جنازوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 13 · 140 hadiths · Page 2 of 7

2143Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، قتادہ، سعید بن مسیب، ابن عمر، حضرت عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے۔

Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The dead is punished in the grave because of wailing on it.

2144Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، سعید بن مسیب، ابن عمر، حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں، میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب کیا جاتا ہے۔

The same hadith is narrated on the authority of Umar through another chain of transmitters.

2145Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

علی بن حجرسعدی، علی بن مسہر، اعمش، ابوصالح، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کو زخمی کیا گیا، آپ ؓ پر بےہوشی طاری ہوگئی تو لوگ آپ پر با آواز بلند چیخنے لگے، جب آپ ؓ کو ہوش آیا تو فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

Ibn Umar reported: When Umar was wounded he fainted, and there was a loud lamentation over him. When he regained consciousness he said: Didnt you know that the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead is punished because of the weeping of the living"?

2146Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَا أَخَاهْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

علی بن حجر، علی بن مسہر، شیبانی، ابوبردہ سے روایت کرتی ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ زخمی ہوئے صہیب نے ہائے بھائی کہنا شروع کردیا تو حضرت عمر ؓ نے اس سے کہا اے صہیب کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

Abu Burda narrated on the authority of his father that when Umar was wounded Suhaib uttered (loudly in lamentation): O brother! Upon this Umar said: Suhaib, did you not know that the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead is punished because of the lamentation of the living"?

2147Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَی عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُمَرَ فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْکِي فَقَالَ عُمَرُ عَلَامَ تَبْکِي أَعَلَيَّ تَبْکِي قَالَ إِي وَاللَّهِ لَعَلَيْکَ أَبْکِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُبْکَی عَلَيْهِ يُعَذَّبُ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِمُوسَی بْنِ طَلْحَةَ فَقَالَ کَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ إِنَّمَا کَانَ أُولَئِکَ الْيَهُودَ

علی بن حجر، شعیب بن صفوان، ابویحیی، عبدالملک بن عمیر، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ زخمی ہوگئے تو حضرت صہیب اپنے گھر سے حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر رونے لگے تو اس کو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کس بات پر روتے ہو؟ کیا تم مجھ پر رو رہے ہو؟ تو اس نے کہا اے امیرالمؤمنین اللہ کی قسم آپ ؓ ہی پر روتا ہوں، تو آپ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم تو جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس پر رویا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے فرماتے ہیں میں نے اس کا ذکر موسیٰ بن طلحہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ( کہ جن لوگوں کے بارے میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے) وہ یہودی تھے۔

Abu Musa reported that when Umar was wounded, there came Suhaib from his house and went to Umar and stood by his side, and began to wail. Upon this Umar said: What are you weeping for? Are you weeping for me? He said: By Allah, it is for you that I weep, O Commander of the believers. He said: By Allah, you already know that the Messenger of Allah ﷺ had said: He who is lamented upon is punished. I made a mention of it to Musa bin Talha, and he said that Aisha told that it concerned the Jews (only).

2148Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ

عمرو ناقد، عفان بن مسلم، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ ؓ نے آپ ؓ پر آواز سے رونا شروع کردیا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اے حفصہ! کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس پر آواز سے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے اور آپ پر صہیب جب روئے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے صہیب کیا تو نہیں جانتا کہ جس پر آواز سے رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔

Anas reported that when Umar bin Khattab was wounded Hafsa lamented for him. Upon this he said: O Hafsa, did you not hear the Messenger of Allah ﷺ saying:" One who is lamented would be punished"? Suhaib also lamented over him. Umar told him also: O Suhaib, didnt you know that one who is lamented is punished?

2149Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا إِلَی جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَائَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَکَانِ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَی جَنْبِي فَکُنْتُ بَيْنَهُمَا فَإِذَا صَوْتٌ مِنْ الدَّارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ کَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَی عَمْرٍو أَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ قَالَ فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاکَ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ إِنَّکَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَکَ مَنْ ذَاکَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ قَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا فَقُلْتُ إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ قَالَ وَإِنْ کَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ فَجَائَ صُهَيْبٌ يَقُولُ وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ قَالَ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضِ فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَحَدٍ وَلَکِنَّهُ قَالَ إِنَّ الْکَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَذَابًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ أَيُّوبُ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ إِنَّکُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ کَاذِبَيْنِ وَلَا مُکَذَّبَيْنِ وَلَکِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ

داود بن رشید، اسماعیل بن علیہ، ایوب، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ہم ام ابان بنت عثمان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے اور آپ کے پاس عمرو بن عثمان بھی موجود تھے کہ ابن عباس ؓ تشریف لائے اور ان کو کوئی شخص لارہا تھا میرا گمان ہے کہ ان کو ابن عمر ؓ کی جگہ کی خبر دی گئی تو وہ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے اور میں ان دونوں کے درمیان تھا، اتنے میں گھر سے رونے کی آواز آئی تو ابن عمر ؓ نے حضرت عمرو ؓ سے فرمایا کہ وہ کھڑے ہو کر ان کو روکیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، حضرت عبداللہ نے اس کو مطلقا فرمایا یہود کی قید نہیں لگائی تو ابن عباس ؓ نے فرمایا ہم حضرت امیر المؤمنین عمر ؓ بن خطاب کے ساتھ تھے جب صحراء بیداء میں پہنچے تو ہم نے ایک شخص کو ایک درخت کے سایہ میں اترتے ہوئے دیکھا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ آدمی کون ہے، میں گیا تو وہ حضرت صہیب تھے میں واپس آیا اور عرض کی جس شخص کو معلوم کرنے لئے آپ نے مجھے بھیجا وہ صہیب ؓ ہیں تو آپ نے فرمایا ان کو حکم دو کہ وہ ہمارے ساتھ مل جائیں، میں نے عرض کیا ان کے ساتھ ان کے اہل ہیں، آپ نے فرمایا اگرچہ اس کے ساتھ اس کے گھر والے ہیں ان کو ہمارے ساتھ ملنے کا حکم دو، جب ہم مدینہ پہنچے تو کچھ دیر ہی نہ لگی کہ حضرت عمر ؓ زخمی ہوگئے، حضرت صہیب آئے اور ہائے بھائی ہائے بھائی کہنے لگے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: کیا تو نہیں جانتا تو نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو اس کے بعض گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے فرمایا عبداللہ نے مطلق فرمایا ہے۔ مردہ کو عذاب دیا جاتا ہے حالانکہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا بعض کے رونے کی وجہ سے ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں میں اٹھا اور حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے ابن عمر ؓ کی حدیث ان کو بیان کی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا مردہ کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا کافر پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب اور زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ ہی ہنساتے اور رلاتے ہیں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، ایوب کہتے ہیں ابن ابی ملیکہ نے فرمایا مجھے قاسم بن محمد نے بیان کیا جب حضرت عائشہ ؓ کو حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ کا قول پہنچا تو فرمایا تم مجھے ایسے آدمیوں کی روایت بیان کرتے ہو جو نہ جھوٹے ہیں اور نہ تکذیب کی جاسکتی ہے البتہ کبھی سننے میں غلطی ہوجاتی ہے۔

Abdullah bin Abu Mulaikah reported: I was sitting by the side of Ibn Umar, and we were waiting for the bier of Umm Aban, daughter of Uthman, and there was also Amr bin Uthman. In the meanwhile there came Ibn Abbas led by a guide. I conceive that he was informed of the place of Ibn Umar. So he came till he sat by my side. While I was between them (Ibn Abbas and Ibn Umar) there came the noise (of wailing) from the house. Upon this Ibn Umar said (that is, he pointed out to Amr that he should stand and forbid them, for): I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: The dead is punished because of the lamentation of his family. Abdullah made it general (what was said for a particular occasion). Ibn Abbas said: When we were with the Commander of the believers, Umar bin Khattab, we reached Baida, and there was a man under the shadow of the tree. He said to me: Go and inform me who is that person. So I went and (found) that he was Suhaib. I returned to him and said: You commanded me to find out for you who that was, and he is Suhaib. He (Hadrat Umar) said: Command him to see us. I said: He has family along with him. He said: (That is of no account) even if he has family along with him. So he (the narrator) told him to see (the Commander of the believers and his party). When we came (to Madinah), it was before long that the Commander of the believers was wounded, and Suhaib came weeping and crying: Alas for the brother, alas for the companion. Upon this Umar said: Didnt you know, or didnt you hear, that the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead is punished because of the lamentation of his family"? Then Abdullah made it general and Umar told it of certain occasions. So I (Abdullah bin Abu Mulaikah) stood up and went to Aisha and told her what Ibn Umar had said. Upon this she said: I swear by Allah that Allahs Messenger ﷺ never said that dead would be punished because of his familys lamenting (for him). What he said was that Allah would increase the punishment of the unbeliever because of his familys lamenting for him. Verily it is Allah Who has caused laughter and weeping. No bearer of a burden will bear anothers burden. Ibn Abu Mulaikah said that al-Qasim bin Muhammad said that when the words of Umar and Ibn Umar were conveyed to AIsha, she said: You have narrated it to me from those who are neither liar nor those suspected of lying but (sometimes) hearing misleads.

