ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 22 of 23

516Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، نعمان بن بشیر نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کے پاؤں کے نیچے آگ کے انگارے ہوں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔

Numan bin Bashir was delivering an address and saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: the least suffering for the inhabitants of Hell on the Day of Resurrection would be for the man under whose soles would be placed two embers and his brain would boil on account of them.

517Sahih Muslim

دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِ الْمِرْجَلُ مَا يَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، اعمش، ابواسحاق، نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ والوں میں سب سے ہلکا عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ جس طرح ہانڈی میں پانی جوش سے کھولتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا کہ اسے سب سے سخت عذاب دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہوگا۔

Numan bin Bashir was delivering an address and saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: the least suffering for the inhabitants of Hell on the Day of Resurrection would be for the man under whose soles would be placed two embers and his brain would boil on account of them.

518Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کا بیان کہ حالت کفر میں مرنے والے کو اسکا کوئی عمل فائدہ نہیں دیگا

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيُطْعِمُ الْمِسْکِينَ فَهَلْ ذَاکَ نَافِعُهُ قَالَ لَا يَنْفَعُهُ إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، داود، شعبی، مسروق، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل حالت کفر میں صلہ رحمی کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا تو کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کام اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ یعنی اے میرے پروردگار قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔

Aisha reported: I said: Messenger of Allah, the son of Judan established ties of relationship, fed the poor. Would that be of any avail to him? He said: It would be of no avail to him as he did not ever say: O my Lord, pardon my sins on the Day of Resurrection.

519Sahih Muslim

مومنوں سے تعلق رکھنے اور غیر مومنوں سے قطع تعلق اور برأت کا بیان

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ أَلَا إِنَّ آلَ أَبِي يَعْنِي فُلَانًا لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَائَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ

احمد بن حنبل، محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس، عمروابن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ بلند آواز سے نہ کہ آہستہ آواز سے فرما رہے تھے آگاہ رہو کہ میرے باپ کی اولاد یعنی فلاں خاندان والے میرے دوست نہیں بلکہ میرا دوست تو اللہ ہے اور نیک مومن۔

Amr bin As reported: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ quite audibly and not secretly: Behold! the posterity of my fathers, that is, so and so, are not my friends. Verily Allah and the pious believers are my friends.

520Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ

عبدالرحمن بن سلام بن عبیداللہ، ربیع بن مسلم، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس آدمی کو ان لوگوں میں سے کر دے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گئے ہیں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ said: Seventy thousand (persons) of my Ummah would enter Paradise without rendering an account. Upon this a person said: Messenger of Allah. pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: O Allah! make him one of them. Then another stood up and said: Messenger of Allah, pray to Allah that He make me one of them. He (the Holy Prophet) said: Ukkasha has preceded you in this matter.

521Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الرَّبِيعِ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا۔

Muhammad bin Ziyad reported: I heard Abu Hurairah (RA) narrate this: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ saying a hadith like one narrated by al-Rabi.

522Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيئُ وُجُوهُهُمْ إِضَائَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں داخل ہوگی جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ عکاشہ بن محصن الاسدی یہ سن کر اپنی چادر سمیٹتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ عکاشہ کو ان میں سے کر دے پھر ایک انصار کا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ saying: A group of my Ummah consisting of seventy thousand persons would enter Paradise; their faces would be as bright as the brightness of the full moon. Abd Hurairah said: Ukkasha bin Mihsan al-Asadi then stood up wrapping the blanket around him and said: Messenger of Allah, supplicate (before) Allah that He should make me one among them. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: O Allah, make him among them. Then stood up a man from the Ansa and said: Messenger of Allah, pray to Allah that He should make me one among them. The Messenger of Allah ﷺ said: Ukkasha has preceded you in this matter.

523Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا زُمْرَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابویونس، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کی ایک جماعت جنت میں داخل ہوگی جن کی صورتیں چاند کی طرح چمک رہی ہوں گی۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Seventy thousand (persons) would enter Paradise as one group and among them (there would be people) whom faces would be bright like the moon.

524Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَکْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ

یحییٰ بن خلف باہلی، معتمر، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، عمران فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون سے لوگ ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جو نہ داغ لگوائیں گے اور نہ منتر کرتے ہوں گے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوں گے عکاشہ یہ سن کر کھڑے ہوگئے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ دعا فرمائیں اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم انہی میں سے ہو پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا۔

It is reported on the authority of Imran that the Apostle of Allah ﷺ said: Seventy thousand people of my Ummah would be admitted into Paradise without rendering any account. They (the companions) said: Who would be of those (fortunate persons)? He (the Holy Prophet) said: Those who do not cauterise and practise charm, but repose trust in their Lord, Ukkasha then stood up and said: Supplicate (before) Allah that He should make me one among them. He (the Holy Prophet) said: Thou art one among them He (the narrator) said: A man stood up and said: Apostle of Allah ﷺ , supplicate (before) Allah that He should make me one among them. He (the Holy Prophet ﷺ said: Ukkasha has preceded you (in this matter).

525Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ قَالُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَا يَکْتَوُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوراث، حاجب بن عمر، ابوخشینہ ثقفی، حکم بن اعرج، عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے صحابہ نے عرض کیا وہ کون سے لوگ ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو نہ منتر کرتے ہیں اور نہ برا شگون لیتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

Imran bin Husain reported: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: Seventy thousand men of my Ummah would enter Paradise without rendering account. They (the companions of the Holy Prophet) said: Who would be those, Messenger of Allah? ﷺ He (the Holy Prophet) said: They would be those who neither practise charm, not take omens, nor do they cauterise, but they repose their trust in their Lord.

526Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيَّهُمَا قَالَ مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّی يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن ابی حازم، سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار آدمی یا سات لاکھ راوی حدیث ابوحازم کو صحیح یاد نہیں کہ حضرت سہل ؓ نے ستر ہزار فرمایا یا سات لاکھ آدمی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے اور ان میں سے پہلا آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ ان کا آخری نہ داخل ہوجائے ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔

Abu Hazim narrated it on the authority of Ibn Sad that the Messenger of Allah ﷺ said: Seventy thousand persons or seven hundred thousand persons (Abu Hazim does not remember the exact number) would enter Paradise holding and supporting one another, and the first among them would not enter till the last among them would enter (therein) ; (they would enter simultaneously) and their faces would be bright like the full moon.

527Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّکُمْ رَأَی الْکَوْکَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَکُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَکِنِّي لُدِغْتُ قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ فَمَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ وَمَا حَدَّثَکُمْ الشَّعْبِيُّ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَی إِلَی مَا سَمِعَ وَلَکِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْمُهُ وَلَکِنْ انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُکَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِکُوا بِاللَّهِ وَذَکَرُوا أَشْيَائَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ

سعید بن منصور، ہشیم، حصین بن عبدالرحمن، سعید ابن جبیر، حضرت حصین بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر ؓ کے پاس تھا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کس نے کل رات ٹوٹنے والے ستارہ کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا پھر میں نے عرض کیا کہ میں اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ مجھے بچھو نے ڈسا ہوا تھا حضرت سعید ؓ فرمانے لگے کہ پھر تم نے کیا کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے جھاڑ پھونک کروائی انہوں نے فرمایا تم نے جھاڑ پھونک کیوں کروائی میں نے عرض کیا کہ اس حدیث کی بنا پر جو شعبی نے ہمیں بیان فرمائی انہوں نے فرمایا کہ شعبی ؓ نے تم سے کونسی حدیث بیان کی ہے میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی کے حوالہ سے حدیث بیان کی کہ یہ جھاڑ پھونک نفع نہیں دیتا سوائے نظر لگنے یا کاٹے ہوئے کے علاج کے سلسلہ میں حضرت سعید ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے جو کچھ سنا اور اس پر عمل کیا اس نے اچھا کیا مگر ہم سے حضرت ابن عباس ؓ نے حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں لائی گئیں تو میں نے کسی نبی کے ساتھ دس سے بھی کم دیکھے اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی اور دو آدمی دیکھے اور ایسا نبی بھی دیکھا کہ جن کے ساتھ کوئی بھی نہیں پھر میرے سامنے ایک بڑی جماعت لائی گئی تو میں نے انہیں اپنا امتی خیال کیا تو مجھے کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کی امت ہے لیکن آپ ﷺ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی پھر مجھ سے کہا گیا کہ آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی تو مجھے کہا گیا کہ یہ آپ ﷺ کی امت ہے اور ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہوں گے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے پھر اٹھ کر آپ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے تو صحابی نے کہا کہ شاید ان سے مراد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں اور کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا اور بعض لوگوں نے کچھ اور کہا پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور پوچھا کہ تم لوگ کس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو تو آپ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ منتر کرتے اور نہ منتر کراتے ہیں اور نہ برا شگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، عکاشہ بن محصن کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہی میں سے ہے پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔

Husain bin Abdul Rahman reported: I was with Said bin Jubair when he said: Who amongst you saw a star shooting last night? I said: It was I; then I said: I was in fact not (busy) in prayer, but was stung by a scorpion (and that is the reason why I was awake and had a glimpse of the shooting star). He said: Then what did you do? I said: I practised charm. He said: What urged you to do this? I said: (I did this according to the implied suggestion) of the hadith which al-Shubah narrated. He said: What did al-Shubah narrate to you? I said: Buraida bin Husaib al-Aslami narrated to us. The charm is of no avail except in case of the (evil influence) of an eye or the sting of a scorpion. He said: He who acted according to what he had heard (from the Holy Prophet) acted rightly, but Ibn Abbas narrated to us from the Apostle of Allah ﷺ that he said: There were brought before me the peoples and I saw an apostle and a small group (of his followers) along with him, another (apostle) and one or two persons (along with him) and (still another) apostle having no one with him. When a very large group was brought to me I conceived as if it were my Ummah. Then it was said to me: It is Moses (علیہ السلام) and his people. You should look at the horizon, and I saw a very huge group. It was again said to me: See the other side of the horizon, and there was (also) a very huge group. It was said to me: This is your Ummah, and amongst them there were seventy thousand persons who would be made to enter Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. He then stood up and went to his house. Then the people began to talk about the people who would be admitted to Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. Some of them said: They may be those who (have had the good fortune of living) in the company of the Messenger of Allah ﷺ and some of them said: They be those who were born in Islam and did not associate anything with Allah. Some people mentioned other things. Thereupon came forth the Messenger of Allah ﷺ before them and he said: What was that which you were talking about? They informed him. He said: They are those persons who neither practise charm, nor ask others to practise it, nor do they take omens, and repose their trust in their Lord. Upon this Ukkasha bin Mihsan stood up and said: Supplicate for me that He should make me one among them. Upon this he (Messenger of Allah) said: Thou are one among them. Then another man stood up and said: Supplicate before Allah that He should make me one among them. Upon this he said: Ukkisha has preceded you.

528Sahih Muslim

بعض مسلمانوں کے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ ثُمَّ ذَکَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْکُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، حصین، حضرت سعد بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے سامنے امتیں لائی گئیں پھر باقی حدیث اسی طرح بیان فرمائیں لیکن اس میں حدیث کا شروع والا حصہ بیان نہیں فرمایا۔

Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Peoples would be presented to me (on the Day of Resurrection), and then the remaining part of the hadith was narrated like the one transmitted by Hushaim, but he made no mention of the first portion.

529Sahih Muslim

جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذَلِکَ مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْکُفَّارِ إِلَّا کَشَعْرَةٍ بَيْضَائَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ کَشَعْرَةٍ سَوْدَائَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ

ہناد بن سری، ابواحوص، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ جنت والوں میں سے چوتھائی تم میں سے ہوں (یہ سن کر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے) ہم نے تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ جنت والوں میں ایک تہائی تم میں سے ہوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم میں سے ہوں گے اور اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مسلمان کافروں میں اسطرح سے ہیں جس طرح کہ ایک سفید بال سیاہ بیل میں یا ایک سیاہ بال سفید بیل میں۔

Abdullah bin Masud reported: The Messenger of Allah ﷺ addressing us said: Arent you pleased that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord, i. e. we called aloud Allah-o Akbar, Allah is the Greatest). He, then, again said: Arent you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord) and he (the Holy Prophet) then again said: I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise and I shall explain to you its (reason). The believers among the unbelievers would not be more than a white hair on (the body of a) black ox or a black hair on (the body of a) white ox.

530Sahih Muslim

جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاکَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے کہ جس میں تقریبا چالیس آدمی ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ جنت والوں میں تمہاری تعداد چوتھائی ہو ہم نے عرض کیا کہ ہاں (ہم خوش ہیں) پھر آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم ہوگے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا اور وہ مسلمان شرک کرنے والوں میں اس طرح سے نمایاں ہوگا کہ جس طرح ایک سفید بال کالے بیل کی کھال میں یا ایک کالا بال سرخ بیل کی کھال میں نمایاں ہوتا ہے۔

Abdullah (b. Masud) reported: We, about forty men, were with the Messenger of Allah ﷺ in a camp when he said: Arent you pleased that they should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: Yes. He (the Holy Prophet) again said: Arent you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes. Upon this he again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute one-half of the inhabitants of Paradise and the reason is that no one would be admitted into Paradise but a believer and you are no more among the polytheists than as a white hair on the skin of a black ox or a black hair on the skin of a red ox.

