رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، ابوکریب، وکیع، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَوْ رَاهِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا قَالَ نَعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ہشام بن عروہ، حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری والدہ حالت کفر میں میرے پاس آئیں کیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ فرمایا جی ہاں۔
Asma daughter of Abu Bakr (RA) reported: I said: Messenger of Allah, my mother, who is inclined or scared has come to me. Should I (even in her position of being opposed to Islam) treat her well? He said: Yes.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِکَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ نَعَمْ صِلِي أُمَّکِ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ میری والدہ میرے پاس آئیں حالانکہ وہ مشرکہ تھی جب کہ آپ ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کیا میں نے عرض کیا کہ میری مشرکہ والدہ میرے پاس آئی ہے کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کروں آپ ﷺ نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کر۔
Asma bint Abu Bakr (RA) reported: My mother who was a polytheist came to me when he (the Holy Prophet) entered into treaty with the Quraish (of Makkah). I inquired from the Messenger of Allah ﷺ saying: Messenger of Allah, there has come to me my mother and she is inclined; should I (in this state of her mind) show her kindness? He said: Yes, treat her kindly.
میت کی طرف سے ایصال ثواب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّيَ افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تُوصِ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَلَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میری والدہ بغیر وصیت کے فوت ہوگئی ہے اور میرا گمان ہے اگر وہ بات کرتی تو وہ صدقہ کرتی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو ثواب ہوجائے گا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔
Aisha said that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: My mother died suddenly without having made any will. I think she would have definitely given Sadaqa if she had been able to speak. Would she have a reward if I gave Sadaqa on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Yes.
میت کی طرف سے ایصال ثواب کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ تُوصِ کَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ وَلَمْ يَقُلْ ذَلِکَ الْبَاقُونَ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابوکریب، ابواسامہ، علی بن حجر، علی بن مسہر، حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام، ابواسامہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Abu Usama the words are: "She did not make any will," as it has been reported by Ibn Bishr, but it was not reported by the rest of the narrators.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ قَالَ قَالَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، ابومالک اشجعی، ربعی بن حراش، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔
Hudhaifa and Abu Shaiba reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every act of goodness is sadaqa.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَی أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَکُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّ بِکُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَکْبِيرَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً وَکُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِکُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَکُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَکَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ فَکَذَلِکَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ کَانَ لَهُ أَجْرًا
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی بن میمون، واصل مولیٰ ابی عیینہ، یحییٰ بن عقیل، یحییٰ بن یعمر، ابواسود دیلی، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ اصحاب النبی ﷺ میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مالدار سب ثواب لے گئے وہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال سے صدقہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جس سے تم کو بھی صدقہ کا ثواب ہو ہر تسبیح ہر تکبیر صدقہ ہے ہر تعریفی کلمہ صدقہ ہے اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔
Abu Dharr (RA) reported: some of the people from among the Companions of the Apostle of Allah ﷺ said to him: Messenger of Allah, the rich have taken away (all the) reward. They observe prayer as we do; they keep the fasts as we keep, and they give Sadaqa out of their surplus riches. Upon this he (the Holy Prophet) said: Has Allah not prescribed for you (a course) by following which you can (also) do sadaqa? In every declaration of the glorification of Allah (i. e. saying Subhan Allah) there is a Sadaqa, and every Takbir (i. e. saying Allah-O-Akbar) is a sadaqa, and every praise of His (saying al-Hamdu Lillah) is a Sadaqa and every declaration that He is One (La illha ill-Allah) is a sadaqa, and enjoining of good is a sadaqa, and forbidding of that which is evil is a Sadaqa, and in mans sexual intercourse (with his wife,) there is a Sadaqa. They (the Companions) said: Messenger of Allah, is there reward for him who satisfies his sexual passion among us? He said: Tell me, if he were to devote it to something forbidden, would it not be a sin on his part? Similarly, if he were to devote it to something lawful, he should have a reward.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَی سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ کَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْکَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَی عَنْ مُنْکَرٍ عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَی فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنْ النَّارِ قَالَ أَبُو تَوْبَةَ وَرُبَّمَا قَالَ يُمْسِي
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ ربیع بن نافع، معاویہ بن سلام، زید، ابوسلام، عبداللہ بن فروخ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی اور اللہ کی تعریف کی اور تہلیل یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اور اَسْتَغْفَرَ اللَّهَ کہا اور لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیا اور نیکی کا حکم کیا اور برائی سے منع کیا تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر۔ اس دن چلتا ہے حالانکہ اس نے اپنی جان کو دوزخ سے دور کرلیا ہے ابوتوبہ کی روایت ہے کہ وہ شام کو سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every one of the children of Adam علیہ السلامhas been created with three hundred and sixty joints; so he who declares the Glory of Allah, praises Allah, declares Allah to be One, Glorifies Allah, and seeks forgiveness from Allah, and removes stone, or thorn, or bone from peoples path, and enjoins what is good and forbids from evil, to the number of those three hundred and sixty-four, will walk that day having removed himself from Hell.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ وَقَالَ فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ، زیداوپر والی حدیث ہی کی دوسری سند ذکر کی ہے الفاظ کے تغیر وتبدل کی طرف اشارہ کیا معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zaid with the same chain of transmitters except with (a slight) change of words (i. e. he [the Holy Prophet]) said: Or he enjoined what is good,... and said: He enters the evening [ie. he walks till evening].
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ عَنْ زَيْدٍ وَقَالَ فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ
ابوبکر بن نافع عبدی، یحییٰ بن کثیر، علی بن مبارک، یحیی، زید بن سلام، ابوسلام، عبداللہ بن فروخ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے معاویہ عن زید کی حدیث کی طرح اور اس میں ہے کہ وہ اس دن شام کرتا ہے۔
This hadith has been narrated by Aisha through another chain of transmitters in which she reported Allahs Messenger ﷺ as saying: "Every man is created"; the rest of the hadith is the same and he said: "He walks on that day."
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالَ قِيلَ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ الْخَيْرِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يُمْسِکُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، شعبہ، سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے عرض کیا گیا اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کمائے اور اپنے آپ کو نفع پہنچائے اور صدقہ کرے، عرض کیا اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ضرورت مند مصیبت زدہ کی مدد کرے، آپ سے عرض کیا گیا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو آپ ﷺ نے فرمایا نیکی کا حکم کرے اور یہ بھی نہ کرسکے تو آپ ﷺ کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا برائی سے رک جائے اس کے لئے یہ بھی صدقہ ہے۔
Said bin Abu Burda reported on the authority of his grandfather that the Apostle of Allah ﷺ said: Giving of Sadaqa is essential for every Muslim. It was said (to him): What do you say of him who does not find (the means) to do so? He said: Let him work with both his hands, thus doing benefit to himself and give Sadaqa. It was said to him: What about him who does not have (the means) to do so? He said: Then let him assist the needy, the aggrieved. It was said: What do you say of one who cannot even do this? He said: Then he should enjoin what is reputable or what is good. He said: What about him if he cannot do that? He (the Holy Prophet) said: He should then abstain from evil, for verily that is Sadaqa on his behalf.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
ہر قسم کی نیکی پر صدقہ کا نام واقع ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ سُلَامَی مِنْ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ کُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ قَالَ تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ قَالَ وَالْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَکُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَی الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ہر آدمی کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہوتا ہے فرمایا دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
Hammam bin Munabbih reported that-this is out of (those ahadith) which Abu Hurairah (RA) narrated to us from Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ . And he while making a mention of ahadith reported from Allahs Messenger ﷺ said this: Sadaqa is due on every joint of a person, every day the sun rises. Administering of justice between two men is also a Sadaqa. And assisting a man to ride upon his beast, or helping him load his luggage upon it, is a Sadaqa; and a good word is a Sadaqa; and every step that you take towards prayer is a Sadaqa, and removing of harmful things from the pathway is a Sadaqa.
خرچ کرنے والے اور بخل کرنے والے کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَکَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا
قاسم بن زکریا، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، معاویہ بن ابومزرد، سعید بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والوں کو اچھا بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ بخیل کو ہلاک کرنے والا مال عطا کر۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is never a day wherein servants (of God) get up at morn, but are not visited by two angels. One of them says: O Allah, give him more who spends (for the sake of Allah), and the other says: O Allah, bring destruction to one who withholds.
صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا فَيُوشِکُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا لَوْ جِئْتَنَا بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا
ابوبکر بن ابی شبیہ، ابن نمیر، وکیع، شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، معبد بن خالد، حضرت حارثہ ؓ بن وہب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا صدقہ کرو کیونکہ عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ لے کے چلے گا تو وہ جس کو دے گا وہ کہے گا اگر تو میرے پاس کل لے آتا تو اس کو قبول کرلیتا لیکن اس وقت مجھے اس کی حاجت ضرورت نہیں غرض اسے کوئی نہ ملے گا جو صدقہ قبول کرلے۔
Haritha bin Wahb reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Give Sadaqa, for a time is about to come when a person would walk with alms and the one whom it is to be given would say: Had you brought it yesterday, I would have accepted it. For the present I do not need it. And the giver of Sadaqa would not find anyone to accept it.
صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنْ الذَّهَبِ ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ وَيُرَی الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَکَثْرَةِ النِّسَائِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بَرَّادٍ وَتَرَی الرَّجُلَ
عبداللہ بن براد اشعری، ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، بریدہ، حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا کہ آدمی سونے کا صدقہ لے کر پھرے گا پھر وہ کسی کو اس سے لینے والا نہ پائے گا اور ایک آدمی دیکھا جائے گا کہ چالیس عورتیں اس کے پیچھے ہوں گی اور اس سے پناہ لیں گی مردوں کی قلت اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ابن براد کی روایت ہے کہ تو آدمی کو دیکھے گا۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would come a time for the people when a person would roam about with Sadaqa of gold, but he would find no one to accept it from him. And a man would be seen followed by forty women seeking refuge with him on account of the scarcity of males and abundance of females.
صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَکْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّی يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَکَاةِ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّی تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن قاری، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک مال کی کثرت نہ ہوجائے گی اور بہہ نہ پڑے گا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا اور وہ کسی کو نہ پائے گا جو اس سے صدقہ قبول کرلے یہاں تک کہ عرب کی زمین چراگاہوں اور نہروں کی طرف لوٹ آئے گی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (way peace be upon him) as saying: The Last Hour will not come before wealth becomes abundant and overflowing, so much so that a man takes Zakat out of his property and cannot find anyone to accept it from him and till the land of Arabia becomes meadows and rivers.
صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَکْثُرَ فِيکُمْ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّی يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً وَيُدْعَی إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لَا أَرَبَ لِي فِيهِ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تمہارے پاس مال کی کثرت نہ ہوجائے اور وہ بڑھ نہ جائے یہاں تک کہ مال والا سوچے گا کہ اس سے صدقہ کون وصول کرے گا اور اس کی طرف آدمی صدقہ لینے کے لئے بلایا جائے گا تو وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Last Hour will not come till wealth is abundant and overflowing, so much so that the owner of the property will think as to who will accept Sadaqa from him, and a person would be called to accept Sadaqa and he would say: I do not need it.
صدقہ قبول کرنے والا نہ پانے سے پہلے پہلے صدقہ کرنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقِيئُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ کَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيئُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَتَلْتُ وَيَجِيئُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي وَيَجِيئُ السَّارِقُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا
واصل بن عبدالاعلی، ابوکریب، محمد بن یزید رفاعی، محمد بن فضیل، حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کی قے کر دے گی سونے اور چاندی کے ستونوں کی طرح۔ قاتل آکر کہے گا اسی کی وجہ سے میں نے قتل کیا تھا اور قطع رحمی کرنے والا کہے گا میں نے اسی کی وجہ سے قطع رحمی کی چوری کرنے والا آئے گا تو کہے گا اسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر وہ سب اس کو چھوڑ دیں گے وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The earth will vomit long pieces of its liver like columns of gold and silver, and the murderer will come and say: It was for this that I committed murder. The breaker of family ties will come and say: It was for this that I broke the family ties; and the thief will come and say: It is for this that my hands were cut off. They will then leave it and will not take anything out of it.
حلال کمائی سے صدقہ کی قبولیت اور اس کے بڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ کَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِي کَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّی تَکُونَ أَعْظَمَ مِنْ الْجَبَلِ کَمَا يُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، سعید بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے جو اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے تو اللہ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو تو وہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑا ہوجاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (tray peace be upon him) as saying: If anyone gives as Sadaqa the equivalent of a date from that (earning) earned honestly, for Allah accepts that which is lawful, the Lord would accept it with His Right Hand, and even if it is a date, it would foster in the Hand of the Lord, as one of you fosters his colt, till it becomes bigger than a mountain.