ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 19 of 23

456Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَی آخِرِهِ وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، ہشام بن سعد، زید بن اسلم سے ایک دوسری سند کے ساتھ کچھ کمی بیشی کے ساتھ اسی طرح کی ایک روایت نقل کی گئی ہے۔

Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Jafar bin Aun, Hisham bin Sad, Zaid bin Aslam narrated the hadith as transmitted by Hafs bin Maisara, with certain additions and omissions.

457Sahih Muslim

شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ يُدْخِلُ مَنْ يَشَائُ بِرَحْمَتِهِ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ انْظُرُوا مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدْ امْتَحَشُوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوْ الْحَيَا فَيَنْبُتُونَ فِيهِ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَی جَانِبِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَوْهَا کَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَائَ مُلْتَوِيَةً

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مالک بن انس، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، ابوسعید خدری ؓ حضرت عمرو بن یحییٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہیں گے جنت میں داخل فرمائیں گے اور دوزخ والوں کو دو ذخ میں داخل فرمائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لو چناچہ وہ لوگ کوئلہ کی طرح جلے ہوئے ہوں گے پھر انہیں نہر الحیوۃ یا حیاء (راوی کو شک ہے) میں ڈالا جائے گا وہ اس میں اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ پانی کے بہاؤ والی مٹی سے زردی مائل ہو کر اگ پڑتا ہے۔

Abu Said al-Khudri reported: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: Allah will admit into Paradise those deserving of Paradise, and He will admit whom He wishes out of His Mercy, and admit those condemned to Hell into the Fire (of Hell). He would then say: See, he whom you find having as much faith in his heart as a grain of mustard, bring him out. They will then be brought out burned and turned to charcoal, and would be cast into the river of life, and they would sprout aj does a seed in the silt carried away by flood. Have you not seen that it comes out yellow (fresh) and intertwined?

458Sahih Muslim

شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ح و حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ الْحَيَاةُ وَلَمْ يَشُکَّا وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ کَمَا تَنْبُتُ الْغُثَائَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، وہیب، حجاج بن شاعر، عمرو بن عون، خالد، عمرو بن یحیی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں دانہ کے بجائے کوڑا کرکٹ کے اگنے کا ذکر ہے۔

This hadith is transmitted by Amr bin Yahya with the same chain of transmitters who narrated: They would be cast into the river which is called (the river of) life, and (both the narrators) did not doubt the hadith. The text transmitted by Khalid is: just as seeds sprout beside the flood water; and in the hadith of Wuhaib it is: Just as the seed sprouts in the silt or deposit left by flood.

459Sahih Muslim

شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَکِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمْ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً حَتَّی إِذَا کَانُوا فَحْمًا أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ فَجِيئَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَی أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ثُمَّ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَکُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ کَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ بِالْبَادِيَةِ

نصر بن علی جہضمی، بشر ابن مفضل، ابومسلمہ، ابونضرہ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو دوزخ والے ہیں (کافر) وہ اس میں نہ تو مریں گے اور نہ زندہ رہیں گے لیکن کچھ لوگ جو اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے آگ انہیں جلا کر کوئلہ بنادے گی اس کے بعد شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو یہ لوگ گروہ در گروہ لائے جائیں گے پھر انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا پھر جنت والوں سے کہا جائے گا کہ اے جنت والو ان پر پانی ڈالو جس سے وہ تر تازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے جس طرح پانی کے بہاؤ سے آنے والی مٹی میں سے دانہ سرسبز و شاداب ہو کر نکل آتا ہے یہ سن کر صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ دیہات میں رہے ہوں۔ (مطلب یہ کہ آپ ﷺ دانہ اگنے کی جو اتنی درست تمثیل دے رہے ہیں)

It is reported by Abu Said that the Messenger of Allah ﷺ said: The (permanent) inhabitants of the Fire are those who are doomed to it, and verily they would neither die nor live in it (al-Quran, xx. 47; lxxxvii. 13). But the people whom the Fire would afflict (temporarily) on account of their sins, or so said (the narrator)" on account of their misdeeds," He would cause them to die till they would be turned into charcoal. Then they would be granted intercession and would be brought in groups and would be spread on the rivers of Paradise and then it would be said: O inhabitants of Paradise, pour water over them; then they would sprout forth like the sprouting of seed in the silt carried by flood. A man among the people said: (It appears) as if the Messenger of Allah ﷺ lived in the steppe.

460Sahih Muslim

شفاعت کے ثبوت اور موحدوں کو دوزخ سے نکالنے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَی قَوْلِهِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابومسلمہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری ؓ حضرت عبداللہ بن مسعود ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اس میں دانہ اگنے تک کا ذکر ہے اس کے بعد کوئی ذکر نہیں۔

Abu Nadra narrated it from Abu Said al-Khudri who reported it from the Apostle ﷺ a similar (hadith) up to the words:" in the mud of the flood," and he did not mention (the words narrated) after it.

