عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: تین آدمیوں کی نماز اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک تو وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے، پیچھے آنا یہ ہے کہ جماعت فوت ہوجانے یا وقت گزر جانے کے بعد آئے، اور تیسرا وہ شخص جو اپنے آزاد کئے ہوئے شخص کو دوبارہ غلام بنا لے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: There are three types of people whose prayer is not accepted by Allah: One who goes in front of people when they do not like him; a man who comes dibaran, which means that he comes to it too late; and a man who takes into slavery an emancipated male or female slave.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٣ (٩٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٣) (ضعیف) (اس کے دو راوی عبدالرحمن افریقی اور عمران ضعیف ہیں، مگر اس کا پہلا جزء شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The obligatory prayer is essential behind every Muslim, pious or impious, even if he has committed a sins.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٩) (ضعیف) (علاء بن حارث مختلط ہوگئے تھے اور مکحول کی ابوہریرہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں )
بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث ؓ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، (ایک بار) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ١ ؎۔
Abu Atiyyah, a freed slave of us, said: Malik bin al-Huwairith came to this place of prayer of ours, and the iqamah for prayer was called. We said to him: Come forward and lead the prayer. He said to us: Put one of your own men forward to lead you in prayer. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone visits people, he should not lead them in prayer, but some person of them should lead the prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر خوشی و رضا مندی سے لوگ زائر کو امام بنانا چاہیں اور وہ امامت کا مستحق بھی ہو تو اس کا امام بننا جائز ہے، کیونکہ ابومسعود کی ایک روایت میں إلا بإذنه کا اضافہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤٨ (٣٥٦)، سنن النسائی/الإمامة ٩ (٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦)، (صحیح) (مالک بن حویرث کے قصہ کے بغیر حدیث صحیح ہے )
ہمام کہتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے مدائن (کوفہ کے پاس ایک شہر ہے) میں ایک چبوترہ (اونچی جگہ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی (اور لوگ نیچے تھے) ، ابومسعود ؓ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں (نیچے) گھسیٹ لیا، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا، حذیفہ نے کہا: ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا۔
Hammam said: Hudhaifah led the people in prayer in al-Mada’in standing on the shop (or a bench). Abu Masud took him by his shirt, and brought him down. When he ( Abu Masud) finished his prayer, he said: Do you not know that they (the people) were prohibited to do so. He said: Yes, I remembered when you pulled me down.
عدی بن ثابت انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمار بن یاسر ؓ کے ساتھ مدائن میں تھا کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو عمار آگے بڑھے اور ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے لگے اور لوگ ان سے نیچے تھے، یہ دیکھ کر حذیفہ ؓ آگے بڑھے اور عمار بن یاسر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے لانے لگے، عمار بن یاسر بھی پیچھے ہٹتے گئے یہاں تک کہ حذیفہ نے انہیں نیچے اتار دیا، جب عمار اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو حذیفہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرے تو ان سے اونچی جگہ پر کھڑا نہ ہو؟ عمار ؓ نے کہا: اسی لیے جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں آپ کے ساتھ پیچھے ہٹتا چلا گیا۔
Adi bin Thabit al-Ansari said; A man related to me that (once) he was in the company of Ammar bin yasir in al-Mada’in (a city near Ku’fah). The IQAMAH was called for prayer: Ammar came forward and stood on a shop (or a beach) and prayed while the people stood on a lower place than he. Hudaifah came forward and took him by the hands and Ammar followed him till Hudaifah brought him down. When Ammar finished his prayer. Hudaifah said to him: Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: When a man leads the people in prayer, he must not stand in a position higher than theirs, or words to that effect? Ammar replied: that is why I followed you when you took me by the hand.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٦) (حسن) (اس کا جتنا حصہ پچھلی حدیث کے موافق ہے اتنا اس سے تقویت پاکر درجہ حسن تک پہنچ جاتا ہے باقی باتیں سند میں ایک مجہول راوی (رجل) کے سبب ضعیف ہیں اس میں امام عمار ؓ کو اور کھینچنے والا حذیفہ ؓ کو بنادیا ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ١ ؎۔
