Sunan Abu Dawood 599

نماز کا بیان

599Sunan Abu Dawood

نماز پڑھنے کے بعد پھر اسی نماز کی امامت کرنا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے پھر اپنی قوم میں آتے اور وہی نماز انہیں پڑھاتے ١ ؎۔

Jabir bin Abdullah said: Muadh bin Jabal would pray along with the Messenger of Allah ﷺ in the night prayer, then go and lead his people and lead them in the same prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست اور صحیح ہے کیونکہ معاذ ؓ فرض نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھتے تھے، اور واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، معاذ ؓ کی دوسری نماز نفل ہوتی اور مقتدیوں کی فرض ہوتی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٦٠ (٧٠٠)، والأدب ٧٤ (٦١٠٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٦ (٤٦٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣٩ (٨٣٢)، ٤١ (٨٣٦)، والافتتاح ٦٣ (٩٨٥)، ٧٠ (٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٦)، مسند احمد (٣/ ٢٩٩، ٣٠٨، ٣٦٩)، سنن الدارمی/ الصلاة ٦٥ (١٣٣٣)، ویأتي برقم: (٧٩٠) (حسن صحیح) (مؤلف کی سند سے حسن صحیح ہے ورنہ صحیح ہے )