461Sahih Muslim

دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَکَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي أَوْ أَتَضْحَکُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِکُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ فَکَانَ يُقَالُ ذَاکَ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ سب سے آخر میں دوزخ میں سے کون نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں کون جنت میں داخل ہوگا وہ ایک آدمی ہوگا جو سرینوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا اللہ اس سے فرمائیں گے جا جنت میں داخل ہوجا وہ جنت کے قریب آئے گا تو اسے افسوس ہوگا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹ آئے گا اور اللہ سے کہے گا اے میرے رب جنت تو بھری ہوئی ہے اللہ پھر فرمائیں گے جا جنت میں داخل ہوجا وہ پھر آئے گا اس کے خیال میں یہ بات ڈال دی جائے گی کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹ آئے گا اور کہے گا اے میرے رب جنت تو بھری ہوئی ہے تو اللہ اس سے فرمائیں گے جا جنت میں چلا جا تیرے لئے دنیا اور دس گنا دنیا کے برابر ہے تو وہ کہے گا کہ آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں یا ہنس رہے ہیں اور آپ تو بادشاہ ہیں! حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے اگلے دانت ظاہر ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اس سے کہا جائے گا کہ یہ جنت والوں کے لئے سب سے کم تر درجہ ہے۔

Abdullah bin Masud reported that the Messenger of Allah ﷺ said: I know the last of the inhabitants of Fire to be taken out therefrom, and the last of the inhabitants of Paradise to enter it. A man will come out of the Fire crawling. Then Allah, the Blessed and Exalted will say to him: Go and enter Paradise. So he would come to it and it would appear to him as if it were full. He would go back and say: O my Lord! I found it full. Allah, the Blessed and Exalted, would say to him: Go and enter Paradise. He would come and perceive as if it were full. He would return and say: O my Lord! I found it full. Allah would say to him: Go and enter Paradise, for there is for you the like of the world and ten times like it, or for you is ten times the like of this world. He (the narrator) said. He (that man) would say: Art Thou making a fun of me? or Art Thou laughing at me. though Thou art the King? He (the narrator) said: I saw the Messenger of Allah ﷺ laugh till his front teeth were visible. And it was said: That would be the lowest rank among the inhabitants of Paradise

462Sahih Muslim

دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخَرُ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيُقَالُ لَهُ انْطَلِقْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ فَيُقَالُ لَهُ أَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِي کُنْتَ فِيهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّی فَيُقَالُ لَهُ لَکَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِکُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس آدمی کو پہچا نتا ہوں جو دوزخ والوں میں سے سب آخر میں دوزخ سے نکلے گا، ایک آدمی جو سرین کے بل گھسٹتا ہوا دوزخ سے نکلے گا اللہ اس سے فرمائیں گے کہ جنت میں چلا جا وہ جائے گا پھر جنت میں داخل ہوگا تو دیکھے گا کہ سب جگہوں پر جنتی ہیں اس سے کہا جائے گا کہ کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ (دوزخ میں) وہ کہے گا جی ہاں یاد ہے تو پھر اس سے کہا جائے گا کہ اپنی تمنا کرو اور وہ تمنا کرے گا کہ تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ جس قدر تو نے تمنا کی وہ بھی تیرے لئے اور اس سے دس گنا دنیا کے برابر بھی وہ کہے گا کہ کیا آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور آپ تو بادشاہوں کے بادشاہ ہیں حضرت عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him said: I recognise the last of the inhabitants of Fire to be taken out thereof. A man will come out of it crawling. It will be said to him: Go and enter Paradise. He (the Holy Prophet) said: He would go there to enter Paradise, but would find persons who have already occupied all its apartments. It would be said to him: Do you recall the time when you were in it (in the Hell)? He would say: Yes. It would be said to him: Express any desire. And he would express the desire. It would be said to him: For thee is that which thou desireth and ten times the world (worldly resources). He (the Holy Prophet) said: He would say: Art Thou making a fun of me, though Thou art the King? I saw the Messenger of Allah ﷺ laugh till his front teeth were visible.

