جنازوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 13 · 140 hadiths · Page 4 of 7

2183Sahih Muslim

میت کو کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ سُجِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ

زہیر بن حرب، حسن حلوانی، عبد بن حمید، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ ام المومنین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب وفات پائی تو آپ ﷺ کو ایک منقش یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔

Aisha reported: When the Messenger of Allah ﷺ died, he was covered with a Yamani wrapper.

2184Sahih Muslim

میت کو کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَائً

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ح، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوالیمان، شعیب، زہری اسی حدیث کو حضرت زہری نے دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.

2185Sahih Muslim

میت کو اچھے کپڑوں کا کفن دینے کا بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَکَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَکُفِّنَ فِي کَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّی يُصَلَّی عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَی ذَلِکَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَفَّنَ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ کَفَنَهُ

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوالزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے خطبہ دیا تو اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کا ذکر کیا کہ ان کا انتقال ہوا اور ان کو کامل الستر کفن نہ دیا گیا اور رات کو دفن کردیا گیا تو نبی ﷺ نے رات کو بغیر نماز کے دفن کرنے پر ڈانٹا الاّ یہ کہ انسان لاچار ہوجائے اور نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔

Jabir bin Abdullah reported: Allahs Messenger ﷺ one day in the course of his sermon made mention of a person among his Companions who had died and had been wrapped in a shroud not long (enough to cover his whole body) and was buried during the night. The Apostle of Allah ﷺ reprimanded (the audience) that a person was buried during the night (in a state that) funeral prayer could not be offered (over him by the Messenger of Allah) ﷺ . (And this is permissible only) when it becomes a dire necessity for a man. The Apostle of Allah ﷺ also said: When any one of you shrouds his brother, he should shroud him well.

2186Sahih Muslim

جنازہ جلدی لے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَکُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ لَعَلَّهُ قَالَ تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ وَإِنْ تَکُنْ غَيْرَ ذَلِکَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، سفیان بن عیینہ، زہری، سعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنازہ کو جلدی لے چلو پس اگر وہ نیک ہے تو اس کو خیر کی طرف جلدی پہنچا اور اگر اس کے علاوہ بد ہے تو تم اس کو اپنی گردنوں سے اتار دو۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Make haste at a funeral; if the dead person was good, it is a good state to which you are sending him on; but if he was otherwise it is an evil of which you are ridding yourselves.

2187Sahih Muslim

جنازہ جلدی لے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، یحییٰ بن حبیب، روح بن عبادہ، محمد بن ابی حفصہ، زہری، سعید، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کردی ہیں۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters except with this variation (of words) that in the hadith narrated by Mamar (the words are):" I do not know whether the hadith is marfu."

2188Sahih Muslim

جنازہ جلدی لے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ کَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَی الْخَيْرِ وَإِنْ کَانَتْ غَيْرَ ذَلِکَ کَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِکُمْ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ہارون بن سعید ایلی، ہارون، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابوامامہ بن سہل بن حنیف، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جنازہ کو جلد لے چلو اگر وہ نیک تھا تو اس کو بھلائی کے قریب کردو اور اگر وہ اس کے علاوہ بدکار تھا تو اس شر کو اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger as saying: Hasten at a funeral, for if (the dead person) is good, you would (soon) bring him close to the good. And if it is otherwise, it is an evil of which you are ridding yourselves.

2189Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ وَحَرْمَلَةَ قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّی يُصَلَّی عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّی تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ قِيلَ وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ انْتَهَی حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ وَزَادَ الْآخَرَانِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ کَثِيرَةً

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن بن ہرمز، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جنازہ میں حاضر ہوا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لئے ایک قیراط ثواب ہے اور جو اس کے دفن تک موجود رہا اس کے لئے دو قیراط ثواب ہے عرض کیا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا دو بڑے پہاڑوں کی مانند، حضرت ابن عمر ؓ نماز جنازہ پڑھا کر واپس آجاتے جب ان کو حدیث ابوہریرہ ؓ پہنچی تو فرمایا ہم نے بہت سے قیراط ضائع کردیے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who attends the funeral till the prayer is offered for (the dead), for him is the reward of one qirat, and he who attends (and stays) till he is buried, for him is the reward of two qirats. It was said: What are the qirats? He said: They are equivalent to two huge mountains. Two other narrators added: Ibn Umar used to pray and then depart (without waiting for the burial of the dead). When the tradition of Abu Hurairah (RA) reached him, he said:" We have lost many qirats."

