نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 10 of 55

573Sunan Abu Dawood

نماز میں شامل ہونے کے لئے اطمینان وسکون سے جانا چاہیے دوڑنا نہیں چاہیے

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلْيَقْضِ، وَكَذَا قَالَ أَبُو رَافِعٍ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو ذَرٍّ رَوَى عَنْهُ، فَأَتِمُّوا وَاقْضُوا، وَاخْتُلِفَ عَنْهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کرلو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ ؓ سے لفظ وليقض سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے: فأتموا واقضوا روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: Come to prayer with calmness and tranquility. Then pray the part you get (long with the imam) and complete afterwards the part you miss. Abu Dawud said: Ibn Sirin narrated from Abu Hurairah the words: he should complete it afterwards. Similarly, Abu Rafi narrated from Abu Hurairah and Abu Dharr narrated from him the words then complete it, and complete it afterwards. There is a variation of words in the narration from him.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایتوں سے معلوم ہوا کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں بعد میں پڑھنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے، اور مقتدی جو رکعت پاتا ہے وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہیں، بقیہ کی وہ تکمیل کرتا ہے، فقہاء کی اصطلاح میں قضا نماز کا اطلاق وقت گزرنے کے بعد پڑھی گئی نماز پر ہوتا ہے، احادیث میں قضا و اتمام سے مراد اتمام و تکمیل ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٩٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٢، ٣٨٦) (صحیح )
574Sunan Abu Dawood

مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔

Narrated Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a person praying alone. He said: Is there any man who may do good with this (man) and pray along with him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٠ (٢٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٨ (١٤٠٨) (صحیح )
575Sunan Abu Dawood

اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ.

یزید بن الاسودخزاعی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ ، تو ان دونوں نے کہا: ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی ۔

Narrated Yazid ibn al-Aswad (RA) : Yazid prayed along with the Messenger of Allah ﷺ when he was a young boy. When he (the Prophet) had prayed there were two persons (sitting) in the corner of the mosque; they did not pray (along with the Prophet). He called for them. They were brought trembling (before him). He asked: What prevented you from praying along with us? They replied: We have already prayed in our houses. He said: Do not do so. If any of you prays in his house and finds that the imam has not prayed, he should pray along with him; and that will be a supererogatory prayer for him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٤٩ (٢١٩)، سنن النسائی/الإمامة ٥٤ (٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٠، ١٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٧ (١٤٠٧) (صحیح )
576Sunan Abu Dawood

اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًى، بِمَعْنَاهُ.

یزید بن اسود خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔

Jabir bin Yazid reported on the authority of his father: I said the morning prayer along with the prophet ﷺ at Mina. He narrated the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٢) (صحیح )
577Sunan Abu Dawood

اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ: أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ: إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ.

یزید بن عامر ؓ کہتے ہیں میں (مسجد) آیا، نبی اکرم ﷺ نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ ﷺ نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے (یزید بن عامر کو) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ ، میں نے کہا: میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہوگی اور یہ فرض ۔

Narrated Yazid ibn Amir: I came while the Prophet ﷺ was saying the prayer. I sat down and did not pray along with them. The Messenger of Allah ﷺ turned towards us and saw that Yazid was sitting there. He said: Did you not embrace Islam, Yazid? He replied: Why not, Messenger of Allah; I have embraced Islam. He said: What prevented you from saying prayer along with the people? He replied: I have already prayed in my house, and I thought that you had prayed (in congregation). He said: When you come to pray (in the mosque) and find the people praying, then you should pray along with them, though you have already prayed. This will be a supererogatory prayer for you and that will be counted as obligatory.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٣١) (ضعیف) (اس کے ایک راوی نوح بن صعصعة مجہول ہیں )
578Sunan Abu Dawood

اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ.

عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔

A man from Banu Asad bin Khuzaimah asked Abu Ayyub al-Ansari (RA) : if one of us prays in his house, then comes to the mosque and finds that the iqamah is being called, and if I pray along with them ( in congregation), I feel something inside about it. Abu Ayyub replied: We asked the Prophet ﷺ about it. He said: That is a share from the spoils received by the warriors (i. e. he will receive double the reward of the prayer).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٠١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٣(١١) (ضعیف) (اس کے راوی عفیف لین الحدیث ہیں اور رجل مبہم ہے )
579Sunan Abu Dawood

ایک مرتبہ جماعت سے نماز پڑھنے کے بعد دوسری مرتبہ جماعت میں شرکت

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ يَعْنِي مَوْلَى مَيْمُونَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں : میں بلاط میں عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا: آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Sulayman, the freed slave of Maymunah, said: I came to Ibn Umar at Bilat (a place in Madina) while the people were praying. I said: Do you not pray along with them? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Do not say a prayer twice in a day.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٥٦ (٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٩، ٤١) (حسن صحیح )
580Sunan Abu Dawood

امامت کی فضیلت

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِر، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہوگا ان (مقتدیوں) پر نہیں ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who leads the people in prayer, and he does so at the right time, will receive, as well as those who are led (in prayer) will get (the reward). He who delays (prayer) from the appointed time will be responsible (for this delay) and not those who are led in prayer.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٧ (٩٨٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦) (حسن صحیح )
581Sunan Abu Dawood

امامت کے مسلہ پر جھگڑنا نہیں چاہیئے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ.

خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر ؓ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔

Narrated Sulamah daughter of al-Hurr (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One of the signs of the Last Hour will be that people in a mosque will refuse to act as imam and will not find an imam to lead them in prayer.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١) (ضعیف) (اس کی راویہ عقیلہ اور طلحہ أم الغراب مجہول ہیں )
582Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ: مَا تَكْرِمَتُهُ ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ.

ابومسعود بدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔

Abu Masud al-Badri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The one of you who is most versed in the Books of Allah should act as imam for the people; and the one who is the earliest of them in reciting (the Quran); if they are equally versed in reciting it, then the earliest of them to emigrate (to Madina); if they emigrated at the same time, then the oldest of them. No man must lead another in prayer in his house (i. e. in the house of a latter) or where the latter has authority, or sit in his place of honor without his permission. Shubah said: I asked Ismail: what is the meaning of his place of honor? He replied: his throne.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٢ (٢٣٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣، (٧٨١)، ٦ (٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ١١٨، ١٢١، ١٢٢) (صحیح )
583Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ وَلَا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً.

اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے أقدمهم قرائة (لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو) کی روایت کی ہے۔

The version of this tradition narrated through a different chain by Shubah has the words: “A man should not lead the another man in prayer. Abu Dawud said: Yahya al-Qattan narrated from Shubah in a similar way, i. e. the earliest of them in recitation.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦) (صحیح )
584Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں فأقدمهم قرائة کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: تم کسی کے تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔

This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Masud This version has words ; “If they are equally versed in recitation, then the one who has most knowledge of the Sunnah ; if they are equal with regard to (the knowledge of) the Sunnah, then the earliest of them to emigrate (to Madina)”. He did not narrate the words; “ The earliest of them in recitation”. Abu Dawud said: Hajjaj bin Artata reported from Ismail: Do not sit in the place of honour of anyone except with his permission.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦) (صحیح )
585Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَكُنْتُ غُلَامًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ، وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ، فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ.

عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر (آباد) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کرلیا تھا، چناچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے تو آپ ﷺ نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا: تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چناچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چناچہ ایک عورت نے کہا: تم لوگ اپنے قاری (امام) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چناچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ١ ؎۔

Amr bin Salamah said ; we lived at a place where the people would pass by us when they came to the prophet ﷺ . When they returned they would again pass by us. And they used to inform us that the Messenger of Allah ﷺ said so –and-so. I was a boy with a good memory. From the ( process) I memorized a large portion of the Quran. Then my father went to the Messenger of Allah ﷺ along with a group of his clan. He (the Prophet) taught them prayer. And he said: The one of you who knows most of the Quran should act as your imam. I knew the Quran better than most of them because I had memorized it. They, therefore, put me in front of them, and I would lead them in prayer. I wore a small yellow mantle which, when I prostrated myself, went up on me, and a woman of the clan said: Cover the back side of your leader from us. So they bought an ‘Ammani shirt for me, and I have never been so pleased about anything after embracing Islam as I was about that (shirt). I used to lead them in prayer and I was only seven or eight year old.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فرض ہو یا نفل نابالغ لڑکا (جو اچھا قاری اور نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو) امام ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٣ (٤٣٠٢)، سنن النسائی/الأذان ٨ (٦٣٧)، والقبلة ١٦ (٧٦٨)، والإمامة ١١ (٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٥، ٥/٢٩، ٧١) (صحیح )
586Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوَصَّلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي.

اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ ؓ سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔

This tradition has also been transmitted through a different chain by Amr bin Salamah. This version says: “I used to lead them in prayer with a sheet of cloth on me that was patched and torn. When I prostrated myself, my buttocks were disclosed.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥) (صحیح )
587Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَؤُمُّنَا ؟ قَالَ: أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ، وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ.

عمرو بن سلمہ ؓ کے والد سلمہ بن قیس اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے جمعا للقرآن کہا، یا: أخذا للقرآن کہا، عمرو بن سلمہ ؓ کہتے ہیں: میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے عن أبيه نہیں کہا ہے۔

Amr bin Salamah reported on the authority of his father (Salamah) that they visited the Prophet ﷺ . When they intended to return, they said: Messenger of Allah, who will lead us in prayer? He said: The one of you who knows most of the Quran, or memorizes most of the Quran, (should act as your imam). There was none in the clan who knew more of the Quran than I did. They, therefore, put me in front of them and I was only a boy. And I wore a mantle, Whenever I was present in the gathering of Jarm (name of his clan), I would act as their Imam, and lead them in their funeral prayer until today. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Amr bin Salamah through a different chain of transmitter. This version has: “When my clan visited the Prophet ﷺ . . . . ” He did not report it on the authority of his father.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤٥٦٥) (صحیح) لیکن: عن أبيه کا قول غیر محفوظ ہے
588Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ. ح وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، زَادَ الْهَيْثَمُ: وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ١ ؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم ؓ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب ؓ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓ بھی موجود ہوتے۔

Ibn Umar said: when the first emigrants came (to Madina), they stayed at al-‘Asbah (a place near Madina) before the advent of the Messenger of Allah ﷺ . Salim, the client of Abu Hudhaifah, acted as their imam, as he knew the Quran better than all of them, al-Haitham (the narrator) added: and Umar bin al-Khattab and Abu Salamah bin Abd al-Asad were among them.

Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٤ (٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ٧٨٠٠، ٨٠٠٧) (صحیح )
589Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا، وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم اذان دو، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے: اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے: خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: پھر قرآن کہاں رہا؟ انہوں نے کہا: اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔

Malik bin al-Huwairith said that the Prophet ﷺ told him or some of his companions: When the time of prayer comes, call the Adhan, then call the iqamah, then the one who is oldest of you should act as your imam. The version narrated by Maslamah goes: He said: On that day we were almost equal in knowledge. The version narrated by Ismail says: Khalid said: I said to Abu Qilabah: where is the Quran (i. e. why did the Prophet ﷺ not say: The one who knows the Quran most should act as imam)? He replied: Both of them were equal in the knowledge of the Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨)، ٣٥ (٦٥٨)، ٤٩ (٦٨٥)، ١٤٠ (٨١٩)، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨)، والأدب ٢٧ (٦٠٠٨)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦)، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥)، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥)، ٨ (٦٣٦)، ٢٩ (٦٧٠)، والإمامة ٤ (٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )
590Sunan Abu Dawood