Jabir bin Abdullah said: Muadh bin Jabal would pray along with the Messenger of Allah ﷺ in the night prayer, then go and lead his people and lead them in the same prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست اور صحیح ہے کیونکہ معاذ ؓ فرض نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے، اور واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، معاذ ؓ کی دوسری نماز نفل ہوتی اور مقتدیوں کی فرض ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٦٠ (٧٠٠)، والأدب ٧٤ (٦١٠٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣٩ (٨٣٢)، ٤١ (٨٣٦)، والافتتاح ٦٣ (٩٨٥)، ٧٠ (٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٦)، مسند احمد (٣/ ٢٩٩، ٣٠٨، ٣٦٩)، سنن الدارمی/ الصلاة ٦٥ (١٣٣٣)، ویأتي برقم: (٧٩٠) (حسن صحیح) (مؤلف کی سند سے حسن صحیح ہے ورنہ صحیح ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گرگئے، آپ ﷺ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) said; The Messenger of Allah ﷺ rode a horse and was thrown off it and his right was grazed. He then prayed one of the prayers sitting and we prayed one of the prayers sitting, and when he finished he said: the Imam is appointed only to be followed ; so when he prays standing, pray standing, and when he bows, bow; when he raises himself, raise yourselves; when he says “Allah listen to him who praises Him”, “Our Lord! to Thee be the praise”: and when he prays sitting all of you pray sitting.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں وہ جمہور علماء کے نزدیک منسوخ ہیں کیونکہ مرض الموت میں نبی اکرم ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، والأذان ٥١ (٦٨٩)، ٨٢ (٧٣٢)، ١٢٨ (٨٠٥)، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن النسائی/امامة ١٦ (٧٩٥)، ٤٠ (٨٣٣)، والتطبیق ٢٢ (١٠٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٥٥ (٣٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٣٨)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٥ (١٦)، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٤ (١٢٩١) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ایک کھجور کے درخت کی جڑ پر گرا دیا، جس سے آپ ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی، ہم لوگ آپ کی عیادت کے لیے آئے، اس وقت ہمیں آپ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے کمرے میں بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے ملے، ہم لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ ہمارے بارے میں خاموش رہے (ہمیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا) ۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ ﷺ کی عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی، ہم لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو، اور جب امام کھڑے ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور اس طرح نہ کرو جس طرح فارس کے لوگ اپنے سر کردہ لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ rode a horse in Madina. It threw him off at the root of a date-palm. His foot was injured. We visited him to inquire about his illness. We found him praying sitting in the apartment of Aisha (RA) . We, therefore, stood, (praying) behind him. He kept silent. We again visited him to inquire about his illness. He offered the obligatory prayer sitting. We, therefore, stood (praying) behind him; he made a sign to us and we sat down. When he finished the prayer, he said: When the imam prays sitting, pray sitting; and when the imam prays standing, pray standing, and do not act as the people of Persia used to act with their chiefs (i. e. the people stood and they were sitting).
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل فارس و روم اپنے امراء و سلاطین کے سامنے بیٹھتے نہیں، کھڑے رہتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٤٠)، الطب ٢١ (٣٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣١٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠٧ (١٢٠١)، مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام الله أكبر کہے تو تم بھی الله أكبر کہو، تم اس وقت تک الله أكبر نہ کہو جب تک کہ امام الله أكبر نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو (مسلم کی روایت میں ولک الحمد واو کے ساتھ ہے) ، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اللهم ربنا لک الحمد کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The imam is appointed only to be followed; when he says Allah is most great, say Allah is most great and do not say Allah is most great until he says Allah is most great. When he bows; bow; and do not bow until he bows. And when he says Allah listens to him who praise Him, say O Allah, our Lord, to Thee be the praise. The version recorded by Muslim goes: And to Thee be the praise: And when he prostrate; and do not prostrate until he prostrates. When he prays standing, pray standing, and when he prays sitting, all of you pray sitting. Abu Dawud said: The words O Allah, our Lord, to You be the praise reported by Sulaiman were explained to me by some of our companions.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب میں نے یہ حدیث سلیمان بن حرب سے سنی تو اللهم ربنا لک الحمد کے الفاظ میری سمجھ میں نہیں آئے تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ سلیمان نے: اللهم ربنا لک الحمد کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٢٨٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٢٠ (٤١٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٠ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٦)، ١٤٤ (١٢٣٨)، مسند احمد (٢/٣٧٦، ٤٢٠) (صحیح )
اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے إنما جعل الإمام ليؤتم به والی یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے وإذا قرأ فأنصتوا جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وإذا قرأ فأنصتوا کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The imam is appointed only to be followed. This version adds: When he recites (the Quran), keep silent. Abu Dawud said: The addition of the words When he recites, keep silent in this version are not guarded. The misunderstanding, according to us, is on the part of Abu Khalid (a narrator).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠(٩٢٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اسی لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
