حلال کمائی سے صدقہ کی قبولیت اور اس کے بڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ کَسْبٍ طَيِّبٍ إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا کَمَا يُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن قاری، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنی پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اس کی پرورش کرتا ہے جیسا کہ تم میں کوئی اپنے بچھڑے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ یا اس سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No one gives Sadaqa of a date out of his honest earning, but Allah accepts it with His Right Hand, and then fosters it as one of you fosters the colt or a young she-camel, till it becomes like a mountain or even greater.
حلال کمائی سے صدقہ کی قبولیت اور اس کے بڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ مِنْ الْکَسْبِ الطَّيِّبِ فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا
امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح بن قاسم، احمد بن عثمان اودی، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ پاک کمائی سے صدقہ دے اور یہ صدقہ اس کے حق کی جگہ میں دے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a change of words. In the hadith transmitted by Rauh (the words are): "Out of the honest earning and its spending at what is its (due) right"; and in the hadith transmitted by Sulaiman (the words are): "And its spending at its proper place."
حلال کمائی سے صدقہ کی قبولیت اور اس کے بڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ عَنْ سُهَيْلٍ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، ہشام بن سعد، زید بن اسلم، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث مروی ہے۔
Narrated Abu Huraira:
This hadith has been transmitted through another chain the same as the narration of Yaqub from Suhail (# 2212).
حلال کمائی سے صدقہ کی قبولیت اور اس کے بڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَی السَّمَائِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّی يُسْتَجَابُ لِذَلِکَ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، فضیل بن مرزوق، عدی بن ثابت، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگوں اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو دیا اللہ نے فرمایا اے رسولو! تم پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو میں تمہارے عملوں کو جاننے والا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو ہم نے جو تم کو پاکیزہ رزق دیا اس میں سے کھاؤ پھر ایسے آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبے لمبے سفر کرتا ہے پریشان بال جسم گرد آلود اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف دراز کر کے کہتا ہے اے رب اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام اور اس کا پہننا حرام اور اس کا لباس حرام اور اس کی غذا حرام تو اس کی دعا کیسے قبول ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O people, Allah is Good and He therefore, accepts only that which is good. And Allah commanded the believers as He commanded the Messengers by saying: "O Messengers, eat of the good things, and do good deeds; verily I am aware of what you do" (xxiii. 51). And He said: O those who believe, eat of the good things that We gave you" (ii. 172) He then made a mention of a person who travels widely, his hair dishevelled and covered with dust. He lifts his hand towards the sky (and thus makes the supplication): "O Lord,O Lord," whereas his diet is unlawful, his drink is unlawful, and his clothes are unlawful and his nourishment is unlawful. How can then his supplication be accepted?
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ
عون بن سلام کوفی، زہیر بن معاویہ جعفی، ابواسحاق، عبداللہ بن معقل، حضرت عدی ؓ بن حاتم سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم میں سے کوئی ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر بھی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہو تو کر گزرے۔
Adi bin Hatim reported that he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who among you can protect himself against Fire, he should do so, even if it should be with half a date.
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُکَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَی إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَی إِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَی إِلَّا النَّارَ تِلْقَائَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ بِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ و قَالَ إِسْحَقُ قَالَ الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، ابن حجر، عیسیٰ بن یونس، اعمش، خیثمہ، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ اللہ عنقریب گفتگو اس طرح کرے گا کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا آدمی اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال نظر آئیں گے اپنے بائیں اپنے اعمال دیکھے گا اپنے آگے دوزخ دیکھے گا اپنے منہ کے سامنے آگ، تو آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو یا کسی عمدہ گفتگو سے ہی۔
Adi bin Hatim reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah will speak with everyone amongst you without any interpreter between them. He (the man) would see towards his right and would not find anything but (the deeds) which he had done before, and he would see towards the left and would not find anything but (the deeds) which he had done before. He would see in front of him and would find nothing but Fire just before his face. So protect (yourselves) against Fire even if it is with the help of half a date. A hadith like this has been transmitted by Khaithama and addition has been made in this of (these words); "Even if it is with a good word."