2150Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَکَّةَ قَالَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا قَالَ فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا قَالَ جَلَسْتُ إِلَی أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَائَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ أَلَا تَنْهَی عَنْ الْبُکَائِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ کَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِکَ ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَيْدَائِ إِذَا هُوَ بِرَکْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَائِ الرَّکْبُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْکِي يَقُولُ وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْکِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُکَائِ أَحَدٍ وَلَکِنْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْکَافِرَ عَذَابًا بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَسْبُکُمْ الْقُرْآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِکَ وَاللَّهُ أَضْحَکَ وَأَبْکَی قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْئٍ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی بیٹی مکہ میں فوت ہوگئی ہم ان کے جنازہ میں شرکت کے لئے آئے، حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ بھی تشریف لائے اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھنے والا تھا یا فرمایا میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا تھا کہ دوسرے تشریف لائے اور میرے پاس آکر بیٹھ گئے، حضرت ابن عمر ؓ نے اپنے سامنے بیٹھے عمرو بن عثمان سے کہا کیا تم ان رونے والوں کو منع نہیں کردیتے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مردہ کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت عمر ؓ نے بعض گھر والوں کے رونے سے فرمایا تھا۔ پھر حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ مکہ سے لوٹا جب ہم مقام بیداء پہنچے تو ایک درخت کے سایہ میں کچھ سوار نظر آئے تو آپ نے فرمایا جاؤ اور دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں میں گیا دیکھا تو وہ حضرت صہیب ؓ تھے میں نے آپ کو خبر دی تو آپ ؓ نے فرمایا: اس کو بلا لاؤ میں حضرت صہیب کے پاس لوٹا اور ان سے کہا چلو اور امیرالمؤمنین کے ساتھ مل جاؤ، جب حضرت کو زخمی کیا گیا تو حضرت صہیب روتے ہوئے داخل ہوئے ہائے بھائی ہائے ساتھی کہتے تھے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے صہیب کیا تو مجھ پر روتا ہے؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردہ کو اپنے بعض گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ شہید ہوگئے تو میں نے اس کا حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا اللہ حضرت عمر ؓ پر رحم فرمائے اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کے کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کافر کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب کو زیادہ کردیتے ہیں پھر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا تمہارے لئے قرآن کافی ہے کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا ابن عباس ؓ نے اس پر فرمایا اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے اس پر کوئی بات نہیں فرمائی یعنی یہ حدیث قبول کرلی۔

Abdullah bin Abu Mulaikah said: The daughter of Uthman bin Affan died in Makkah. We came to attend her (funeral). Ibn Umar and Ibn Abbas were also present there, and I was sitting between them. He added: I (first sat) by the side of one of them, then the other one came and he sat by my side. Abdullah bin Umar said to Amr bin Uthman who was sitting opposite to him: Will you not prevent the people from lamenting, for the Messenger of Allah ﷺ had said:" The dead is punished because of the lamenting of his family for him"? Ibn Abbas then said that Umar used to say something of that nature, and then narrated saying: I proceeded from Makkah along with Umar till we reached al-Baida and there was a party of riders under the shade of a tree. He said (to me): Go and find out who this party is. I cast a glance and there was Suhaib (in that party). So I informed him (Umar) about it. He said: Call him to me. So I went back to Suhaib and said: Go and meet the Commander of the believers. When Umar was wounded, Suhaib came walling: Alas, for the brother! alas for the companion! Umar said: O Suhaib, do you wail for me, whereas the Messenger of Allah ﷺ said:" The dead would be punished on account of the lamentation of the (members of his family)"? Ibn Abbas said: When Umar died I made a mention of it to Aisha. She said: May Allah have mercy upon Umar! I swear by Allah that Allahs Messenger ﷺ never said that Allah would punish the believer because of the weeping (of any one of the members of his family), but he said that Allah would increase the punishment of the unbeliever because of the weeping of his family over him. Aisha said: The Quran is enough for you (when it states):" No bearer of burden will bear anothers burden" (vi. 164). Thereupon Ibn Abbas said: Allah is He Who has caused laughter and weeping. Ibn Abu Mulaikah said: By Allah, Ibn Umar said nothing.

