ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْوَسَةِ قَالَ تِلْکَ مَحْضُ الْإِيمَانِ
یوسف بن یعقوب، علی بن عثام، سعید بن خمس، مغیرہ، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے وسوسہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو محض ایمان ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Apostle ﷺ was asked about evil prompting, to which he replied: It is pure faith.