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ کَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو کُرَيْبٍ کَأَنَّمَا وَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، عمرو بن مرہ، خیثمہ، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوزخ کا ذکر فرمایا پھر اس سے بہت زیادہ اعراض کیا پھر فرمایا دوزخ سے بچو پھر آپ ﷺ نے اعراض کیا اور زیادہ کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا گویا آپ ﷺ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں پھر فرمایا دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو پس جو یہ نہ پائے تو کلمہ طیبہ کے ساتھ ہی۔
Adi bin Hatim reported that the Messenger of Allah ﷺ made a mention of Fire. He turned his face aside and diverted his attention and then said: Guard (yourselves) against Fire. He turned his face and diverted his attention till we thought as if he were (actually seeing it and then said: Protect yourselves against Fire even if it is with half a date, and he who does not find it, (he should do so) with pleasant words. Abu Kuraib did not mention the word: (as if).
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَکَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، خیثمہ، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوزخ کا تذکرہ فرمایا اس سے پناہ مانگی اور تین مرتبہ اپنا چہرہ مبارک پھیرا پھر فرمایا دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے ذریعہ ہی ہو اگر تم یہ نہ پاؤ تو کلمہ طیبہ سے ہی سہی۔
Adi bin Hatim reported that the Messenger of Allah ﷺ made a mention of the Fire and sought refuge with Allah against it. He turned aside his face three times and then said: Protect yourselves against Fire even if with half a date. But if you fail to find it (then protect yourselves against Fire) with the help of a pleasant word).
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَائَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوْ الْعَبَائِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَی بِهِمْ مِنْ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ الَّذِي خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ کَانَ عَلَيْکُمْ رَقِيبًا وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ کَادَتْ کَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَأَيْتُ کَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّی رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ کَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً کَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئٌ
محمد بن مثنی عنزی، محمد بن جعفر، شعبہ، عون بن ابی جحیفہ، منذر بن جریر، حضرت جریر سے روایت ہے کہ ہم دن کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو ایک قوم ننگے پاؤں ننگے بدن چمڑے کی عبائیں پہنے تلوراوں کو لٹکائے ہوئے حاضر ہوئی ان میں سے اکثر بلکہ سارے کے سارے قبیلہ مضر سے تھے تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس ان کے فاقہ کو دیکھ کر متغیر ہوگیا آپ ﷺ گھر تشریف لے گئے پھر تشریف لائے تو حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی۔ پھر آپ نے خطبہ دیا فرمایا اے لوگوں اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے آیت کی تلاوت کی (يٰ اَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَا ءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَا ءَلُوْنَ بِه وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا) 4۔ النسآء: 1) تک اور وہ آیت جو سو رۃ حشر کی ہے (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) 59۔ الحشر: 18) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ آدمی اپنے دینار اور درہم اور اپنے کپڑے اور گندم کے صاع سے اور کھجور کے صاع سے صدقہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی ہو پھر انصار میں سے ایک آدمی تھیلی اتنی بھاری لے کر آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھا نے سے عاجز ہو رہا تھا پھر لوگوں نے اس کی پیروی کی یہاں تک کی میں نے دو ڈھیر کپڑوں اور کھانے کے دیکھے اور رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس کندن کی طرح چمکتا ہوا نظر آ نے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں کسی اچھے طریقہ کی ابتداء کی تو اس کے لئے اس کا اجر اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا ثواب ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کمی کی جائے اور جس اسلام میں کسی برے عمل کی ابتداء کی تو اس کے لئے اس کا گناہ ہے اور ان کا کچھ گناہ جنہوں نے اس کے بعد عمل کیا بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی کی جائے۔
Mundhir bin Jarir reported on the authority of his father: While we were in the company of the Messenger of Allah ﷺ in the early hours of the morning, some people came there (who) were barefooted, naked, wearing striped woollen clothes, or cloaks, with their swords hung (around their necks). Most of them, nay, all of them, belonged to the tribe of Mudar. The colour of the face of the Messenger of Allah ﷺ underwent a change when he saw them in poverty. He then entered (his house) and came out and commanded Bilal (RA) (to pronounce Adhan). He pronounced Adhan and Iqima, and he (the Holy Prophet) observed prayer (along with his Companion) and then addressed (them reciting verses of the Holy Quran): "O people, fear your Lord, Who created you from a single being" to the end of the verse, "Allah is ever a Watcher over you" (iv. 1). (He then recited) a verse of Sura Hashr: "Fear Allah, and let every soul consider that which it sends forth for the morrow and fear Allah" (lix. 18). (Then the audience began to vie with one another in giving charity.) Some donated a dinar, others a dirham, still others clothes, some donated a sa of wheat, some a sa of dates; till he (the Holy Prophet) said: (Bring) even if it is half a date. Then a person from among the Ansar came there with a money bag which his hands could scarcely lift; in fact, they could not (lift). Then the people followed continuously, till I saw two heaps of eatables and clothes, and I saw the face of the Messenger ﷺ glistening, like gold (on account of joy). The Messenger of Allah ﷺ said: He who sets a good precedent in Islam, there is a reward for him for this (act of goodness) and reward of that also who acted according to it subsequently, without any deduction from their rewards; and he who sets in Islam an evil precedent, there is upon him the burden of that, and the burden of him also who acted upon it subsequently, without any deduction from their burden.
