جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، ابوسلمہ ابن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنبی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو سونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو فرما لیتے۔
Aisha reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ intended to sleep after having sexual intercourse, he performed ablution as for the prayer before going to sleep.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَوَکِيعٌ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْکُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، وکیع، غندر، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنبی ہوتے اور کھانے یا سونے کے ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ نماز کی طرح وضو فرما لیتے۔
Aisha reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ had sexual intercourse and intended to eat or sleep, he performed the ablution of prayer.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، عبیداللہ بن معاذ، حضرت شعبہ ؓ سے بھی دوسری اسناد سے یہی حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted by Shubah with the same chain of transmitters. Ibn at-Muthanna said in his narration: AI-Hakam narrated to us who heard from Ibrahim narrating that.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ
محمد بن ابی بکر مقدامی، زہیر بن حرب، یحییٰ ابن سعید، عبیداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں جب وضو کرلے۔
Ibn Umar reported: Umar said: Is one amongst us permitted to sleep in a state of impurity (i. e. after having sexual intercourse)? He (the Holy Prophet) said: Yes, after performing ablution.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ اسْتَفْتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ لِيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيَنَمْ حَتَّی يَغْتَسِلَ إِذَا شَائَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کیا کہ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو کرو پھر سو جاؤ یہاں تک کہ جب چاہو غسل کرو۔
Ibn Umar said: Umar asked the verdict of the Shariah from the Apostle ﷺ thus: Is it permissible for any one of us to sleep in a state of impurity? He (the Holy Prophet ﷺ said: Yes, he must perform ablution and then sleep and take a bath when he desires.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن دینار، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ اس کو رات کے وقت جنابت ہوجاتی ہے تو آپ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو کر اور اپنے آلہ تناسل کو دھولے پھر سو جا۔
Ibn Umar (RA) reported: Umar bin al-Khattab said to the Messenger of Allah ﷺ , that he became Junbi during the night. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Perform ablution, wash your sexual organ and then go to sleep.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ کَيْفَ کَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَکَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَتْ کُلُّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
قتیبہ بن سعید، لیث، معاویہ بن صالح، عبداللہ بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا پھر پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ میں نے کہا کہ آپ ﷺ جنبی ہونے کی حالت میں کیسے غسل فرمایا کرتے تھے کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے یا غسل سے پہلے نیند فرماتے آپ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ دونوں طرح فرما لیتے تھے کبھی غسل فرماتے پھر سوتے اور کبھی وضو کر کے نیند فرماتے میں نے کہا تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اس معاملہ میں آسانی فرمائی ہے۔
Abdullah bin Abul-Qais reported: I asked Aisha about the Witr (prayer) of the Messenger of Allah ﷺ and made mention of a hadith, then I said: What did he do after having sexual intercourse? Did he take a bath before going to sleep or did he sleep before taking a bath? She said: He did all these. Sometimes he took a bath and then slept, and sometimes he performed ablution only and went to sleep. I (the narrator) said: Praise be to Allah Who has made things easy (for human beings).
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنِيهِ هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، معاویہ، ابن صالح سے بھی دوسری سند سے یہی حدیث مروی ہے۔
This hadith has been transmitted with the same chain of transmitters from Muawyia bin Salih by Zuhair bin Harb, Abdul Rahman bin Mahdi, Harun bin Said al-Aili and Ibn Wahb.
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ زَادَ أَبُو بَکْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَهُمَا وُضُوئًا وَقَالَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُعَاوِدَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابوکریب، ابن ابی زائدہ، عمرو ناقد، ابن نمیر، مروان، معاویہ، عاصم، ابومتوکل، ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور پھر دوبارہ اس عمل کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وضو کرلے۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone amongst you has sexual intercourse with his wife and then he intends to repeat it, he should perform ablution. In the hadith transmitted by Abu Bakr. (the words are): "Between the two (acts) there should be an ablution," or he (the narrator) said: "Then he intended that it should be repeated."
جنبی کے سونے کے جواز اور اس کے لئے شرمگاہ کا دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے جب وہ کھانے پینے سونے یا جماع کرنے کا ارادہ کرے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مِسْکِينٌ يَعْنِي ابْنَ بُکَيْرٍ الْحَذَّائَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَطُوفُ عَلَی نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ
حسن بن احمد بن ابی شعیب حرانی، مسکین ابن بکیر، شعبہ، ہشام بن زید، انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی ازواج مطہرات ؓ کے پاس سے ہو آتے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to have sexual intercourse with his wives with a single bath.
