نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 5 of 55

473Sunan Abu Dawood

مسجد میں گم شدہ چیز ڈھو نڈ نے کے لئے اعلان نہ کرے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے (اس گمشدہ چیز کو) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔

Abu Hurairah reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying; if anyone hears a man crying out in the mosque about something he has lost, he should say: May Allah not restore it to you, for the mosque were not built for this.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٨ (٥٦٨)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١١ (٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٨ (١٤٤١) (صحیح )
474Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ، ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے (مٹی) میں چھپا دو ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) reported the Prophet ﷺ as saying: Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle.

Notes · وضاحت
١ ؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آ ہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔
Takhrij · تخریج
حدیث مسلم بن إبراہیم عن ہشام وأبان تفرد بہ أبو داود، تحفة (١١٣٧، ١٣٨٣)، وحدیث مسلم بن إبراہیم عن شعبة، صحیح البخاری/الصلاة ٣٧ (٤١٥)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، مسند احمد (٣/١٧٣، ٢٣٢، ٢٧٤، ٢٧٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٥) (صحیح )
475Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو ۔

Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting in the mosque is a sin and it is expiated by burying the spittle.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٥٥٢)، سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨) (صحیح )
476Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ...، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Spitting phlegm in the mosque. . . The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٩، ٢٠٩، ٢٣٤) (صحیح )
477Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ، فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کردینا چاہیئے، اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے ۔

Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah ﷺ said: if anyone enters the mosque, and spits in it, or ejects phlegm, he should remove some earth and bury it there. If he does not do so, then he should spit in his clothes and not come out with it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨ و ٤٠٩)، ٣٥ (٤١٠ و ٤١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٨)، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٠ (٧٢٤)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٣٢٤، ٤٧١، ٥٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٨) (حسن صحیح) (مؤلف کی سند میں ابن أبی حدرد لین الحدیث ہیں جن کی متابعت حمید بن عبدالرحمن نے کی ہے اس لئے یہ حدیث حسن صحیح ہے )
478Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ.

طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن (اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے ۔

Narrated Abdullah al-Muharibi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When a man stands with the intention of saying prayer, or if any of you says prayer, he should not spit before him, nor at his right side; but he should do so at his left side, if there is a place for it; or he should spit under his left foot and then rub it off.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٤٩ (٥٧١)، سنن النسائی/المساجد ٣٣ (٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦١ (١٠٢١)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٦) (صحیح )
479Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ ﷺ نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ ﷺ نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ١ ؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) خلوق (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔

Ibn Umar reported: One day while the Messenger of Allah ﷺ was giving sermon he suddenly saw phlegm on the wall towards the qiblah (the direction to which Muslims turn in prayer) of the mosque. So he became angry at people. He then scraped it and sent for saffron and stained with it. He then said: When any one of you prays, Allah, the Exalted, faces him: he, therefore, should not spit before him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے فإن الرحمة تواجهه۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، والأذان ٩٤ (٧٥٣)، والعمل في الصلاة ٢ (١٢١٣)، والأدب ٧٥ (٦١١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٥١٨) وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد ٣٠ (٧٢٤)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ١٠ (٧٢٤)، موطا امام مالک/القبلہ ٣ (٤)، مسند احمد (٢/٣٢، ٦٦، ٨٣، ٩٦) سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٧) (صحیح )
480Sunan Abu Dawood

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ، وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ: أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، (ایک روز) آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ ﷺ نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے ۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔

Abu Saeed Al-khudri said: The Prophet ﷺ liked the twigs of the date-palm, and he often had one of them in his hand. He entered the mosque and saw phlegm in the wall towards qiblah and he scraped it. He then turned towards people in anger and said: Is any one of you is pleased to spit in his face? When any of you faces qiblah, he indeed faces his Lord, the Majestic the Glorious: the angels are at right side. Therefore, he should not spit on his right side or before him towards qiblah. He should spit towards his left side or beneath his foot. If he is in a hurry, he should do so-and-so. Describing it Ibn ‘Ajlan said: He should spit in his cloth and fold a part of it over the other.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨، ٤٠٩)، ٣٥ (٤١٠، ٤١١)، ٣٦ (٤١٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٠)، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٠ (٧٦١)، مسند احمد (٣/٦، ٢٤، ٥٨، ٨٨، ٩٣) (حسن صحیح )
481Sunan Abu Dawood(485)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ابن طاب ١ ؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟ ، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آجائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے ، پھر آپ ﷺ نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے عبير ٢ ؎ لا کر دو ، چناچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق ٣ ؎ لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر ؓ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں خلوق لگایا کرتے ہو۔