2190Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْلِهِ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ وَلَمْ يَذْکُرَا مَا بَعْدَهُ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَی حَتَّی يُفْرَغَ مِنْهَا وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ حَتَّی تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، ابن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے دو بڑے پہاڑوں تک حدیث بیان کی اس کے بعد ذکر نہیں کیا عبدالاعلی کی حدیث میں فراغت اور عبدالرزاق کی حدیث میں لحد میں رکھنے کا ذکر ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of narrators up to these words:" two great mountains." No mention is made of what followed (these words) ; and in the hadith transmitted by Abdul Ala (the words are):" till (the burial) is complete." In the hadith transmitted by Abd ar-Razzaq (the words are):" till he is placed in the grave."

2191Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي رِجَالٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَقَالَ وَمَنْ اتَّبَعَهَا حَتَّی تُدْفَنَ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے معمر کی حدیث مبارکہ کی طرح نبی ﷺ سے حدیث مبارکہ مروی ہے اور فرمایا جو جنازہ کے پیچھے چلا یہاں تک دفن کردیا گیا۔

This hadith is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters (with these words):" He who followed it (the bier) till he (the dead) is buried."

2192Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَةٍ وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ قِيلَ وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ

محمد بن حاتم، بہز، وہب، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے نہ چلا تو اس کے لئے ایک قیراط ہے اور اگر اس کے پیچھے گیا تو اس کے لئے دو قیراط ہیں عرض کیا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے برابر ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who offered prayer over the dead, but did not follow the bier, for him is the reward of one qirat, and he who followed it, for him is the reward of two qirats. It was asked what the qirats were. He said: The smaller amongst the two is equivalent to Uhud.

2193Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ اتَّبَعَهَا حَتَّی تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ قَالَ مِثْلُ أُحُدٍ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جنازہ پر نماز ادا کی اس کے لئے ایک قیراط اور جو اس کے ساتھ قبر میں رکھنے تک رہا اس کے لئے دو قیراط ثواب ہوا، ابوحازم کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوہریرہ ؓ قیراط کیا؟ فرمایا احد کی مثل۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who offers prayer for the dead, for him is (the reward of) one qirat; and he who follows the bier till it is placed in the grave, for him (is the reward of) two qirats. I (Abu Hazim, one of the narrators) said: Abu Hurairah (RA) , what is this qirat? He said: It is like the hill of Uhud.

2194Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنْ الْأَجْرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَکْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَعَثَ إِلَی عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ کَثِيرَةٍ

شیبان بن فروخ، جریر، ابن حازم، نافع، ابن عمر، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو جنازے کے ساتھ چلا اس کے لئے ثواب سے ایک قیراط مزید ہے تو ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ نے ہم سے زیادہ بیان کیا ہے تو ابن عمر ؓ نے سیدہ عائشہ ؓ کے پاس کسی آدمی کو بھیجا اور اس نے سیدہ سے پوچھا تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی تصدیق کی تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان کیا۔

Nafi narrated that it was said to Ibn Umar that Abu Huraira reported to have heard Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying: He who follows the bier, for him is the reward of one qirat. Ibn Umar said: Abu Huraira narrated it too often. So he sent (a messenger to) Aisha to ascertain (the fact). She (Aisha) testified Abu Huraira. Ibn Umar said: We missed so many qirats.

