ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 9 of 23

255Sahih Muslim

سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ وَأَشَارَ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح ہے اس میں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت عبداللہ کے گھر کی طرف راوی نے اشارہ کیا اور ان کا نام ہمارے سامنے بیان نہیں کیا۔

This hadith has been transmitted by Muhammad bin Bashshar, Muhammad bin Jafar Shubah with this chain of narrators, with the addition that he pointed towards the house of Abdullah, but he did not mention his name for us.

256Sahih Muslim

سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ أَوْ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حسن بن عبیداللہ، ابوعمرو شیبانی، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اعمال یا عمل میں سب سے افضل عمل نماز اپنے وقت پر پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔

It is reported on the authority of Abdullah that the Apostle of Allah ﷺ observed: The best of the deeds or deed is the (observance of) prayer at its proper time and kindness to the parents.

257Sahih Muslim

سب سے بڑے گناہ شرک اور اس کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ ذَلِکَ لَعَظِيمٌ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَکَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِکَ

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عثمان، منصور، ابو وائل، عمرو بن شرحبیل، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے ہاں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے، میں نے عرض کیا واقعی وہ بڑا گناہ ہے، میں نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردینا کہ وہ تیرے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہو، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد کونسا گناہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے ہمسایہ کی عورت کے ساتھ زنا کرے۔

Abdullah reported: I asked the Messenger of Allah ﷺ : Which sin is the gravest in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He has created you. He (the reporter) said: I told him (the, Holy Prophet): Verily it is indeed grave. He (the reporter) said: I asked him what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he shall join you in food. He (the reporter) said: I asked (him) what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) observed: Then (the next gravest sin) is that you commit adultery with the wife of your neighbour.

258Sahih Muslim

سب سے بڑے گناہ شرک اور اس کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ يَلْقَ أَثَامًا

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر عثمان، اعمش، ابو وائل، عمرو بن شرحبیل، عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کے ہاں گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے؟ اس نے عرض کیا پھر کونسا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ کھانے میں تیرے ساتھ شریک ہو اس نے عرض کیا پھر کونسا گناہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے ہمسائے کی عورت سے زنا کرو پھر آپ ﷺ کے اس فرمان کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکارتے اور نہ ہی ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ ہی زنا کرتے ہیں اور جو لوگ ایسے کام کریں گے وہ اپنی سزا پالیں گے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that a man said: Messenger of Allah, which offence is the most grievous in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He created you. He (the man) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he would join you in food. He (the inquirer) said (again): What next? He (the Holy Prophet) replied: That you commit adultery with the wife of your neighbour. And the Almighty and Exalted Lord testified it (with this verse): All those who call not unto another god along with Allah, and slay not any soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice, nor commit fornication, and he who does this shall meet a requital of sin (xxv. 68).

259Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا حَتَّی قُلْنَا لَيْتَهُ سَکَتَ

عمرو بن محمد بن بکیر، ابن محمد ناقد، اسماعیل بن علیہ سعید جریری، عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ اپنے باپ حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں گناہوں میں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں! تین مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا فرمایا جھوٹی بات کہنا، رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ ﷺ بیٹھ گئے اور باربار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے دل میں کہا کاش آپ ﷺ خاموشی اختیار فرماتے۔

It is narrated on the authority of Abdur-Rahman bin Abu Bakra (RA) that his father said: We were in the company of the Messenger of Allah ﷺ that he observed: Should I not inform you about the most grievous of the grave sins? (The Holy Prophet) repeated it three times, and then said: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, false testimony or false utterance. The Holy Prophet ﷺ was reclining, then he sat up, and he repeated it so many times that we wished that he should become silent.

260Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْکَبَائِرِ قَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔

Anas narrated from the Apostle ﷺ about the major sins. He (the Holy Prophet) observed: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance.

261Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَکْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ

محمد بن ولید بن عبدالحمید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو نبی ﷺ کا یہ فرمان نقل فرماتے سنا کہ نبی ﷺ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا، کسی نفس کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان بڑے گناہوں میں سے شرک کے بعد سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں! آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹی بات کہنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ جھوٹی گواہی ہے۔

Ubaidullah bin Abu Bakr (RA) said: I heard Anas bin Malik (RA) saying: The Messenger of Allah ﷺ talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Holy Prophet ﷺ further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shubah said. It was most probably" false testimony".

262Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَکْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَکْلُ الرِّبَا وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان، بن بلال، ثور بن زید، ابوغیث، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات ہلاکت میں ڈال دینے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کونسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور کسی نفس کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا سوائے حق کے اور یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، جہاد سے دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? ﷺ He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary.

263Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ

قتیبہ بن سعید، لیث ابن ہاد، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Amr (RA) bin al-As that the Messenger of Allah ﷺ observed: Abusing ones parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the formers) mother.

264Sahih Muslim

بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، سعد بن ابراہیم ایک دوسری سند میں بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has also been transmitted on the authority of Sad bin Ibrahim with this chain of narrators.

