نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَلَّا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسٌ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ الْعَلَائِ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، محمد، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت کے ساتھ اس بات پر بھی اقرار لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی لیکن ہم میں سے پانچ عورتوں کے علاوہ کسی نے اس عہد کو پورا نہ کیا میں، ام سلیم، ام علاء، ابی سبرہ کی بیٹی، معاذ کی بیوی، یا ابی سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی۔
Umm Atiyya reported: The Messenger of Allah ﷺ took a promise from us along with the oath of Allegiance that we would not lament. But only five among us fulfilled the promise (and they are) Umm Sulaim, and Umm al-Ala, and the daughter of Abu Sabra the wife of Muadh, or daughter of Abu Sabra and wife of Muadh.
نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ
اسحاق بن ابراہیم، ہشام، حفصہ، حضرت ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیعت میں نوحہ نہ کرنے پر بھی عہد لیا لیکن ہم میں سے پانچ عورتوں کے علاوہ کسی نے وعدہ وفا نہ کیا ان میں سے ام سلیم بھی ہیں۔
Umm Atiyya reported that the Messenger of Allah ﷺ took pledge from us (including this promise) that we would not lament. Only five amongst us fulfilled the promise, and one of them (who fulfilled the promise) was Umm Sulaim.
نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَکَ عَلَی أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَعْصِينَکَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَتْ کَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ فَإِنَّهُمْ کَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا آلَ فُلَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، زہیر، محمد بن حازم، عاصم، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰ ي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَ يْ ً ا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَه بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 60۔ الممتحنہ: 12) نازل ہوئی تو فرماتی ہیں ان میں نوحہ کرنے سے بھی منع کیا گیا ام عطیہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ فلاں قبیلہ والوں نے جاہلیت میں نوحہ پر میرا ساتھ دیا تھا تو کیا میرے لئے ان کا ساتھ دینا لازمی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں آل فلاں (تیرے لئے) مستثنٰی ہیں۔
Hafsa narrated on the authority of Umm Atiyya that she said: When this verse was revealed:" When believing women came to thee giving thee a pledge that they will not associate aught with Allah, and will not disobey thee in good" (lx. 12), she (Umm Atiyya) said: In (this pledge) was also included wailing. I said: Messenger of Allah ﷺ I except members of such a tribe who helped me (in lamentation) during pre-Islamic days, there is left no alternative for me, but that I should also help them. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: (Yes) but only in case of the members of such a tribe.
عورتوں کے لئے جنازہ کے پیچھے جانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ کُنَّا نُنْهَی عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا
یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، ایوب، محمد بن سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا جاتا تھا لیکن اس کو ہم پر لازم نہ کیا گیا۔
Umm Atiyya reported: We were forbidden to follow the bier, but it was not made absolute on us.
عورتوں کے لئے جنازہ کے پیچھے جانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ نُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ح، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ہشام، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا لیکن ہم پر اس میں سختی نہ کی گئی۔
Umm Atiyya reported: We were refrained from following the bier, but it was not made absolute on us.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ کَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ کَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَی إِلَيْنَا حَقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، ایوب، محمد بن سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ ﷺ کی بیٹی کو نہلا رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ بار نہلاؤ یا اس سے زیادہ بار، اگر تم مناسب سمجھو تو آخری بار پانی میں کچھ کافور بھی ملا لینا جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دے دینا جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینک دیا فرمایا کہ اس کو سارے کفن سے نیچے لپیٹ دو۔
Umm Atiyya reported: The Apostle of Allah ﷺ came to us when we were bathing his daughter, and he told us: Wash her with water and (with the leaves of) the lote tree, three or five times, or more than that if you think fit, and put camphor or something like camphor in the last washing; then inform me when you have finished. So when we had finished, we informed him, and he gave to us his (own) under-garment saying:" Put it next her body."
