جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ مُطِرَ النَّاسُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ مِنْ النَّاسِ شَاکِرٌ وَمِنْهُمْ کَافِرٌ قَالُوا هَذِهِ رَحْمَةُ اللَّهِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَقَدْ صَدَقَ نَوْئُ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ حَتَّی بَلَغَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ
عباس بن عبدالعظیم، نضر بن محمد، عکرمہ، ابن عمار، ابوزمیل، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں بارش ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ شکر کرتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور کچھ لوگ ناشکری کرتے ہوئے صبح کرتے ہیں شکر گزاروں نے کہا کہ یہ اللہ کی رحمت ہے اور نا شکروں نے کہا کہ ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (فَلَا اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ) 56۔ الواقعہ: 75) میں ستاروں کے گرنے کی جگہ کی قسم کھاتا ہوں یہاں تک پہنچنے ( اِنَّکُم تُکَذِّبُونَ ) تم جھوٹ اور باطل کو اپنا رزق بتاتے ہو۔
It is reported on the authority of Ibn Abbas that there was (once) a downpour during the life of the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him Upon this the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Some people entered the morning with gratitude and some with ingratitude (to Allah). Those who entered with gratitude said: This is the blessing of Allah, and those who entered with ingratitude said: Such and such asterism was right. It was upon this that the verse was revealed:
I swear by the setting of the stars to the end and make your provision that you should disbelieve it.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الْأَنْصَارِ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، ابن مہدی، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی علامت انصار سے بغض ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے۔
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings Be upon him) observed: The sign of a hypocrite is the hatred against the Ansar and the sign of a believer is the love for the Ansar.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد، ابن حارث، شعبہ، عبداللہ بن عبداللہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علا مت ہے۔
It is narrated on the authority of Anas that the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: The love of the Ansar is the sign of faith and hatred against them is the sign of dissemblance.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِعَدِيٍّ سَمِعْتَهُ مِنْ الْبَرَائِ قَالَ إِيَّايَ حَدَّثَ
زہیر بن حرب، معاذ بن معاذ، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عدی بن ثابت نے کہا کہ میں نے حضرت براء ؓ کو نبی اللہ ﷺ کا انصار سے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ان سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اسے محبوب بنائے اور جو ان سے بغض رکھے وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہو، شعبہ نے عدی سے کہا کہ تم نے یہ حدیث حضرت براء ؓ سے سنی ہے؟ حضرت عدی نے کہا یہی حدیث حضرت براء ؓ نے بیان فرمائی۔
Al-Bara reported it from the Apostle ﷺ (may peace and blessing be upon him) that he observed with regard to the Ansar, None but the believer loves them, none but the hypocrite hates them. He who loved them loved Allah and he who hated them hated Allah. I (the narrator) said: Did you hear this hadith from al-Bara? He said: To me, he narrated it.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، سہیل، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: A person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
عثمان بن محمد بن ابی شیبہ، جریر ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ اعمش، ابوصالح، ابوسعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے آدمی کو انصار سے بغض نہیں ہوسکتا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔
It is narrated on the authority of Abu Said Khudri that the Messenger of Allah ﷺ observed: The person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar.
اس بات کے بیان میں کہ انصار اور حضرت علی (رض) سے محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ اعمش، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ اعمش عدی، بن ثابت، زر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے بغض منافق ہی رکھے گا۔
Zirr reported: Ali observed: By Him Who split up the seed and created something living, the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) gave me a promise that no one but a believer would love me, and none but a hypocrite would nurse grudge against me.
طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَأَکْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ فَإِنِّي رَأَيْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکْثَرَ أَهْلِ النَّارِ قَالَ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْکُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ قَالَ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَتَمْکُثُ اللَّيَالِي مَا تُصَلِّي وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ
محمد بن رمح بن مہاجر مصری، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن دینار، ابن عمر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل اور دین میں کمزور اور سمجھدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھیں، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: O womenfolk, you should give charity and ask much forgiveness for I saw you in bulk amongst the dwellers of Hell. A wise lady among them said: Why is it, Messenger of Allah, that our folk is in bulk in Hell? Upon this the Holy Prophet ﷺ observed: You curse too much and are ungrateful to your spouses. I have seen none lacking in common sense and failing in religion but (at the same time) robbing the wisdom of the wise, besides you. Upon this the woman remarked: What is wrong with our common sense and with religion? He (the Holy Prophet) observed: Your lack of common sense (can be well judged from the fact) that the evidence of two women is equal to one man, that is a proof of the lack of common sense, and you spend some nights (and days) in which you do not offer prayer and in the month of Ramadan (during the days) you do not observe fast, that is a failing in religion. This hadith has been narrated on the authority of Abu Tahir with this chain of transmitters.
طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوطاہر، ابن وہب، بکر بن مضر، ابن ہاد سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔ حسن بن علی حلوانی، ابوبکر بن اسحاق ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عیاض بن عبداللہ بن ابوسعید خدری ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے حضرت ابن عمر ؓ والی روایت ہی کی طرح روایت کی۔
A hadith like this as narrated by Ibn Umar has also been transmitted by Abu Hurairah (RA) .
نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْکِي يَقُولُ يَا وَيْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ يَا وَيْلِي أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِي النَّارُ
ابوبکر بن ابی شیبہ ابوکریب، ابومعاویہ اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب ابن آدم یعنی انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا اور ہائے افسوس کہتا ہوا اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور ابی کریب کی روایت میں ہے شیطان کہتا ہے ہائے افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم کیا گیا تو وہ سجدہ کرکے جنت کا مستحق ہوگیا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں سجدے کا انکار کرکے جہنمی ہوگیا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that when, the son of Adam علیہ السلامrecites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says: Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam علیہ السلامwas commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell.
نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَعَصَيْتُ فَلِي النَّارُ
زہیر بن حرب، وکیع، اعمش ؓ سے بھی اسی سند کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی صرف اتنا اضافہ ہے کہ شیطان کہتا ہے کہ میں نے نافرمانی کی تو میں دوزخی ہوگیا۔
Amash narrated this hadith with the same chain of transmitters, with this change of words that he (the Satan) said: I disobeyed and I am doomed to Hell.
نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاةِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش ابوسفیان، جابر، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انسان اور اس کے کفر وشرک کے درمیان نظر آنے والا فرق نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) saying. Verily between man and between polytheism and unbelief is the negligence of prayer.
نماز کو چھوڑنے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاةِ
ابوغسان مسمعی، ضحاک بن مخلد، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی اور اس کے کفر و شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Zubair that he heard Jabir bin Abdullah saying. I heard the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observing this: Between man and polytheism and unbelief is the abandonment of salat.
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ حَجٌّ مَبْرُورٌ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم بن سعد، محمد بن جعفر بن زیاد، ابراہیم، ابن سعد ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اعمال میں سب سے افضل عمل کونسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ عرض کیا گیا پھر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا عرض کیا گیا پھر؟ آپ ﷺ نے فرمایا حج مبرور (نیکیوں والا حج)۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about the best of deeds. He observed: Belief in Allah. He (the inquirer) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Jihad (struggle to the utmost) in the cause of Allah. He (the inquirer) again said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Pilgrimage accepted into the grace of the Lord. In the. tradition narrated on the authority of Muhammad bin Jafar (the words are) that he (the Holy Prophet) said: Belief in Allah and His Messenger. Muhammad bin Rafi and Abd bin Humaid, Abdur-Razzaq and Mamar and Zuhri have narrated a hadith like this on the authority of the same chain of transmitters.
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
محمد بن رافع، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
Muhammad bin Abu Rafi narrated the hadith on the authority of Abu Dharr (RA) with a slight difference.
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَکْثَرُهَا ثَمَنًا قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ تَکُفُّ شَرَّکَ عَنْ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْکَ عَلَی نَفْسِکَ
ابوربیع زہری، حماد بن زید، ہشام بن عروہ، خلف بن ہشام، حماد بن زید، ہشام بن عروہ، ابومراوح لیثی، ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بےہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کرسکوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہوگی۔
Abu Dharr (RA) reported: I said: Messenger of Allah, which of the deeds is the best? He (the Holy Prophet) replied: Belief in Allah and Jihad in His cause. I again asked: Who is the slave whose emancipation is the best? He (the Holy Prophet) replied: One who is valuable for his master and whose price is high. I said: If I cant afford to do it? He (the Holy Prophet) replied: Help an artisan or make anything for the unskilled (labourer). I (Abu Dharr) said: Messenger of Allah, you see that I am helpless in doing some of these deeds. He (the Holy Prophet) replied: Desist from doing mischief to the people. That is the charity of your person on your behalf.
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَی عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ
محمد بن رافع عبد بن حمید، عبد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری ابومراوح، عبدالرزاق، عروہ بن زبیر، ابوذر ؓ نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی۔
Untraceable…
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا تَرَکْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَائً عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، شیبانی، ولید بن عیزار، سعد بن ایاس، ابوعمروشیبانی، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مزید سوال نہیں کیا تاکہ آپ ﷺ کی طبیعت پر بار نہ ہو۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that he observed. I asked the Messenger of Allah ﷺ which deed was the best. He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its appointed hour. I (again) said: Then what? He (the Holy Prophet) replied: Kindness to the parents. I (again) said: Then what? He replied: Earnest endeavour (Jihad) in the cause of Allah. And I would have not ceased asking more questions but out of regard (for his feelings).
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَی الْجَنَّةِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَی مَوَاقِيتِهَا قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
محمد بن ابی عمر مکی، مروان بن معاویہ فزاری، ابویعفور، ولید بن عیزار، ابی عمرو شیبانی، عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ کون سے اعمال جنت کے قریب کرنے والے ہیں؟ (جنت میں پہنچانے والے) آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر پڑھنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد؟ اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
Abdullah bin Masud reported: I said: Messenger of Allah, which of the deeds (takes one) nearer to Paradise? He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its proper time, I said: What next, Messenger of Allah? ﷺ He replied: Kindness to the parents. I said: What next? He replied: Jihad in the cause of Allah.
سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان لانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَی دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَی وَقْتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، ولید بن عیزار، ابوعمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کو کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر پڑھنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا، میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ اگر میں مزید آپ ﷺ سے سوالات کرتا تو آپ ﷺ مزید ارشاد فرما دیتے۔
It was heard from Abu Amr Shaibani that, pointing towards the house of Abdullah, he said: The owner of this house told me that he asked the Messenger of Allah ﷺ : Which of the deeds are liked by Allah? He (the Holy Prophet) observed: Prayer at its proper time. I (again) said: What next? He replied: Then goodness to the parents. I (again) said: What then? He replied: Then Jihad in the cause of Allah. He (Abdullah) said: This is what I was told (by the Holy Prophet). Had I questioned further, he would have made additions for me.