2195Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي حَيْوَةُ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّی عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّی تُدْفَنَ کَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ کُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّی عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ کَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَی عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَائِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ حَتَّی رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ فَقَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَی الَّذِي کَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ کَثِيرَةٍ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن یزید، حیوہ، ابوصخرہ، یزید بن عبداللہ بن قسیط، داود بن حضرت عامر بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ وہ ابن عمر ؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ صاحب المقصورہ حضرت خباب تشریف لائے اور کہا اے ابن عمر ( ؓ کیا آپ نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث سنی ہے کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جو جنازہ کے ساتھ اس کے گھر سے چلا اور جنازہ ادا کیا پھر اس کے پیچھے دفن تک چلا تو اس کے لئے ثواب کے دو قیراط ہوں گے اور ہر قیراط احد کی مثل اور جس نے جنازہ ادا کیا پھر واپس آگیا تو اس کے لئے احد کی مثل ثواب ہوگا ابن عمر ؓ نے خباب کو سیدہ عائشہ ؓ کے پاس بھیجا کہ ان سے حضرت ابوہریرہ ؓ کے اس قول کے بارے میں پوچھیں پھر واپس آکر ان کو خبر دیں کہ سیدہ ؓ نے کیا فرمایا اور ابن عمر ؓ ایک مٹھی مسجد کی کنکریاں لئے اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ رہے تھے کہ قاصد واپس آگئے کہا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے سچ کہا ہے تو ابن عمر ؓ نے اپنے ہاتھ کی کنکریوں کو زمین پر مارا اور پھر فرمایا ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان کیا۔

Dawud bin Amir bin Sad bin Abu Waqqas reported on the authority of his father that while he was sitting along with Abdullah bin Umar, Khabbab, the owner of Maqsura, said: Ibn Umar, do you hear what Abu Hurairah (RA) says that he heard the Messenger of Allah ﷺ say:" He who goes out with the bier when taken out from its residence and offers prayer for it and he then follows it till it is buried, he would have two qirats of reward, each qirat being equivalent to Uhud; and he who, after having offered prayer, (directly) came back would have his reward (as great) as Uhud"? Ibn Umar sent Khabbab to Aisha in order to ask her about the words of Abu Hurairah (RA) (and also told him) to come back to him (Ibn Umar) and inform him what Aisha said. (In the meanwhile) Ibn Umar took up a handful of pebbles and turned them over in his hand till the messenger (Khabbab) came back to him and told (him) that Aisha testified (the statement of) Abu Hurairah (RA) . Ibn Umar threw the pebbles he had in his hand on the ground and then said: We missed a large number of qirats.

2196Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی عَلَی جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ

محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، قتادہ، سالم بن ابوالجعد، معدان بن ابوطلحہ الیعمری، حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لئے ایک قیراط ہے اور اگر اس کے دفن میں بھی شریک ہوا تو اس کے لئے دو قیراط ہیں اور قیراط احد کی مثل ہے۔

Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who offered prayer for the dead, for him is the reward of one qirat, and he who attended its burial, he would have two qirats as his reward. And qirat is equivalent to Uhud.

2197Sahih Muslim

جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِيرَاطِ فَقَالَ مِثْلُ أُحُدٍ

محمد بن بشار، معاذ بن ہشام، ابن المثنی، ابن ابی عدی، سعید، زہیر بن حرب، عفان، ابان، قتادہ، حضرت ہشام، حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے قیراط کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے احد کی مثل فرمایا۔

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Said and Hisham, (the words are):" The Apostle of Allah ﷺ was asked about qirat, and he said: It is equivalent to Uhud."

2198Sahih Muslim

جس جنازہ میں سو آدمی نماز پڑھیں اس میں اس کے لئے سفارش کریں تو وہ قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً کُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حسن بن عیسیٰ، مبارک، سلام بن ابومطیع، ایوب، ابوقلابہ، عبداللہ بن یزید، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی میت ایسی نہیں جس کی نماز جنازہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت ادا کرے جن کی تعداد سو ہوجائے اور سارے کے سارے اس کے لئے سفارش کریں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ کی جاتی ہو راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا مجھے یہی حدیث انس بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے بیان کی۔

Aisha reported Allahs Apostle ﷺ saying: If a company of Muslims numbering one hundred pray over a dead person, all of them interceding for him, their intercession for him will be accepted.