2151Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ کُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍو

عبدالرحمن بن بشر، سفیان، عمرو، حضرت ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ام ابان بنت عثمان کے جنازہ میں تھے باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Amr reported on the authority of Ibn Abu Mulaikah (RA) : We were with the bier of Umm Aban, daughter of Uthman, and the rest of the hadith is the same, but he did not narrate it as a marfu hadith on the authority of Umar from the Apostle of Allah ﷺ as it was narrated by Ayyub and Ibn Juraij, and the hadith narrated by them (Ayyub and Ibn Juraij) is more complete than that of Amr.

2152Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن محمد، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

Abdullah bin Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The dead is punished because of the lamentation of the living.

2153Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَتْ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ

خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی، حماد، ہشام بن عروہ، عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ابن عمر ؓ کا قول کہ مردے کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے کوئی بات سنی لیکن اس کو یاد نہ رکھ سکے اصل یہ ہے کہ ایک یہودی کا جنازہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرا وہ اس پر رو رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم روتے ہو اور اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔

Hisham bin Urwa narrated on the authority of his father that the saying of Ibn Umar, viz." The dead would be punished because of the lamentation of his family over him" was mentioned to Aisha. Upon this she said: May Allah have mercy upon Abu Abdul Rahman (the kunya of Ibn Umar) that he heard something but could not retain it (well). (The fact is) that the bier of a Jew passed before the Messenger of Allah ﷺ and (the members of his family) were waiting over him. Upon this he said: You are wailing and he is being punished.

2154Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُکَائِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَتْ وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْکُونَ عَلَيْهِ الْآنَ وَذَاکَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَی الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَفِيهِ قَتْلَی بَدْرٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ وَقَدْ وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا کُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَی وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ يَقُولُ حِينَ تَبَوَّئُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنْ النَّارِ

ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ذکر کیا گیا کہ ابن عمر ؓ یہ حدیث نبی ﷺ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں اپنے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو سیدہ ؓ نے فرمایا وہ بھول گئے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا کہ وہ اپنے گناہ اور خطاؤں کی وجہ سے عذاب پاتا ہے اور اس کے اہل پر جواب رو رہے ہیں، ان کو یہ قول اسی قول کی طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن کنویں پر کھڑے ہوئے اور اس کنویں میں مشرکین کے بدری مقتول تھے تو آپ ﷺ نے ان کو فرمایا جو فرمایا کہ وہ سنتے ہیں جو میں کہتا ہوں، حالانکہ وہ بھول گئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا البتہ وہ جانتے ہیں جو میں ان کو کہتا تھا وہ حق ہے پھر سیدہ ؓ نے آیت (اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى) 27۔ النمل: 80) وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ ) 35۔ فاطر: 22) تو نہیں سنا سکتا جو مردہ ہیں اور جو قبروں میں ہیں آپ ﷺ ان کو سنانے والے نہیں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ ان کے حال کی خبر دیتا ہے کہ وہ دوزخ میں اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہیں۔

Hisham narrated on the authority of his father that it was mentioned to Aisha that Ibn Umar had narrated as marfu hadith from the Apostle of Allah ﷺ that the dead would be punished in the grave because of the lamentation of his family for him. Upon this she said: He (Ibn Umar) missed (the point). The Messenger of Allah ﷺ had (in fact) said: He (the dead) is punished for his faults or for his sins, and the members of his family are wailing for him now. (This misunderstanding of Ibn Umar is similar to his saying:) The Messenger of Allah ﷺ stood by the well in which were lying the dead bodies of those polytheists who had been killed on the Day of Badr, and he said to them what he had to say, i. e.: They hear what I say. But he (Ibn Umar) misunderstood. The Holy Prophet ﷺ had only said: They (the dead) understand that what I used to say to them was truth. She then recited:" Certainly, thou canst not make the dead hear the call" (xxvii. 80), nor can you make those hear who are in the graves, nor can you inform them when they have taken their seats in Hell.

2155Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام، عروہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated by Ibn Urwa with the same chain of transmitters. The hadith narrated by Abu Usama is more complete.

