امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی کیا کریں؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.
اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے إنما جعل الإمام ليؤتم به والی یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے وإذا قرأ فأنصتوا جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وإذا قرأ فأنصتوا کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The imam is appointed only to be followed. This version adds: When he recites (the Quran), keep silent. Abu Dawud said: The addition of the words When he recites, keep silent in this version are not guarded. The misunderstanding, according to us, is on the part of Abu Khalid (a narrator).