ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 20 of 23

476Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ بِذَلِکَ أَوْ يُلْهَمُونَ ذَلِکَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ آتِيهِ الرَّابِعَةَ أَوْ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حشر کے دن سارے مومن جمع کئے جائیں گے وہ اس دن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی یہ حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ چوتھی بار میں ان کی شفاعت کروں گا اور یہ عرض کروں گا اے پروردگار اب دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی وہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روکا ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Prophet ﷺ of Allah (may peace be, upon him) said: Allah will gather the believers on the Day of Resurrection and they would be made mindful of it; and the rest (of the hadith) is like the one narrated above; and then he mentioned the fourth time: And I (the Holy Prophet) would say: O my Lord, no one is left in the Fire except he whom the Quran has restrained, i e. eternally doomed.

477Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِکَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَذَکَرَ فِي الرَّابِعَةِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ

محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن مومنوں کو جمع فرمائیں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی کہ وہ اس دن سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ چوتھی مرتبہ فرمائیں گے اے پروردگار اب تو دوزخ میں کوئی بھی باقی نہیں سوائے ان کے جن کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی ان پر دوزخ میں رہنا ہمیشہ کے لئے لازم ہے۔

Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The believers would gather on the Day of Resurrection, and they would be concerned about it, or would be made mindful of it (i. e. the trjuble for it), (and the remaining part of the hadith w,) uld be narrated) like the one transmitted by Abu Uwana, and he said in the hadith: Then I would come for the fourth time, or I would return the fourth time, and would say: O my Lord, no one has been left but he whom the Holy Quran has restrained.

478Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً زَادَ ابْنُ مِنْهَالٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ يَزِيدُ فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَکَانَ الذَّرَّةِ ذُرَةً قَالَ يَزِيدُ صَحَّفَ فِيهَا أَبُو بِسْطَامَ

محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، ہشام، قتادہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں سے ہر وہ آدمی نکال لیا جائے گا جس نے بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا جس نے بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور اس کے دل میں گندم کے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی ہوگی اسے بھی دوزخ کی آگ سے نکال لیا جائے گا۔

Anas bin Malik (RA) reported: Verily the Apostle ﷺ said: He who professed: There is no god but Allah, would be brought out of the Fire even though he has in his heart virtue equal to the weight of a barley grain. Then he who professed: There is no god but Allah, would come out of the Fire, even though he has in his heart virtue equal to the weight of a wheat grain. He would then bring out from the Fire he who professed: There is no god but Allah, even though he has in his heart virtue equal to the weight of an atom. Ibn Minhal has made an addition (of these words) in his narration: Yazid said: I met Shubah and narrated to him this hadith. Shubah said: Qatada transmitted to us this hadith from Anas bin Malik (RA) who heard it from the Apostle of Allah ﷺ with this alteration that he substituted the word Zurra (grain) in place of Zarra (atom). Yazid said: Abu Bistam has made a change in it.

479Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ قَالَ انْطَلَقْنَا إِلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَی فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَی سَرِيرِهِ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ إِخْوَانَکَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَکَ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِکَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ کَلِيمُ اللَّهِ فَيُؤْتَی مُوسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِعِيسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ فَيُؤتَی عِيسَی فَيَقُولُ لَسْتُ لَهَا وَلَکِنْ عَلَيْکُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُوتَی فَأَقُولُ أَنَا لَهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَی رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ إِلَی رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي انْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَی أَدْنَی أَدْنَی مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا کُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَی الْحَسَنِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا يَا أَبَا سَعِيدٍ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيکَ أَبِي حَمْزَةَ فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ قَالَ هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ هِيَهِ قُلْنَا مَا زَادَنَا قَالَ قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ وَلَقَدْ تَرَکَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ کَرِهَ أَنْ يُحَدِّثَکُمْ فَتَتَّکِلُوا قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِکَ وَقَالَ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ مَا ذَکَرْتُ لَکُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوهُ ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَی رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْکَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَيُقَالُ لِي يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَکَ وَسَلْ تُعْطَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ لَکَ أَوْ قَالَ لَيْسَ ذَاکَ إِلَيْکَ وَلَکِنْ وَعِزَّتِي وَکِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَائِي لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَأَشْهَدُ عَلَی الْحَسَنِ أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أُرَاهُ قَالَ قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ

ابوربیع عتکی، حماد بن زید، معبد بن ہلال عنزی، سعید بن منصور، حماد بن زید، معبد بن ہلال کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک ؓ سے ملنا چاہتے تھے اور ان سے ملاقات کے لئے ہم نے حضرت ثابت ؓ کی سفارش چاہی جب ہم ان تک پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے حضرت ثابت ؓ نے ہمارے لئے اندر آنے کی اجازت مانگی ہم اندر داخل ہوئے حضرت انس ؓ بن مالک نے ثابت کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھا کر فرمایا اے ابوحمزہ) یہ ان کی کنیت ہے (تیرے بصرہ والے بھائی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم ان سے شفاعت والی حدیث بیان کرو حضرت ثابت ؓ فرمانے لگے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے پھر سب سے پہلے حضرت آدم کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنی اولاد کے لئے شفاعت فرمائیں وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ کیونکہ وہ کلیم اللہ ہیں سب لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں مگر تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ وہ روح اللہ اور کلمہ اللہ ہیں چناچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ سب میرے پاس آئیں گے میں ان سے کہوں گا کہ ہاں میں اس کا اہل ہوں اور میں ان کے ساتھ چل پڑوں گا اور اللہ سے اجازت مانگوں گا مجھے اجازت ملے گی اور میں اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی ایسی حمد وثنا بیان کروں گا کہ آج میں اس پر قادر نہیں ہوں وہ حمد وثناء اللہ اسی وقت القاء فرمائیں گے اس کے بعد میں سجدہ میں گر جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور فرمائیے سنا جائے گا اور مانگئے دیا جائے گا اور شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے پروردگار میری امت میری امت۔ تو پھر اللہ فرمائیں گے جاؤ جس کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسے سب لوگوں کو دوزخ سے نکال لوں گا پھر اپنے پروردگار کے سامنے آکر اسی طرح حمد بیان کروں گا اور سجدہ میں پڑجاؤں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کیجئے شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ پھر اللہ پاک مجھے فرمائیں گے کہ جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گے اور پھر لوٹ کر اپنے رب کے پاس آؤں گے اور اسی طرح حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھائیے اور فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ پھر اللہ پاک مجھے فرمائیں گے کہ جاؤ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گا اور پھر لوٹ کو اپنے رب کے پاس آؤں گا اور اسی طرح حمد بیان کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا مجھ سے کہا جائے گا اے محمد فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت۔ مجھ سے اللہ پاک فرمائیں گے کہ جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانہ سے بھی کم بہت کم اور بہت ہی کم ہو اسے بھی دوزخ سے نکال لو میں ایسا ہی کروں گا۔ معبد بن ہلال کہتے ہیں کہ یہ حضرت انس ؓ کی روایت ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی جب ہم ان کے پاس سے نکلے اور حبان قبرستان کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا کاش کہ ہم حضرت حسن بصری کی طرف چلیں اور انہیں سلام عرض کریں وہ ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے (حجاج بن یوسف کے خوف سے) پھر ہم ان کے پاس گئے اور انہیں سلام کہا ہم نے کہا اے ابوسعید ہم تمہارے بھائی ابوحمزہ کے پاس سے آرہے ہیں انہوں نے شفاعت کے بارے میں ہم سے ایک حدیث بیان کی اس طرح کی حدیث ہم نے نہیں سنی انہوں نے کہا بیان کرو ہم نے جواب دیا بس اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی انہوں نے کہا کہ یہ حدیث تو ہم سے حضرت انس ؓ نے بیس سال قبل بیان کی تھی جب وہ طاقتور تھے اب انہوں نے کچھ چھوڑ دیا میں نہیں جانتا کہ وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا ایسا نہ ہو کہ تم اسی پر بھروسہ کر بیٹھو اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو ہم نے ان سے کہا کہ وہ کیا ہم سے بیان کیجئے یہ سن کر حضرت حسن بصری ہنسے اور کہنے لگے کہ انسان کی پیدائش میں جلدی ہے میں نے تم سے یہ واقعہ اس لئے بیان کیا تھا کہ میں تم سے اس حصہ کو جو انس بن مالک نے چھوڑ دیا تھا وہ بیان کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر میں چوتھی مرتبہ اللہ کے پاس واپس لوٹ کر جاؤں گا اور اسی طرح حمد بیان کروں گا اور سجدہ میں پڑجاؤں گا۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد اپنا سر اٹھائیے فرمائیے سنا جائے گا مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں شفاعت قبول کی جائے گی اس وقت میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار اس آدمی کو بھی مجھے جہنم سے نکالنے کی اجازت دیجئے جو کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا قائل ہو اللہ فرمائیں گے کہ یہ تیر اکام نہیں لیکن میری عزت و بزرگی اور جاہ و جلال کی قسم میں دوزخ سے ایسے آدمی کو بھی نکال دوں گا جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا حضرت معبد کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث جو انہوں نے ہم سے بیان کی اس کو انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سنا ہے اور میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے بیس سال قبل سنی ہوگی جب حضرت انس جوان تھے۔

