مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ
احمد بن سعید بن صخر دارمی، حبان، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور حدیث مبارکہ میں حضرت سعد بن معاذ ؓ کا ذکر نہیں۔
Untraceble…
مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْکُرُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَکُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
ہریم بن عبدالاعلی اسدی، معتمر بن سلیمان، انس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضرت سعد بن معاذ ؓ کا اس حدیث میں بھی ذکر نہیں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت بن قیس ؓ کو اپنے درمیان پا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے درمیان ایک جنتی آدمی چل رہا ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sad bin Muadh, but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.
اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْکُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا وَمَنْ أَسَائَ أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابی وائل، عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے ان اعمال پر مواخذہ ہوگا جو ہم سے جاہلیت کے زمانے میں سرزد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس نے سچے دل سے اسلام قبول کرلیا تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا بلکہ بظاہر مسلمان اور باطن میں کافر تو اس سے دور جاہلیت اور دور اسلام دونوں کے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that some people said to the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance (before embracing Islam)? Upon his he (the Holy Prophet) remarked: He who amongst you performed good deeds in Islam, He would not be held responsible for them (misdeeds which he committed in ignorance) and he who committed evil (even after embracing Islam) would be held responsible or his misdeeds that he committed in the state of ignorance as well as in that of Islam.
اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَائَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ۔ وکیع، اعمش ابو وائل، عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے جاہلیت کے زمانہ میں کئے گئے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سچے دل سے اسلام قبول کیا اس سے جاہلیت والے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا صرف دکھلاوے کے لئے قبول کیا اس سے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں اعمال کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud: We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds.
اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش، ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted by Minjab bin al-Harith Tamimi with the same chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَکَی طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَی الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ عَلَی أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَکُونَ قَدْ اسْتَمْکَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَکُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِينَکَ فَلْأُبَايِعْکَ فَبَسَطَ يَمِينَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي قَالَ مَا لَکَ يَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلِهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ وَمَا کُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَائَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي
محمد بن مثنی عنزی، ابومعن، اسحاق بن منصور، ابوعاصم، ابن مثنی، ضحاک، ابوعاصم، حیوہ بن شریح، یزید بن ابی حبیب، ابن شماسہ کہ ہم عمرو بن العاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور چہرہ مبارک دیوار کی طرف پھیرلیا ان کے بیٹے ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابا جان کیوں رو رہے ہیں کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ ﷺ کو یہ بشارت نہیں سنائی؟ حضرت عمرو بن العاص ؓ ادھر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہمارے نزدیک سب سے افضل عمل اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور مجھ پر تین دور گزرے ہیں ایک دور تو وہ ہے جو تم نے دیکھا کہ میرے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا اور مجھے یہ سب سے زیادہ پسند تھا کہ آپ ﷺ پر قابو پا کر آپ ﷺ کو قتل کر دوں اگر میری موت اس حالت میں آجاتی تو میں دوزخی ہوتا پھر جب اللہ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا شرط ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ شرط کہ کیا میرے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام لانے سے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور ہجرت سے اس کے سارے گذشتہ اور حج کرنے سے بھی اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں؟ اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مجھے کسی سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کسی کا مقام تھا اور آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے مجھ میں آپ ﷺ کو بھر پور نگاہ سے دیکھنے کی سکت نہ تھی اور اگر کوئی مجھ سے آپ ﷺ کی صورت مبارک کے متعلق پوچھتے تو میں بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ ﷺ کو بوجہ عظمت و جلال دیکھ نہ سکا، اگر اس حال میں میری موت آجاتی تو مجھے جنتی ہونے کی امید تھی پھر اس کے بعد ہمیں کچھ ذمہ داریاں دی گئیں اب مجھے پتہ نہیں کہ میرا کیا حال ہوگا پس جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ نہ کوئی رونے والی ہو اور نہ آگ ہو جب تم مجھے دفن کردو تو مجھ پر مٹی ڈال دینا اس کے بعد میری قبر کے اردگرد اتنی دیر ٹھہر نا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ تمہارے قرب سے مجھے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔
It is narrated on the authority of Ibn Shamasa Mahri that he said: We went to Amr bin al-As and he was about to die. He wept for a long time and turned his face towards the wall. His son said: Did the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him not give you tidings of this? Did the Messenger of Allah ﷺ not give you tidings of this? He (the narrator) said: He turned his face (towards the audience) and said: The best thing which we can count upon is the testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah ﷺ . Verily I have passed through three phases. (The first one) in which I found myself averse to none else more than I was averse to the Messenger of Allah ﷺ and there was no other desire stronger in me than the one that I should overpower him and kill him. Had I died in this state, I would have been definitely one of the denizens of Fire. When Allah instilled the love of Islam in my heart, I came to the Apostle ﷺ and said: Stretch out your right hand so that may pledge my allegiance to you. He stretched out his right hand, I withdrew my hand, He (the Holy Prophet) said: What has happened to you, O Amr? replied: I intend to lay down some condition. He asked: What condition do you intend to put forward? I said: should be granted pardon. He (the Holy Prophet) observed: Are you not aware of the fact that Islam wipes out all the previous (misdeeds)? Verily migration wipes out all the previous (misdeeds), and verily the pilgrimage wipes out all the (previous) misdeeds. And then no one as or dear to me than the Messenger of Allah ﷺ and none was more sublime in my eyes than he, Never could I, pluck courage to catch a full glimpse of his face due to its splendour. So if I am asked to describe his features, I cannot do that for I have not eyed him fully. Had I died in this state had every reason to hope that I would have bee among the dwellers of Paradise. Then we were responsible for certain things (in the light of which) I am unable to know what is in store for me. When I die, let neither female mourner nor fire accompany me. When you bury me, fill my grave well with earth, then stand around it for the time within which a camel is slaughtered and its meat is distributed so that I may enjoy your intimacy and (in your company) ascertain what answer I can give to the messengers (angels) of Allah.
اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْکِ قَتَلُوا فَأَکْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَکْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَةً فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ يَلْقَ أَثَامًا وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ
محمد بن حاتم بن میمون، ابراہیم بن دینار، ابراہیم، حجاج، بن محمد، ابن جریج، یعلی بن مسلم، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت سے قتل کئے تھے اور کثرت سے زنا کا ارتکاب بھی کیا تھا، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھا ہے اگر آپ ﷺ ہمارے گناہوں کا کفارہ بتلا دیں جو ہم نے کئے ہیں تو ہم مسلمان ہوجائیں، اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس آدمی کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہاں مگر حق کے ساتھ اور وہ زنا نہیں کرتے اور جوا ی سے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا سورت الفرقان اور یہ آیت نازل ہوئی اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانون پر زیادتی کی ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas that some persons amongst the polytheist had committed a large number of murders and had excessively indulged in fornication. Then they came to Muhammad ﷺ and said: Whatever you assert and whatever you call to is indeed good. But if you inform us that there is atonement of our past deeds (then we would embrace Islam). Then it was revealed:
And those who call not unto another god along with Allah and slay not any soul which Allah has forbidden except in the cause of justice, nor commit fornication; and he who does this shall meet the requital of sin. Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced, except him who repents a believes and does good deeds. Then these! for the Allah shall change their vices into virtues. Verily Allah is Ever Forgiving, Merciful (xxv. 68-70).
Say thou: O my bondsmen woo have committed extravagance against themselves despair not of the Mercy of Allah I Verily Allah will forgive the sins altogether. He is indeed the Forgiving, the Merciful (xxxix. 53).
اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت کے زمانے میں جو نیک کام کئے کیا ان میں میرے لئے کچھ اجر ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسلام لائے ان نیکیوں پر جو تم کرچکے ہو، (یعنی ان کا بھی ثواب ملے گا) تحنث کے معنی عبادت کے ہیں یعنی گناہ سے نفرت اور غیر اللہ کی عبادت سے توبہ کرنا۔
Hakim bin Hizam reported to Urwa bin Zubair that he said to the Messenger of Allah: Do you think that there is any thing for me (of he reward with the Lord) for the deed of religious purification that I did in the state of ignorance? Upon this he (the Apostle of Allah ﷺ ) said to him: You accepted Islam with all the previous virtues that you practised.
اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ أَفِيهَا أَجْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ
حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم بن سعد، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ ان کاموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو میں نے جاہلیت کے زمانے میں ( یعنی اسلام لانے سے پہلے) مثلا صدقہ و خیرات یا غلام آزاد کرنا یا رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا کئے تھے ان کاموں میں مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی نیکی پر اسلام لائے جو تم پہلے کرچکے ہو۔
Hakim bin Hizam reported to Urwa bin Zubair that he said to the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, do you think if there is any reward (of the Lord with me on the Day of Resurrection) for the deeds of religious purification that I performed in the state of ignorance, such as charity, freeing a slave, cementing of blood-relations? Upon this he (the Apostle of Allah ﷺ ) said to him: You have accepted Islam with all the previous virtues that you had practised.
اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَائَ کُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ لَکَ مِنْ الْخَيْرِ قُلْتُ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ چند کام ایسے بھی ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں بھی کرتا تھا، راوی ہشام کہتے ہیں کہ نیک کام کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو ان نیکیوں پر اسلام لایا ہے جو تو نے اسلام لانے سے پہلے کی ہیں، میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں ان نیکیوں کو نہیں چھوڑوں گا جو میں جاہلیت کے زمانہ میں کرتا تھا اور زمانہ اسلام میں بھی اسی طرح نیک کام کرتا رہوں گا۔
It is narrate on the authority of Hakim bin Hizam: I said: Messenger of Allah, I did so some of the deeds in the state of ignorance. (One of the transmitters Hisham bin Urwa explained them as acts of piety. Upon this the Messenger, of Allah remarked: You have embraced Islam with all the previous acts of virtue. I said: By God, I would leave nothing undone in Islam the like of which I did in the state of ignorance.
اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے اسلام لانے سے قبل زمانہ جاہلیت میں سو غلاموں کو آزاد کیا اور سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے تھے اس کے بعد پھر جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو سو اونٹوں کو آزاد کیا اور مزید سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے پھر وہی حدیث بیان کی گئی جو ذکر کی گئی۔
Hisham bin Urwa narrated it on the authority of his father: Hakim bin Hizam freed one hundred slave and donated one hundred camels (for the sake of Allah) during the state of ignorance. Then he freed one hundred slaves and donated one hundred camel (for the sake of Allah) after) he had embraced Islam. He subsequently came to the Apostle ﷺ . The rest of the hadith is the same as narrated above.
سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هُوَ کَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ کَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ ا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰ ى ِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 6۔ الانعام: 82) (وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا) تو اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ پر یہ بات شاق گزری تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی اس سے گناہ نہ ہوا ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ نہیں جو تم خیال کر رہے ہو اس آیت میں ظلم کا مطلب وہ ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا نا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah (b. Masud) that when this verse was revealed:" It is those who believe and confound not their belief with wrongdoing" (vi. 82), the Companions of the Messenger of Allah ﷺ wore greatly perturbed. They said: Who amongst us (is so fortunate) that he does not wrong himself? Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: It does not mean that which you presume It implies that which Luqman said to his son: O my son, do not associate anything with Allah, for indeed it is the gravest wrongdoing (xxxi. 13).
سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ الْأَعْمَشِ ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، ابوکریب، ابن ادریس، اعمش، ابوکریب ایک دوسری سند میں یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith is narrated by another chain of transmitters, (namely) lshaq bin Ibrahim. Ibn Idris says: My father transmitted it from Aban bin Taghlib who heard it from Amash; then I heard it also from him (Amash).
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَائُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَائُ وَاللَّهُ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَکُوا عَلَی الرُّکَبِ فَقَالُوا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ کُلِّفْنَا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْکَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا کَمَا قَالَ أَهْلُ الْکِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ قَالَ نَعَمْ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ قَالَ نَعَمْ
محمد بن منہال، ضریر، امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، ابن قاسم، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں کہ اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں اگر تم ان کو ظاہر کروگے یا چھپاؤ گے اللہ تعالیٰ تم سے حساب لیں گے جسے چاہیں گے معاف فرما دیں گے اور جسے چاہیں گے عذاب دیں گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو صحابہ کرام ؓ پر یہ آیات کریمہ گراں گزریں وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یعنی دو زانو ہو کر آپ ﷺ سے عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ ہمیں ان اعمال کے کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے نماز روزہ جہاد اور صدقہ تو آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں ذکر کئے گئے احکام کی ہم طاقت نہیں رکھتے (یعنی دل میں کوئی وسوسہ نہ آنے پائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب کہہ چکے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نافرمانی کی ( اس پر عمل نہیں کریں گے) بلکہ تم اس طرح کہو کہ ہم نے آپ ﷺ کا فرمان سن لیا اور ہم نے بخوشی مان لیا۔ ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے پروردگار اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، صحابہ کرام ؓ نے کہا (سَمِعنَا وَاَطَعنَا غُفرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیکَ المَصَیِر) صحابہ کرام ؓ کے یہ کہنے کے فورا بعد ہی یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، ایمان لائے رسول اس چیز پر جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی اور مومنین بھی سارے کے سارے ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ہم اس کے تمام رسولوں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور ان سب نے یوں کہا ہم نے سن لیا آپ ﷺ کا فرمان اور ہم نے خوشی سے مان لیا ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2۔ البقرۃ: 386) منسوخ فرما کر یہ آیات نازل فرمائیں (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَه عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْ صُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) 2۔ البقرۃ: 286) سورت البقرہ کے آخری رکوع تک اللہ تعالیٰ کسی کو مکلف نہیں بناتا مگر جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ملے گا جو وہ ارادے سے کرے اور اسے سزا بھی اسی کی ملے گی جو وہ ارادے سے کرے اے ہمارے پروردگار ہمارا مواخذہ نہ فرمایا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے، اللہ نے فرمایا اچھا! اے ہمارے پروردگار اور ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم کو طاقت نہ ہو، فرمایا اچھا اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے کافروں پر ہمیں غلبہ عطا فرما، اللہ نے فرمایا اچھا۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that when it was revealed to the Messenger of Allah ﷺ : To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent" (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah ﷺ felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah ﷺ and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of Allah), charity. Then this (the above-mentioned) verse was revealed unto you and it is beyond our power to live up to it. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you intend to say what the people of two books (Jews and Christians) said before you:" We hear and disobey"? You should rather say:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return." And they said:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, Our Lord! and unto Thee is the return." When the people recited it and it smoothly flowed on their tongues, then Allah revealed immediately afterwards:" The Apostle ﷺ believes in that which is sent down unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believes in Allah and His Angels and His Books and His Apostles, saying: We differentiate not between any of His Apostles and they say: We hearken and we obey: (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return" (ii. 285). When they did that, Allah abrogated this (verse) and the Great, Majestic Allah revealed:" Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, punish us not if we forget or make a mistake." (The Prophet ﷺ said:) Yes, our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. (The Prophet ﷺ said:) Yes, our Lord, impose not on us (burdens) which we have not the strength to bear (The Prophet ﷺ said:) Yes, and pardon us and grant us protection! and have mercy on us. Thou art our Patron, so grant us victory over the disbelieving people" (ii. 286). He (the Lord) said: Yes.
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَی خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْئٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَلْقَی اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، آدم بن سلیمان، خالد، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2۔ البقرۃ: 386) ( سورت البقرہ) نازل ہوئی اور اگر تم ظاہر کرو یا چھپاؤ جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لیں گے تو صحابہ ؓ کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا ہوا کہ اس سے پہلے کسی چیز سے ان کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا نہیں ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم کہو کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے مان لیا پس اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں میں ڈال دیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ( لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ الخ۔ ) 2۔ البقرۃ: 286) کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتے ہر آدمی کو اس کے نیک اعمال پر اور برے اعمال پر سزا ملے گی اے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہمارا موخذہ نہ فرمانا اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے کردیا، اے ہمارے پروردگار ہم پر کوئی ایسا بوجھ (دنیا وآخرت میں) نہ ڈالنا جس طرح ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے کردیا، ہمیں معاف فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا میں نے کردیا۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) : When this verse:" Whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it" (ii 284), there entered in their minds something (of that fear) such as had never entered their hearts (before). The Apostle ﷺ observed: Say: We have heard and obeyed and submitted ourselves. He (the reporter) said: Allah instilled faith in their hearts and He revealed this verse:" Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, call us not to account if we forget or make a mistake. He the (Lord) said: I indeed did it. Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. He (our Lord) said: I indeed did it. And pardon us, have mercy on us. Thou art our Protector" (ii. 286). He said: I indeed did it.
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَکَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید، سعید، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں سے جو ان کے نفسوں میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ ان کا کلام نہ کریں یا جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں معاف کردیا ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Verily Allah forgave my people the evil promptings which arise within their hearts as long as they did not speak about them or did not act upon them.
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ بِهِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مسہر، عبدہ بن سلیمان، ابن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید بن ابوعروہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس و خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک کہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا کلام نہ کریں۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Verily the Great and Mighty Allah forgave my people the evil promptings arising in their minds, but they neither talked about them nor acted upon them.
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَهِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، وکیع، مسعر، ہشام، اسحاق بن منصور، حسین بن علی، زائدہ، شیبان، قتادہ ؓ سے یہ روایت بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
The same hadith has been narrated by Zuhair bin Harb, Waki, Ishaq bin Mansur, Husain bin Ali.
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَکْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاکْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا عَشْرًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ابن عیینہ، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر وہ اس پر عمل کرے تو ایک گناہ لکھو اور جب کسی نیکی کا ارادہ کرے لگے اس نیکی پر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھو اور اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو اس کی ایک نیکی کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھو۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record).
اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَکْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو میں دس گنا نیکیوں سے سات سو گنا نیکیوں تک لکھتا ہوں اور جب گناہ کا ارادہ کرے اور اس گناہ پر عمل نہ کرے تو میں اس کا گناہ نہیں لکھتا اگر وہ اس گناہ پر عمل کرلے تو میں ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Allah, the Great and Glorious, said: Whenever my bondsman intends to do good, but does not do it, I write one good act for him, but if he puts it into practice I wrote from ten to seven hundred good deeds in favour of him. When he intends to commit an evil, but does not actually do it, do not record it. But if he does it, I write only one evil.