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنْ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عون بن ابی جحیفہ، منذربن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے پھر آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی اور خطبہ دیا۔ باقی حدیث گزر چکی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Mandhir through another chain of transmitters. And the hadith transmitted by Ibn Muadh contains an addition: "He then observed the noon prayer and then gave the sermon."
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي کِتَابِهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الْآيَةَ
عبیداللہ بن عمر قواریری، ابوکامل، محمد بن عبدالملک اموی، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، منذر بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ چند لوگ ننگے چمڑے کی عبائیں پہنے ہوئے آئے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز پڑھ کر چھوٹے منبر پر تشریف لائے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا اما بعد اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے
Mundhir bin Jarir narrated on the authority of his father: When we were sitting in the company of the Apostle of Allah ﷺ . There came people dressed in striped woollen clothes, and the rest of the hadith in the same, and there (it is also mentioned): "He observed the Zuhr prayer and then climbed up a small pulpit, praised Allah, lauded Him, and then said: Verily Allah in His Book has revealed: O people, fear your Lord, etc." (iv. 1).
صدقہ کی ترغیب اگرچہ ایک کھجور یا عمدہ کلام ہی ہو وہ دوزخ سے آڑ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ الصُّوفُ فَرَأَی سُوئَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، موسیٰ بن عبداللہ بن یزید، ابوضحی، عبدالرحمن بن ہلال عبسی، جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ چند دیہاتی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اون پہنی ہوئی تھی اور ان کا حال برا تھا آپ ﷺ نے ان کا برا حال دیکھا تو ان کے ضرورت مند ہونے کا خیال فرمایا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
Jarir bin Abdullah reported: People came to to the Messenger of Allah ﷺ and they were dressed in woollen clothes. He (the Holy Prophet) saw their dismal state, as they were suffering from want and the rest of the hadith is the same.
مزدور اپنی مزدوری سے صدقہ کے کریں اور کم صدقہ کرنے والے کرنے والے کی تنقیض کرنے سے رو کنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ قَالَ کُنَّا نُحَامِلُ قَالَ فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ قَالَ وَجَائَ إِنْسَانٌ بِشَيْئٍ أَکْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَائً فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ
یحییٰ بن معین، غندر، شعبہ، بشر بن خالد، ابن جعفر، شعبہ، سلیمان، ابو وائل، حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا حالانکہ ہم بوجھ اٹھا کر مزدوری کیا کرتے تھے اور صدقہ دیا ابوعقیل نے آدھا صاع اور کوئی دوسرا آدمی ان سے زیادہ لایا تو منافقین نے کہا بیشک اللہ اس صدقہ سے بےپرواہ ہے تو دوسرے نے تو صرف دکھاوے ہی کے لئے ایسا کیا ہے تو ( الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ ) نازل ہوئی جو لوگ طعنہ دیتے ہیں خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں کو اور ان لوگوں کو جو اپنی مزدوری کے سوا کچھ نہیں پاتے ہیں اور بشر کی روایت میں مُطَّوِّعِينَ کا لفظ نہیں ہے
Abu Masud reported: We were commanded to give charity (despite the fact) that we were coolies. Abu Aqil donated half a sa. And there came another man with more than this. The hypocrites said: Verily Allah does not stand in need of the charity of this, and the second one has done nothing but only made a show (of his charity). Then this verse was revealed. "Those who scoff at the voluntary givers of charity among the believers as well as those who cannot find anything (to give) but with their hard labour" (ix. 80). And Bishr did not utter the word Muttawwiin.