Mabad bin Hilal al Anazi reported: We went to Anas bin Malik (RA) through Thabit and reached there (his house) while he was offering the forenoon prayer. Thabit sought permission for us and we entered, and he seated Thabit with him on his bedstead. He (Thabit) said to him (Anas bin Malik (RA)): O Abu Hamza (kunya of Anas bin Malik (RA)), your brothers from among the inhabitants of Basrah ask you to narrate to them the hadith of intercession. He said: Muhammad ﷺ narrated to us: When it would be the Day of Resurrection, some of the people would rush to one another in bewilderment. They would come to Adam علیہ السلامand say: Intercede (with your Lord) for your progeny. He would say: I am not fit to do this, but go to Ibrabim (peace be upon him) for he is the Friend of Allah. They would come to Ibrahim, but he would say: I am not fit to do this, but go to Moses (علیہ السلام), for he is Allahs Interlocutor. They would come to Moses (علیہ السلام), but he would say: I am not fit to do this, but you should go to Jesus, for he is the Spirit of Allah and His word. They would come to Jesus, and he would say, I am not fit to do this; you better go to Muhammad ﷺ . They would come to me, and I would say: I am in a position to do that, I would go and ask the permission of my Lord and it would be granted to me. I would then stand before Him and would extol Him with praises which I am not able to do now, but with which Allah would inspire me, then I would fall in prostration and it would be said to me: O Muhammad ﷺ , raise thy head, and say and it would be listened to; ask and it would be granted, intercede and it would be accepted. I shall say: My Lord, my people, my people It would be said: Go, and bring forth from it (Hell) him who has in his heart faith equal to the weight of a wheat grain or a barley seed. I would go and do that; then I would return to my Lord and extol Him with those praises (taught to me by Allah), then I would fall in prostration. It would be said to me: O Muhammad ﷺ , raise your head, and say and it would be heard; ask and it would be granted; intercede and intercession would be accepted. So I would say: My people. my people. It would be said to me: Go and take out from it (Hell) him who has in his heart faith equal to the weight of a mustard seed. I would go and do that. I would again return to my Lord and extol Him with those praises. I would then fall in prostration. It would be said to me: O Muhammad ﷺ , raisevour head: say, and you would be listened to; ask and it would be granted; intercede and intercession would be accepted. I would say: My Lord, my people, my people. It would be said to me: Go, and bring out of the Fire him who has in his heart as much faith as the smallest, smallest, smallest grain of mustard seed. I would go and do that. This is the hadith which Anas narrated to us. We went out of his (house) and when we reached the upper part of Jabban (graveyard) we said: Would that we meet Hasan and salute him and he was hiding in the house of Abu Khalifa. He (Mabad bin Hilal, the narrator) said: We went to him and greeted him and we said: O Abu Said, we come from your brother Abu Hamza (kunya of Anas), and we have never heard a hadith like this relating to intercession, which he has narrated to us. He said: Narrate it, we narrated the hadith. He said: Narrate it (still further). We said: He did not (narrate it) before us more than this. He said: He (Anas) had narrated it to us twenty years back, when he was strong and healthy. He has in fact missed something. I cannot make out whether the old man has forgotten or he has (intentionally) avoided to narrate it to you lest you should rely (absolutely) upon it (and abandon doing good deeds). We said to him: Relate that to us, and he laughed and said: There is haste in the nature of man. I did not make mention of it to you but for the fact that I wanted to narrate that to you (and added that the Holy Prophet ﷺ said): I would then return to my Lord for the fourth time and extol Him with these praises. I would then fall in prostration. It would be said to me: O Muhammad ﷺ , raise your head: say and it will be listened to; ask and it will be granted; intercede and intercession would be accepted. I would say: O my Lord, permit me regarding him who professed: There is no god but Allah. He (the Lord) would say: That is not for thee or that is not what lies with thee, but by My Honour, Glory, Greatness and Might, I would certainly take him out who professed it: There is no god but Allah. He (the narrator, Mabad) said: I hear testimony to the fact that the hadith transmitted to us-by Hasan was heard by him from Anas bin Malik (RA) and I can see that he reported it twenty years back, when he was hale and hearty.

480Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنْ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاکَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ ائْتُوا آدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی الْأَرْضِ وَسَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا عَلَی قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَذَکَرَ کَذَبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُوسَی فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَکَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَکْلِيمِهِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُونَ يَا عِيسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَکَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ لَهُ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِّي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَائِ وَغَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَکَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، یزید، محمد بن بشر، ابوحیان، ابوزرعہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا رسول اللہ ﷺ کو دستی کا گوشت پسند تھا اس لئے پوری دستی پیش کی گئی آپ ﷺ نے اسے اپنے دانتوں سے کھانا شروع کیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں گا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سب کس وجہ سے ہوگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین وآخرین کو ایک ایسے ہموار میدان میں جمع فرمائیں گے کہ وہ سب آواز دینے والے کی آواز سنیں گے اور ہر آدمی کی نگاہ (یا اللہ کی نظر) سب کے پار جائے گی اور سورج قریب ہوجائے گا اور لوگوں کو ناقابل برداشت گھبراہٹ اور پریشانی کا سامنا ہوگا اس وقت بعض لوگ دوسرے لوگوں سے کہیں گے کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارا کیا حال ہے اور کیا نہیں سوچتے کہ تم کس قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوچکے ہو آؤ ایسے آدمی کی تلاش کریں جو اللہ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے پھر بعض لوگ ایک دوسرے سے مشورہ کرکے کہیں گے کہ چلو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس چلو پھر لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم (علیہ السلام) آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے اور آپ میں اپنی روح پھونکی ہے اور تمام فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا آپ اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کن پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور کیا آپ ہماری تکلیفوں کا مشاہدہ نہیں کر رہے؟ حضرت آدم فرمائیں گے کہ آج میرا رب اس قدر جلال میں ہے کہ کبھی اس سے پہلے جلال میں نہیں آیا اور بات دراصل یہ ہے کہ اللہ نے مجھے درخت کے قریب جانے سے روکا تھا اور میں نے اس کی نافرمانی کی آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ لوگ حضرت نوح کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں آپ کا نام اللہ نے شکر گزار بندہ رکھا ہے آج اللہ کے ہاں ہماری شفاعت کر دیجئے کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ گئی ہے حضرت نوح فرمائیں گے کہ آج میرا رب اس قدر غضبناک ہے کہ نہ اس سے پہلے انتا غضبناک ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا میں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی جس کی وجہ سے وہ تباہ ہوگئی آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم ابراہیم کے پاس جاؤ لوگ ابراہیم کے پاس جا کر عرض کریں گے آپ اللہ کے نبی ہیں اور ساری زمین والوں میں سے اللہ کے خلیل ہیں ہماری اللہ کے ہاں شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں اور کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ چکی ہے حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ آج میرا پروردگار اتنا غضبناک ہے نہ اس سے پہلے اتنا غضبناک ہوا اور نہ اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا حضرت ابراہیم اپنے جھوٹ بولنے کو یاد کر کے فرمائیں گے کہ آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ لوگ موسیٰ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت اور ہم کلامی دونوں سے نوازا ہے آپ اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال میں ہیں اور ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں پھر ان سے حضرت موسیٰ فرمائیں گے کہ آج میرا رب اتنا غضبناک ہے کہ اتنا غضبناک نہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا اور میں نے بغیر حکم کے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم عیسیٰ کے پاس جاؤ، لوگ عیسیٰ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے عیسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ نے گہوارے میں بات کی آپ کلمہ اللہ ہیں اور روح اللہ ہیں آج اللہ کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ آج میرا رب اتنا غضبناک ہے، اتنا غضبناک نہ اس سے پہلے کبھی ہو اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا حضرت عیسیٰ نے اپنے قصور کا ذکر نہیں فرمایا اور فرمائیں گے کہ آج تو میں بھی اپنی فکر میں مبتلا ہوں تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ جاؤ محمد ﷺ کے پاس جاؤ، لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے قصور معاف فرما دئیے ہیں اپنے پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم کس حال میں ہیں کیا آپ ہیں جانتے کہ ہماری تکلیف کس حد تک پہنچ گئی ہے پھر میں چلوں گا عرش کے نیچے آؤں گا پھر سجدہ میں پڑجاؤں گا پھر اللہ میرے سینہ کو کھول دے گا اور مجھے حمد وثناء کے ایسے کلمات القاء فرمائے گا جو مجھے پہلے القاء نہیں کئے گئے پھر کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے مانگئے دیا جائے گا شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سر اٹھاؤں گا پھر عرض کروں گا اے میرے پروردگار میری امت میری امت پھر کہا جائے گا کہ اے محمد اپنی امت میں سے جن کا حساب نہیں لیا گیا انہیں جنت کے دائیں دروازوں سے