ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 7 of 23

214Sahih Muslim

منافق کی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ ذَکَرَ فِيهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ

ابونصر تمار، عبدالاعلی بن حماد، حماد بن سلمہ، داود بن ابی ہند، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ ہی سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings of Allah be upon him) made observations like them embodied in the hadith narrated by Yahya bin Muhammad on the authority of Ala, and added to it: even if he observed fast and prayed and asserted that he was a Muslim.

215Sahih Muslim

مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ بن عمر، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے کسی ایک پر یہ کلمہ چسپاں ہو کر رہتا ہے۔

It is reported on the authority of Ibn Umar that the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: When a man calls his brother an unbeliever, it returns (at least) to one of them.

216Sahih Muslim

مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا کَافِرُ فَقَدْ بَائَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پہ کفر آئے گا اگر وہ واقعی کافر ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔

It is reported on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Any person who called his brother: or unbeliever (has in fact done an act by which this unbelief) would return to one of them. If it were so, as he asserted (then the unbelief of man was confirmed but if it was not true), then it returned to him (to the man who labeled it on his brother Muslim).

217Sahih Muslim

مسلمان بھائی کو کافر کہنے والے کے حال کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنْ ادَّعَی مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْکُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللَّهِ وَلَيْسَ کَذَلِکَ إِلَّا حَارَ عَلَيْهِ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین ابن بریدہ، یحییٰ بن یعمر، ابواسود، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے جانتے بوجھتے کسی دوسرے کو باپ بنایا تو یہ بھی کفر کی بات ہے اور جس شخص نے ایسی بات کو اپنی طرف منسوب کیا جو اس میں نہیں ہے تو ایسا شخص ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنانا چاہئے اور جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا۔

It is reported on the authority of Abu Dharr (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) saying: No person who claimed knowingly anyone else as his father besides (his own) committed nothing but infidelity, and he who made a claim of anything, which (in fact) did not belong to him, is not amongst us; he should make his abode in Fire, and he who labeled anyone with unbelief or called him the enemy of Allah, and he was in fact not so, it rebounded on him.

218Sahih Muslim

جاننے کے باوجود اپنے باپ کے انکار کرنے والے کے ایمان کی حالت کا بیان

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ کُفْرٌ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، جعفر بن ربیعہ، عراک بن مالک، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے آباء کے نسب کا انکار نہ کرو جس نے اپنے باپ کے نسب کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Do not detest your fathers; he who detested his father committed infidelity.

219Sahih Muslim

جاننے کے باوجود اپنے باپ کے انکار کرنے والے کے ایمان کی حالت کا بیان

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَکْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُا سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَی أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ فَقَالَ أَبُو بَکْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو ناقد، ہشیم بن بشیر، خالد، ابوعثمان فرماتے ہیں کہ جب زیاد کے بارے میں بھائی ہونے کا دعوی کیا گیا تو میں نے ابوبکرہ سے ملاقات کی تو ان سے کہا کہ تم نے کیا کہا میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے خود اپنے کانوں سے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان نے جاننے کے باوجود اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا باپ بنایا تو اس پر جنت حرام ہے ابوبکرہ نے کہا کہ یہ بات تو خود میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔

It is reported on the authority of Sad bin Abi Waqqas: Both of my ears heard the Messenger of Allah ﷺ saying this: He who claimed the fatherhood of anyone else besides his real father knowingly (committed a great sin) ;Paradise is forbidden to him. Abu Bakra (RA) asserted that he too heard it from the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him ).

220Sahih Muslim

جاننے کے باوجود اپنے باپ کے انکار کرنے والے کے ایمان کی حالت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ وَأَبِي بَکْرَةَ کِلَاهُمَا يَقُولُا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، ابومعاویہ، عاصم، ابوعثمان، سعد، ابوبکرہ دونوں سے روایت ہے کہ ہمارے کانوں نے محمد ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور میرے دل نے یقین کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو باپ بنائے اس پر جنت حرام ہے۔

Sad and Abu Bakra (RA) each one of them said: My ears heard and my hearing preserved it that Muhammad (peace and blessings be upon him) observed: He who claimed for another one his fatherhood besides his own father knowingly that he was not his father-to him Paradise is forbidden.

221Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ کُفْرٌ قَالَ زُبَيْدٌ فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ

محمد بن بکار بن ریان، عون بن سلام، محمد بن طلحہ، محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، ح، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، زبید، ابو وائل، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا برا بھلا کہنا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے حدیث کے راوی زبید کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے کہا آپ نے یہ بات عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنی ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں زبید نے کہا ہاں میں نے یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے شعبہ کی حدیث میں زبید کی ابو وائل سے اس بات کا ذکر نہیں ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Abusing a Muslim is an outrage and fighting against him is unbelief. Zubaid said: I asked Abu Wail: Did you hear it from Abdullah narrating if from the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him)? He replied: Yes. But there is mention of the talk between Zubaid and Abu Wail in the hadith narrated by Shubah.

222Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ الْمُثَنَّی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، ابن نمیر، عفان، شعبہ، اعمش، ابو وائل، عبداللہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مذکورہ روایت کی طرح ہی نقل کی ہے۔

Abu Bakr (RA) bin Abu Shaiba narrated a hadith like this from the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) on the authority of Abdullah.

223Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ میرے بعد کافروں جیسے کام نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِکٍ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتْ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، علی بن مدرک، ابوزرعہ، حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کرا دو پھر فرمایا کہ میرے بعد کافروں جیسی حرکتیں نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

It is narrated on the authority of Jarir bin Abdullah that the Apostle of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) asked him on the occasion of the Farewell Pilgrimage to make the people silent and then said: Do not return to unbelief after me by striking the necks of one another.

224Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ میرے بعد کافروں جیسے کام نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، واقد بن محمد، ابن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت کیا۔

Abdullah bin Muadh narrated from the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) a hadith like this on the authority on Ibn Umar (RA) .

225Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ میرے بعد کافروں جیسے کام نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَيْحَکُمْ أَوْ قَالَ وَيْلَکُمْ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوبکر بن خلاد باہلی، محمد بن جعفر، شعبہ، واقد بن محمد بن زید، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا ویحکم یا وَیلَکُم میرے بعد کافروں جیسی حرکتیں نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگ جاؤ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہوجاؤ۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) that the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed on the occasion of the Farewell Pilgrimage Woe unto you distress unto you! Dont turn back as unbelievers after me by striking the necks of one another.

226Sahih Muslim

نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ میرے بعد کافروں جیسے کام نہ کرنے لگ جانا کہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدٍ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، عمر بن محمد، ابن عمر ؓ سے شعبہ کی واقد سے روایت کی گئی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں۔

Harmala bin Yahya, Abdullah bin Wahb, Umar bin Muhammad, Ibn Umar (RA) narrated like the hadith reported by Shubah on the authority of Waqid.

227Sahih Muslim

نسب میں طعنہ زنی اور میت پر رونے پر کفر کے اطلاق کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ کُفْرٌ الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَی الْمَيِّتِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن نمیر، محمد بن عبید، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Two (things) are found among men which are tantamount to unbelief: slandering ones lineage and lamentation on the dead.

228Sahih Muslim

بھاگے ہوئے غلام پر کافر ہونے کا اطلاق کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ کَفَرَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ قَالَ مَنْصُورٌ قَدْ وَاللَّهِ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ أَنْ يُرْوَی عَنِّي هَهُنَا بِالْبَصْرَةِ

علی بن حجر سعدی، اسماعیل ابن علیہ، منصور ابن عبدالرحمن، شعبی، جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو غلام اپنے آقاؤں سے بھاگا اس نے کفر کیا یہاں تک کہ وہ ان کے پاس لوٹ آئے راوی منصور نے کہا کہ واللہ یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے روایت کی گئی ہے لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی مجھ سے یہاں بصرہ میں روایت کرے۔

It is narrated on the authority of Jarir that he heard (the Holy Prophet) saying, The slave who fled from his master committed an act of infidelity as long as he would not return to him. Mansur observed: By God, this hadith was narrated from the Apostle ﷺ (may peace and blessings be upon him), but I do not like that this should be narrated on my authority here in Basrah.