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَقَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ وَعَائِشَةُ عِنْدَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمَرْأَةُ تَرَی مَا يَرَی الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ فَتَرَی مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَی الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَائَ تَرِبَتْ يَمِينُکِ فَقَالَ لِعَائِشَةَ بَلْ أَنْتِ فَتَرِبَتْ يَمِينُکِ نَعَمْ فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَاکِ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، اسحاق بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ اسحاق کی دادی حضرت ام سلیم ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اس نے آپ ﷺ سے سیدہ عائشہ ؓ کی موجودگی میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عورت اگر خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے اور اپنے جسم پر وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو وہ کیا کرے تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اے ام سلیم تم نے عورتوں کو رسوا کردیا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمایا بلکہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں اے ام سلیم جب عورت اس طرح دیکھے تو اس کو غسل کرنا چاہئے۔
Anas bin Malik (RA) reported: Umm Sulaim who was the grandmother of Ishaq came to the Messenger of Allah ﷺ in the presence of Aisha and said to him: Messenger of Allah, in case or woman sees what a man sees in dream and she experiences in dream what a man experiences (i. e. experiences orgasm)? Upon this Aisha remarked: O Umm Sulaim, you brought humiliation to women; may your right hand be covered with dust. He (the Holy Prophet) said to Aisha: Let your hand be covered with dust, and (addressing Umm Sulaim) said: Well, O Umm Sulaim, she should take a bath if she sees that (i. e. she experiences orgasm in dream).
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَرَی فِي مَنَامِهَا مَا يَرَی الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَتْ ذَلِکِ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِکَ قَالَتْ وَهَلْ يَکُونُ هَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَکُونُ الشَّبَهُ إِنَّ مَائَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَائَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا أَوْ سَبَقَ يَکُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ
عباس بن ولید، یزید بن زریع، سعید، قتادہ، انس بن مالک، حضرت ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اس عورت کے بارے میں جو خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورت اس طرح دیکھے تو اس کو غسل کرنا چاہئے ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے شرم کے باوجود عرض کیا کہ کیا واقعی ایسا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ورنہ بچہ کی مشابہت کہاں سے ہو مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے پس جو ان میں اوپر آجاتا ہے یا بڑھ جاتا ہے تو اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Umm Sulaim narrated it that she asked the Apostle of Allah ﷺ about a woman who sees in a dream what a man sees (sexual dream). The Messenger of Allah ﷺ said: In case a woman sees that, she must take a bath. Umm Sulaim said: I was bashful on account of that and said: Does it happen? Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: Yes (it does happen), otherwise how can (a child) resemble her? Mans discharge (i. e. sperm) is thick and white and the discharge of woman is thin and yellow; so the resemblance comes from the one whose genes prevail or dominate.
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَرَی فِي مَنَامِهَا مَا يَرَی الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ فَقَالَ إِذَا کَانَ مِنْهَا مَا يَکُونُ مِنْ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ
داؤد بن رشید، صالح بن عمر، ابومالک، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو اپنے خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب اس سے وہی چیز نکلے جو آدمی سے نکلتی ہے تو غسل کرے۔
Anas bin Malik (RA) reported: A woman asked the Messenger of Allah ﷺ (way peace be upon him) about a woman who sees in her dream what a man sees in his dream (sexual dream). He (the Holy Prophet) said: If she experiences what a man experiences, she should take a bath.
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَائَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ فَهَلْ عَلَی الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا رَأَتْ الْمَائَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَالَ تَرِبَتْ يَدَاکِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بیشک اللہ حق بات سے حیاء نہیں فرماتا کیا عورت پر جب اس کو احتلام ہو غسل واجب ہوجاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں جب وہ پانی دیکھے پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تجھے ہدایت کرے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا بچہ کس طرح اس کے مشابہ ہوتا۔
Umm Salamah reported: Umm Sulaim went to the Apostle of Allah ﷺ and said: Apostle of Allah ﷺ , Allah is not ashamed of the truth. Is bathing necessary for a woman when she has a sexual dream? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Yes, when she sees the liquid (vaginal secretion). Umm Salamah said: Messenger of Allah, does a woman have sexual dream? He (the Holy Prophet) said: Let your hand be covered with dust, in what way does her child resemble her?
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ قَالَتْ قُلْتُ فَضَحْتِ النِّسَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، ابن ابی عمر، سفیان، ہشام بن عروہ سے یہی حدیث دوسری سند سے مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے ام سلیم ؓ سے کہا تو نے عورتوں کو رسوا کردیا۔
This hadith with the same sense (as narrated above) has been transmitted from Hisham bin Urwa with the same chain of narrators but with this addition that she (Umm Salamah) said: "You humiliated the women.
