ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 10 of 23

276Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيَّ وَکَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطا بن یزید، لیثی، جندعی، عبیداللہ، ابن عدی بن خیار، مقداد بن عمرو بن اسود کندی ؓ جو بنو زہرہ کے حلیف ہیں اور بدری صحابی ؓ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہوجائے پھر لیث کی روایت کی طرح حدیث مبارکہ ذکر کی۔

It is narrated by Miqdad, and he was an ally of B. Zuhra and was of those who participated in the Battle of Badr along with the Messenger of Allah, that he said: Messenger of Allah, here is a point: If I happened to encounter a person amongst the infidels (in the battle). Then he narrated a hadith similar to the one transmitted by Laith.

277Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنْ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَيَکُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونُ فِتْنَةٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمد، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، ابوظبیان، اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا تو ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک آدمی کو پایا اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ، میں نے اسے ہلاک کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو؟ تو میں نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے تو یہ کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ ﷺ باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد ؓ نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد ؓ نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔

It is narrated on the authority of Usama b. Zaid that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) sent us in a raiding party. We raided Huraqat of Juhaina in the morning. I caught hold of a man and he said: There is no god but Allah, I attacked him with a spear. It once occurred to me and I talked about it to the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ). The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: Did he profess" There is no god but Allah," and even then you killed him? I said: Messenger of Allah, he made a profession of it out of the fear of the weapon. He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) observed: Did you tear his heart in order to find out whether it had professed or not? And he went on repeating it to me till I wished I had embraced Islam that day. Sad said: By Allah, I would never kill any Muslim so long as a person with a heavy belly, i. e., Usama, would not kill. Upon this a person remarked: Did Allah not say this: And fight them until there is no more mischief and religion is wholly for Allah? Sad said: We fought so that there should be no mischief, but you and your companions wish to fight so that there should be mischief.

278Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَکَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيَّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّی قَتَلْتُهُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ مُتَعَوِّذًا قَالَ فَقَالَ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِکَ الْيَوْمِ

یعقوب دورقی، ہشیم، حصین، ابوظیبان، اسامہ، بن زید بن حارثہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ سے ہے ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ! انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا جب ہم نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے اسامہ! کیا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا آپ ﷺ بار بار یہی فرماتے تھے یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔

It is narrated on the authority of Usama b. Zaid: The Messenger of Allah may peace be upon him) sent us to Huraqat, a tribe of Juhaina. We attacked that tribe early in the morning and defeated them and I and a man from the Ansar caught hold of a person (of the defeated tribe). When we overcame him, he said: There is no god but Allah. At that moment the Ansari spared him, but I attacked him with my spear and killed him. The news had already reached the Apostle (peace be upon him), so when we came back he (the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said to me: Usama (RA), did you kill him after he had made the profession: There is no god but Allah? I said. Messenger of Allah, he did it only as a shelter. The Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) observed: Did you kill him after he had made the profession that there is no god but Allah? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) went on repeating this to me till I wished I had not embraced Islam before that day.

279Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدًا الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَی عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِکَ حَتَّی أُحَدِّثَهُمْ فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ تَحَدَّثُوا بِمَا کُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ حَتَّی دَارَ الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُکُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَکُمْ عَنْ نَبِيِّکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَی قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَإِنَّهُمْ الْتَقَوْا فَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِذَا شَائَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ قَالَ وَکُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ فَجَائَ الْبَشِيرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ حَتَّی أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ کَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لِمَ قَتَلْتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَسَمَّی لَهُ نَفَرًا وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَی السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَی أَنْ يَقُولَ کَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