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، ایوب، محمد بن سیرین، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کیں۔
Umm Atiyya reported: We braided her hair in three plaits.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ کُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ إِحْدَی بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ وَفِي حَدِيثِ مَالِکٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتْ ابْنَتُهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ح، ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد، ح، یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، محمد، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بنات میں سے کسی ایک کا انتقال ہوگیا اور ابن علیہ کی حدیث میں ہے فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ ﷺ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں اور مالک کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم پر داخل ہوئے جب آپ ﷺ کی بیٹی کا انتقال ہوا۔
Umm Atiyya reported: One of the daughters of the Apostle of Allah ﷺ died. And in the hadith transmitted by Ibn Ulayya (the words are): The Messenger of Allah ﷺ came to us and we were washing his daughter. And in the hadith transmitted by Malik (the words are): There came in (our apartment) the Messenger of Allah ﷺ when his daughter died. The rest of the hadith is the same as narrated by Yazid bin Zurai from Ayyub from Muhammad from Umm Atiyya.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِکِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
قتیبہ بن سعید، حماد، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ اسی طرح مروی ہے سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تین یا پانچ یا سات یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت حفصہ نے ام عطیہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لڑیاں کردیں۔
A hadith like this has been transmitted by Hafsa on the authority of Umm Atiyya with the exception (of these words that the Holy Prophet ﷺ asked them to wash her dead body):" three times, five times, seven times, or more than that, if you deem fit:" Hafsa (further) said on the authority of Umm Atiyya (RA) : We braided (the hair) of her head in three plaits.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ قَالَ وَقَالَتْ حَفْصَةُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ
یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو طاق اعداد میں یعنی تین یا پانچ یا سات بار غسل دو۔ ام عطیہ ؓ فرماتی ہیں ہم نے کنگھی کی اور تین لڑیاں بنادیں۔
Umm Atiyya reported: We washed her an odd number of times, i. e. three, five or seven times; and Umm Atiyya (further) said: We braided her hair in three plaits.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ کَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ کَافُورٍ فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا فَأَعْلِمْنَنِي قَالَتْ فَأَعْلَمْنَاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر وناقد، ابومعاویہ، محمد بن حازم، ابومعاویہ، عاصم احول، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت زینب ؓ بنت رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو طاق یعنی تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا اور پانچویں مرتبہ کافور یا کچھ کافور ملا لینا جب تم اس کو غسل دے لو تو مجھے خبر دے دو ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے اپنا تہبند عطا کیا اور فرمایا اس کو ان کے کفن سے نیچے لپیٹ دو۔
Umm Atiyya reported: When Zainab the daughter of the Messenger of Allah ﷺ died, he said to us: Wash her odd number of times, i. e. three or five times, and put camphor or something-like camphor at the fifth time, and after you have washed her inform me. So we informed him and he gave us his under-garment, saying:" Put it next to her body."
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ إِحْدَی بَنَاتِهِ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکِ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَعَاصِمٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَتْ فَضَفَرْنَا شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَثْلَاثٍ قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا
عمر وناقد، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم آپ ﷺ کی بیٹیوں میں سے ایک کو غسل دے رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو طاق مرتبہ یعنی پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دینا فرماتی ہیں کہ ہم نے اس کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کی تین مینڈھیاں کردیں کنپٹیوں پر اور پیشانی پر۔
Umm Atiyya reported: There came to us the Messenger of Allah ﷺ as we were washing one of his daughters. So he said: Wash her (dead body) an odd number of times, five times or more than that, the rest of the hadith is the same. She (further) said: We braided her hair in three plaits: (two) on the sides of her head and one on her forehead.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْسِلَ ابْنَتَهُ قَالَ لَهَا ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْهَا
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، خالد، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ہم سے اپنی بیٹی کو غسل دینے کا حکم دیا تو فرمایا دائیں طرف سے شروع کرو اور وضو کے اعضاء سے ابتداء کرو۔
Umm Atiyya reported that when the Messenger of Allah ﷺ asked her to wash his daughter, he told her to start from the right side, and with those parts of the body over which Wudu is performed.