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ هِشَامٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهَا أُفٍّ لَکِ أَتَرَی الْمَرْأَةُ ذَلِکِ
عبدالملک بن شعیب، لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں باقی حدیث ہشام ہی کی حدیث کی طرح ہے اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے اس سے کہا تیرے لئے افسوس ہے کیا عورت بھی اس طرح کا خواب دیکھ سکتی ہے؟
Aisha the wife of the Apostle ﷺ narrated: Umm Sulaim, the mother of Bani Abu Talha, came to the Messenger of Allah ﷺ , and a hadith (like that) narrated by Hisham was narrated but for these words. Aisha said: I expressed disapproval to her, saying: Does a woman see a sexual dream?
منی عورت سے نکلنے پر غسل کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ سَهْلٌ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتْ الْمَائَ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ تَرِبَتْ يَدَاکِ وَأُلَّتْ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعِيهَا وَهَلْ يَکُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِکِ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَائَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَائُ الرَّجُلِ مَائَهَا أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ
ابراہیم بن موسیٰ رازی، سہیل بن عثمان، ابوکریب، ابن ابی زائدہ، مصعب بن شیبہ، مسافع، عبداللہ بن عروہ بن زبیر، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کیا عورت کو جب احتلام ہوجائے اور وہ پانی دیکھے تو اس پر غسل فرض ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عائشہ ؓ نے اس سے کہا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں اور زخمی کئے جائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دے اگر عورت کا نطفہ غالب آجاتا ہے مرد کے نطفہ سے تو بچہ اپنے ننھیال کے مشابہ ہوجاتا ہے اور جب مرد کا نطفہ اس کے نطفہ کے اوپر آجائے تو بچہ اپنے ددھیال کے مشابہ ہوجاتا ہے۔
It is reported on the authority of Aisha that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ and inquired: Should a woman wash herself when she sees a sexual dream and sees (the marks) of liquid? He (the Holy Prophet) said: Yes. Aisha said to her: May your hand be covered with dust and injured. She narrated: The Messenger of Allah ﷺ said: Leave her alone. In what way does the child resemble her but for the fact that when the genes contributed by woman prevail upon those of man, the child resembles the maternal family, and when the genes of man prevail upon those of woman the child resembles the paternal family.
مرد اور عورت کی منی کی تعریف اور اس بات کے بیان میں کہ بچہ ان دونوں کے نطفہ سے پیدا کیا ہوا ہے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَائَ الرَّحَبِيُّ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ کُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ حِبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مُحَمَّدُ فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً کَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا فَقَالَ لِمَ تَدْفَعُنِي فَقُلْتُ أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي فَقَالَ الْيَهُودِيُّ جِئْتُ أَسْأَلُکَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنْفَعُکَ شَيْئٌ إِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ فَنَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ فَقَالَ سَلْ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ أَيْنَ يَکُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ قَالَ فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً قَالَ فُقَرَائُ الْمُهَاجِرِينَ قَالَ الْيَهُودِيُّ فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَالَ زِيَادَةُ کَبِدِ النُّونِ قَالَ فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَی إِثْرِهَا قَالَ يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي کَانَ يَأْکُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا قَالَ فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ قَالَ مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّی سَلْسَبِيلًا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ وَجِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ شَيْئٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ قَالَ يَنْفَعُکَ إِنْ حَدَّثْتُکَ قَالَ أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ الْوَلَدِ قَالَ مَائُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ وَمَائُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْکَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ الْيَهُودِيُّ لَقَدْ صَدَقْتَ وَإِنَّکَ لَنَبِيٌّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَذَهَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنْ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَيْئٍ مِنْهُ حَتَّی أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، ربیع بن نافع، معاویہ، ابن سلام، زید سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا کہ یہودی علماء میں سے ایک عالم نے آکر السلام علیک یا محمد کہا تو میں نے اس کو دھکا دیا قریب تھا کہ وہ گر جاتا اس نے کہا آپ مجھے کیوں دھکا دیتے ہیں میں نے کہا تو نے یا رسول نہیں کہا تو یہودی نے کہا ہم آپ ﷺ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ ﷺ کے گھر والوں نے رکھا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا نام جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے وہ محمد ہے، یہودی نے کہا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنے آیا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اگر میں تجھ کو کچھ بیان کروں تو تجھے کچھ فائدہ ہوگا؟ اس نے کہا میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا آپ ﷺ اپنے پاس موجود چھڑی سے زمین کرید رہے تھے تب آپ ﷺ نے فرمایا پوچھ! یہودی نے کہا جس دن زمین و آسمان بدل جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اندھیرے میں پل صراط کے پاس، اس نے کہا لوگوں میں سب سے پہلے اس پر سے گزرنے کی اجازت کس کو ہوگی آپ نے فرمایا فقراء مہاجرین کو، یہودی نے کہا جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا مچھلی کے جگر کا ٹکڑا، اس نے کہا اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا ان کے لئے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرا کرتا تھا، اس نے کہا اس پر ان کا پینا کیا ہوگا فرمایا ایک چشمہ ہے جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا اس نے کہا میں آیا تھا کہ آپ ﷺ سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھوں جسے زمین میں رہنے والوں میں نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا سوائے ایک دو آدمیوں کے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تجھ کو بتلاؤں تو تجھے فائدہ ہوگا اس نے کہا میں توجہ سے سنوں گا، میں آیا تھا کہ آپ ﷺ سے سوال کروں بچے (کی پیدائش) کے بارے میں، فرمایا مرد کا نطفہ سفید اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے جب یہ دونوں پانی جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوجائے تو اللہ کے حکم سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور اگر عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجائے تو بچی پیدا ہوتی ہے اللہ کے حکم سے، یہودی نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا اور آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں پھر وہ پھرا اور چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اس نے جو کچھ مجھ سے سوال کیا ان میں سے کسی بات کا علم میرے پاس نہ تھا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اس کا علم عطا فرما دیا۔
Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ , said: While I was standing beside the Messenger of Allah ﷺ one of the rabbis of the Jews came and said: Peace be upon you, O Muhammad ﷺ . I pushed him back with a push that he was going to fall. Upon this he said: Why do you push me? I said: Why dont you say: O Messenger of Allah? ﷺ The Jew said: We call him by the name by which he was named by his family. The Messenger of Allah ﷺ said: My name is Muhammad with which I was named by my family. The Jew said: I have come to ask you (something). The Messenger of Allah ﷺ said: Should that thing be of any benefit to you, if I tell you that? He (the Jew) said: I will lend my ears to it. The Messenger of Allah ﷺ drew a line with the help of the stick that he had with him and then said: Ask (whatever you like). Thereupon the Jew said: Where would the human beings be on the Day when the earth would change into another earth and the heavens too (would change into other heavens)? The Messenger of Allah ﷺ said: They would be in darkness beside the Bridge. He (the Jew) again said: Who amongst people would be the first to cross (this bridge)? He said: They would be the poor amongst the refugees. The Jew said: What would constitute their breakfast when they would enter Paradise? He (the Holy Prophet) replied: A caul of the fish-liver. He (the Jew) said. What would be their food after this? He (the Holy Prophet) said: A bullock which was fed in the different quarters of Paradise would be slaughtered for them. He (the Jew) said: What would be their drink? He (the Holy Prophet) said: They would be given drink from the fountain which is named "Salsabil". He (the Jew) said: I have come to ask you about a thing which no one amongst the people on the earth knows except an apostle or one or two men besides him. He (the Holy Prophet) said: Would it benefit you if I tell you that? He (the Jew) said: I would lend ears to that. He then said: I have come to ask you about the child. He (the Holy Prophet) said: The reproductive substance of man is white and that of woman (i. e. ovum central portion) yellow, and when they have sexual intercourse and the males substance (chromosomes and genes) prevails upon the females substance (chromosomes and genes), it is the male child that is created by Allahs Decree, and when the substance of the female prevails upon the substance contributed by the male, a female child is formed by the Decree of Allah. The Jew said: What you have said is true; verily you are an Apostle. He then returned and went away. The Messenger of Allah ﷺ said: He asked me about such and such things of which I have had no knowledge till Allah gave me that.
مرد اور عورت کی منی کی تعریف اور اس بات کے بیان میں کہ بچہ ان دونوں کے نطفہ سے پیدا کیا ہوا ہے۔
حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ زَائِدَةُ کَبِدِ النُّونِ وَقَالَ أَذْکَرَ وَآنَثَ وَلَمْ يَقُلْ أَذْکَرَا وَآنَثَا
عبداللہ بن عبدالرحمن، یحییٰ بن حسان، معاویہ، ابن سلام سے یہی روایت کچھ الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے معنی اور مفہوم وہی ہے۔
This tradition has been narrated by Muawyia bin Salim with the same chain of transmitters except for the words: "I was sitting beside the Messenger of Allah" and some other minor alterations.
غسل جنابت کے طریقے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَی شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوئَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَأْخُذُ الْمَائَ فَيُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ حَتَّی إِذَا رَأَی أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَی رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت سے غسل کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھونے سے شروع فرماتے پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ دھوتے پھر وضو فرماتے نماز کے وضو کی طرح پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں ڈالتے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ دیکھتے کہ وہ صاف ہوگیا ہے تو اپنے سر پر چلو سے پانی ڈالتے تین چلو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے پھر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔
Aisha reported: When Allahs Messenger ﷺ bathed because of sexual intercourse, he first washed his hands: he then poured water with his right hand on his left hand and washed his private parts. He then performed ablution as is done for prayer. He then took some water and put his fingers and moved them through the roots of his hair. And when he found that these had been properly moistened, then poured three handfuls on his head and then poured water over his body and subsequently washed his feet.