احمد بن حسن بن خراش، عمرو بن عاصم، معتمر، خالد، صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بن عبداللہ البجلی ؓ نے عسعس بن سلام کی طرف کسی کو بھیجا حضرت ابن زبیر ؓ کے دور حکومت میں فتنہ کا زمانہ تھا انہوں نے فرمایا کہ اپنے کچھ بھائیوں کو جمع کرلو تاکہ ان کے سامنے حدیث بیان کروں تو جندب نے آدمی بھیج کر ان کو بلایا سب کے جمع ہونے پر عسعس زرد رنگ کا کپڑا سر پر لپیٹے ہوئے آئے انہوں نے فرمایا اس فتنہ کے بارے میں گفتگو کرو جو تم کرتے ہو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے پھر جب حضرت عسعس سے بات کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ کپڑا آپ کے سر سے کھل گیا اور انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کردوں رسول اللہ ﷺ نے کچھ مسلمانوں کو مشرکین کی طرف بھیجا، ان مشرکیں میں سے ایک آدمی ایسا تھا کہ مسلمانوں میں سے جس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی حضرت اسامہ بن زید ؓ نے اسے غفلت میں ڈال کر اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب تلوار اس کی طرف اٹھائی تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ! مگر اسامہ نے اسے قتل کردیا پھر فتح کی بشارت دینے والا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے جنگ کے بارے میں پوچھا وہ بتارہا تھا یہاں تک کہ اس نے حضرت اسامہ ؓ کا یہ واقعہ بیان کیا کہ کس طرح اسامہ نے کیا، آپ ﷺ نے اسامہ کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس نے مسلمانوں میں کھلبلی ڈال دی تھی اور اس نے فلاں فلاں مسلمان کو قتل کیا اور میں نے اس پر قابو پالیا جب اس نے تلوار دیکھی تو لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا اس کے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن اس کو لے کر آئے گا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں، مگر آپ ﷺ یہی فرماتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ لے کر آئے گا۔

It is narrated by Safwan bin Muhriz that Jundab bin Abdullah al-Bajali during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to Asas bin Salama (RA) : Gather some men of your family so that I should talk to them. He (Asas) sent a messenger to them (to the members of his family). When they had assembled, Jundab came there with a yellow hooded cloak on him, He said: Talk what you were busy in talking. The talk went on by turns, till there came his (Jundabs) turn. He took off the hooded cloak from his head and said: I have come to you with no other intention but to narrate to you a hadith of your Apostle: Verily the Messenger of Allah ﷺ sent a squad of the Muslims to a tribe of the polytheists. Both the armies confronted one another. There was a man among the army of polytheists who (was so dashing that), whenever he intended to kill a man from among the Muslims, he killed him. Amongst the Muslims too was a man looking forward to (an opportunity of) his (the polytheists) unmindfulness. He (the narrator) said: We talked that he was Usama b, Zaid. When he raised his sword, he (the soldier of the polytheists) uttered:" There is no god but Allah," but he (Usama bin Zaid) killed him. When the messenger of the glad tidings came to the Apostle ﷺ he asked him (about the events of the battle) and he informed him about the man (Usama) and what he had done He (the Prophet ﷺ of Allah) called for him and asked him why he had killed him. He (Usama) said: Messenger of Allah, he struck the Muslims and killed such and such of them. And he even named some of them. (He continued): I attacked him and when he saw the sword he said: There is no god but Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: Did you kill him? He (Usama) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) remarked: What would you do with:" There is no god but Allah," when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (Usama) said: Messenger of Allah, beg pardon for me (from your Lord). He (the Holy Prophet) said: What would you do with:" There is no god but Allah" when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (the Holy Prophet) added nothing to it but kept saying: What would you do with:" There is no god but Allah," when he would come (before you) on the Day of Judgment?

280Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ( یعنی مسلمانوں) پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) who narrates from the Prophet ﷺ of Allah ﷺ who said: He who took up arms against us is not of us.

281Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، مصعب، ابن مقدام، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے ہم پر یعنی مسلمانوں پر تلوار اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔

Iyas bin Salama narrated from his father that the Apostle ﷺ observed: He who draws the sword against us is not of us.

282Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد، اشعری، ابوکریب، ابواسامہ برید، ابی بردہ ؓ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Musa Ashari: He who took up arms against us is not of us.

283Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابوالاحوص محمد بن حیان، ابن ابوحازم، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر (مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who took up arms against us is not of us and he who acted dishonestly towards us is not of us.

284Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَائُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ کَيْ يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلہ کے ایک ڈھیر پر سے گزرے آپ ﷺ نے اس میں اپنا مبارک ہاتھ ڈالا تو انگلیاں تر ہوگئیں، آپ ﷺ نے غلہ کے مالک سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ بارش کی وجہ سے بھیگ گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ تر حصہ اوپر نہیں کرسکتے تھے کہ لوگ اس کو دیکھ لیتے پھر فرمایا جس نے دھوکہ دیا ہو مجھ سے نہیں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ happened to pass by a heap of eatables (corn). He thrust his hand in that (heap) and his fingers were moistened. He said to the owner of that heap of eatables (corn): What is this? He replied: Messenger of Allah, these have been drenched by rainfall. He (the Holy Prophet) remarked: Why did you not place this (the drenched part of the heap) over other eatables so that the people could see it? He who deceives is not of me (is not my follower).

285Sahih Muslim

منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَی وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ فَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، و کی، ع ابن نمیر، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہم میں سے نہیں کہ جو اپنے منہ پر مارے اور گریبان پھاڑے یا زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے یہ حدیث یحییٰ سے اسی طرح روایت ہے اور ابن نمیر اور ابوبکر کی روایت بغیر الف کی شق اور دعا کے ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Holy Prophet ﷺ observed: He is not one of us (one among the Ummah of Islam) who beat the cheeks or tore the front opening of the shirt or uttered the slogans of (the days of) Jahiliya (ignorance). Ibn Numair and Abu Bakr (RA) said (instead of the word" au" (or) it is" wa" [and] the words are) and tore and uttered (the slogans) of Jahiliya without" alif".

286Sahih Muslim

منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا

عثمان بن ابی شبیہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Amash with the same chain of narrators and the transmitters said: He tore and called.

287Sahih Muslim

منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَی وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ

حکم بن موسیٰ قنطری، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، قاسم بن مخیمرہ، ابوبردہ بن ابوموسی سے روایت ہے کہ وہ سخت بیمار ہوگئے اتنے سخت بیمار کہ غشی طاری ہوگئی اور آپ کا سر آپ ﷺ کی اہلیہ کی گود میں تھا اہلیہ یہ حالت دیکھ کر چلاّ پڑیں، حضرت ابوموسی ؓ اس وقت کچھ کہنے پر قادر نہ تھے پھر جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو ان کو فرمایا کہ میں اس چیز سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے برأت فرمائی بیشک رسول اللہ ﷺ نے مصیبت کے وقت چلانے والی اور بال مونڈنے والی اور گریبان پھاڑنے والی عورتوں سے برأت ظاہر فرمائی۔

It is narrated on the authority of Abu Burda bin Abu Musa that Abu Musa was afflicted with grave pain and he became unconscious and his head was in the lap of a lady of his household. One of the women of his household walled. He (Abu Musa) was unable (because of weakness) to say anything to her. But when he was a bit recovered he said: I have no concern with one with whom the Messenger of Allah ﷺ has no concern, Verily the Messenger of Allah ﷺ has no concern with that woman who wails loudly, shaves her hair and tears (her garment in grief).

288Sahih Muslim

منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ

عبد بن حمید، اسحاق بن منصور، جعفر بن عون، ابوعمیس، ابوصخرہ، عبدالرحمن بن یزید، ابی بردہ، ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی ؓ پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی ؓ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور ماتم بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔

It is narrated on the authority of Abu Burda that Abu Musa fell unconscious and his wife Umm Abdullah came there and wailed loudly. When he felt relief he said: Dont you know? -and narrated to her: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: I have no concern with one who shaved her hair, lamented loudly and tore (her clothes in grief).