میت کو غسل دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوئِ مِنْهَا
یحییٰ بن ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن علیہ، خالد، حفصہ، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں آپ ﷺ کی بیٹی کے غسل میں فرمایا کہ دائیں طرف اور وضو کے اعضاء سے شروع کرو۔
Umm Atiyya reported that the Messenger of Allah ﷺ said to them (the women) in regard to the washing of his daughter to start from the right side and with those parts of the body over which Wudu is performed.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ يَأْکُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْئٌ يُکَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ فَکُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَی رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَی رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، شقیق بن سلمہ، حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے اللہ کی رضا طلب کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ہجرت کی، ہمارا ثواب اللہ پر ہے تو ہم میں سے بعض گزر گئے جنہوں نے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی دنیا میں حاصل نہ کیا ان میں سے مصعب بن عمیر ؓ احد کے دن شہید کئے گئے ان کے کفن کے لئے ایک چھوٹی سی چادر کے سوا کوئی چیز نہ پائی گئی اس کو جب ہم ان کے سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور جب ہم آپ کے پاؤں پر ڈالتے تو سر نکل جاتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چادر سر پر ڈال دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اس کا پھل پک گیا اور وہ اس میں سے چن چن کر توڑ رہے ہیں۔
Khabbab al-Aratt reported: We migrated with the Messenger of Allah ﷺ in the path of Allah seeking Allahs pleasure alone. Thus our reward was assured with Allah. And amongst us were those who spent life (in such a state of piety and austerity) that nothing consumed their reward. Musab bin Umair was one of them. He was killed on the Day of Uhud, and nothing but a woolen cloak was found to shroud him. When we covered his head with it, his feet became uncovered, and when we covered his feet, his head was uncovered. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Place it (this cloak) on the side of his head and cover his feet with grass. And there is one amongst us for whom the fruit is ripened and he enjoys it.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، ح، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ح، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، ح، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، اعمش اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کردی ہیں۔
A hadith like this has been narrated by Uyaina on the authority of Amash with the same chain of transmitters.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ مِنْ کُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أَمَّا الْحُلَّةُ فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَی النَّاسِ فِيهَا أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُکَفَّنَ فِيهَا فَتُرِکَتْ الْحُلَّةُ وَکُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ لَأَحْبِسَنَّهَا حَتَّی أُکَفِّنَ فِيهَا نَفْسِي ثُمَّ قَالَ لَوْ رَضِيَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ لَکَفَّنَهُ فِيهَا فَبَاعَهَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا جو روئی کے تھے، اس میں قمیض تھی، نہ عمامہ اور رہا حلہ، اس میں ہم کو شبہ ہوگیا، حالانکہ وہ آپ ﷺ کے لئے خریدا گیا تھا تاکہ اس میں آپ ﷺ کو کفن دیں لیکن اس حلہ کو چھوڑ دیا گیا اور آپ ﷺ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا اور وہ حلہ عبداللہ بن ابی بکر نے لے لیا اور کہا کہ میں اس کو رکھوں گا تاکہ مجھے اسی میں کفن دیا جائے پھر کہنے لگے اگر اللہ کو اپنے نبی کے کفن میں یہ پسند ہوتا تو آپ کو اسی میں کفن دیا جاتا پھر اس کو بیچ دیا اور اس کی قیمت خیرات کردی۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul, among which was neither a shirt nor a turban; and so far as Hullah is concerned there was some doubt about it in the minds of people, that it was brought for him in order to shroud him with it, but it was abandoned, and he was shrouded in three cotton garments of white Yamani stuff from Sahul. Then Abdullah bin Abu Bakr (RA) got it and said: I would keep it in order to shroud myself in it. He then said: If Allah, the Exalted and Majestic, would have desired it for His Apostle, he would have been shrouded with it. So he sold it and gave its price in charity.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ کَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ وَکُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلَا قَمِيصٌ فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ فَقَالَ أُکَفَّنُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ لَمْ يُکَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُکَفَّنُ فِيهَا فَتَصَدَّقَ بِهَا
علی بن حجری سعدی، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یمنی حلہ میں لپیٹا گیا جو حضرت عبداللہ بن ابوبکر ؓ کا تھا پھر وہ آپ ﷺ سے ہٹا لیا گیا اور آپ ﷺ کو تین سحولی یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں عمامہ اور قمیض نہ تھی حضرت عبداللہ ؓ نے وہ حلہ اٹھایا اور کہنے لگے مجھے اس میں کفن دیا جائے گا پھر فرمانے لگے کیا جس میں رسول اللہ ﷺ کو کفن نہیں دیا گیا مجھے اس کا کفن دیا جائے؟ پھر اس کو خیرات کردیا۔
Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ was wrapped in a Yamani wrapper which belonged to Abdullah b Abu Bakr; then it was removed from him, and he was shrouded in three cotton sheets of white Yamani stuff from Sahul among which was neither a shirt nor a turban. Abdullah took up the Hullah and said: I would be shrouded in it, but then said: How is it that I should be shrouded in it in which the Messenger of Allah ﷺ was not shrouded! So he gave it in charity.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَابْنُ إِدْرِيسَ وَعَبْدَةُ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ قِصَّةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابن عیینہ، ابن ادریس، عبدہ، وکیع، ح، یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیزبن محمد، ہشام اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کردی ہے لیکن اس میں عبداللہ بن ابوبکر ؓ کا قصہ نہیں ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but in the hadith narrated by him there is no mention of the story of Abdullah bin Abu Bakr.
میت کو کفن دینے کے بیان میں
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهَا فِي کَمْ کُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سَحُولِيَّةٍ
ابن ابی عمر، عبدالعزیز، یزید، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا رسول اللہ ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا تین سحولی کپڑوں میں۔
Abu Salama said: I asked Aisha with how many garments the Messenger of Allah ﷺ was shrouded. She said: With three garments of Sahul.