2199Sahih Muslim

جس آدمی کے جنازہ پر چالیس آدمی نماز پڑھیں اور اس کی سفارش کریں تو ان کی سفارش اس کے حق میں قبول ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّکُونِيُّ قَالَ الْوَلِيدُ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ يَا کُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ تَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَی جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِکُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

ہارون بن معروف، ہارون بن سعید ایلی، ولید بن شجاع سکونی، ولید، ابن وہب، ابوصخر، شریک بن عبداللہ بن ابونمر، حضرت کریب مولیٰ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ کے ایک بیٹے کا مقام قدید یا عسفان میں انتقال ہوگیا تو آپ ؓ نے فرمایا کریب! دیکھو اس کے لئے کتنے لوگ جمع ہوئے ہیں میں نکلا تو لوگ جمع ہوچکے تھے میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا تمہارے اندازے میں وہ چالیس ہیں؟ فرماتے ہیں جی ہاں! ابن عباس ؓ نے فرمایا میت نکال لاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر کوئی مسلمان فوت ہوجائے اس کے جنازہ پر چالیس ایسے آدمی شریک ہوجائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہ ہوں تو اللہ ان کی سفارش اس میت کے حق میں قبول فرماتے ہیں۔

Abdullah bin Abbas reported that his son died in Qudaid or Usfan. He said to Kuraib to see as to how many people had gathered there for his (funeral). He (Kuraib) said: So I went out and I informed him about the people who had gathered there. He (Ibn Abbas) said: Do you think they are forty? He (Kuraib) said: Yes. Ibn Abbas then said to them: Bring him (the dead body) out for I have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: If any Muslim dies and forty men who associate nothing with Allah stand over his prayer (they offer prayer over him), Allah will accept them as intercessors for him.

2200Sahih Muslim

مردوں میں سے جس کی بھلائی کی تعریف اور برائی بیان کی جائے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ قَالَ عُمَرُ فِدًی لَکَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَائُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَائُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَائُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

یحییٰ بن ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، علی بن حجر السّعدی، ابن علیہ، عبدالعزیزبن صہیب، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ جنازہ کے گزرنے پر لوگوں نے اس کا ذکر خیر کے ساتھ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی اور دوسرا جنازہ گزرا تو اس کا ذکر برائی کے ساتھ کیا گیا تو اللہ کے نبی نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ایک جنازہ گزرا اور اس کی نیکی کی تعریف کی گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی اور دوسرا جنازہ گزرا تو اس کا ذکر برائی کے ساتھ کیا گیا تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کا ذکر تم نے بھلائی کے ساتھ کیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کا ذکر تم نے برائی کے ساتھ کیا اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئی تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔

Anas bin Malik (RA) reported: There passed a bier (being carried by people) and it was lauded in good terms. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. Umar said: May my father and mother be ransom for you! There passed a bier and it was praised in good terms, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: He whom you praised in good terms, Paradise has become certain for him, and he whom you condemned in bad words, Hell has become certain for him. You are Allahs witnesses in the earth, you are Allahs witnesses in the earth, you are Allahs witnesses in the earth.

2201Sahih Muslim

مردوں میں سے جس کی بھلائی کی تعریف اور برائی بیان کی جائے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ

ابوالربیع الزہرانی، حماد بن زید، یحییٰ بن یحیی، جعفربن سلیمان، ثابت، حضرت انس ؓ سے یہی حدیث دوسری اسناد سے بھی ذکر کی گئی ہے دوسری اسناد مذکور ہیں۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters.

2202Sahih Muslim

آرام پانے والے یا اس سے راحت حاصل کرنے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ فَقَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، محمد بن عمرو بن حلحلہ، معبد بن کعب بن مالک، حضرت ابوقتادہ ؓ بن ربعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام پایا گیا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا مستریح و مستراح منہ سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مومن آدمی دنیا کی مصیبتوں سے آرام پاتا ہے اور فاجر و بدکار آدمی سے بندے شہر درخت اور جانور آرام پاتے ہیں۔

Qatada bin Ribi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Whenever a bier passed before him, he said: He is the one to find relief and the one with (the departure of him) other will find relief. They said: Apostle of Allah ﷺ , who is al-Mustarih and al-Mustarah? Upon this he said: The believing servant finds relief from the troubles of the world, and in the death of a wicked person, the people, towns, trees and animals find relief.