مزدور اپنی مزدوری سے صدقہ کے کریں اور کم صدقہ کرنے والے کرنے والے کی تنقیض کرنے سے رو کنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ح و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ کُنَّا نُحَامِلُ عَلَی ظُهُورِنَا
محمد بن بشار، سعید بن ربیع، اسحاق بن منصور، ابوداد، شعبہ، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے، سعید بن ربیع کی حدیث میں ہے کہ مزدوری پر اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے تھے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters and in the hadith transmitted by Said bin al Rabi (the words are): "We used to carry loads on our backs."
دو دھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آ گاہ رہو جو آدمی کسی گھر والوں کو ایسی اونٹنی دیتا ہے جو صبح بھی برتن بھرے اور شام کو بھی تو اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) (that the Messenger of Allah) ﷺ said: Of course the person who gives to the family a she-camel as a gift, which gives milk, morning and evening equal to a large bowl, its reward (the reward of the gift) is great.
دو دھ والا جانور مفت دینے کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی فَذَکَرَ خِصَالًا وَقَالَ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا
محمد بن احمد بن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبداللہ بن زید، عدی بن ثابت، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کئی باتوں سے اور فرمایا جس نے دودھ دینے والی اونٹنی دی تو اونٹنی کا صبح کو دودھ دینا بھی اس کے لئے صدقہ ہوگا اور شام کو بھی اس کے لئے صدقہ ہوگا صبح کو صبح کے دودھ کے پینے کا اور شام کو شام کے دودھ پینے کا۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ forbade (to do certain things) and then he made a mention of certain habits and said: He who gives a she-camel as a gift, for him is the reward (of the gift) both morning and evening, a reward for drinking milk in the morning and a reward for drinking milk in the evening.
سخی اور بخیل کی مثال کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَی تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ وَقَالَ الْآخَرُ فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّی تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خرچ کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے (اصل میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ سخی اور بخیل کی مثال اس آدمی جیسی ہے) جس کے اوپر دو زرہیں یا دو کرتے ہوں اس کی چھاتیوں سے ہنسلی ( گلے) کی ہڈی تک، جب خرچ کرنے والا ارادہ کرے اور دوسرے راوی نے کہا جب صدقہ کرنے والا ارادہ کرے کہ وہ صدقہ کرے تو وہ زرہ کھل جائے یا لمبی ہوجائے اور اس کے سارے بدن پر پھیل جائے اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرے تو وہ زرہ اس پر تنگ ہوجائے اور اتنی سکڑ جائے کہ ہر کڑی اپنی جگہ پر کس جائے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے نشان کو مٹا دے ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اس کو کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی۔
Abu Haraira reported that the likeness of one who spends or one who gives charity is that of a person who has two cloaks or two coats-of-mail over him right from the breast to the collar bones. And when the spender (and the other narrator said, when the giver of charity) makes up his mind to give charity, it (coat-mail) becomes expanded for him. But when a miserly person intends to spend, it contracts and every ring grips the place where it is. For the giver of charity, this coat-of mail expands to cover his whole body and obliterates even his footprints. Abu Hurairah (RA) said: (The miserly man) tries to expand it (the coat-of-mail) but it does not expand.
سخی اور بخیل کی مثال کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَی ثُدِيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّی تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ کُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ مَکَانَهَا قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَوَسَّعُ
سلیمان بن عبیداللہ، ابوایوب غیلانی، ابوعامر عقدی، ابراہیم بن نافع، حسن بن مسلم، طاؤس، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان فرمائی جیسا کہ دو آدمی ہوں ان پر لو ہے کی دو زر ہیں ہوں اور ان کے دونوں ہاتھ چھا تیوں کی طرف گلوں میں باندھ دئیے گئے ہوں صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرنا چاہے تو وہ زرہ اس پر کشادہ ہوجائے یہاں تک کے ڈھانپ لے اس کے پوروں کو اور مٹا دے اس کے قدموں کے نشانات کو اور بخیل جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرے۔ تو وہ زرہ تنگ ہوجائے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ پھنس جائے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے گر یبان میں انگلیوں کو ڈال کر اشارہ فرمایا اگر تو دیکھتا کہ آپ ﷺ زرہ کشادہ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔
Abu Haraira reported that the Messenger of Allah ﷺ gave similitudes of a miserly man and the giver of charity as two persons who have two coats-of-mail over them with their hands pressed closely to their breasts and their collar bones. Whenever the giver of charity gives charity it (the coat-of mail) expands so much as to cover his finger tips and obliterate his foot prints. And whenever the miserly person intends to give charity (the coat-of-mail) contracts and every ring grips the place where it is. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: I saw the Messenger of Allah ﷺ saying with fingers in the opening of his shirt: "If you had seen him trying to expand it, it will not expand."
