ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 21 of 23

496Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قَالَ قَالَ أُعْطِيَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوکریب، وکیع، ابراہیم بن سعید، ابواسامہ، مسعر، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔

Misar transmitted it with the same chain of narrators from Qatada except that in the hadith narrated by Waki (the Prophet) said:" He was endowed," and in the hadith reported by Abu Usama (the words are):" It is reported from the Apostle of Allah ﷺ ."

497Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت قتادہ ؓ نے حضرت انس ؓ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

Muhammad bin Abdul Ala reported it to me: Mutamir narrated to us on the authority of his father who transmitted it liom Anas that verity the Apostle of Allah ﷺ said, and then narrated the hadith like the one transmitted by Qatada on the authority of Anas.

498Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ وَخَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، ابن جریج، ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لئے مانگی اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن بطور شفاعت روک رکھی ہے۔

Abu Zubair heard Jabir bin Abdullah (RA) reporting it from the Apostle of Allah ﷺ : For every apostle was a prayer with which he prayed (to his Lord) for his Ummah, but I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

499Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اپنی امت کے لئے دعا فرمانا اور بطور شفقت رونے کا بیان

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بَکْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِيرًا مِنْ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي الْآيَةَ وَقَالَ عِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي وَبَکَی فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْکِيکَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ أَعْلَمُ فَقَالَ اللَّهُ يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ فَقُلْ إِنَّا سَنُرْضِيکَ فِي أُمَّتِکَ وَلَا نَسُوئُکَ

یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکر بن سوادہ، عبدالرحمن بن جبیر، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان جو ابراہیم کے بارے میں ہے کی تلاوت فرمائی (رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اے پروردگار ان معبودان باطلہ نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو جس نے میری تابعداری کی تو وہ مجھ سے ہوا میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی تو تو اس کو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے اور یہ آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) جس میں عیسیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور فرمایا اے اللہ میری امت میری امت اور آپ ﷺ پر گریہ طاری ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کے پاس حالانکہ تیرا رب خوب جانتا ہے ان سے پوچھ کہ آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور جو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کو اس کی خبر دی حالانکہ وہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے تو اللہ نے فرمایا اے جبرائیل جاؤ محمد ﷺ کی طرف اور ان سے کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور ہم آپ ﷺ کو نہیں بھولیں گے۔

Abdullah bin Amr (RA) bin al-As reported: Verily the Apostle of Allah ﷺ recited the words of Allah, the Great and Glorious, that Ibrahim uttered. My Lord! Lo! They have led many of mankind astray:" But whoso followeth me, he verily is of me" (al-Quran, xiv. 35) and Jesus (peace be upon him) said:" If thou punisheth them, lo! They are Thy slaves, and if Thou forgiveth them-verily Thou art the Mighty, the Wise" (al-Quran, v 117). Then he raised his hands and said: O Lord, my Ummah, my Ummah, and wept; so Allah the High and the Exalted said: O Gabriel (علیہ السلام), go to Muhammad (though your Lord knows it fully well) and ask him: What makes thee weep? So Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) came to him and asked him, and the Messenger of Allah ﷺ informed him what he had said (though Allah knew it fully well). Upon this Allah said: O Gabriel (علیہ السلام), go to Muhammad any say: Verily We will please thee with regard to your Ummah and would not displease thee.

500Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کفر پر مرا وہ دوزخی ہے اسے نہ ہی کسی کی شفاعت اور نہ ہی مقربین کی قرابت کوئی فائدہ دے گی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ فَلَمَّا قَفَّی دَعَاهُ فَقَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاکَ فِي النَّارِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا باپ کہاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں جب وہ آدمی واپس جانے لگا تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور پھر فرمایا کہ میرا باپ اور تیرا باپ دونوں دوزخ میں ہیں۔

Anas reported: Verily, a person said: Messenger of Allah, where is my father? He said: (He) is in the Fire. When he turned away, he (the Holy Prophet) called him and said: Verily my father and your father are in the Fire.

501Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ يَا بَنِي کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بنِ کَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَکِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا

قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، عبدالملک بن عمیر، موسیٰ بن طلحہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا عام وخاص سب کو جمع فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے کعب بن لؤی کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبدشمس کے قبیلے والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے عبد مناف کے قبیلہ والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے بنی عبدالمطلب والو! اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ اے فاطمہ ؓ اپنے آپ کو دوزخ سے بچا لے کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ سے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ میں تمہارا رشتہ دار ہوں اور بحثیت رشتہ داری کے میں تم سے صلہ رحمی کرتا رہوں گا۔

Abu Hurairah (RA) reported: When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred (al-Quran, xxvi. 214), the Messenger of Allah ﷺ called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Kab bin Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra bin Kab, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; O sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; O sons of Abdul Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you.

502Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ

عبیداللہ بن عمر، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

The same hadith is narrated by Ubaidallah bin Umar al-Qawariri from Abu Uwana, who transmitted it to Abdul Malik bin Umair on the same chain of transmitter and the hadith of Jarir is more perfect and comprehensive.

503Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَيُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَا فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، یونس بن بکیر، ہشام بن عروہ، عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ محمد کی بیٹی اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی میری پھوپھی اے عبدالمطلب کی اولاد میں اللہ کے سامنے تمہارے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ یہاں میرے مال میں سے جو چاہو لے لو۔

It is narrated on the authority of Aisha that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Messenger of Allah ﷺ stood up on Safa and said: O Fatima, daughter of Muhammad. O Safiya, daughter of Abdul Muttalib, O sons of Abdul Muttalib. I have nothing which can avail you against Allah; you may ask me what you want of my worldly belongings.

504Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَکُمْ مِنْ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أُغْنِي عَنْکَ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْکِ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو آپ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا اے قریش کی جماعت تم اپنی جانوں کو نیک اعمال کے بدلہ میں اللہ سے خرید لو میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا اے فاطمہ محمد ﷺ کی بیٹی مجھ سے جو چاہو لے لو لیکن میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔

Abu Hurairah (RA) reported: When (this verse) was revealed to him:" Warn your nearest kinsmen." the Messenger of Allah ﷺ said: O people of Quraish, buy yourselves from Allah, I cannot avail you at all against Allah; O sons of Abdul Muttalib. I cannot avail you at all against Allah; O Abbas bin Abdul Muttalib, I cannot avail you at all against Allah; O Safiya (aunt of the Messenger of Allah) ﷺ , I cannot avail you at all against Allah; O Fatima, daughter of Muhammad, ask me whatever you like, but I cannot avail you at all against Allah.

505Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا

عمرو ناقد، معاویہ بن عمرو زائدہ، عبداللہ بن ذکوان، اعرج ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle ﷺ by another chain of narrators, Amr al-Naqid, Muawiyah bin Amr, Abdullah bin Dhakwan, Araj on the authority of Abu Hurairah (RA) .

506Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَا لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا ثُمَّ نَادَی يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ إِنِّي نَذِيرٌ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ يَا صَبَاحَاهْ

ابو کامل، یزید بن زریع تیمی، ابوعثمان، قبیصہ، مخارق، زہیر بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں، تو رسول اللہ ﷺ پہاڑ کے سب سے بلند پتھر پر کھڑے ہوئے اور پھر آواز دی اے عبدمناف کے بیٹو میں تمہیں (عذاب سے) ڈرا رہا ہوں میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا ہو اور وہ دشمن سے اپنے گھر والوں کو بچا نے کی لئے دوڑ پڑا ہو کہ کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے اور بلند آواز سے پکارا یا یا صباحاہ خبردار آگاہ ہوجاؤ دشمن (یعنی اللہ کا عذاب آرہا ہے)۔

Qabisa bin al-Mukhariq and Zuhair bin Amr reported: When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred," the Apostle of Allah ﷺ set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: O sons of Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard!

507Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابوعثمان، زہیر بن عمرو، قبیصہ بن مخارق ایک دوسری سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle of Allah ﷺ by another chain of narrators, Muhammad bin Abdul Ala, Mutamir, Abu Uthman, Zuhair bin Amr, Qabisa bin Mukhariq.

508Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ وَرَهْطَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی صَعِدَ الصَّفَا فَهَتَفَ يَا صَبَاحَاهْ فَقَالُوا مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ قَالُوا مُحَمَّدٌ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي فُلَانٍ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ قَالُوا مَا جَرَّبْنَا عَلَيْکَ کَذِبًا قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ کَذَا قَرَأَ الْأَعْمَشُ إِلَی آخِرِ السُّورَةِ

ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو اور اپنی قوم کے مخلص لوگوں کو بھی ڈرائیے، تو رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز کے ساتھ فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ لوگوں نے کہا کہ یہ کون آواز لگا رہا ہے تو سب کہنے لگے کہ محمد ﷺ آواز لگا رہے ہیں تو سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں کے بیٹو اے عبد مناف کے بیٹو اے عبدالمطلب کے بیٹو! تو وہ سب آپ ﷺ کی طرف جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے نیچے ایک گھڑ سوار لشکر ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے تو سب لوگوں نے کہا کہ ہم نے تو کبھی آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں پایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں بہت سخت عذاب سے ڈرا رہا ہوں، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابولہب نے کہا کہ (العیاذ باللہ) آپ ﷺ کے لئے تباہی ہے کیا آپ ﷺ نے ہمیں اسی لئے جمع کیا ہے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے تو یہ سورت نازل ہوئی ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوجائے۔

It is reported on the authority of Ibn Abbas that when this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred" (and thy group of selected people among them) the Messenger of Allah ﷺ set off till he climbed Safa and called loudly: Be on your guard! They said: Who is it calling aloud? They said: Muhammad. They gathered round him, and he said: O sons of so and so, O sons of so and so, O sons of Abd Manaf, O sons of Abdul Muttalib, and they gathered around him. He (the Apostle) said: If I were to inform you that there were horsemen emerging out of the foot of this mountain, would you believe me? They said: We have not experienced any lie from you. He said: Well, I am a warner to you before a severe torment. He (the narrator) said that Abu Lahab then said: Destruction to you! Is it for this you have gathered us? He (the Holy Prophet) then stood up, and this verse was revealed:" Perish the hands of Abu Lahab, and he indeed perished" (cxi. 1). Amash recited this to the end of the Sura.

509Sahih Muslim

اللہ کے اس فرمان میں کہ اے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا فَقَالَ يَا صَبَاحَاهْ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ نُزُولَ الْآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَکَ الْأَقْرَبِينَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش اس سند کے ساتھ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صفا پر چڑھے آپ ﷺ نے فرمایا یا صباحاہ سنو آگاہ ہوجاؤ باقی حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزری لیکن اس میں آیت کریمہ کے نزول کا ذکر نہیں۔

This hadith was narrated by Amash on the authority of the same chain of narrators and he said: One day the Messenger of Allah ﷺ climbed the hill of Safa and said: Be on your guard, and the rest of the hadith was narrated like the hadith transmitted by Usama; he made no mention of the revelation of the verse:" Warn thy nearest kindred."

510Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْئٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَغْضَبُ لَکَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَکَانَ فِي الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ

عبیداللہ بن عمر، محمد بن ابی بکر مقدامی، محمد بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر بن عبداللہ بن حارث بن نوفل، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا کیونکہ وہ تو آپ ﷺ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ ﷺ کی وجہ سے لوگوں پر غضبناک ہوجاتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ دوزخ کے اوپر کے حصہ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا یعنی ان کے لئے دعا نہ کرتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں ہوتے۔

It is reported on the authority of Abbas bin Abdul Muttalib that he said: Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire: and but for me he would have been in the lowest part of Hell.

511Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ کَانَ يَحُوطُکَ وَيَنْصُرُکَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنْ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَی ضَحْضَاحٍ

ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک، بن عمیر، عبداللہ بن حارث، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابوطالب آپ ﷺ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ ﷺ کی مدد کرتے اور آپ ﷺ کے لئے لوگوں پر غصے ہوتے تھے تو کیا ان باتوں کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے انہیں آگ کی شدت میں پایا تو میں انہیں ہلکی آگ میں نکال کرلے آیا۔

It is reported on the authority of Abbas bin Abdul Muttalib that he said: Messenger of Allah, have you benefited Abu Talib in any way for he defended you and was fervent in your defence? The Messenger of Allah ﷺ said: Yes; he would be in the most shallow part of the Fire: and but for me he would have been in the lowest part of Hell.

512Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، عبدالملک بن عمیر، عبداللہ بن حارث، عباس بن عبدالمطلب نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی ہے۔

This hadith is narrated from the Apostle ﷺ like one narrated by Abu Uwana on the authority of the chain of transmitters like Muhammad bin Hatim, Yahya bin Said, Abu Sufyan (RA) , Abbas bin Abdul Muttalib and others.

513Sahih Muslim

نبی ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ کَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن ہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ ہوا آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ قیامت کے دن میری شفاعت سے ابوطالب کو فائدہ پہنچے کہ دوزخ کے اوپر والے حصے میں لایا جائے گا کہ جہاں آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس کی شدت سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔

Abu Said al-Khudri reported: A mention was made of his uncle Abu Talib before the Messenger of Allah ﷺ He said: My intercession may benefit him on the Day of Resurrection and he may be placed in the shallow part of the Fire which would reach his ankles and his brain would be boiling.

514Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَی أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَنْتَعِلُ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي دِمَاغُهُ مِنْ حَرَارَةِ نَعْلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر، زہیر بن محمد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا جس کو عذاب ہوگا اس کو آگ کی دو جو تیاں پہنائی جائیں گی جن کی شدت کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Abu Said al-Khudri reported: Verily, the Messenger of Allah ﷺ said: The least tormented of the inhabitants of the Fire would be he who would wear two shoes of Fire and his brain would boil on account of the heat of the shoes.

515Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، ابوعثمان نہدی، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا اور اسے آگ کی دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Ibn Abbas reported: The Prophet ﷺ said: Among the inhabitants of the Fire Abu Talib would have the least suffering, and he would be wearing two shoes (of Fire) which would boil his brain.