531Sahih Muslim

جنت والوں میں سے آدھے اس امت محمدیہ میں سے ہونے والوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَی قُبَّةِ أَدَمٍ فَقَالَ أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ اشْهَدْ أَتُحِبُّونَ أَنَّکُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَتُحِبُّونَ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاکُمْ مِنْ الْأُمَمِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، مالک ابن مغول، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک چمڑے کے خیمے میں ٹیک لگا کر ایک خطبہ دیا اور فرمایا آگاہ رہو کہ جنت میں سوائے مسلمان کے کوئی داخل نہیں ہوگا اے اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے اے اللہ گواہ رہنا، (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تم چوتھائی ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جنت والوں میں تمہاری تعداد تہائی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں تعداد میں تم آدھے ہو گے۔ تم دوسری امتوں میں اس طرح سے ہو جس طرح ایک کالا بال سفید بیل میں یا ایک سفید بال سیاہ بیل میں یعنی ہر صورت میں نمایاں نظر آئے۔

Abdullah b Masud reported: The Messenger of Allah ﷺ addressed us and then supported his back (by reclining) against a leather tent and said: Behold, no one but a believing person would enter Paradise. O Allah, (see) have I conveyed (it not)? O Allah, be witness (to it that I have conveyed it). (Then addressing the companions) he said: Dont you like that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? We said: Yes, Messenger of Allah. He again said: Dont you like that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I hope that you would constitute one- half of the inhabitants of Paradise and you would be among the peoples of the world, like a black hair on (the body of) a white ox or like a white hair on the body of a black ox.

532Sahih Muslim

اس فرمان کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے کہ دوزخیوں کے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ قَالَ يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ فَذَاکَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْکُمْ رَجُلٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَکُمْ فِي الْأُمَمِ کَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ کَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ

عثمان بن ابی شیبہ عبسی، جریر، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے لبیک تیرے حکم کو پورا کرنے لئے میں حاضر ہوں اور نیکی اور بھلائی تیرے ہی قبضہ وقدرت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرمائیں گے کہ دوزخیوں کی ایک جماعت نکالو وہ کہیں گے دوزخیوں کی کیسی جماعت؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرمائیں گے کہ ہزار سے نو سو ننانوے دوزخی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا کہ یہی وہ وقت ہوگا کہ (ڈر اور خوف کی شدت سے) بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور ہر حاملہ عورت اپنے حمل کو گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھے گا حالانکہ حقیقت میں وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا حضرت ابوسعید نے کہا کہ صحابہ ؓ یہ حدیث سن کر بہت پریشان ہوئے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کون سا آدمی جنتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا خوش ہوجاؤ کہ ایک ہزار یاجوج ماجوج کے مقابلہ میں تم میں سے ایک آدمی ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم میں سے ہوں گے تمہاری مثال دوسری امتوں میں ایسی ہے جس طرح سفید بال کالے بیل کی کھال میں یا ایک نشان گدھے کے پاؤں میں۔

Abu Said reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam علیہ السلامI and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very depressing effect upon them (upon the companions of the Holy Prophet) and they said: Messenger of Allah, who amongst us would be (that unfortunate) person (who would be doomed to Hell)? He said: Good tidings for you, Yajuj Majuj would be those thousands (who would be the denizens of Hell) and a person (selected for Paradise) would be amongst you. He (the narrator) further reported that he (the Messenger of Allah) ﷺ again said: By Him in Whose Hand is thy life, I hope that you would constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and we glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: BY Him in Whose Hand is my life, I wish you would constitute one-third of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and Glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise. Your likeness among the people is the likeness of a white hair on the skin of a black ox or a strip on the foreleg of an ass.

533Sahih Muslim

اس فرمان کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائیں گے کہ دوزخیوں کے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ وَلَمْ يَذْکُرَا أَوْ کَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب ابومعاویہ، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں گدھے کے پاؤں میں نشان کا ذکر نہیں۔

The same hadith has been narrated from Amash on the authority of the same chain of transmitters with the exception of these words: You would be no more among men (on the Day of Resurrection) but like a white hair on (the body of) a black ox, or like a black hair on (the body of) a white ox, and he made no mention of: a strip on the foreleg of an ass.

155Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ

سفیان بن عیینہ کے بجائے معمر نے زہری سے مذکورہ بالاسند کےساتھ خبر دی اور کہا کہ آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا

Zuhri has narrated this hadith with the addition of these words: He (the Holy Prophet) happened to pass by a mass of Ansar who was instructing his brother (about modesty).

243Sahih Muslim

طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں

وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عیاض بن عبد اللہ نےحضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اورانہوں نے نبی اکرمﷺ سے اور ( سعید ) مقبری نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت ہے۔ باب: 35۔ نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا نمازاسلام کا رکن ہے۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے متعدد گناہوں سے زیادہ سنگین ہے۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا وہ ان کے کفر سے بڑا کفر ہے، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو نماز کا منکر ہے اسے ازسرنو اسلام لانے کی ضرورت ہے

A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri. A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Huraira.