ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 13 of 23

336Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَلَائِکَةُ رَبِّ ذَاکَ عَبْدُکَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَإِنْ تَرَکَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً إِنَّمَا تَرَکَهَا مِنْ جَرَّايَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُکُمْ إِسْلَامَهُ فَکُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ حضرت محمد ﷺ سے کچھ احادیث ذکر فرما رہے تھے ان میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میرا بندہ کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے جب اسپر عمل کرے تو میں ایک نیکی کے بدلہ دس نیکیاں لکھتا ہوں اور جب کسی گناہ کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے اور جب اس گناہ پر عمل کرے تو ایک ہی گناہ لکھتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سچے دل سے اسلام قبول کرلیتا ہے تو اس کی ہر نیکی کو دس سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ , said: When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah ﷺ observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for he desisted from doing it for My sake. The Messenger of Allah ﷺ said: He who amongst you is good of faith, all his good acts are multiplied from ten to seven hundred times (and are recorded in his name) and all the evils that he commits are recorded as such (i, e. without increase) till he meets Allah.

337Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا کُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُکْتَبْ وَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ

ابوکریب، ابوخالد احمر، ہشام، ابن سیرین، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہیں اور جس نے برائی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا اور اگر اس گناہ پر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who intended to do good, but did not do it, one good was recorded for him, and he who intended to do good and also did it, ten to seven hundred good deeds were recorded for him. And he who intended evil, but did not commit it, no entry was made against his name, but if he committed that, it was recorded.

338Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِکَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً

شیبان بن فروخ، عبدالوارث جعدانی، ابورجاء، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھیں پھر ان کو بیان فرمایا پس جس آدمی نے نیکی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں پوری ایک نیکی لکھیں گے اگر اس نیکی کے ارادے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک بلکہ اس سے بھی زیادہ لکھیں گے اور اگر برائی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ ایک ہی برائی لکھتے ہیں۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ transmitted it from the Blessed and Great Lord: Verily Allah recorded the good and the evil and then made it clear that he who intended good but did not do it, Allah recorded one complete good in his favour, but if he intended it and also did it, the Glorious and Great Allah recorded ten to seven hundred virtues and even more to his credit. But it he intended evil, but did not commit it, Allah wrote down full one good in his favour. If he intended that and also committed it, Allah made an entry of one evil against him.

339Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَزَادَ وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِکُ عَلَی اللَّهِ إِلَّا هَالِکٌ

یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابوعثمان، عبدالوارث ایک دوسری سند کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بھی مٹا دیں گے اور عذاب میں وہی مبتلا ہوگا جس کے مقدر میں ہلاکت لکھی ہو۔

This hadith has been narrated with another chain of transmitters with the addition of these words: Allah would even wipe out (the evil committed by a man) and Allah does not put to destruction anyone except he who is doomed to destruction.

340Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَکَلَّمَ بِهِ قَالَ وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاکَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کرسکتا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that some people from amongst the Companions of the Apostle ﷺ came to him and said: Verily we perceive in our minds that which every one of us considers it too grave to express. He (the Holy Prophet) said: Do you really perceive it? They said: Yes. Upon this he remarked: That is the faith manifest.

341Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، محمد بن عمرو بن جبلہ بن ابی رواد، ابوبکر بن اسحاق، ابوجواب، عمار بن رزیق، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت فرمائی۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that some people from amongst the Companions of the Apostle ﷺ came to him and said: Verily we perceive in our minds that which every one of us considers it too grave to express. He (the Holy Prophet) said: Do you really perceive it? They said: Yes. Upon this he remarked: That is the faith manifest. The same hadith has been transmitted by Muhammad bin Amr, Abu Baker bin Ishaq, Abul-Jawwab, Amash and Abu Hurairah (RA) .

342Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْوَسَةِ قَالَ تِلْکَ مَحْضُ الْإِيمَانِ

یوسف بن یعقوب، علی بن عثام، سعید بن خمس، مغیرہ، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے وسوسہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو محض ایمان ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Apostle ﷺ was asked about evil prompting, to which he replied: It is pure faith.

343Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَائَلُونَ حَتَّی يُقَالَ هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ

ہارون بن معروف، محمد بن عباد، سفیان، ہشام، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا تو جو آدمی اس طرح کا کوئی وسوسہ اپنے دل میں پائے تو وہ کہے میں اللہ پر ایمان لایا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Men will continue to question one another till this is propounded: Allah created all things but who created Allah? He who found himself confronted with such a situation should say: I affirm my faith in Allah.

344Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ فَيَقُولُ اللَّهُ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَرُسُلِهِ

محمود بن غیلان، ابونضر، ابوسعید، ہشام ابن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آکر کہتا ہے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ اور اس کے رسولوں پر۔

This hadith has been transmitted by Mahmud bin Ghailan by another chain of transmitters (and the words are): The Messenger of Allah ﷺ said: The Satan will come to everyone of you and say: Who created the heaven, who created the earth? (And the man) replies: It is Allah, Then the remaining part of the hadith was narrated as mentioned above and the words His prophets" were added to it.

345Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَکُمْ فَيَقُولَ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا حَتَّی يَقُولَ لَهُ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِکَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ

زہیر بن حرب، عبد بن حمید، یعقوب، زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ اس طرح اس طرح کس نے پیدا کیا یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا تو جب وہ یہاں تک پہنچے تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس وسوسہ سے اپنے آپ کو روک لو۔

This hadith is transmitted by Urwa bin Zubair on the authority of Abu Hurairah (RA) (and the words are): The Satan comes to the bondsman (of Allah) and says: Who created this and that? The remaining part of the hadith is the same.

346Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَ کَذَا وَکَذَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ

عبدالملک بن شعیب، ابن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان بندے کے پاس آکر کہتا ہے کہ اس اس کو کس نے پیدا کیا آگے مذکورہ حدیث کی طرح۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) observed: The Satan comes to everyone. of you and says: Who created this and that? till he questions: Who created your Lord? When he comes to that, one should seek refuge in Allah and keep away (from such idle thoughts).

347Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَکُمْ عَنْ الْعِلْمِ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ أَوْ قَالَ سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي

عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، محمد بن سیرین ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تجھ سے ہمیشہ علم کے بارے میں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا خالق تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کی روایت کرتے ہوئے اس آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے مجھ سے دو آدمی سوال کرچکے ہیں اور یہ تیسرا ہے یا فرمایا مجھ سے ایک آدمی سوال کرچکا ہے اور یہ دوسرا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: People will constantly ask you questions pertaining to knowledge till they would say: Allah created us, but who created Allah? he (the narrator) says: he (Abu Huraira) was (at the time of narrating this hadith) catching hold of the hand of a man and he said: Allah and the Messenger told the truth. Two persons have already put me this question, and this is the third one, or he said: One man has put me this question and he is the second one.

348Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ وَلَکِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ

زہیر بن حرب، یعقوب دورقی، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، محمد، ابوہریرہ ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں لیکن حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that he said: The people will constantly, and the rest of the hadith is the same as that transmitted by Abdul-Warith with the exception that there is no mention of the Apostle of Allah ﷺ in that, but he observed at the end of the hadith: Allah and His Messenger told the truth

349Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَائَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ فَقَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا اللَّهُ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ قَالَ فَأَخَذَ حَصًی بِکَفِّهِ فَرَمَاهُمْ ثُمَّ قَالَ قُومُوا قُومُوا صَدَقَ خَلِيلِي

عبداللہ بن رومی، نضر بن محمد عکرمہ، ابن عمار، ابوسلمہ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا اے ابوہریرہ ؓ یہ لوگ تجھ سے ہمیشہ پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ دیہاتی لوگ آکر کہنے لگے اے ابوہریرہ یہ تو اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے مٹھی بھر کر کنکریاں ان کو مار کر کہا اٹھو چلے جاؤ۔ میرے دوست ﷺ نے سچ فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: they (the people) till constantly ask you, Abu Hurairah (RA) , (about different things pertaining to religion) the they would say: Well, there is Allah, but after all who created Allah? He ( Abu Hurairah (RA) ) narrated: Once we were in the mosque that some of the Bedouins came there and said: Well, there is Allah, but who created Allah? He (the narrator) said: I took hold of the pebbles in my fist and flung at them and remarked: Stand up, stand up (go away) my friend (the Holy Prophet) told the truth.

350Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْأَلَنَّکُمْ النَّاسُ عَنْ کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی يَقُولُوا اللَّهُ خَلَقَ کُلَّ شَيْئٍ فَمَنْ خَلَقَهُ

محمد بن حاتم، کثیر بن ہشام، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے لوگ ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے یہاں تک کہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟

Yazid bin al-Asamm said: I heard Abu Hurairah (RA) saying that the Messenger of Allah ﷺ observed: people will certainly ask you about everything till they will propound: Allah created every thing, but who created Allah?

351Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ أُمَّتَکَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ مَا کَذَا مَا کَذَا حَتَّی يَقُولُوا هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ

عبداللہ بن عامر بن زرارہ، محمد بن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ ہمیشہ کہتے رہیں گے یہ کیا ہے یہ کیا ہے یہاں تک کہ کہیں گے کہ ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟

Anas bin Malik (RA) transmitted it from the Messenger of Allah ﷺ that the Great and Glorious Allah said: Verily your people would constantly question about this and that till they would say: Well, it is Allah Who created the creation, but who created Allah?

352Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَاإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ إِسْحَقَ لَمْ يَذْکُرْ قَالَ قَالَ اللَّهُ إِنَّ أُمَّتَکَ

اسحاق بن ابراہیم، جریر ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، مختار، انس ایک دوسری سند میں حضرت انس ؓ سے یہ روایت بھی نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح ذکر کی گئی ہے اس میں آپ ﷺ کی امت کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters with the exception that Ishaq made no mention of this: Allah said: Verily your people.

353Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْعَلَائُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابن عبدالرحمن، معبد بن کعب سلمی، عبداللہ بن کعب، ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارا تو اللہ اس کے لئے دوزخ کو لازم کر دے گا اور اس پر جنت کو حرام کر دے گا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو درخت کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔

It is narrated on the authority of Abu Umama that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who appropriated the right of a Muslim by (swearing a false) oath, Allah would make Hell-fire necessary for him and would declare Paradise forbidden for him. A person said to him: Messenger of Allah, even if it is something insignificant? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even if it is the twig of the arak tree.

354Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کَعْبٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن کعب سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوامامہ حارثی ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا۔

This hadith has been transmitted by another chain of narrators: Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba, Ishaq bin Ibrahim, Harun bin Abdullah, Abi Usama, Walid bin Kathir, Muhammad bin Kab, his brother Abdullah bin Kab and Abi Usama

355Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ نَزَلَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ فَخَاصَمْتُهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَکَ بَيِّنَةٌ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَيَمِينُهُ قُلْتُ إِذَنْ يَحْلِفُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، اعمش ابوائل، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی آدمی نے کسی حاکم کے حکم سے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے قسم کھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر اللہ ناراض ہوگا، روای کہتے ہیں کہ اشعث بن قیس ؓ حاضرین کے پاس آکر کہنے لگے کہ ابوعبدالرحمن نے تم سے کیا بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح، حضرت اشعث ؓ نے کہا کہ ابوعبدالرحمن نے سچ فرمایا ہے اس حدیث کا تعلق مجھ سے ہے، یمن میں میرے اور ایک آدمی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا یہ جھگڑا نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی سے قسم لے لو میں نے عرض کیا وہ تو جھوٹی قسم اٹھا لے گا رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جو آدمی کسی مسلمان کا مال دبانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا پھر یہ آیت نازل ہوئی یقینا جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کے بدلہ میں (ثمناً قلیلاً ) تھوڑا مول لے لیتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں یہ آیت کریمہ آخر تک تلاوت فرمائی۔

It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who perjured with a view to appropriating the property of a Muslim, and he is in fact a liar and would meet Allah in a state that He would be angry with him. He (the narrator) said: There came Ashath bin Qais and said (to the people): What does Abu Abdur-Rahman (the Kunya of Abdullah bin Umar (RA) ) narrate to you? They replied: So and so. Upon this he remarked: Abu Abdur-Rahman told the truth. This (command) has been revealed in my case. There was a piece of land in Yemen over which I and another person had a claim. I brought the dispute with him to the Apostle of Allah ﷺ (to decide) He (the Holy Prophet) said: Can you produce an evidence (in your support)? I said: No. He (the Holy Prophet) observed: (Then the decision would be made) on his oath. I said: He would readily take an oath. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: He who perjured for appropriating the wealth of a Muslim, whereas he is a liar, would meet Allah while He would be angry with him. This verse was then revealed:" Verily those who barter Allahs covenant and their oaths at a small price..." (iii 77).