چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ شَرِيکٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَأُمُّ شَرِيکٍ إِحْدَی نِسَائِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ
ابوطاہر ابن وہب، ابن جریج، محمد بن احمد بن ابی خلف روح ابن جریج، عبد بن حمید محمد بن بکر، ابن جریج، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سعید بن مسیب ام شریک ان اسناد سے بھی حدیث اسی طرح مروی ہے کہ حضرت ام شریک ؓ نے نبی ﷺ سے چھپکلی کو مارنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں مارنے کا حکم دیا اور ام شریک ؓ بنو عامر بن لوئی کی عورتوں میں ایک ہیں۔
Umm Sharik reported that she consulted Allahs Apostle ﷺ in regard to killing of geckos, and he commanded to kill them and Umm Sharik is one of the women of Bani Amir bin Luwayy. This hadith has been reported through another chain of transmitters with the same meaning.
چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت عامر ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق یعنی کم فاسق رکھا۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ commanded the killing of geckos, and he called them little noxious creatures.
چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ زَادَ حَرْمَلَةُ قَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس زہری، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو فویسق کہا اور حرملہ نے یہ اضافہ کیا کہ سیدہ ؓ نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ سے اسے مارنے کا حکم نہیں سنا۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ said about the gecko as a noxious creature". Harmala made this addition that she said: I did not hear that he had commanded to kill them.
چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الْأُولَی وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الثَّانِيَةِ
یحییٰ بن یحیی، خالف بن عبداللہ بن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا تو اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا تو اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں لیکن دوسری ضرب سے مارنے والے سے کم۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who killed a gecko with the first stroke for him is such and such a reward, and he who killed it with a second stroke for him is such and such reward less than the first one, and he who killed it with the third stroke for him is such and such a reward less than the second one.
چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ کُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِکَ وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِکَ
قتیبہ بن سعید ابوعوانہ، زہیر بن حرب، جریر، محمد بن صباح اسماعیل ابن زکریا، ابوکریب وکیع، سفیان، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب سے مارا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters (and the words are): - He who killed a gecko with the first stroke for him are ordained one hundred virtues, and with the second one less than that and with the third one less than that.
چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَکَرِيَّائَ عَنْ سُهَيْلٍ حَدَّثَتْنِي أُخْتِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً
محمد بن صباح اسماعیل ابن زکریا، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پہلی ضرب سے مارنے میں ستر نیکیاں ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying (that he who kills a gecko) with the first stroke there are seventy rewards for him.
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ أَفِي أَنْ قَرَصَتْکَ نَمْلَةٌ أَهْلَکْتَ أُمَّةً مِنْ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ
ابوطاہر حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چیونٹی نے انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا تو اسے جلا دیا گیا پس اللہ عز وجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تجھے ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے گروہوں میں سے ایک ایسے گروہ کو ہلاک کروایا جو اللہ کی تسبیح کرتا تھا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: An ant had bitten a Prophet ﷺ (one amongst the earlier Prophets) and he ordered that the colony of the ants should be burnt. And Allah revealed to him: "Because of an ants bite you have burnt a community from amongst the communities which sings My glory."
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا تو انہوں نے ان کا چھتہ نکالنے کا حکم دیا اسے درخت کے نیچے سے نکالا پھر انہیں جلا دینے کا حکم دیا اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے ایک چیونٹی کو ہی کیوں نہ کیا یعنی سب کو کیوں جلوا دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: An Apostle ﷺ from amongst the Apostles of Allah encamped under a tree, and an ant bit him, and he commanded his belongings to be removed from underneath the tree. He then commanded and it was burnt, and Allah revealed to him: "Why was one ant (which had bitten you) not killed?"
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ قَالَ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبیوں میں اسے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے اس کے چھتہ کا حکم دیا جسے درخت کے نیچے سے نکالا گیا انہوں نے اسے جلا دینے کا حکم دیا تو اسے آگ میں جلا دیا گیا پس اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ جلا یا۔
Abu Hurairah (RA) reported so many ahadith and one of them was this that Allah Messenger ﷺ said: When an Apostle ﷺ from amongst the Apostles of Allah came to sit under a tree an ant bit him. He commanded his luggage to be removed from under the tree and he commanded it to be burnt in the fire and Allah revealed to him: "Why was one ant (which had bitten you) not killed (and why did you burn the others)?