463Sahih Muslim

دوزخیوں میں سے سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهْوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَکْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا مَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ تَبَارَکَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْکِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنَّ أَعْطَيْتُکَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَی فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُکَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا قَالَ بَلَی يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَی مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْکَ أَيُرْضِيکَ أَنْ أُعْطِيَکَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا قَالَ يَا رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَضَحِکَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَکُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَکُ قَالَ هَکَذَا ضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَکُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ ضِحْکِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حِينَ قَالَ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْکَ وَلَکِنِّي عَلَی مَا أَشَائُ قَادِرٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، حماد بن سلمہ، ثابت، انس، ابن مسعود حضرت ابوسعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ گرتا پڑتا اور گھسٹتا ہوا دوزخ سے اس حال میں نکلے گا کہ دوزخ کی آگ اسے جلا رہی ہوگی پھر جب دوزخ سے نکل جائے گا تو پھر دوزخ کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور دوزخ سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نعمت عطا فرمائی ہے کہ اولین وآخرین میں سے کسی کو بھی وہ نعمت عطا نہیں فرمائی پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا وہ آدمی کہے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب کر دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ کو حاصل کرسکوں اور اس کے پھلوں سے پانی پیوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے ابن آدم اگر میں تجھے یہ دے دوں تو پھر اس کے علاوہ اور کچھ تو نہیں مانگے گا وہ عرض کرے گا کہ نہیں اے میرے پروردگار، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے علاوہ اور نہ مانگنے کا معاہدہ فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائیں گے کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھ چکا ہوگا کہ جس پر اسے صبر نہ ہوگا اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کے پھلوں کے پانی سے پیاس بجھائے گا پھر اس کے لئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے درخت سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگا وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پانی پیوں اور اس کے بعد میں اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اور کوئی سوال نہیں کرے گا اور اب اگر تجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیا تو پھر تو اور سوال کرے گا اللہ تعالیٰ پھر اس سے اس بات کا وعدہ لیں گے کہ وہ اور کوئی سوال نہیں کرے گا تاہم اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ معذور ہوگا کیونکہ وہ ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہ کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کو درخت کے قریب کردیں گے وہ اس کے سایہ میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پئے گا پھر اسے جنت کے دروزاے پر ایک درخت دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا وہ آدمی کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں آرام کروں اور پھر اس کا پانی پیؤں اور اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا پھر اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائیں گے اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے بعد اور کوئی سوال نہیں کرے گا وہ عرض کرے گا ہاں اے میرے پروردگار اب میں اس کے بعد اس کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ اسے معذور سمجھیں گے۔ کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہیں کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردیں گے جب وہ اس درخت کے قریب پہنچے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا تو وہ پھر عرض کرے گا اے میرے رب مجھے اس میں داخل کر دے تو اللہ فرمائیں گے اے ابن آدم تیرے سوال کو کون سی چیز روک سکتی ہے کیا تو اس پر راضی ہے کہ تجھے دنیا اور دنیا کے برابر دے دیا جائے وہ کہے گا اے رب! اے رب العالمین تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ ؓ ہنس پڑے اور لوگوں سے فرمایا کہ تم مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا لوگوں نے کہا کہ آپ کس وجہ سے ہنسے؟ فرمایا رسول اللہ ﷺ اسی طرح ہنسے تھے فرمایا اللہ رب العالمین کے ہنسنے کی وجہ سے جب وہ آدمی کہے گا کہ آپ رب العالمین ہونے کے باوجود مجھ سے مذاق فرما رہے ہیں تو اللہ فرمائیں گے کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا مگر جو چاہوں کرنے پر قادر ہوں۔

Ibn Masud reported: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: The last to enter Paradise would be a man who would walk once and stumble once and be burnt by the Fire once. Then when he gets beyond it, he will turn to it and say: Blessed is He Who has saved me from thee. Allah has given me something He has not given to any one of those in earlier or later times. Then a tree would be raised up for him and he will say: O my Lord I bring me near this tree so that I may take shelter in its shade and drink of its water. Allah, the Exalted and Great, would say: O son of Adam, if I grant you this, you will ask Me for something else. He would say: No. my Lord. And he would promise Him that he would not ask for anything else. His Lord would excuse him because He sees what he cannot help desiring; so He would bring him near it, and he would take shelter in its shade and drink of its water. Afterwards a tree more beautiful than the first would be raised up before him and he would say: O my Lord! bring me near this tree in order that I may drink of its water and take shelter in its shade and I shall not ask Thee for anything else. He (Allah) would say: O son of Adam, if I bring you near it you may ask me for something else. He would promise Him that he would not ask for anything else. His Lord will excuse him because He would see something he cannot help desiring. So He would bring him near it and he would enjoy its shade and drink its water. Then a tree would be raised up for him at the gate of the Paradise, more beautiful than the first two. He would say: O my Lord! bring me near this (tree) so that I may enjoy its shade and drink from its water. I shall not ask Thee for anything else. He (Allah) would say: O son of Adam! did you not promise Me that you would not ask Me anything else? He would say: Yes, my Lord, but I shall not ask Thee for anything else. His Lord would excuse him for He sees something the temptation of which he could not resist. He (Allah) would bring him near to it, and when He would bring him near it he would hear the voices of the inhabitants of the Paradise. He would say: O my Lord! admit me to it. He (Allah) would say: O son of Adam, what will bring an end to your requests to Me? Will it please you if I give you the whole world and a like one along with it? He will say: O my Lord! art Thou mocking at me, though Thou art the Lord of the worlds? Ibn Masud laughed and asked (the hearers): Why dont you ask me what I am laughing at. They (then) said: Why do you laugh? He said: It is in this way that the Messenger of Allah ﷺ laughed. They (the companions of the Holy Prophet) asked: Why do you laugh. Messenger of Allah? ﷺ He said: On account of the laugh of the Lord of the universe, when he ldesirer of Paradise) sai Thou mocking at me though Thou art the Lord of the worlds? He would say: I am not mocking at you, but I have power to do whatever I will.

464Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَی هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَکُونُ فِي ظِلِّهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْکَ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ وَيُذَکِّرُهُ اللَّهُ سَلْ کَذَا وَکَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولَانِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاکَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَکَ قَالَ فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن بکیر، زہیر بن محمد، سہل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت والوں میں سے سب سے کم درجے کا وہ جنتی ہوگا جس کا چہرہ اللہ جہنم سے پھیر کر جنت کی طرف فرما دیں گے اور اس کے لئے ایک سایہ دار درخت بنادیں گے وہ آدمی کہے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں رہوں باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ اے ابن آدم تیری آرزؤں کو کیا چیز ختم کرسکتی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ اللہ اس سے فرمائیں گے کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کر پھر جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ بھی تیرے لئے اور اس سے دس گنا زائد بھی تیرے لئے ہے پھر اللہ اسے اس کے گھر میں داخل فرما دیں گے اور خوبصورت آنکھوں والی دو حوریں اس کی زوجیت میں داخل ہو کر اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ہمارے لئے زندہ کیا اور ہمیں تیرے لئے زندہ کیا وہ آدمی کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا عطا فرمایا ہے کہ کسی کو بھی اتنا نہیں عطا فرمایا۔

It is transmitted from Abu Said al-Khudri that, verily, the Messenger of Allah ﷺ said: Amongst the inhabitants of Paradise the lowest in rank will be the person whose face Allah would turn away from the Fire towards the Paradise, and make a shady tree appear before him. He would say: O my Lord! direct my steps to this tree so that I (should enjoy) its shade; and the rest of the hadith is like that narrated by Ibn Masud, but he did not mention:" He (Allah) would say: O son of Adam! what will bring an end to your making requests to Me" to the end of the tradition. In it, he added: Allah will remind him: Ask such and such, and when his expectations would be realised, Allah would say: That is for you, and ten times as much. He said that he would then enter his house and his two wives with large and dark eyes would enter after him. They will say: Praise be to Allah, Who has created you for us and us for you. He will say: No one has been given the like of what I have been given.

465Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ وَابْنِ أَبْجَرَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَائَ اللَّهُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سَعِيدٍ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُخْبِرُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُهُ عَلَی الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ وَابْنُ أَبْجَرَ سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ سُفْيَانُ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ قَالَ سَأَلَ مُوسَی رَبَّهُ مَا أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً قَالَ هُوَ رَجُلٌ يَجِيئُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيُقَالُ لَهُ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ کَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ فَيُقَالُ لَهُ أَتَرْضَی أَنْ يَکُونَ لَکَ مِثْلُ مُلْکِ مَلِکٍ مِنْ مُلُوکِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ فَيَقُولُ لَکَ ذَلِکَ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ فَقَالَ فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ فَيَقُولُ هَذَا لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ وَلَکَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَيْنُکَ فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ قَالَ رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً قَالَ أُولَئِکَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ کَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ قَالَ وَمِصْدَاقُهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ الْآيَةَ

سعید بن عمرو اشعثی، سفیان بن عیینہ، مطرف، ابن ابجر، شعبی، مغیرہ بن شعبہ، ابن ابی عمر، سفیان، مطرف بن طریف، عبدالملک بن سعید، شعبی، مغیرہ بن شعبہ ایک مرتبہ منبر پر (تشریف رکھے) فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ اپنے رب سے پوچھا کہ جنت والوں میں سے سب کم درجہ کا کونسا آدمی ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ ایک آدمی ہوگا جو سارے جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوگا اس آدمی سے کہا جائے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے رب میں کیسے جاؤں وہاں تو سب لوگوں نے اپنے اپنے مراتب اپنی اپنی جگہوں کو متعین کرلیا ہے یعنی جنت کے تمام محلات پر سب جنتیوں نے قبضہ کرلیا ہے تو پھر اس آدمی سے اللہ فرمائیں گے کہ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملک دیا جائے جتنا دنیا کے بادشاہ کے پاس تھا وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں راضی ہوں پروردگار اس سے فرمائیں گے جاؤ اتنا ملک ہم نے تجھے دے دیا اور اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، اتنا ہی اور، پانچویں مرتبہ وہ آدمی کہے گا میں راضی ہوگیا اے میرے پروردگار! اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے تو یہ بھی لے لو اور اس کا دس گنا اور لے اور جو تیری طبیعت چاہے اور تیری آنکھوں کو پیارا لگے وہ بھی لے لو وہ کہے گا پروردگار میں راضی ہوگیا اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ سب سے بڑے درجے والا جنتی کونسا ہے اللہ نے فرمایا وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود منتخب کیا ہے اور ان کی بزرگی اور عزت کو اپنے دست قدرت سے بند کردیا اور پھر اس پر مہر بھی لگا دی تو یہ چیزیں نہ تو کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان نعمتوں اور مرتبوں کا خیال گزرا اور اس چیز کی تصدیق کی جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے وہ کہتا ہے (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ) یعنی کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان چھپا کر رکھا ہے۔

