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who begs the riches of others to increase his own is asking only for live coals, so let him ask a little or much.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُکُمْ فَيَحْطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنْ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِکَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
ہناد بن سری، ابوالاحوص، بیان ابوبشر، قیس بن ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ فرماتے تھے تم میں کسی کا صبح کے وقت جا کر اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا اٹھا کر لانا اور اس میں سے صدقہ کرنا اور لوگوں سے مستغنی ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے وہ اسے دے یا نہ دے۔ بیشک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کا کھانا تیرے ذمہ ہے ان سے صدقہ شروع کر۔
Abu Hurairah (RA) is reported to have heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is better for one among you to bring a load of firewood on his back and give charity out of it (and satisfy his own need) and be independent of people, than that he should beg from people, whether they give him anything or refuse him. Verily the upper hand is better than the lower hand, and begin (charity) with your dependants.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُکُمْ فَيَحْطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، اسماعیل، قیس بن ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم تم میں سے کوئی صبح اس حال میں کرے کہ اپنی پیٹھ پر لکڑی اٹھا کر لائے پھر ان کو بیچ دے باقی حدیث بیان ہوچکی ہے۔
Qais bin Abu Hizam reported: We came to Abu Hurairah (RA) and he told Allahs Messenger ﷺ having said this: By Allah, (it is better) that one among you should go and bring a load of firewood on his back and he should sell it, and the rest of the hadith was narrated (like the previous one).
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُکُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَی ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ
ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، ابن عبید مولیٰ عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لادے پھر ان کو بیچ دے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ لوگوں سے مانگے معلوم نہیں کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is better for any one of you to tie a bundle of firewood and carry it on his back and sell it than to beg a person, he may give or may refuse.