289Sahih Muslim

منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ لَيْسَ مِنَّا وَلَمْ يَقُلْ بَرِيئٌ

عبداللہ بن مطیع، ہشیم، حصین، عیاض اشعری، امراۃِ ابی موسی، ابی موسیٰ حضور اللہ ﷺ (دوسری سند) حجاج بن شاعر، عبدالصمد، داؤد ابن ابی ہند، عاصم، صفوان بن محزر، ابوموسی، حسن بن علی حلوانی، عبدالصمد، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، ربعی بن حراش، ابوموسی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے جس طرح پہلے مذکور ہوئی اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ بَرِيئٌ کی جگہ لَيْسَ مِنَّا ہے یعنی آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Abu Musa with this change only: That (the Holy Prophet) did not say that he had no concern but said: He is not one of us.

290Sahih Muslim

چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ

شیبان بن فروخ، عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، واصل، ابو وائل، حذیفہ حضرت ابو وائل ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ تک یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی ادھر کی بات ادھر لگاتا پھرتا ہے تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

It is reported from Hudhaifa that news reached him (the Holy Prophet) that a certain man carried tales. Upon this Hudhaifa remarked: I heard Allahs Messenger ﷺ saying: The tale-bearer shall not enter Paradise.

291Sahih Muslim

چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ فَکُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ قَالَ فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ

علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، جریر، منصور، ابراہیم، ہمام بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حاکم تک لوگوں کی باتیں نقل کرتا تھا، حضرت ہمام ؓ کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی ہم میں آکر بیٹھ گیا تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

It is reported on the authority of Hammam b, al-Harith that a man used to carry tales to the governor. We were sitting in the mosque. the people said: He is one who carries tales to the governor. He (the narrator) said: Then he came and sat with us. Thereupon Hudhaifa remarked: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: The beater of false tales would never enter heaven.

292Sahih Muslim

چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَائَ رَجُلٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَی السُّلْطَانِ أَشْيَائَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، منجاب بن حارث، تمیمی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی کر ہمارے ساتھ بیٹھ گیا حضرت حذیفہ ؓ سے کہا گیا کہ یہ آدمی لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچا دیتا ہے تو حضرت حذیفہ ؓ نے اس آدمی کو سنانے کے ارادے سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

It is narrated on the authority of Hammam bin al-Harith (RA) : We were sitting with Hudhaifa in the mosque. A man came and sat along with us. It was said to Hudhaifa that he was the man who carried tales to the ruler. Hudhaifa remarked with the intention of conveying to him: I have heard the Messenger of Allah ﷺ saying: The tale-bearer will not enter Paradise.

293Sahih Muslim

ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، علی بن مدرک، ابوزرعہ، خرشہ بن حر، ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاک وصاف کرے گا (معاف کرے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا: حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ لوگ تو سخت نقصان اور خسارے میں ہوں گے یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا اور دے کر احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔

It is narrated o the authority of Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may ace he upon him) observed: Three are the (persons) with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would look at them nor would absolve the and there is a painful chastisement for them. The Messenger of Allah ﷺ repeated it three times. Abu Dharr (RA) remarked: They failed and they lost; who are these persons, Messenger of Allah? ﷺ Upon this he (the Holy) Prophet) observed: They are: the dragger of lower garment, the recounter of obligation the seller of goods by false oath. ________

294Sahih Muslim

ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ

ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ قطان، سفیان، سلیمان، اعمش، سلیمان بن مسہر، خرشہ بن حر، ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ایک وہ آدمی جو ہر نیکی کا احسان جتلاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا وہ آدمی جو اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) who narrates that the Prophet ﷺ observed: Three are the persons with whom Allah would not speak on the Day of Resurrection: the bestower of gift who does not give anything but by laying obligation on him, the seller of goods who sells them by taking false oath and one who hangs low his lower garment.

295Sahih Muslim

ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔

حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، سلیمان ایک دوسری سند میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کرے گا ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

Bishr bin Khalid has narrated this hadith on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters with this addition: Allah shall neither speak nor look at nor absolve then, and there is a tormenting punishment for them.s