It is reported on the authority of al-Mughirah bin Shubah that the Messenger of Allah ﷺ said: Moses (علیہ السلام) asked his Lord: Who amongst the inhabitants of Paradise is the lowest to rank? He (Allah) said: The person who would be admitted into Paradise last of all among those deserving of Paradise who are admitted to it. I would be said to him: Enter Paradise. He would gay: O my Lord! how (should I enter) while the people have settled in their apartments and taken the shares (portions)? It would be said to him: Would you be pleased if there be for you like the kingdom of a king amongst the kings of the world? He would say: I am pleased my Lord. He (Allah) would say: For you is that, and like that, and like that, and like that, and that. He would say at the fifth (point): I am well pleased. My Lord. He (Allah) would say: It is for you and, ten times like it, and for you is what your self desires and your eye enjoys. He would say: I am well pleased, my Lord. He ( Moses (علیہ السلام)) said: (Which is) the highest of their (inhabitants of Paradise) ranks? He (Allah) said: They are those whom I choose. I establish their honour with My own hand and then set a seal over it (and they would be blessed with Bounties) which no eye has seen, no ear has heard and no human mind has perceived: and this is sub- stantiated by the Book of Allah, Exalted and Great:" So no soul knows what delight of the eye is hidden for them; a reward for what they did" (xxxii. 17).

466Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُا عَلَی الْمِنْبَرِ إِنَّ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ

ابوکریب، عبیداللہ اشجعی، عبدالملک بن ابجر، مغیرہ بن شعبہ منبر پر فرما رہے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے جنت والوں میں سے سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں پوچھا باقی وہی حدیث ہے جو گذر چکی ہے۔

Shabi reported he had heard al-Mughirah bin Shubah say on the pulpit that Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) had asked Allah, Exalted and Great, about the reward of the lowest of the inhabitants of Paradise, and the remaining part of hadith is the same (as narrated) above.

467Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا رَجُلٌ يُؤْتَی بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ وَارْفَعُوا عَنْهُ کِبَارَهَا فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ عَمِلْتَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا وَعَمِلْتَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْکِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ کِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً فَيَقُولُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَائَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابواعمش، معرور، ابن سوید، ابوذر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس آدمی کو جانتا ہوں جو جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا اور سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا وہ ایک آدمی ہوگا جو قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ مت پیش کرو چناچہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ فلاں دن تو نے یہ کام کیا اور فلاں دن ایسا کیا وغیرہ، وہ اقرار کرے گا اور انکار نہ کرسکے گا اور اپنے بڑے گناہوں سے ڈرے گا کہ کہیں وہ بھی پیش نہ ہوجائیں حکم ہوگا کہ ہم نے تجھے ہر ایک گناہ کے بدلے ایک نیکی دی۔ وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں نے تو اور بھی بہت سے گناہ کے کام کئے ہیں جنہیں میں آج یہاں نہیں دیکھ رہا راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سامنے والے دانت ظاہر ہوگئے۔

Abu Dharr (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: I know the last of the inhabitants of Paradise to enter it and the last of the inhabitants of Hell to come out of it. He is a man who would be brought on the Day of Resurrection and it will be said: Present his minor sins to him, and withhold from him his serious Sins. Then the minor sins would be placed before him, and it would be said: On such and such a day you did so and so and on such and such a day you did so and so. He would say: Yes. It will not be possible for him to deny, while he would be afraid lest serious sins chould be presented before him. It would be said to him: In place of every evil deed you will have good deed He will say: My Lord! I have done things I do not see here. I indeed saw the Messenger of Allah ﷺ laugh till his front teeth were exposed.

468Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابن نمیر، ابومعاویہ، وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حضرت حماد بن زید ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is also narrated by another chain of narrators, i. e. Ibn Numair, Abu Muawiyahh (RA)h (RA), Waki, Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Abu Kuraib, Amash.

469Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ کِلَاهُمَا عَنْ رَوْحٍ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ الْوُرُودِ فَقَالَ نَجِيئُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ کَذَا وَکَذَا انْظُرْ أَيْ ذَلِکَ فَوْقَ النَّاسِ قَالَ فَتُدْعَی الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا کَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِکَ فَيَقُولُ مَنْ تَنْظُرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْظُرُ رَبَّنَا فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَيْکَ فَيَتَجَلَّی لَهُمْ يَضْحَکُ قَالَ فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ وَيُعْطَی کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَی جِسْرِ جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ وَحَسَکٌ تَأْخُذُ مَنْ شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ کَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ کَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَائِ ثُمَّ کَذَلِکَ ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَشْفَعُونَ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً فَيُجْعَلُونَ بِفِنَائِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمْ الْمَائَ حَتَّی يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْئِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّی تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا

عبیداللہ بن سعید، اسحاق بن منصور، روح بن عبادہ قیسی، ابن جریج، ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا کہ ان سے لوگ قیامت کے دن لوگوں کے حال کے بارے میں پوچھ رہے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم قیامت کے دن تمام امتوں سے بلندی پر ہوں گے پھر باقی امتوں کو ترتیب کے لحاظ سے ان کے بتوں کے ساتھ بلایا جائے گا اس کے بعد ہمارا رب جلوہ افروز ہوگا، اللہ فرمائیں گے کہ تم کسے دیکھ رہے ہو وہ کہیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے شایان شان ان کے ساتھ چل پڑیں گے اور سارے لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے اور ہر ایک کو ایک نور ملے گا چاہے وہ مومن ہو یا منافق ہو اور لوگ اس نور کے پیچھے چلیں گے پل صراط پر کانٹے ہوں گے جسے اللہ تعالیٰ چاہیں گے پکڑ لیں گے پھر منافقوں کا نور بجھ جائے گا اور مومن نجات پاجائیں گے مومنوں کا پہلا گروہ جو نجات پا جائے گا ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور یہ ستر ہزار ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا پھر ان کے بعد ایک گروہ خوب چمکتے ہوئے تاروں کے طریقے پر ہوگا پھر اسی طرح شفاعت کا وقت آئے گا اور نیک لوگ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ جن لوگوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہوگا اور ان کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھی اگر کوئی بھلائی ہوگی تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور انہیں جنت کے سامنے ڈال دیا جائے گا اور جنت والے ان پر پانی چھڑکیں گے جس سے وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے جیسے سیلاب کے پانی کی مٹی میں سے دانہ ہرا بھرا اگ پڑتا ہے ان سے جلنے کے سارے آثار جاتے رہیں گے پھر ان سے پوچھا جائے گا پھر ہر ایک کو دنیا اور دس گنا دنیا کے برابر (انہیں جنت میں مقام) دیا جائے گا۔

It is reported on the authority of Abu Zubair that he heard from Jabir b Abdullah, who was asked about the arrival (of people on the Day of Resurrection). He said. We would come on the Day of Resurrection like this, like this, and see. carefully. that which concerns" elevated people". He (the narrator) said: Then the people would be summoned along with their idols whom they worshipped, one after another. Then our Lord would come to us and say: Whom are you waiting for? They would say: We are waiting for our Lord. He would say: I am your Lord. They would say: (We are not sure) till we gaze at Thee, and He would manifest Himself to them smilingly, and would go along with them and they would follow Him; and every person, whether a hypocrite or a believer, would be endowed with a light, and there would be spikes and hooks on the bridge of the Hell, which would catch hold of those whom Allah willed. Then the light of the hypocrites would be extinguished, and the believers would secure salvation. and the first group to achieve it would comprise seventy thousand men who would have the brightness of full moon on their faces, and they would not be called to account. Then the people immediately following them would have their faces as the brightest stars in the heaven. This is how (the groups would follow one after another). Then the stage of intercession would come, and they (who are permitted to intercede) would intercede, till he who had declared:" There is no god but Allah" and had in his heart virtue of the weight of a barley grain would come out of the Fire. They would be then brought in the courtyard of Paradise and the inhabitants of Paradise would begin to sprinkle water over them till they would sprout like the sprouting of a thing in flood water, and their burns would disappear. They would ask their Lord till they would be granted (the bounties) of the world and with it ten more besides it.

470Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنْ النَّارِ فَيُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔

Jabir reported that he had heard with his ears the Apostle ﷺ saying: Allah will bring out people from the Fire and admit them into Paradise.

471Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنْ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ قَالَ نَعَمْ

ابوربیع، حمادابن زید حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے یہ حدیث سنی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شفاعت کی بنا پر کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے! انہوں نے فرمایا ہاں۔

Hammad bin Zaid, reported: I said to Amr bin Dinar: Did you hear Jabir bin Abdullah narrating from the Messenger of Allah ﷺ that Allah would bring out people from the Fire through intercession. He said: Yes.

472Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ حَتَّی يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ

حجاج بن شاعر، ابواحمد، زبیری، قیس ابن سلیم، عنبری، یزید فقیر، جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ جہنم سے نکال کر جنت میں اس حالت میں داخل کئے جائیں گے کہ ان کے چہروں کے علاوہ ان کا سارا جسم جل چکا ہوگا۔

Jabir bin Abdullah repotted: The Messenger of Allah ﷺ said: Verily people would be brought out from the Fire, and they would be burnt except the exterior (surfaces, fronts) of their faces; and they would enter Paradise.

473Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ قَالَ کُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَی النَّاسِ قَالَ فَمَرَرْنَا عَلَی الْمَدِينَةِ فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَالِسٌ إِلَی سَارِيَةٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَکَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ وَاللَّهُ يَقُولُ إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلْ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَ کُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ قَالَ فَقَالَ أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَام يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ قَالَ ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ قَالَ وَأَخَافُ أَنْ لَا أَکُونَ أَحْفَظُ ذَاکَ قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ بَعْدَ أَنْ يَکُونُوا فِيهَا قَالَ يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ کَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ قَالَ فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ کَأَنَّهُمْ الْقَرَاطِيسُ فَرَجَعْنَا قُلْنَا وَيْحَکُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَکْذِبُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ کَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ

حجاج بن شاعر، فضل بن دکین، ابوعاصم، محمد بن ابی ایوب، یزید فقیر فرماتے ہیں کہ خارجیوں کی باتوں میں سے ایک بات میرے دل میں جم گئی ( کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا) چناچہ ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے کہ پھر (اس کے بعد خارجیوں والی اس بات کو) لوگوں میں پھیلائیں یزید کہتے ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ایک ستون سے ٹیک لگائے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں بیان فرما رہے ہیں اور جب انہوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے ان سے کہا اے صحابی رسول ﷺ! یہ آپ لوگوں سے کیسی حدیثیں بیان کر رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتے ہیں (اے رب) بیشک تو نے جسے دوزخ میں داخل کردیا تو تو نے اسے رسوا کردیا۔ (دوسرے مقام پر یہ فرماتا ہے) جب دوزخی لوگ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو انہیں پھر اسی میں داخل کردیا جائے گا، اس (اللہ کے فرمان) کے بعد اب تم کیا کہتے ہو؟ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کیا تم نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں انہوں نے فرمایا کہ کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کے مقام کے بارے میں سنا جو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو قیامت کے دن عطا فرمائیں گے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ پھر یہی تو وہ مقام محمود ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دوزخ سے جسے چاہیں گے نکال دیں گے اس کے بعد انہوں نے پل صراط اور لوگوں کا اس کے اوپر سے گزرنے کے بارے میں تذکرہ فرمایا حضرت یزید کہتے ہیں کہ میں اس کو اچھی طرح یاد نہیں رکھ سکا تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ کچھ لوگ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد دوزخ سے نکال لئے جائیں گے ابونعیم نے کہا کہ وہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکلیں گے کہ جس طرح آبنوس کی جلی ہوئی لکڑیاں ہوتی ہیں پھر وہ لوگ جنت کی نہروں میں سے کسی نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں یہ نہائیں گے اور پھر اس نہر سے کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے ( یہ حدیث سن کر) پھر ہم وہاں سے لوٹے اور ہم نے کہا افسوس (تم خارجی لوگوں) پر کیا تمہار اخیال ہے کہ شیخ جابر بن عبداللہ جیسا شخص بھی رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اللہ کی قسم ہم میں سے ایک آدمی کے علاوہ سب خارجی تھے عقائد سے تائب ہوگئے جیسا کہا ابونعیم نے کہا۔

Yazid al-Faqir said: This view of the Khwarij (i. e. those who commit major sins and would be eternally doomed to Hell) had obsessed me, and we set out in a large group intending to perform the hajj and then going to the people (for the propagation of the views of the Khwarij). He (the narrator) said: We happened to past by Madinah and found there Jabir bin Abdullah sitting near a column narrating to the people (the ahadith of) the Holy Prophet ﷺ . When he mentioned the inhabitants of Hell, I said: O companion of the Messenger of Allah ﷺ what is this that thou narrateth, whereas Allah sayeth:" Verily whomsoever Thou shall commit to the Fire, Thou indeed humillateth him" (al-Quran, iii. 192) ; and All those who endeavoured to get out of that would be thrown back into it" (al-Quran, xxxi i. 20)? So what is it that you say? He said: Have you read the Quran? I said: Yes. He said: Have you heard about the (exalted) position of Muhammad ﷺ , i. e. to which Allah would raise, him? I said: Yes. He said: Verily the position of Muhammad ﷺ is that of great glory and that is by which Allah would bring out whornsoever He would wish to bring out. He then described the Path (the Bridge) and the passing of the people over it, and said: I am afraid I may not have remembered (other things) but this much is still in my memory that people would come out of the Hell after having gone into it, and he said: They would come out of it as if they were the wood of the ebony tree. He (the narrator said: They would enter a river, one or the rivers of Paradise, and would bathe in it, and then come out as if they were (white like) paper. We then turned back and said: Woe be upon you! How can this old man tell a lie against the Messenger of Allah ﷺ ? We turned back (from the views of the Khwarij), and by God every one of us abandoned this (band of Khwarij) except one man. A similar statement has been made by Abu Nuaim.

474Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ أَرْبَعَةٌ فَيُعْرَضُونَ عَلَی اللَّهِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا فَلَا تُعِدْنِي فِيهَا فَيُنْجِيهِ اللَّهُ مِنْهَا

ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، ابی عمران، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی دوزخ سے نکال کر اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے ان میں سے ایک آدمی دوزخ کی طرف دیکھ کر کہے گا اے میرے پروردگار جب آپ نے مجھے اس دوزخ سے نکال لیا ہے تو اب اس میں دوبارہ نہ لوٹانا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے نجات عطا فرما دیں گے۔

It is narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Four persons would be brought out from the Fire and would be presented to Allah. One of them would turn (towards the He)) ) and say: O my Lord, when Thou hast brought me out from it, do not throw me back into it, and Allah would rescue him from it.

475Sahih Muslim

سب سے ادنی درجہ کے جنتی کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَهْتَمُّونَ لِذَلِکَ و قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِکَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هَذَا قَالَ فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ آدَمُ أَبُو الْخَلْقِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ قَالَ فَيَأْتُونَ نُوحًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ قَالَ فَيَأْتُونَ مُوسَی صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا وَلَکِنْ ائْتُوا عِيسَی رُوحَ اللَّهِ وَکَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَی رُوحَ اللَّهِ وَکَلِمَتَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَلَکِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَکَ يَا مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ سَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُخْرِجَهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ قَتَادَةُ أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ

ابوکامل، فضیل بن حسین جحدری، محمد بن عبیداللہ عنبری، ابوکامل، ابوعوانہ، قتادہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائیں گے اور وہ اس پریشانی سے بچنے کی کوشش کریں گے اور ابن عبید نے کہا ہے کہ یہ کوشش ان کے دلوں میں ڈالی جائے گی وہ کہیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کی طرف اگر کسی سے شفاعت کرائیں تاکہ اس جگہ سے ہم آرام حاصل کریں تو سب لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ تمام مخلوق انسانی کے باپ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں آپ اپنے پروردگار کے ہاں ہماری شفاعت فرمائیں تاکہ ہم اس جگہ سے راحت حاصل کریں، حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا کو یاد کریں گے جو ان سے ہوئی، اللہ تعالیٰ سے شرمائیں گے اور کہیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے بھیجا، وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا یاد کریں گے جو دنیا میں ان سے سرزد ہوئی اور اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ ان کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا وہ لوگ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں وہ بھی اپنی اس خطا کو یاد کر کے جو دنیا میں ان سے ہوئی تھی اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ جو اللہ کے کلیم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تو راہ عطا فرمائی وہ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں اور اپنی خطا کو یاد کر کے جو دنیا میں ان سے ہوئی اپنے رب سے شرمائیں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور کلمہ اللہ ہیں چناچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں لیکن تم حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ جن کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اگلی پچھلی تمام خطاؤں کو معاف فرما دیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر سارے لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنے پروردگار سے شفاعت کی اجازت مانگوں گا مجھے اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اپنے آپ کو دیکھوں گا کہ میں سجدہ میں میں گرا پڑا ہوں، جب تک اللہ چاہیں گے مجھے اس حال میں رکھیں گے پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے، فرمائیے! سنا جائے گا، مانگئے! دیا جائے گا، شفاعت فرمائیے! شفاعت قبول کی جائے گی، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ان کلمات کے ساتھ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے اس وقت سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ﷺ اپنا سر اٹھائیے! فرمائیے! سنا جائے گا، مانگئے! دیا جائے گا، شفاعت کیجئے! شفاعت قبول کی جائے گی، پھر میں اپنا سر سجدہ سے اٹھاؤں گا پھر میں اپنے رب کی حمد بیان کروں گا میرے لئے ایک حد مقرر کی جائے گی جس کے مطابق میں لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا راوی فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ رسول اللہ ﷺ شفاعت فرما کر لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کے حق میں قرآن نے ہمیشہ کا عذاب لازم کردیا ہے۔

Anas b Malik reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Allah would gather people on the Day of Resurrection and they would be concerned about it, and Ibn Ubaid said. They would get a Divine inspiration about it, and would say: If we could seek intercession with our Lord, we may be relieved from this predicament of ours. He (the Holy Prophet) said: They would come to Adam علیہ السلامandsay, Thou art Adam, the father of mankind. Allah created thee with His own hand and breathed unto thee of His Spirit and commanded the angels and they prostrated before thee. So intercede for us with thy Lords, that He may relieve us from this position of ours. He would say: I am not in a position to do this, and would recall his error, and would fight shy of his Lord on account of that; go to Noah the first messenger (after me) sent by Allah. He (the Holy Prophet) said: So they would come to Noah (peace be upon him). He would say: I am not in a position to do that for you, and recall his fault which he had committed, and would fight shy of his Lord on account of that, (and would say): You better go to Ibrahim (peace be upon him) whom Allah took for a friend. They would come to Ibrahim (peace be upon him) and he would say: I am not in a position to do that for you, and would recall his fault that he had committed and would, therefore, fight shy of his Lord on that account (and would say): You better go to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) with whom Allah conversed and con- ferred Torah upon him. He (the Holy Prophet) said: So they would come to Moses (علیہ السلام) (peace be upon him) He would say: I am not in a position to do that for you, and would recall his fault that he had committed and would fight shy of his Lord on account of that (and would say): You better go to Jesus, the Spirit of Allah and His word He would say: I am not in a position to do that for you; you better go to Muhammad ﷺ , a servant whose former and later sins have been forgiven. He (the narrator) said: The Messenger or Allah ﷺ observed: So they would come to me and I would ask the permission of my Lord and it would be granted to me, and when I would see Him, I would fall down in prostration, and He (Allah) would leave me thus as long as He would wish, and then it would be said: O Muhammad ﷺ , raise your head, say and you would be heard; ask and it would be granted; intercede and intercession would be accepted. Then I would raise my head and extrol my Lord with the praise which my Lord would teach me. I shall then inter- cede, but a limit would be set for me I would bring them out from the Fire and make them enter Paradise (according to the limit). I shall return then ard fall down in pros- tration and Allah would leave me (in that position) as long as He would wish to leave me it would be said: Rise, O Muhammad ﷺ , say and you would be heard; ask and it would be conferred; intercede and intercession would be granted. I would raise my head and extrol my Lord with praise that He would teach me. I would theft intercede and a limit would be set for me. I would bring them out of the Fire (of Hell) and make them enter Paradise. He (the narrator) said: I do not remember whether he (the Holy Prophet) said at the third time or at the fourth time: O my Lord, none has been left in the Fire, but thise restrained by the Holy Quran, i e. those who were eternally doomed. Ibn Ubaid said in a narration: Qatada observed: whose everlasting stay was imperative".