Narrated Abu Sahlah as-Saib ibn Khallad (RA) : A man led the people in prayer. He spat towards qiblah while the Messenger of Allah ﷺ was looking at him. The Messenger of Allah said to the people when he finished his prayer: He should not lead you in prayer (henceforth). Thenceforth he intended to lead them in prayer, but they forbade him and informed him of the prohibition of the Messenger of Allah ﷺ . He mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ who said to him: Yes. The narrator said: I think he (the Prophet) said: You did harm to Allah and His Messenger.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔ ٢ ؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔ ٣ ؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٤) (صحیح )
482Sunan Abu Dawood(481)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: لَا يُصَلِّي لَكُمْ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ابو سہلہ سائب بن خلاد ؓ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ ﷺ یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے ، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) ، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ۔

Abu al-Ala reported on the authority of his father: I came to the Messenger of Allah ﷺ who was saying prayer. He spat beneath his left foot.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٥٦) (حسن )
483Sunan Abu Dawood(482)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.

عبداللہ بن شخیر بن عوف ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔

Abu al-Ala reported this tradition on the authority of his father to the same effect with a different chain of narrators. This version adds: “He then rubbed it with his shoe.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد ٣٤ (٧٢٨)، مسند احمد (٤/٢٥، ٢٦) (صحیح )
484Sunan Abu Dawood(483)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ: ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ.

اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے اپنے والد عبداللہ بن الشخیر ؓ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا ۔

Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : Abu Saeed said: I saw Wathilah ibn al-Asqa in the mosque of Damascus. He spat at the mat and then rubbed it with his foot. He was asked: Why did you do so? He said: Because I saw the Messenger of Allah ﷺ doing so.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٨) (صحیح )
485Sunan Abu Dawood(484)

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ بَصَقَ عَلَى الْبُورِيِّ، ثُمَّ مَسَحَهُ بِرِجْلِهِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.

ابوسعید حمیری کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں واثلہ بن اسقع ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے بوریے پر تھوکا، پھر اپنے پاؤں سے اسے مل دیا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

Narrated Ubadah ibn as-Samit: We came to Jabir ibn Abdullah who was sitting in his mosque. He said: The Messenger of Allah ﷺ came to us in this mosque and he had a twig of date-palm of the kind of Ibn Tab. He looked and saw phlegm on the wall towards qiblah. He turned to it and scraped it with the twig. He then said: Who of you likes that Allah turns His face from him? He further said: When any of you stands for praying, Allah faces him. So he should not spit before him, nor on his right side. He should spit on his left side under his left foot. If he is in a hurry (i. e. forced to spit immediately), he should do with his cloth in this manner. He then placed the cloth on his mouth and rubbed it off. He then said: Bring perfume. A young man of the tribe stood and hurried to his house and returned with perfume in his palm. The Messenger of Allah ﷺ took it and put it at the end of the twig. He then stained the mark of phlegm with it. Jabir said: This is the reason you use perfume in your mosques.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی فَرَج ضعیف اور ابوسعید حمیری مجہول ہیں )
486Sunan Abu Dawood

مشرک مسجد میں داخل ہوسکتا ہے

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ اس وقت ان (لوگوں) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ ﷺ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) ، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) reported: A man entered the mosque on camel and made it kneel down, and then tied his leg with rope. He then asked: Who among you is Muhammad? The Messenger of Allah ﷺ was sitting leaning upon something among them. We said to him: This white (man) who is leaning. The man said: O son of Abd al-Muttalib. The Prophet ﷺ said; I already responded to you. The man (again) said: O Muhammad. I am asking you. The narrator then narrated the rest of the tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد میں داخل ہونے والا شخص مشرک تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٦ (٦٣)، سنن النسائی/الصیام ١ (٢٠٩٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٣ (١٠)، سنن الترمذی/الزکاة ٢ (٦١٩)، مسند احمد (٣/١٤٣، ١٩٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٠ (١٤٧٠) (صحیح )
487Sunan Abu Dawood