امامت کا مستحق کون ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Let the best among you call the adhan for you, and the Quran-readers act as your imams.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی حسین حنفی ضعیف ہیں )
591Sunan Abu Dawood

عورتوں کی امامت کا مسئلہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً، قَالَ: قَرِّي فِي بَيْتِكِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَرْزُقُكِ الشَّهَادَةَ، قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَهَا وَجَارِيَةً، فَقَامَا إِلَيْهَا بِاللَّيْلِ فَغَمَّاهَا بِقَطِيفَةٍ لَهَا حَتَّى مَاتَتْ وَذَهَبَا، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَقَامَ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَيْنِ عِلْمٌ أَوْ مَنْ رَآهُمَا فَلْيَجِئْ بِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.

ام ورقہ بنت عبداللہ بن نوفل انصاریہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب غزوہ بدر میں جانے لگے تو میں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! اپنے ساتھ مجھے بھی جہاد میں چلنے کی اجازت دیجئیے، میں آپ کے بیماروں کی خدمت کروں گی، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں: چناچہ انہیں شہیدہ کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: ام ورقہ ؓ نے قرآن پڑھ رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی، اپنے ایک غلام اور ایک لونڈی کو اپنے مرجانے کے بعد آزاد کردینے کی وصیت کردی تھی، چناچہ وہ دونوں (یعنی غلام اور لونڈی) رات کو ام ورقہ ؓ کے پاس گئے اور انہی کی ایک چادر سے ان کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئیں اور وہ دونوں بھاگ نکلے، صبح ہوئی تو عمر ؓ لوگوں میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ان دونوں کے متعلق جس کو بھی کچھ معلوم ہو، یا جس نے بھی ان دونوں کو دیکھا ہو وہ انہیں پکڑ کر لائے، (چنانچہ وہ پکڑ کر لائے گئے) تو آپ نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں سولی دے دی گئی، یہی دونوں تھے جنہیں مدینہ منورہ میں سب سے پہلے سولی دی گئی۔

Narrated Umm Waraqah daughter of Nawfal (RA) : When the Prophet ﷺ proceeded for the Battle of Badr, I said to him: Messenger of Allah allow me to accompany you in the battle. I shall act as a nurse for patients. It is possible that Allah might bestow martyrdom upon me. He said: Stay at your home. Allah, the Almighty, will bestow martyrdom upon you. The narrator said: Hence she was called martyr. She read the Quran. She sought permission from the Prophet ﷺ to have a muadhdhin in her house. He, therefore, permitted her (to do so). She announced that her slave and slave-girl would be free after her death. One night they went to her and strangled her with a sheet of cloth until she died, and they ran away. Next day Umar announced among the people, Anyone who has knowledge about them, or has seen them, should bring them (to him). Umar (after their arrest) ordered (to crucify them) and they were crucified. This was the first crucifixion at Madina.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٥) (حسن) (اس کے دو راوی ولید کی دادی اور عبدالرحمن بن خلاد دونوں مجہول ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لئے تقویت کا باعث ہیں، ابن خزیمہ نے حدیث کو صحیح کہا ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٣ ؍ ١٤٢)
592Sunan Abu Dawood

عورتوں کی امامت کا مسئلہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي بَيْتِهَا، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا.

اس سند سے بھی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث ؓ سے یہی حدیث مروی ہے، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے، اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام ورقہ سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے، آپ ﷺ نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کردیا تھا، جو اذان دیتا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے تھے۔

This tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Umm Waraqah daughter of Abdullah bin al-Harith. The first version is complete. This version goes: The Messenger of Allah ﷺ used to visit her at her house. He appointed a Muadhdhin to call adhan for her; and he commanded her to lead the inmates of her house in prayer. Abdur-Rahman said: I saw her Muadhdhin who was an old man.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٤) (حسن) (ملاحظہ ہو حدیث سابق )