265Sahih Muslim

تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَمَّادٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابراہیم بن دینار، یحییٰ بن حماد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل بن عمرو تمیمی، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی بھی اچھی ہو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔

It Is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Apostle of Allah ﷺ , observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise. A person (amongst his hearers) said: Verily a person loves that his dress should be fine, and his shoes should be fine. He (the Holy Prophet) remarked: Verily, Allah is Graceful and He loves Grace. Pride is disdaining the truth (out of self-conceit) and contempt for the people.

266Sahih Muslim

تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرِيَائَ

منجاب بن حارث تمیمی، سوید بن سعید، علی بن مسہر، منجاب ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ observed: None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride.

267Sahih Muslim

تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ

محمد بن بشار، ابوداؤد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abdullah that the Apostle of Allah ﷺ observed: He who as in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise.

268Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَکِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، عبداللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وکیع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن نمیر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that Waki told (him) that the Messenger of Allah ﷺ had observed and Ibn Numair asserted: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). Abdullah bin Masud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise.

269Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Jabir that a man came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell.

270Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِکُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ

ابوایوب غیلانی، سلیمان بن عبیداللہ، حجاج بن شاعر، عبدالملک، ابن عمرو، ابوزبیر جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوایوب راوی نے کہا کہ ابوالزبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا۔ اسحاق بن منصور، معاذ ابن ہشام ابوزبیر، جابر ایک دوسری سند سے حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire. The same hadith has been narrated by Ishaq bin Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters.

272Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، واصل، احدب، معرور بن سوید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے یہ سن کر عرض کیا اگرچہ وہ آدمی زنا اور چوری کرتا ہو فرمایا خواہ وہ زنا یا چوری کرے۔

I heard Abu Dharr (RA) narrating it from the Apostle ﷺ that he observed: Gabriel (علیہ السلام) came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft.

273Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ يَحْيَی بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَی رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ

زہیر بن حرب، احمد بن خراش، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین، ابن بریدہ، یحییٰ بن یعمر، ابواسود دیلی ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے میں واپس چلا گیا پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ ﷺ جاگ رہے تھے میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے نے لَا ِالٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اس پر وہ مرگیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کی ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو تین مرتبہ فرمایا پھر چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا (اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے) ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہو، پھر حضرت ابوذر ؓ آپ ﷺ کا محبت اور شفقت بھرا جملہ دھراتے ہوئے نکلے کہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔

Abu Dharr (RA) reported,: I came to the Apostle ﷺ and he was asleep with a white mantle over him. I again came, he was still asleep, I came again and he had awakened. I sat by his side and (the Holy Prophet) observed: There is none among the bondsmen who affirmed his faith in La illaha ill-Allah there is no God but Allah) and died in this state and did not enter Paradise. I (Abu Dharr) said: Even if he committed adultery and theft? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. I (again said): Even if he committed adultery and theft? He replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. (Th Holy Prophet ﷺ repeated it three times) and said for the fourth time: In defiance of Abu Dharr. Abu Dharr (RA) then went out and he repeated (these words): In defiance of Abu Dharr.

274Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَی يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّکَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ کَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ

قتیبہ بن سعید، لیث محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب عطاء بن یزید لیثی، عبیداللہ بن عدی بن خیار، مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں کسی آدمی سے میرا مقابلہ ہوجائے مجھ سے لڑے میرا ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے پھر جب میرے حملے کی زد میں آئے تو ایک درخت کی پناہ میں آکر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا ہوں تو کیا اس کلمہ کے بعد اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے اسے قتل کرنا درست ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کرنا درست نہیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے یہ کلمہ میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد کہا ہے تو میں اسے کیسے قتل نہ کروں؟ آپ نے فرمایا اسے ہرگز قتل نہ کرنا کیونکہ اگر اسے قتل کرو گے تو اب وہ ایسا ہی مسلمان ہوگا جیسا تم اسے قتل کرنے سے پہلے اور تم اسی طرح ہوجاؤ گے جیسے وہ کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۔

It is narrated on the authority of Miqdad bin Aswad that he said. Messenger of Allah, you just see (here is a point): If I encountered a person amongst the infidels (in the battlefield) and he attacked me and struck me and cut off one of my hands with the sword. Then he (in order to protect himself from me) took shelter of a tree and said: I become Muslim for Allahs sake. Messenger of Allah, can I kill him after he had uttered this? The Messenger of Allah ﷺ said: Do not kill him. I (the narrator) said: Messenger of Allah, he cut off my hand and uttered this after amputating it; should I then kill him? The Messenger of Allah ﷺ said: Dont kill him, for I you kill him, verily he would be in a position where you had been before killing him and verily you would be in a position where he had been before uttering (kalima).

275Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا الْأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ کَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، اسحاق بن موسیٰ انصاری، ولید بن مسلم، اوزاعی محمد بن رافع، عبدالرزاق ابن جریج، زہری ایک دوسری سند میں امام اوزاعی اور ابن جریر دونوں کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا کہ میں اللہ عزوجل کے لئے اسلام لایا جیسا کہ لیث کی حدیث میں ہے اور معمر کی روایت میں ہے کہ جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دیا۔

The same hadith has been transmitted by the same chain of narrators. The hadith transmitted by Auzai and Ibn Juraij contains these words: I embraced Islam for Allahs sake. and in the hadith narrated by Mamar the words are: I knelt down to kill him, that he said; There is no god but Allah.