داخل کردو اور یہ لوگ اس کے علاوہ دوسرے دروزاوں سے بھی داخل ہوسکتے ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ جنت کے دروازوں کے کو اڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر کے درمیان یا مکہ اور بصرٰی کے درمیان ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Meat was one day brought to the Messenger of Allah ﷺ and a foreleg was offered to him, a part which he liked. He sliced with his teeth a piece out of it and said: I shall be the leader of mankind on the Day of Resurrection. Do you know why? Allah would gather in one plain the earlier and the later (of the human race) on the Day of Resurrection. Then the voice of the proclaimer would be heard by all of them and the eyesight would penetrate through all of them and the sun would come near. People would then experience a degree of anguish, anxiety and agony which they shall not be able to bear and they shall not be able to stand. Some people would say to the others: Don you see in which trouble you are? Dont you see what (misfortune) has overtaken you? Why dont you find one who should intercede for you with your Lord? Some would say to the others: Go to Adam. And they would go to Adam علیہ السلامand say: O Adam, thou art the father of mankind. Allah created thee by His own Hand and breathed in thee of His spirit and ordered the angels to prostrate before thee. Intercede for us with thy Lord Dont you see in what (trouble) we are? Dont you see what (misfortune) has overtaken us? Adam علیہ السلامwould say: Verily, my Lord is angry, to an extent to which He had never been angry before nor would He be angry afterward. Verily, He forbade me (to go near) that tree and I disobeyed Him. I am concerned with my own self. Go to someone else; go to Noah. They would come to Noah and would say: O Noah, thou art the first of the Messengers (sent) on the earth (after Adam), and Allah named thee as a" Grateful Servant," intercede for us with thy Lord. Dont you see in what (trouble) we are? Dont you see what (misfortune) has overtaken us? He would say: Verily, my Lord is angry today as He had never been angry before, and would never be angry afterwards. There had emanated a curse from me with which I cursed my people. I am concerned with only myself, I am concerned only with myself; you better go to Ibrahim (peace be upon him). They would go to Ibrahim and say: Thou art the apostle of Allah and His Friend amongst the inhabitants of the earth; intercede for us with thy Lord. Dont you see in which (trouble) we are? Dont you see what (misfortune) has overtaken us? Ibrahim would say to them: Verily, my Lord is today angry as He had never been angry before and would never be angry afterwards. and (Ibrahim) would mention his lies (and then say): I am concerned only with myself, I am concerned only with myself. You better go to someone else: go to Moses (علیہ السلام). They would come to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) and say: O Moses (علیہ السلام), thou art Allahs messenger, Allah blessed thee with His messengership and His conversation amongst people. Intercede for us with thy Lord. Dont you see in what (trouble) we are? Dont you see what (misfortune) has overtaken us? Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) would say to them: Verily. my Lord is angry as He had never been angry before and would never be angry afterwards. I, in fact, killed a person whom I had not been ordered to kill. I am concerned with myself, I am concerned with myself. You better go to Jesus (peace be upon him). They would come to Jesus and would say: O Jesus, thou art the messenger of Allah and thou conversed with people in the cradle, (thou art) His Word which I-Ie sent down upon Mary. and (thou art) the Spirit from Him; so intercede for us with thy Lord. Dont you see (the trouble) in which we are? Dont you see (the misfortune) that has overtaken us? Jesus (peace be upon him) would say: Verily, my Lord is angry today as He had never been angry before or would ever be angry afterwards. He mentioned no sin of his. (He simply said:) I am concerned with myself, I am concerned with myself; you go to someone else: better go to Muhammad ﷺ . They would come to me and say: O Mahammad, thou art the messenger of Allah and the last of the apostles. Allah has pardoned thee all thy previous and later sins. Intercede for us with thy Lord; dont you see in which (trouble) we are? Dont you see what (misfortune) has overtaken us? I shall then set off and come below the Throne and fall down prostrate before my Lord; then Allah would reveal to me and inspire me with some of His Praises and Glorifications which He had not revealed to anyone before me. He would then say: Muhammad, raise thy head; ask and it would be granted; intercede and intercession would be accepted I would then raise my head and say: O my Lord, my people, my people. It would be said: O Muhammad ﷺ , bring in by the right gate of Paradise those of your people who would have no account to render. They would share with the people some other door besides this door. The Holy Prophet ﷺ then said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, verify the distance between two door leaves of the Paradise is as great as between Makkah and Hajar, or as between Makkah and Busra.

481Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ وَکَانَتْ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ فَنَهَسَ نَهْسَةً فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَی فَقَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا رَأَی أَصْحَابَهُ لَا يَسْأَلُونَهُ قَالَ أَلَا تَقُولُونَ کَيْفَهْ قَالُوا کَيْفَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ وَزَادَ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ وَذَکَرَ قَوْلَهُ فِي الْکَوْکَبِ هَذَا رَبِّي و قَوْله لِآلِهَتِهِمْ بَلْ فَعَلَهُ کَبِيرُهُمْ هَذَا و قَوْله إِنِّي سَقِيمٌ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِلَی عِضَادَتَيْ الْبَابِ لَکَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَهَجَرٍ أَوْ هَجَرٍ وَمَکَّةَ قَالَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ

زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ثرید اور گوشت کا ایک پیالہ رکھا آپ ﷺ نے پیالے میں سے بکری کی ایک دستی اٹھائی کیونکہ گوشت میں سے دستی ہی آپ ﷺ کو پسند تھی آپ ﷺ نے اسے دانتوں سے کھانا شروع کردیا اور فرمایا قیامت کے دن میں تمام لوگوں کا سردار ہوں گا پھر دوبارہ آپ نے وہ دستی کھائی پھر فرمایا میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ صحابہ اس کی وجہ نہیں پوچھ رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم کیوں نہیں کہہ رہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ پھر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس دن تمام لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے پھر اس کے بعد وہی حدیث بیان فرمائی جو گزر چکی البتہ اس سند میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جب لوگ جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں نے ستاروں کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ میرا رب ہے اور اسی طرح میں نے اپنی قوم کے معبود ان باطلہ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ کام ان کے بڑے نے کیا ہے اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہاں میں بیمار ہوں اور جنت کے دروازوں اور کو اڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے مقام میں ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that there was placed before the Messenger of Allah ﷺ a cup of soft bread, soup and meat. He took part of the foreleg which he liked most. He sliced (with his teeth) a slice (out of that) and said: I would be the leader of mankind on the Day of Resurrection. He then sliced (that meat) for the second time and said: I am the leader of mankind on the Day of Resurrection. When he saw that his companions did not ask him (about this assertion) he said: Why dont you say: How would that be? They said: How would be it, Messenger of Allah? ﷺ He said: People would stand before the Lord of the worlds. And the rest of the hadith was narrated like the one transmitted by Abu Hayyan, on the authority of Abu Zura, and in the story of Ibrahim, this addition was made. He said and made mention of his words with regard to the star: This is my Lord. And his words with regard to their gods: But the big among them has done that. And his words: I am ailing. He (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the distance between two leaves of the door from their supporting frames is as the distance between Makkah and Hajar or Hajar and Makkah. I do not remember how he said it (whether Makkah and Hajar or Hajar and Makkah).

482Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفِ بْنِ خَلِيفَةَ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبُو مَالِکٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی النَّاسَ فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّی تُزْلَفَ لَهُمْ الْجَنَّةُ فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ وَهَلْ أَخْرَجَکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيکُمْ آدَمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ قَالَ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ إِنَّمَا کُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَائَ وَرَائَ اعْمِدُوا إِلَی مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ تَکْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی کَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ فَيَقُولُ عِيسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِکَ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَتَقُومَانِ جَنَبَتَيْ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ أَوَّلُکُمْ کَالْبَرْقِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَيُّ شَيْئٍ کَمَرِّ الْبَرْقِ قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَی الْبَرْقِ کَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ ثُمَّ کَمَرِّ الرِّيحِ ثُمَّ کَمَرِّ الطَّيْرِ وَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّکُمْ قَائِمٌ عَلَی الصِّرَاطِ يَقُولُ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّی تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّی يَجِيئَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا قَالَ وَفِي حَافَتَيْ الصِّرَاطِ کَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ بِأَخْذِ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ وَمَکْدُوسٌ فِي النَّارِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُونَ خَرِيفًا