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَکَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
عبداللہ بن محمد بن اسماء جویریہ بن اسماء نافع حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جسے اس نے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بلی مرگئی اور وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگئی اور یہ نہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اسے باندھے رکھا اور اسے نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھالیتی۔
Nafi reported from Abdullah that Allahs Messenger ﷺ said: A woman was punished because she had kept a cat tied until it died, and (as a punishment of this offence) she was thrown into the Hell. She had not provided it with food, or drink, and had not freed her so that she could eat the insects of the earth.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ
نصر بن علی عبدالاعلی عبیداللہ بن عمر نافع ابن عمرو سعید مقبری نافع ابن عمر و سعید مقبری نافع ابن عمرو سعید مقبری حضرت ابوہریرہ ؓ نے بھی نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ
ہارون بن عبداللہ، عبداللہ بن جعفر، معن بن عیسیٰ، مالک، نافع، اس سند سے بھی حضرت ابن عمر ؓ کی نبی ﷺ سے یہی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar also.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَتْرُکْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
ابوکریب عبدہ ہشام حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اس کو نہ کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman was punished because of a cat. She had neither provided her with food nor drink, nor set her free so that she might eat the insects of the earth.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَبَطَتْهَا وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ
ابوکریب ابومعاویہ، محمد بن مثنی، خالد بن حارث، ہشام ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حمید بن عبدالرحمن ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported this hadith through another chain of transmitters.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، اس سند سے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی نبی ﷺ سے روایت منقول ہے۔
Hammam bin Manabbih reported this hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) .
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي کَانَ بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَائً ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ حَتَّی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ فِي کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابی بکر ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایک راستہ میں چل رہا تھا اسے سخت پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا اس میں اتر کر پانی پیا پھر باہر نکل آیا اس نے ایک کتے کو ہانپتے ہوئے دیکھا جو پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا اس آدمی نے سوچا اس کتے کو بھی پیاس کی اتنی ہی شدت ہے جتنی مجھے پہنچی تھی وہ کنوئیں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھر کر اپنے منہ سے پکڑ کر باہر نکل آیا اور اس کتے کو پلایا اللہ نے اس کی یہ نیکی قبول کی اور اسے معاف کردیا صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ان جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر وثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہر تر جگر والے جانور میں ثواب ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as sayings: A person suffered from intense thirst while on a journey, when he found a well. He climbed down into it and drank (water) and then came out and saw a dog lolling its tongue on account of thirst and eating the moistened earth. The person said: This dog has suffered from thirst as I had suffered from it. He climbed down into the well, filled his shoe with water, then caught it in his mouth until he climbed up and made the dog drink it. So Allah appreciated this act of his and pardoned him. Then (the Companions around him) said: Allahs Messenger, is there for us a reward even for (serving) such animals? He said: Yes, there is a reward for service to every living animal.
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ کَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنْ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر ہشام محمد ابوہریرہ ؓ سے نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دن میں ایک کتے کو کنوئیں کے ارد گرد پیاس کی وجہ سے اپنی زبان نکالے چکر لگاتے دیکھا تو اس نے اپنے موزے میں اس کتے کے لئے پانی کھینچا پس اس عورت کی مغفرت کردی گئی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may pace be upon him) as saying: A prostitute saw a dog moving around a well on a hot day and hanging out its tongue because of thirst. She drew water for it in her shoe and she was pardoned (for this act of hers).
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا کَلْبٌ يُطِيفُ بِرَکِيَّةٍ قَدْ کَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، جریر بن حازم ایوب سختیانی محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک کتا کنوئیں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس اسے ہلاک کر دے اچانک بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک فاحشہ نے دیکھا تو اس نے اپنے موزے میں پانی کھینچا اسے پلانے کے لئے اور اسے پلایا تو اس کی اسی وجہ سے مغفرت کردی گئی
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There was a dog moving around a well whom thirst would have killed. Suddenly a prostitute from the prostitutes of Bani Israil happened to see it and she drew water in her shoe and made it drink, and she was pardoned because of this.