2156Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُکِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَکْذِبْ وَلَکِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يُبْکَی عَلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن ابوبکر، عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ذکر کیا گیا کہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائیں انہوں نے جھوٹ نہیں بولا بلکہ وہ بھول گئے یا خطا ہوگئی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک یہودیہ کے جنازے پر سے گزرے اس پر رویا جا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ تو اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

Amra daughter of Abd al Rahman narrated that she heard (from) Aisha and made a mention to her about Abdullah bin Umar as saying: The dead is punished because of the lamentation of the living. Upon this Aisha said: May Allah have mercy upon the father of Abdul Rahman (Ibn Umar). He did not tell a lie, but he forgot or made a mistake. The Messenger of Allah ﷺ happened to pass by a (dead) Jewess who was being lamented. Upon this he said: They weep over her and she is being punished in the grave.

2157Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْکُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ کَعْبٍ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سعید بن عبید طائی، محمد بن قیس، علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قزعہ بن کعب پر نوحہ کیا گیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس پر نوحہ کیا گیا اس کو قیامت کے دن نوحہ کئے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔

Ali bin Rabia reported that the first one who was lamented upon in Kufa was Qaraza bin Kab. Mughira bin Shubah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who is lamented upon would be punished because of the lamentation for him on the Day of Judgment.

2158Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، محمد بن قیس اسدی، علی بن ربیعہ اسدی، مغیرہ بن شعبہ ؓ سے اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Mughira bin Shubah from the Apostle of Allah ﷺ .

2159Sahih Muslim

گھر والوں کے رونے کے وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ فزاری، سعید بن عبید طائی، علی بن ربیعہ، مغیرہ بن شعبہ ؓ سے اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated from the Apostle of Allah ﷺ through another chain of transmitters

2160Sahih Muslim

نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُکُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالْاسْتِسْقَائُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ وَقَالَ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، ح، اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، ابان، یحیی، زید، ابوسلام، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا اور نوحہ کرنا فرمایا نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہوگی۔

Abu Malik al-Ashari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Among my people there are four characteristics belonging to pre-Islamic period which they do not abandon: boasting of high rank, reviling other peoples genealogies, seeking rain by stars, and walling. And he (further) said: If the wailing woman does not repent before she dies, she will be made to stand on the Day of Resurrection wearing a garment of pitch and a chemise of mange.

2161Sahih Muslim

نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ لَمَّا جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ قَالَتْ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَائَ جَعْفَرٍ وَذَکَرَ بُکَائَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ فَأَتَاهُ فَذَکَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنْ التُّرَابِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَکَ وَاللَّهِ مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا تَرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَنَائِ

ابن مثنی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، عمرہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس زید بن حارثہ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ پر غم کے آثار نمودار ہوئے فرماتی ہیں کہ میں دروازہ کی درزوں سے دیکھ رہی تھی کہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ جا کر ان کو منع کرے، وہ گیا اور آکر عرض کیا کہ انہوں نے نہیں مانا آپ ﷺ نے اس کو دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر ان کو منع کرے وہ گیا واپس آکر عرض کرنے لگا اللہ کی قسم یا رسول اللہ ﷺ، وہ ہم پر غالب آگئیں فرماتی ہیں میرا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ان کے منہ خاک سے بھر دو، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلود کرے اللہ کی قسم نہ تو تو رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تکمیل کرتا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کو اس تکلیف سے چھوڑتا ہے۔

Aisha reported that when the Messenger of Allah ﷺ was told that Ibn Haritha, Jafar bin Abu Talib and Abdullah bin Rawaha were killed, he sat down, showing signs of grief. She (further) said: I was looking (at him) through the crevice of the door. A man came to him and mentioned that Jafars women were lamenting. He (the Holy Prophet) commanded him to go and forbid them (to do so). So he went away but came back and told (him) that they did not obey (him). He commanded him a second time to go and forbid them (to do so). He again went but came back to him and said: I swear by God, Messenger of Allah, that they have overpowered us. She (Aisha) said that she thought the Messenger of Allah ﷺ had told (her) to throw dust in their mouths. Thereupon Aisha said: May Allah humble you! You did not do what Allahs Messenger ﷺ ordered you, nor did you stop annoying Allahs Messenger ﷺ .

2162Sahih Muslim

نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَا تَرَکْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعِيِّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ح، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد، ابن مسلم، یحییٰ بن سعید اس حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیکن عبدالعزیز کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تھکانے سے نہ چھوڑا۔

This hadith has been narrated by Yahya bin Said with the same chain of transmitters like one narrated by Abdul Aziz (with the change of these words):" You did not spare the Messenger of Allah ﷺ the botheration."