مشرک مسجد میں داخل ہوسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں ، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔

Ibn Abbas reported: Banu Saad bin Bakr sent Qamam bin Thalabah to the Messenger of Allah ﷺ . He came to him and made his camel kneel down near the gate of the mosque. He then tied its leg and entered the mosque. The narrator then reported in a similar way. He then said: Who among you is the son of Abd al-Muttalib? The Messenger of Allah ﷺ replied: I am the son of Ibn Abd al-Muttalib. He said: O son of Abd al-Muttalib. The narrator then reported the rest of the tradition.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٠، ٢٦٤، ٢٦٥) (حسن )
488Sunan Abu Dawood

مشرک مسجد میں داخل ہوسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: الْيَهُودُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کرلیا ہے ١ ؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟ ) ۔

Abu Hurairah said: The Jews came to the Prophet ﷺ and he was sitting in the mosque among his Companions. They said: O Abu al-Qasim, a man and a woman have committed adultery.

Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٧٩) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة برقم (٣٦٢٤، ٣٦٢٥)، وفی الحدود برقم (٤٤٥٠، ٤٤٥١) (ضعیف) (رجل مزینہ مجہول ہے )
489Sunan Abu Dawood

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے ساری زمین ذریعہ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The earth has been made for me purifying and as a mosque (place for prayer).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر پاک زمین تیمم کرنے اور نماز پڑھنے کے لائق بنادی گئی ہے، یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت ہے، پہلی امتوں کو اس کے لئے بڑا اہتمام کرنا پڑتا تھا، وہ صرف عبادت خانوں ہی میں نماز پڑھ سکتی تھیں، دوسری جگہوں پر نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٥، ١٤٧، ٢٤٨، ٢٥٦) (صحیح )
490Sunan Abu Dawood

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ.

ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ علی ؓ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب ﷺ نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: Abu Salih al-Ghifari reported: Ali (once) passed by Babylon during his travels. The muadhdhin (the person who calls for prayer) came to him to call for the afternoon prayer. When he passed by that place, he commanded to announce for the prayer. After finishing the prayer he said: My affectionate friend (i. e. the Prophet) prohibited me to say prayer in the graveyard. He also forbade me to offer prayer in Babylon because it is accursed.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس باب کی صحیح روایت کے معارض ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ بفرض صحت اس سے مقصود یہ ہے کہ بابل میں سکونت اختیار نہ کی جائے یا یہ ممانعت خاص علی ؓ کے لئے تھی کیونکہ آپ ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ یہاں کے لوگوں سے انہیں ضرر پہنچے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی عمار ضعیف ہیں اور ابوصالح الغفاری کا سماع علی ؓ سے ثابت نہیں )
491Sunan Abu Dawood

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ مَكَانَ فَلَمَّا بَرَزَ.

اس سند سے بھی علی ؓ سے سلیمان بن داود کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، مگر اس میں: فلما برز کے بجائے فلما خرج ہے۔

Abu Salih narrated this tradition with a different chain of transmitters to the same effect as reported by Sulaiman bin Dawud. But this version has the word KHARAJA (he went out) instead of BARAZA (proceeded).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٢٨) (ضعیف) (اس کے رواة میں الحجاج بھی ضعیف ہیں )
492Sunan Abu Dawood

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ، إِلَّا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ.

ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور موسیٰ بن اسماعیل نے اپنی روایت میں کہا: جیسا کہ عمرو کا خیال ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) : ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام (غسل خانہ) اور قبرستان کے ۔

Narrated Saeed: and the narrator Musa said: As far as Amr thinks, the Prophet ﷺ said: The whole earth is a place of prayer except public baths and graveyards.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٠ (٣١٧)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٤ (٧٤٥)، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٣، ٩٦) (صحیح )