سخی اور بخیل کی مثال کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ وُهَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ إِذَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّی تُعَفِّيَ أَثَرَهُ وَإِذَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ تَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَی تَرَاقِيهِ وَانْقَبَضَتْ کُلُّ حَلْقَةٍ إِلَی صَاحِبَتِهَا قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا يَسْتَطِيعُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، احمد بن اسحاق حضرمی، وہیب، عبداللہ بن طاؤس، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر دو زرہیں لوہے کی ہوں جب صدقہ دینے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اس پر کشادہ ہوجائے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے نشانات کو مٹا دے اور جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرے تو وہ اس پر تنگ ہوجائے اور اس کے ہاتھ اس کے گلے میں پھنس جائیں اور ہر حلقہ دوسرے حلقہ میں گھس جائے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا وہ اس کو کشادہ کرنے کی کوشش کرے لیکن طاقت نہیں رکھتا۔
Abu Haraira reported Allahs Messenger ﷺ as-saying: The similitude of a miserly man and the giver of charity is that of two persons with coats of mail over them; when the giver of charity intends to give charity, it expands over him (so much) that the footprints are also obliterated. And when the miserly man intends to give charity, it contracts over him, and his hands are tied up to his collar bone, and every ring is fixed up to another. He (the narrator) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He would try to expand it, but he would not be able to do so.
صدقہ اگرچہ فاسق و غیرہ کے ہاتھ پہنیچ جائے صدقہ دینے والے کو ثواب ملنے کے ثبوت کے بیان۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَی زَانِيَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَی غَنِيٍّ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَی سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلَی زَانِيَةٍ وَعَلَی غَنِيٍّ وَعَلَی سَارِقٍ فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُکَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ آج رات ضرور صدقہ کروں گا۔ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا۔ تو اس نے وہ صدقہ کا مال کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھا صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ رات کو زانیہ کو صدقہ دیا تو اس نے کہا اے اللہ! تیرے ہی لئے زانیہ پر صدقہ دینے پر تعریف ہے، پھر اس نے صدقہ کا مال مالدار کے ہاتھ میں دے دیا لوگوں نے صبح کو باتیں کی کہ رات کو مالدار پر صدقہ دیا گیا۔ تو اس نے کہا اے اللہ مالدار پر صدقہ پہنچا دینے میں تیری ہی تعریف ہے اس نے مزید صدقہ دینے کا ارادہ کیا اور صدقہ دینے کے لئے نکلا تو چور کے ہاتھ میں دے دیا صبح کو لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں کہ رات کو چور پر صدقہ کیا گیا تو اس نے کہا اے اللہ زانیہ مالدار اور چور تک صدقہ پہنچا دینے میں تیرے ہی لئے تعریف ہے اس کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا کہ تیرے سب کے سب صدقات قبول کر لئے گئے زانیہ کو صدقہ اس لئے دلوایا گیا کہ شاید وہ آئندہ زنا سے باز رہے اور شاید کہ مالدار عبرت حاصل کرے اور اللہ نے جو اسے عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرے اور شاید کہ چور چوری کرنے سے باز آجائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A man expressed his intention to give charity, so he came out with charity and placed it in the hand of an adulteress. In the morning, the people were talking and saying: charity was given to an adulteress last night. He (the giver of Sadaqa) said: O Allah, to Thee be the praise-to an adulteress. He then again expressed his intention to give charity; so he went out with the charity and placed it in the hand of a rich person. In the morning the people were talking and saying: Charity was given to a rich person. He (the giver of charity) said: O Allah, to Thee be the praise-to a well-to-do person. He then expressed his intention to give charity, so he went out with charity and placed it in the hand of a thief. In the morning, the people were talking and saying: Charity was given to a thief. So (one of the persons) said: O Allah, to Thee be the praise (what a misfortune it is that charity has been given to) the adulteress, to a rich person, to a thief! There came (the angel to him) and he was told: Your charity has been accepted. As for the adulteress (the charity might become the means) whereby she might restrain herself from fornication. The rich man might perhaps learn a lesson and spend from what Allah has given him, and the thief might thereby refrain from committing theft.