Aishah said; The Messenger of Allah ﷺ prayed in his house sitting and the people prayed behind him standing. He made a sign to them (asking them) to sit down. When he finished the prayer, he said: The IMAM is appointed only to be followed; so when he prays standing. Pray standing ; and when he raises himself, raise yourself: and when he prays sitting. Pray sitting.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥١ (٦٨٨)، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٣)، ٢٠ (١١١٩)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٢)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٤٤ (١٢٣٧)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٥ (١٧)، مسند احمد (٦/١١٤، ١٦٩) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر ؓ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Jabir said: when the prophet ﷺ became seriously ill, we prayed behind him while he was sitting and Abu Bakr was calling “Allah is most great “ to cause the people to hear the TAKBIR. Then he (the narrators) narrated the rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٢١٣)، سنن النسائی/الإفتتاح ٢٠٧ (١٢٠١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٥ (١٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
اسید بن حضیر ؓ کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔
Husain reported on the authority of the children of Saad bin Muadh that Usaid bin Hudair used to act as their Imam. (when he fell ill) the Messenger of Allah ﷺ came to him inquiring about his illness. They said: Messenger of Allah, our Imam is ill. He said: When he prays sitting, pray sitting. Abu Dawud said: The chain of this tradition is not continuous (muttasil)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٢) (صحیح) (سابقہ حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث معنیً صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں انقطاع ہے، حصین کی اسید بن حضیر ؓ سے لقاء ثابت نہیں ہے )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام ؓ کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں ، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم (انس کی والدہ) اور ام حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس ؓ نے کہا کہ مجھے آپ ﷺ نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔
Anas said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon Umm Haram. The people (in her house) brought some cooking oil dates to him. He said; Put it (dates) back in its container and return it (cooking oil) to its bag, because I am keeping fast. He then stood and led us in prayer two Rak’ahs of supererogatory prayer. Then Umm Sulaim and Umm Haram stood behind us (i. e., the men). Thabit (the narrator) said: I understand that Anas said; he (the prophet) made me stand on his right side.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٧٨ (٧٢٧)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (١٤٩٩)، سنن النسائی/الإمامة ٢٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٥)، مسند احمد (٣/١٦٠، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٣٩، ٢٤٢، ٢٤٨) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اور ان کے گھر کی ایک عورت کی امامت کی تو آپ ﷺ نے انہیں (یعنی انس ؓ کو) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔
Anas said: The Messenger of Allah ﷺ led him and one of their women in prayer. He (the prophet) put him on his right side and the woman behind him (Anas)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٤ (٩٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٤، ٢٥٨، ٢٦١) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ ﷺ رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ ﷺ نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کرلیا، پھر میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔
Abdullah bin Abbas said: when I was spending a night in the house of my maternal aunt Maimunah, the Messenger of Allah ﷺ got up at night, opened the mouth of the water skin and performed ablution. He then closed the mouth of the water-skin and stood for prayer. Then I got up and performed ablution as he did ; then I came and stood on his left side. He took my hand, turned me round behind his back and set me on his right side; and I prayed along with him.
اس سند سے ابن عباس ؓ سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔
Another version of this tradition transmitted through a different chain of narrators by Ibn Abbas says: “He took my head or the hair of my head and made me stand on his right side”.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٧١ (٥٩١٩)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٨٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: تم لوگ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں ۔ انس ؓ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہوگئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس ہوئے۔
Anas bin Malik (RA) said that his grandmother Mulaikah the Messenger of Allah ﷺ to take meals which the prepared for him. He took some of it and prayed. He said: Get up, I shall lead you in prayer. Anas said: I got up and took a mat which had become black on account of long use. I then washed it with water. The Messenger of Allah ﷺ stood upon it. I and the orphan (Ibn Abi Dumairah, the freed slave of the prophet) stood in a row behind him. The old women stood behind us. He then led us two RAKAHs in prayer and went away.