مقتد یوں کی ناراضگی کی صورت میں امامت درست نہیں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا بد اگرچہ وہ کبائر کا مرتکب ہو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The obligatory prayer is essential behind every Muslim, pious or impious, even if he has committed a sins.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٩) (ضعیف) (علاء بن حارث مختلط ہوگئے تھے اور مکحول کی ابوہریرہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں )