زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported the same from the Prophet ﷺ .
صدقہ کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَاأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَی أُحُدٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاکَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَی ثَالِثَةً عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَکَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهَکَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَهَکَذَا عَنْ شِمَالِهِ قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الْأَکْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَی قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ کَمَا أَنْتَ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّی تَوَارَی عَنِّي قَالَ سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَائَ ذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ فَقَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن یحیی، ابن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز کے وقت مدینہ کی زمین حرہ میں چل رہا تھا اور ہم احد کو دیکھ رہے تھے تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا لبیک اے اللہ کے رسول! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کا ہو اور تیسری شب تک میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی بچ جائے سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے روک رکھوں بلکہ میں اللہ کے بندوں کو اس طرح بانٹوں اور آپ ﷺ نے اپنے سامنے ایک لپ بھر کر اشارہ کیا اور اسی طرح دائیں اور اسی طرح اپنے بائیں پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول! فرمایا کثرت مال والے ہی قلیل مال والے ہوں گے قیامت کے دن سوائے ان لوگوں کے جو اس طرح اور اس طرح دیتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے پہلی مرتبہ کیا پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! تم یہاں ہی رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آؤں آپ ﷺ چلے کہ مجھ سے چھپ گئے پھر میں نے کچھ گنگناہٹ اور آواز سنی تو میں نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی امر پیش آگیا ہو میں نے آپ ﷺ کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو مجھے آپ ﷺ کا حکم یاد آگیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں تم اپنی جگہ پر ہی رہنا میں نے آپ ﷺ کا انتظار کیا جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے اس کا ذکر کیا جو میں نے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو فوت ہوا اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا، ابوذر کہتے ہیں میں نے کہا اگر اس نے زنا کیا یا چوری کی فرمایا اگرچہ اس نے زنا یا چوری کی۔
Abu Dharr (RA) reported: I walked with the Messenger of Allah ﷺ on the stony ground of Madinah in the afternoon and we were looking at Uhud. The Messenger of Allah ﷺ (may peace by upon him) said: Abu Dharr! I said: Messenger of Allah, I am here at thy beck and call. He said: What I desire is that Uhud be gold with me and three nights should pass and there is left with me any dinar but one coin which I would keep to pay debt. (I love) to spend it among the servants of Allah like this and he pointed in front of him, and on his right side and on his left side. We then proceeded on and he said: Abu Dharr. I said: At thy beck and call, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: The rich would be poor on the Day of Resurrection, but he who spent like this and like this and like this, and he pointed as at the first time. We again went on when he said. Abu Dharr, stay where you are till I come back to you. He (the Holy Prophet) then moved on till he disappeared from my sight. He (Abu Dharr) said: I heard a sound and I heard a noise. I said (to myself): The Messenger of Allah ﷺ might have met (mishap or an enemy). I wished to follow him but I remembered his command for not departing till he would come back. So I waited for him, and when he came I made a mention of what I heard. He said: it was Gabriel (علیہ السلام), who came to me and said: "He who dies among your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I said: Even if he committed fornication or theft? He said: Even if he committed fornication or theft.
صدقہ کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَکْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ إِنَّ الْمُکْثِرِينَ هُمْ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَائَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ اجْلِسْ هَا هُنَا قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّی أَرْجِعَ إِلَيْکَ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّی لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ فَلَمَّا جَائَ لَمْ أَصْبِرْ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ مَنْ تُکَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْکَ شَيْئًا قَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ بَشِّرْ أُمَّتَکَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، زید بن وہب، ابوذر ؓ روایت ہے کہ میں ایک رات نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے بغیر کسی ہمراہی انسان کے ٹہل رہے تھے میں نے گمان کیا آپ ﷺ اپنے ساتھ کسی کے چلنے کو ناپسند فرمائیں گے تو میں نے چاند کے سایہ میں چلنا شروع کردیا آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے مجھے دیکھ کر فرمایا کون ہے؟ میں نے کہا ابوذر اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے، فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میرے پاس آؤ میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا مالدار لوگ ہی قیامت کے دن کم مال والے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے مال عطا کیا اور پھونک سے اپنے دائیں بائیں یا سامنے اور پیچھے اڑا دے اور اس میں نیک اعمال کرے پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہاں بیٹھ جا اور آپ ﷺ نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے اردگرد پتھر تھے آپ ﷺ نے فرمایا میرے آ نے تک یہاں بیٹھے رہو آپ ﷺ زمین حرہ میں ایک طرف چل دیئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کو نہ دیکھا کافی دیر ٹھہر نے کے بعد میں نے آپ ﷺ سے آتے ہوئے سنا اگرچہ اس نے چوری اور اس نے زنا کیا آپ ﷺ جب تشریف لائے تو میں نے صبر کئے بغیر عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے آپ ﷺ سے حرہ کی طرف کون گفتگو کر رہا تھا میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا فرمایا وہ جبرائیل تھے جو حرہ میں میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا اپنی امت کو خوشخبری دے دو جو اللہ کے ساتھ شرک کئے بغیر مرگیا جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا اے جبرائیل اگرچہ اس نے چوری یا زنا کیا ہو کہا جی ہاں فرمایا میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا اس نے کہا جی ہاں میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو اس نے کہا ہاں اگرچہ اس نے شراب پی۔
Abu Dharr (RA) reported: I went out one night and found the Messenger of Allah ﷺ walking all alone. There was no man with him. I thought that he did not like anyone walking along with him. So I began to walk in the light of the moon. He, however turned his attention to me and saw me and said: Who is this? I said: It is Abu Dharr. Let Allah make me as ransom for you. He said: Abu Dharr, come on. He (Abu Dharr) said: So I walked along with him for some time and he said: The wealthy persons would have little (reward) on the Day of Resurrection, except upon whom Allah conferred goodness (wealth). He dispensed it to his right, left, in front of him and at his back (just as the wind diffuses fragrance) and did good with it (riches). I went along with him for some time when he said: Sit here. And he made me sit at a safe place and there were stones around it, and he said to me: Sit here till I come to you. He went away on the stony ground till I could not see him. He stayed away from me, and he prolonged his stay. Then I heard him as he came back and he was saying: Even if he committed theft and even if he committed fornication. When he came I could not help asking him: Apostle of Allah ﷺ , let Allah make me ransom for you, whom were you speaking on the stony ground? I heard nobody responding to you. He (the Holy Prophet) said: It was Gabriel (علیہ السلام) who met me by the side of the stony ground and said: Give glad tidings to your Ummah that he who died without associating ought with Allah would go into Paradise. I said: Gabriel (علیہ السلام), even if he committed theft and fornication? He said: Yes. I said: Even it he committed theft and fornication? He said: Yes, I again said: Even if he committed theft and fornication? He said: Yes, even if he drank wine.
اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَی عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَی حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ کَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَی نُغْضِ کَتِفَيْهِ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُئُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلَائِ إِلَّا کَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَتَرَی أُحُدًا فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنْ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ کُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ هَؤُلَائِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ مَا لَکَ وَلِإِخْوَتِکَ مِنْ قُرَيْشٍ لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ قَالَ لَا وَرَبِّکَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّی أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابوعلاء، حضرت احنف بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا تو میں سرداران قریش کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک آدمی موٹے کپڑے سخت جسم و چہرے والا آیا اور ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہا بشارت دے دو مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی کہ ان کے لئے جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کے سینوں پر اس طرح رکھا جائے گا کہ شانہ کی نوک سے پار ہوجائے گا اور شانوں کی نوک پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ پستان کے سر سے پار ہوجائے اور آدمی بےقرار ہوجائے گا تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے میں نے کسی آدمی کو نہ دیکھا کہ جس نے اس کو کوئی جواب دیا ہو وہ پھرے اور میں نے ان کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے پاس جا بیٹھے تو میں نے کہا میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی بات ناگوار گزری ہے تو انہوں نے کہا یہ لوگ کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے مجھے بلایا میں گیا تو فرمایا کیا تم احد دیکھ رہے ہو تو میں نے اپنے اوپر پڑنے والی سورج کی شعاع کو دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ آپ ﷺ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں میں اس کو دیکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے اس کی مثل سونا ہو لیکن اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب کا سب خرچ کر دوں اور یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور سمجھ رکھتے میں نے کہا آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا حال ہے نہ آپ ان سے ملتے ہیں نہ ان کے پاس جاتے اور نہ ان سے کچھ مانگتے ہیں فرمایا اللہ کی قسم میں نہ ان سے دنیا مانگوں گا ورنہ دنیوی معاملہ کروں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں۔
Ahnaf bin Qais reported: I came to Madinah and when I was in the company of the grandees of Quraish a man with a crude body and an uncouth face wearing coarse clothes came there. He stood up before them and said: Give tidings to those who amass riches of the stones which would be heated in the Fire of Hell, and would be placed at the tick of the chest till it would project from the shoulder bone and would he put on the shoulder bone till it would project from the tick of his chest, and it (this stone) would continue passing and repassing (from one side to the other). He (the narrator) said: Then people hung their heads and I saw none among them giving any answer. He then returned and I followed him till he sat near a pillar. I said: I find that these (people) disliked what you said to them and they do not understand anything. My friend Abul-Qasim (Muhammad) (may peace he upon him) called me and I responded to him, and he said: Do you see Uhud? I saw the sun (shining) on me and I thought that he would send me on an errand for him. So I said: I see it. Upon this he said: Nothing would delight me more than this, that I should have gold like it (equal to the bulk of Uhud), and I should spend it all except three dinars. (How sad it is) that they hoard worldly riches, and they know nothing. I said: What about you and your brothers Quraish? You do not go to them for any need and do not accept anything from them. He said: By Allah, I neither beg anything from them (from worldly goods), nor do I ask them anything about religion till I meet my Allah and His Messenger.
اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ کُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِکَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِکَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْئٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَائِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِينِکَ فَدَعْهُ
شیبان بن فروخ، ابوالاشہب، خلیدعصری، حضرت احنف بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ میں قریش کی ایک جماعت میں تھا کہ حضرت ابوذر یہ کہتے ہوئے گزرے، خوشخبری دے دو مال جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں سے جو ان کی پشت پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے، پھر وہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے، میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ابوذر ہے میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا یہ کیا بات تھی جو میں نے آپ سے ابھی سنی، کہا میں نے وہی بات کہی جس کو میں نے ان کے نبی ﷺ سے سنا میں نے کہا آپ عطا و بخشش کے مال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا اس کو لے لو کیوں کہ اس سے آج کل تمہیں مدد حاصل ہوگی اور اگر یہ تیرے دین کی قیمت ہو تو چھوڑ دو۔
Ahnaf bin Qais reported: While I was in the company of the (elites) of Quraiah, Abu Dharr (RA) came there and he was saying: Give tidings to the hoarders of riches that their backs would be branded (so deeply) that (the hot Iron) would come out of their sides, and when the backs of their necks would be branded, it would come out of their foreheads. He (Abu Dharr) then went away and sat down. I asked who he was. They said: He is Abu Dharr. I went to him and said to him: What is this that I heard from you which you were saying before? He said: I said nothing but only that which I heard from their Prophet ﷺ . I again said: What do you say about this gift? He said: Take it, for today it is a help. But when it becomes a price for your religion, then abandon it.
خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّائُ لَا يَغِيضُهَا شَيْئٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتے ہیں اے بنی آدم تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا نیز فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کے برسنے سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Most Blessed and High, said: O son of Adam, spend. I will spend on you. The right hand of Allah is full and overflowing and in nothing would diminish it, by overspending day and night.
خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی لَا يَغِيضُهَا سَحَّائُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَی الْقَبْضَ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کی فیاضی سے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے کتنی فیاضی کی ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور فرمایا اللہ کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روکنے کی طاقت ہے جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah said to him: "Spend, I will bestow upon you." And the Messenger of Allah ﷺ said: The right hand of Allah is full and spending (the riches) liberally during day and night will not diminish (the resources of Allah). Dont you see what (an enormous amount of resources) He has spent since He created the heaven and the earth, and what is in His right hand has not decreased? His Throne is upon the water. And in His other hand is death, and He elevates and degrades (whom He likes).
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَی دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَی عِيَالٍ صِغَارٍ يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمْ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ابوربیع، حماد بن ربیعہ، ایوب، ابوقلابہ، اسماء رحبی، حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے وہ ہے جو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو اللہ کے راستہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو اپنے ساتھیوں پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے کہا عیال سے شروع کیا پھر ابوقلابہ نے کہا اس سے بڑھ کر کس آدمی کا ثواب ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر ان کی عزت وآبرو بچانے کے لئے خرچ کرتا ہے یا نفع دے اللہ ان کو اس کے سبب سے اور ان کو بےپرواہ کردیتا ہے۔
Thauban reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most excellent dinar is one that a person spends on his family, and the dinar which he spends on his animal in Allahs path, and the dinar he spends on his companions in Allahs path. Abu Qilaba (one of the narrators) said: He (the narrator) started with family, and then Abu Qilaba said: Who is the person with greater reward than a person who spends on young members of his family (and thus) preserves (saves them from want) and by virtue of which Allah brings profit for them and makes them rich.
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَی مِسْکِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، سفیان، مزاحم بن زفر، مجاہد، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ دینار جس کو تو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو تو غلام پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو تو نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جو تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Of the dinar you spend as a contribution in Allahs path, or to set free a slave, or as a sadaqa given to a needy, or to support your family, the one yielding the greatest reward is that which you spent on your family.
اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ الْکِنَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَائَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَفَی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِکُ قُوتَهُ
سعید بن محمد جرمی، عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر کنانی، طلحہ بن مصرف، حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس آپ کا خزانچی داخل ہوا تو ابن عمر نے کہا تو نے غلاموں کو ان کا حق دے دیا؟ اس نے کہا نہیں فرمایا جاؤ ان کو انکا کھانا دے دو، کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا یہی گناہ کافی ہے کہ اپنے مملوک کے حق کو روک کر بیٹھ جائے۔
Khaithama reported: While we were sitting in the company of Abdullah bin Umar there came in his steward. He (Ibn Umar) said: Have you supplied the provision to the slaves? He said: No. Upon this he said: Go and give (the provision) to them, for the Messenger of Allah ﷺ has said: This sin is enough for a man that he withholds the subsistence from one whose master he is.
خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَکَ مَالٌ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَائَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ابْدَأْ بِنَفْسِکَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْئٌ فَلِأَهْلِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِکَ شَيْئٌ فَلِذِي قَرَابَتِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِکَ شَيْئٌ فَهَکَذَا وَهَکَذَا يَقُولُ فَبَيْنَ يَدَيْکَ وَعَنْ يَمِينِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ بنی عذرہ میں سے ایک آدمی نے اپنا غلام اپنے مرنے کے بعد آزاد کیا یعنی اس نے یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس اس کے علاوہ مال ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مجھ سے کون خریدے گا تو اس کو نعیم بن عبداللہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ دراہم رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے اور آپ ﷺ نے غلام کے مالک کو دے دیئے پھر فرمایا اپنی ذات سے ابتداء کر اور اس پر خرچ کرو اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کے لئے اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے اور اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو اس اس طرح اور اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے۔
Jabir reported: A person from the Banu Udhra set a slave free after his death. This news reached the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon hhn). Upon this he said: Have you any property besides it? He said: No. Upon this he said: Who would buy (this slave) from me? Naeem binAbdullah bought it for eight hundred dirhams and (this amount was) brought to the Messenger of Allah ﷺ who returned it to him (the owner), and then said: Start with your own self and spend it on yourself, and if anything is left, it should be spent on your family, and if anything is left (after meeting the needs of the family) it should be spent on relatives, and if anything is left from the family, it should be spent like this, like this. And he was saying: In front of you, on your right and on your left.
خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْکُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ
یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی ابومذکور نے اپنے غلام یعقوب کو اپنے بعد آزاد ہونے کا کہا باقی حدیث اوپر گزر چکی۔
Jabir reported that a person among the Ansar who was called Abu Madhkur granted posthumous freedom to his slave who was called Yaqub. The rest of the hadith is the same.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَکَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَی وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي کِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَی وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کو اپنے مال میں سب سے زیادہ باغ بیرحاء محبوب تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے، انس کہتے ہیں جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3۔ آل عمران: 92) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی کی حد کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور مجھے میرے تمام اموال میں سب سے محبوب بیر حاء ہے یہ اللہ کے لئے خیرات ہے میں اس کے ثواب اور آخرت میں ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اس کو جہاں چاہیں رکھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت خوب یہ بہت نفع بخش مال ہے میں نے سنا جو تم نے کہا میں مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو تو ابوطلحہ نے اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔
Anas bin Malik (RA) is reported as saying: Abu Talha was the one among the Ansar of Madinah who possessed the largest property and among his property he valued most was his garden known as Bairaha which was opposite the mosque, and the Messenger of Allah ﷺ often visited it and he drank of its sweet water. When this verse was revealed: "You will never attain righteousness till you give freely of what you Have" (iii. 91), Abu Talha got up and, going to Allahs Messenger ﷺ , said: Allah says in His Book: "You will never attain righteousness till you give freely of what you love," and the dearest of my property is Bairaha so I give it as Sadaqa to God from Whom I hope for reward for it and the treasure with Allah; so spend it, Messenger of Allah, on whatever purpose you deem it proper. The Messenger of Allah ﷺ said: Bravo! that is profit earning property. I have heard what you have said, but I think you should spend it on your nearest relatives. So Abu Talha distributed it among the nearest relatives and his cousins on his fathers side.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَرَی رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِکَ قَالَ فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3۔ آل عمران: 92) ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا میں نے دیکھا کہ ہمارا پروردگار ہمارا مال ہم سے طلب فرماتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنی زمین بیر حاء والی اللہ کے لئے دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رشتہ داروں کو دے دو تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب میں تقسیم کردیا۔
Anas reported that when this verse was tevealed: "You will not attain righteousness till you give freely of what you love," Abu Talha said: I see that our Lord has demanded from us out of our property; so I make you a witness, Messenger of Allah, that I give my land known as Bairaha for the sake of Allah. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Give that to your relatives. So he gave it to Hassan bin Thabit and Ubayy bin Kab.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَکِ کَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِکِ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، بکیر، کریب، حضرت میمونہ بنت حارث سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی اور میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو اسے اپنے ماموں کو دے دیتی تو تیرے لئے بڑا ثواب ہوتا۔
Maimuna bint Harith reported that she set free a slave-girl during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ and she made a mention of that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Had you given her to your maternal uncles, you would have a greater reward.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّکَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَی غَيْرِکُمْ قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلْ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِي حَاجَتُهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ قَالَتْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِکَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَی أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَی أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هُمَا فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
حسن بن ربیع، ابواحوص، اعمش، ابو وائل، عمرو بن حارث، زوجہ عبداللہ حضرت زینب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو فرماتی ہیں میں حضرت عبداللہ کے پاس لوٹی اور عرض کیا کہ آپ خالی ہاتھ والے آدمی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے تم آپ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ کر آؤ اگر میری طرف سے آپ کو دینا کافی ہوجائے تو بہتر ورنہ تمہارے علاوہ کسی اور کو دوں، تو عبداللہ ؓ نے مجھے فرمایا تم خود ہی جا کر آپ ﷺ سے پوچھ لو میں چلی جب آپ ﷺ کے دروازہ پر پہنچی تو انصاری عورتوں میں سے ایک عورت میری حاجت ہی لے کر موجود تھی اور اللہ کے رسول ﷺ پر عظمت و جلال چھایا ہوا تھا ہماری طرف حضرت بلال آئے تو ان سے ہم نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو خبر دو کہ دروازے پر موجود دو عورتیں آپ ﷺ سے سوال کرتی ہیں کہ ان کی طرف سے صدقہ ان کے خاوندوں پر کفایت کر جائے گا یا ان یتیموں پر صدقہ کردیں جو ان کی گود میں ہیں اور آپ ﷺ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں حضرت بلال ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا زینب اور ایک عورت انصار سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون سی زینب؟ عرض کیا عبداللہ کی بیوی تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے لئے دو اجر وثواب ہیں ایک رشتہ داری کا ثواب اور دوسرا صدقہ و خیرات کا ثواب۔
Zainab, the wife of Abdullah (b. Masud ), reported that the Messenger of Allah ﷺ said: O women, give sadaqa even though it be some of your jewellery. She returned to Abdullah and said: You are a person with empty hands, whereas the Messenger of Allah ﷺ has commanded us to give sadaqa, so better go to him and ask and if this will suffice for me; otherwise I shall give it to someone else. Abdullah said to me (his wife): You better go yourself. So I went and there was another woman of the Ansar at the door of the Messenger of Allah ﷺ having the same purpose as I had. Now Allahs Messenger ﷺ was invested with awe (so we did not like to knock). Then Bilal (RA) came out and we said to him: Go to the Messenger of Allah ﷺ and inform him that there are two women at the door asking him whether it will serve them to give sadaqa to their spouses and to orphans who are under their charge, but do not inform him who we are. Bilal (RA) went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him (what these women had instructed him to ask). The Messenger of Allah ﷺ asked him who these women were. He ( Bilal (RA) ) said: They are women from Ansar and Zainab. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Which of the Zainabs? He said: The wife of Abdullah. The Messenger of Allah ﷺ said: There are two rewards for them, the reward of kinship and the reward of Sadaqa.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَذَکَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَائً قَالَ قَالَتْ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ
احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عمرو بن حارث، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ حضرت زینب فرماتی ہیں میں مسجد میں تھی نبی ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے ہو باقی حدیث گزر چکی۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Zainab the wife of Abdullah, and she said: I was in the mosque and the Prophet ﷺ of Allah ﷺ saw me and said: Give Sadaqa even though it is out of your jewellery. The rest of the hadith is the same.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِکَتِهِمْ هَکَذَا وَهَکَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ نَعَمْ لَکِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے سے ثواب ہوگا؟ اور میں ان کو چھوڑنے والی نہیں ہوں کہ ادھر ادھر پریشان ہوجائیں کیونکہ وہ میرے بیٹے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تیرے لئے ان پر خرچ کرنے میں ثواب ہے۔
Umm Salamah said: I asked the Messenger of Allah ﷺ whether there is a reward for me if I spend on Abu Salamas sons, and I am not going to abandon them in this state (of helplessness) for they are my sons. He (the Holy Prophet) said: Yes. For you is the reward for what you spend on them.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
سوید بن سعید، علی بن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ہشام بن عروہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Urwa with the same chain of transmitters.
رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید، ابومسعود بدری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔
Abu Masud reported Allahs Messenger (way peace be upon him) as saying: When a Muslim spends on his family seeking reward for it from Allah, it counts for him as sadaqa.