229Sahih Muslim

بھاگے ہوئے غلام پر کافر ہونے کا اطلاق کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، داؤد، شعبی، جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو غلام اپنے آقا سے بھاگ جائے اس غلام سے اللہ بری الذمہ ہوجاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Jarir that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: The slave who fled from his master, responsibility with regard to him was absolved.

230Sahih Muslim

بھاگے ہوئے غلام پر کافر ہونے کا اطلاق کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ کَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ

یحییٰ بن یحیی، جریر مغیرہ، شعبی، جریر بن عبداللہ ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ اپنے آقا سے بھاگ کر جانے والے غلام کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔

Jarir bin Abdullah reported it from the Holy Prophet: When the slave runs away from his master, his prayer is not accepted.

231Sahih Muslim

جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَائِ کَانَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِکَ مُؤْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذَلِکَ کَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، صالح بن کیسان، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اس وقت رات کی بارش کا اثر باقی تھا نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا کہ میرے بعض بندے صبح ایمان پر اور بعض کفر پر کرتے ہیں جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوتی ہے تو یہ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں کا انکار کرنے والے ہیں اور جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے ہم پر بارش ہوتی ہے تو وہ میرا انکار کرنے والے اور ستارے پر ایمان لانے والے ہیں۔

It is narrated on the authority of Zaid bin Khalid al-Juhani: The Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) led the morning prayer at Hudaybiya. There were some marks of the rainfall during the night. At the conclusion of prayer he turned towards people and observed: Do you know what your Lord has said? They replied: Allah and His Messenger know best. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: He (Allah) said: Some of My bondsmen entered the morning as My believers and some as unbelievers. He who said: We have had a rainfall due to the Blessing and Mercy of Allah, he is My believer and a disbeliever of stars, and who said: We have had a rainfall due to the rising of such and such (star) disbelieved Me and affirmed his faith in the stars.

232Sahih Muslim

جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَی مَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَی عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا کَافِرِينَ يَقُولُونَ الْکَوَاکِبُ وَبِالْکَوَاکِبِ

حرملہ بن یحیی، عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ، مرادی، عبداللہ بن وہب، یونس ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، بن عتبہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اپنے پروردگار کے اس فرمان پر غور نہیں کرتے کہ میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت نازل کرتا ہوں مگر اس کے نتیجے میں ایک گروہ کفران نعمت کرنے والوں کا ہوتا ہے اور وہ یہ کہنے والا گروہ ہوتا ہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے ایسا ہوا۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Dont you know what your Lord said? He observed: I have never endowed My bondsmen with a favor, but a section amongst them disbelieved it and said: Stars, it was due to the stars.

233Sahih Muslim

جس نے کہا بارش ستاروں کی وجہ سے ہوتی ہے اس کے کفر کا بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ السَّمَائِ مِنْ بَرَکَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْ النَّاسِ بِهَا کَافِرِينَ يُنْزِلُ اللَّهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ الْکَوْکَبُ کَذَا وَکَذَا وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ بِکَوْکَبِ کَذَا وَکَذَا

محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ح، عمرو بن سواد، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے جو برکت بھی نازل کرتا ہے تو لوگوں میں سے ایک گروہ اس کی نا شکری کرتے ہوئے صبح کرتا ہے اللہ بارش نازل فرماتا ہے اور اس گروہ کے لوگ کہتے ہیں کہ ستارے نے بارش برسائی۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessing be upon him) observed: Allah does not shower His blessings from the heaven that in the morning a group of men disbelieve it (to be a blessing from Allah). Allah sends down rain, but they (the disbelievers) say: Such and such star (is responsible for that).