محمد بن طریف بن خلیفہ بجلی، محمد بن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، ابوہریرہ، ابومالک، ربعی بن حراش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مومنوں کو جمع فرمائیں گے اور جنت ان کے قریب کردی جائے گی پھر سارے مومن حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے ہمارے باپ ہمارے لئے جنت کا دراوزہ کھلوائیے تو وہ فرمائیں گے کہ تمہارے باپ کی ایک ہی خطا نے تو تم کو جنت سے نکالا تھا میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ میرے بیٹے ابراہیم کے پاس وہ اللہ کے خلیل ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم فرمائیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں میرے خلیل ہونے کا مقام تو اس سے بہت پیچھے ہے جاؤ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جن کو اللہ نے اپنے کلام سے نوازا ہے پھر لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں جاؤ محمد ﷺ کے پاس وہ لوگ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کو شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور امانت اور رحم کو چھوڑ دیا جائے گا اور وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہوں جائیں گے تم میں سے پہلا آدمی بجلی کی طرح گزر جائے گا میں نے عرض کیا وہ کونسی چیز ہے جو بجلی کی طرح گزر جائے گی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے بجلی کی طرف نہیں دیکھا کہ کس طرح گزرتی ہے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے اس کے بعد وہ لوگ پل صراط سے گزریں گے جو آندھی کی طرح گزر جائیں گے اس کے بعد پرندوں کی رفتار سے گزریں گے پھر اس کے بعد آدمیوں کے دوڑنے کی رفتار سے گزریں گے ہر آدمی اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے دوڑے گا اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے ہوئے فرما رہے ہوں گے اے میرے پروردگار انہیں سلامتی سے گزار دے پھر ایک وقت آئے گا کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے اور لوگوں میں چلنے کی طاقت نہیں ہوگی اور وہ اپنے آپ کو پل صراط سے گھسیٹتے ہوئے گزاریں گے اور پل صراط کے دونوں طرف لوہے کے کانٹے لٹک رہے ہوں گے اور جس آدمی کے بارے میں حکم ہوگا وہ اس کو پکڑ لے لگا بعض ان سے الجھ کر دوزخ میں گرجائیں گے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) and Hudhaifa that the Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Blessed and Exalted, would gather people. The believers would stand till the Paradise would be brought near them. They would come to Adam علیہ السلامand say: O our father, open for us the Paradise. He would say: What turned ye out from the Paradise was the sin of your father Adam. I am not in a position to do that; better go to my son Ibrahim, the Friend of Allah. He (the Holy Prophet) said: He (Ibrahim) would say: I am not in a position to do that. Verily I had been the Friend (of Allah) from beyond, beyond; you better approach Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) with whom Allah conversed. They would come to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him), but he would say: I am not in a position to do that; you better go to Jesus, the Word of Allah and His Spirit. Jesus (peace be upon him) would say: I am not in a position to do that. So they would come to Mubammad ﷺ . He would then be permitted (to open the door of Paradise). Trust worthiness and kinship would be despatched, and these would stand on the right and left of the Path and the first of you would pass with (the swiftness) of lightning. He (the narrator) said: I said, O thou who art far dearer to me than my father and my mother I which thing is like the passing of lightning? He said: Have you not seen lightning, how it passes and then comes back within the twinkling of an eye? Then (they would pass) like the passing of the wind, then like the passing of a bird, and the hastening of persons would be according to their deeds, and your Apostle ﷺ would be standing on the Path saying: Save, O my Lord, save. (The people would go on passing) till the deeds of the servants would be failing in strength, till a man would come who would find it hard to go along (that Path) but crawlingly. He (the narrator) said: And on the sides of the Path hooks would be suspended ready to catch anyone whom these would be required (to catch). There would be those who would somehow or other succeed in trasversing that Path and some would be piled up in Hell. By Him in Whose Hand is the life of Abu Hurairah (RA) it would take one seventy years to fathom the depth of Hell.

483Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ يَشْفَعُ فِي الْجَنَّةِ وَأَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا

قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ، جریر، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سارے لوگوں میں سے سب سے پہلے میں جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I would be the first among people to intercede in the Paradise and amongst the apostles I would have the largest following (on the Day of Resurrection).

484Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَکْثَرُ الْأَنْبِيَائِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ

ابوکریب، محمد بن علاء، معاویہ بن ہشام، سفیان، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام انبیاء کرام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے اور سب سے پہلا میں ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Amongst the apostles I would have the largest following on the Day of Resurrec tion, and I would be the first to knock at the door of Paradise.

485Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ نَبِيًّا مَا يُصَدِّقُهُ مِنْ أُمَّتِهِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی زائدہ، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جنت میں میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی جتنی کہ میری تصدیق کی گئی اور یہاں تک کہ انبیاء کرام میں سے بعض نبی ایسے ہوں گے کہ ان کی امت میں سے ان کی تصدیق کرنے والا صرف ایک آدمی ہوگا۔

Anas bin Malik (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ said: I would be the first intercessor in the Paradise and no apostle amongst the apostles has been testified (by such a large number of people) as I have been testified. And verily there woald be an apostle among the apostles who would be testified to by only one man from his people.

486Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان میں کہ میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء (علیہ السلام) سے زیادہ میرے تابع دار ہوں گے۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ بِکَ أُمِرْتُ لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَکَ

عمرو بن محمد ناقد، زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن جنت کے دروازہ پر آؤں گا اور اسے کھلواؤں گا جنت کا داروغہ کہے گا آپ کون ہیں تو میں کہوں گا محمد وہ کہے گا کہ مجھے آپ ﷺ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ کھولنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: I will come to the gate of Paradise on the Day of Resurrection. and would seek its opening. and the keeper would say: Who art thou? I would say: Muhammad. He would then say: It is for thee that I have been ordered, and not to open it for anyone before thee.

487Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: Verity the Messenger of Allah ﷺ said: There is for every apostle a (special) prayer with which he would pray. I wish I could reserve, my prayer for intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

488Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ وَأَرَدْتُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے جو کہ یقینًا قبول ہوتی ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میں چاہوں گا کہ میں اپنی یہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن کروں۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer, and I intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

489Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

زہیر بن حرب، عبد بن حمید، زہیر، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح ذکر کی ہے۔

Amr bin Abu Sufyan (RA) transmitted a hadith like this from Abu Hurairah (RA) who narrated it from the Messenger of Allah ﷺ .

490Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ لِکَعْبِ الْأَحْبَارِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ کَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے اور وہ اللہ کے ہاں یقینًا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھوں، حضرت کعب ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کہا کہ کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہاں!

Amr bin Abu Sufyan (RA) reported: Abu Hurairah (RA) said to Kab al-Ahbar that the Apostle of Allah ﷺ had said: For every apostle there Is a (special) prayer by which he would pray (to his Lord). I, however, intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection. Kab said to Abu Hurairah (RA) : Did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ ? Abu Hurairah (RA) said: Yes.

491Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَائَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کر لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے تو ہر نبی نے جلدی کی کہ اپنی اس دعا کو مانگ لیا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میری شفاعت میری امت کے ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو۔

Abu Hurairah (RA) said: The Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer which is granted, but every prophet showed haste in his prayer. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection, and it would be granted, if Allah so willed, in case of everyone amongst my Ummah provided he dies without associating anything with Allah.

492Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ فَيُؤْتَاهَا وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قتیبہ بن سعید، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ ؓ ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے جب بھی وہ اپنی امت کیلئے اس دعا کو مانگتا ہے تو اسے وہ دیا جاتا ہے اور میں نے (اپنی دعا) قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھی ہے۔

Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Every Messenger is endowed with a prayer which is granted and by which he would (pray to his Lord) and it would he granted for him. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

493Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَائَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے حق میں مانگتا ہے تو اس کی وہ دعا قبول کی جاتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں اپنی دعا کو قیامت کے دن تک اپنی امت کے شفاعت کے لئے مؤخر کر دوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: There was for every apostle a prayer with which he prayed for his Ummah and it was granted to him; but I wish, if Allah so wills, to defer my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

494Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَانَا وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنُونَ ابْنَ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَاهَا لِأُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابوغسان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے لئے مانگتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے محفوظ کرلیا ہے۔

Abu Ghassan reported: Verily the Apostle of Allah ﷺ said: There is for every apostle a prayer with which he prays (to Allah) for his Ummah. I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.

495Sahih Muslim

نبی ﷺ کا اس بات کو پسند کرنا کہ میں (قیامت کے دن) اپنی امت کے لئے شفاعت کی دعا سنبھال کر رکھوں

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح

زہیر بن حرب، ابن ابوخلف، روح، شعبہ، قتادہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated with the same chain of narrators by Qatada.