نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 12 of 55

613Sunan Abu Dawood

جب تین آدمی جماعت کریں تو کیسے کھڑے ہوں؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.

اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Alqamah and al-Aswad sought permission from Abdullah (ibn Masud) for admission, and we remained sitting at his door for a long time. A slave-girl came out and gave them permission (to enter). He (Ibn Masud) then got up and prayed (standing) between me (al-Aswad) and him (Alqamah). He then said: I witnessed the Messenger of Allah ﷺ doing similarly.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب تین آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود، حدیث مذکور)۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٢٧ (٧٢٠)، والإمامة ١٨ (٨٠٠)، والتطبیق ١ (١٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٥ (١١٩١)، مسند احمد (١/٤٢٤، ٤٥١، ٤٥٥، ٤٥٩) (صحیح )
614Sunan Abu Dawood

سلام پھیرنے کے بعد امام قبلہ سے رخ پھیر لے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ.

یزید بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔

Narrated Yazid ibn al-Aswad (RA) : Jabir ibn Yazid ibn al-Aswad reported on the authority of his father: I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ . When he finished the prayer, he would turn (his face from the direction of the Kabah).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥١ (٢١٩)، الإمامة ٥٤ (٨٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (صحیح )
615Sunan Abu Dawood

سلام پھیرنے کے بعد امام قبلہ سے رخ پھیر لے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ ﷺ (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کرلیں ١ ؎۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: When we would pray behind the Messenger of Allah ﷺ , we liked to be on his right side. He (the Prophet) would sit turning his face towards us (and back towards the Kabah) ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ ﷺ بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٨ (٧٠٩)، سنن النسائی/الإمامة ٣٤ (٨٢٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩)، وقد أخرجہ: (٤/٢٩٠، ٣٠٤) (صحیح )
616Sunan Abu Dawood

امام اپنے مصلے سے ہٹ کر نوافل پڑھے

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصَلّيِ الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكْ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس جگہ پر (نفل) نماز نہ پڑھے جہاں اس نے (فرض) نماز پڑھی ہے، جب تک کہ وہاں سے ہٹ نہ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء خراسانی کی مغیرہ بن شعبہ ؓ سے ملاقات نہیں ہے۔

Narrated Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: The Imam should not pray at the place where he led the prayer until he removes (from there). Abu Dawud said: Ata al-Khurasani did not see Mughirah bin Shubah (This tradition is, therefore munqati, i. e. a link is missing in the chain).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٣ (١٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٧) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: عطاء خراسانی اور مغیرہ بن شعبہ ؓ کے درمیان انقطاع، اور عبدالعزیز قرشی مجہول ہیں )
617Sunan Abu Dawood

آخری رکعت کے سجدہ کے بعد حدث پیش آجانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام نماز پوری کرلے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی، سب کی نماز پوری ہوگئ ی ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: When the Imam completes the prayer and sits (for reciting tashahhud), and then becomes defiled (i. e. his ablution becomes void) before he speaks (to someone), his prayer becomes complete. And those who prayed behind him also complete the prayer.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٨ (٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے )
618Sunan Abu Dawood

نماز کی تحریم و تحلیل کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم ہے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: The key of prayer is purification; takbir (saying Allah is most great) makes (all acts which break prayer) unlawful and taslim (uttering the salutation) makes (all such acts) lawful.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی نماز کے منافی سارے کام حرام ہوجاتے ہیں، اور سلام پھیرنے کے ساتھ ہی وہ سارے کام جائز ہوجاتے ہیں جو نماز میں ناجائز ہوگئے تھے، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی نماز پوری ہوگی نہ کہ کسی اور چیز سے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٣ (٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣ (٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٢١ (٧١٣) (حسن صحیح )
619Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ سے پہلے نہ رکوع کرو اور نہ سجدہ، کیونکہ میں تم سے جس قدر پہلے رکوع میں جاؤں گا اتنا تم مجھے پالو گے، جب میں تم سے پہلے سر اٹھاؤں گا ١ ؎ کیونکہ میں موٹا ہوگیا ہوں ۔

Narrated Muawiyah ibn Abu Sufyan (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not try to outstrip me in bowing and prostrating because however earlier I bow you will join me when I raise (my head from bowing); I have become bulky.

Notes · وضاحت
وضاحت: یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہوجائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤١ (٩٦٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٢٦)، وقد أخرجہ: حم (٤/٩٢، ٩٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٢ (٧٨٢) (حسن صحیح )
620Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا.

براء ؓ کا بیان ہے (اور وہ جھوٹے نہ تھے) کہ لوگ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے، پھر جب وہ آپ ﷺ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔

Al-Bara who is not a liar said; when they (the companions) raised their heads from bowing along with the Messenger of Allah ﷺ , they would stand up, and when they saw him that he went down in prostration, they would prostrate (following the prophet).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٢ (٦٩٠)، ٩١ (٧٤٧)، ١٣٣ (٨١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٨١)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣٠)، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٣٠٠، ٣٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢) (صحیح )
621Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ،عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ.

براء ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا۔

Al-Bara bin Azib said ; we used to pray along with the prophet ﷺ ; none of us bowed his back until he saw that the prophet ﷺ bowed (his back).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤) (صحیح )
622Sunan Abu Dawood

مقتدی کو امام کی پوری پوری اطاعت کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

براء بن عازب ؓ کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ ﷺ سمع الله لمن حمده کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔

Al-Bara (bin Azib)said; They (the Companions) used to pray along with the Messenger of Allah ﷺ . When he bowed, they bowed; and when he said, “Allah listens to him who praises him”, they remained standing until they saw that he placed his placed his forehead on the ground: then they would follow him ﷺ

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣) (صحیح )
623Sunan Abu Dawood

جو شخص امام سے پہلے سجدہ سے سر اٹھائے یا رکھے

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا يَخْشَى أَوْ أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے وہ شخص جو اپنا سر اٹھاتا ہے جب کہ امام سجدے میں ہو، کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر یا اس کی صورت گدھے کی بنا دے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے أما يخشى فرمایا، یا ألا يخشى۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Does he who raises his head while the Imam is prostrating not fear that Allah may change his head into a donkey’s or his face into a donkey’s face.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٣ (٦٩١)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٥ (٤٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٨٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٢ (٥٨٢)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٢٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤١ (٩٦١)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٢٧١، ٤٢٥، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٩، ٤٧٢، ٥٠٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٢ (١٣٥٥) (صحیح )
624Sunan Abu Dawood

امام سے پہلے اٹھ کر چلے جانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں (یعنی مسلمانوں کو) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا۔

Anas said: The prophet ﷺ persuaded them to say prayer in congregation and prohibited them to leave before he goes away from the prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٨١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٢٥ (٤٢٧)، سنن النسائی/السھو ١٠٢ (١٣٦٤)، مسند احمد (٣/١٠٢، ١٢٦، ١٥٤، ٢٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٢ (١٣٥٦) (صحیح )
625Sunan Abu Dawood

کتنے کپڑوں میں نماز درست ہے؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔

Abu Hurairah said; The Messenger of Allah ﷺ was asked shout the validity of prayer in a single garment. The prophet ﷺ said: Does every one of you has two garment?

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٥)، سنن النسائی/القبلہ ١٤ (٧٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٩ (١٠٤٧)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٩ (٣٠)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٢٣٩، ٢٨٥، ٣٤٥، ٤٩٥، ٤٩٨، ٤٩٩، ٥٠١)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٩ (١٤١٠) (صحیح )
626Sunan Abu Dawood

کتنے کپڑوں میں نماز درست ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you should pray in a single garment of which no part comes over the shoulders.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٦)، سنن النسائی/القبلة ١٨ (٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥ (٣٥٩)، مسند احمد (٢/٢٤٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٩ (١٤١١) (صحیح )
627Sunan Abu Dawood

کتنے کپڑوں میں نماز درست ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، الْمَعْنَى عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ، فَلْيُخَالِفْ بِطَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: if anyone prays in a single piece of cloth, he should cross the two ends.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥ (٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٥، ٢٦٦، ٤٢٧، ٥٢٠) (صحیح )
628Sunan Abu Dawood

کتنے کپڑوں میں نماز درست ہے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ.

عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر تھا۔

Umar bin Abu Salamah said: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying girded with a single (piece of) cloth, place its two ends over his shoulders.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٢ (٣٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٥)، سنن النسائی/القبلة ١٤(٧٦٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٩ (١٠٤٩)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٩ (٢٩)، مسند احمد (٤/ ٢٦، ٢٧) (صحیح )
629Sunan Abu Dawood

کتنے کپڑوں میں نماز درست ہے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ: فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ طَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ فَاشْتَمَلَ بِهِمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟.

طلق ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنا تہبند کھولا، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کرلیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟ ۔

Narrated Talq ibn Ali al-Hanafi (RA) : We came to the Prophet ﷺ , and a man came and said: Prophet of Allah, what do you say if one prays in a single garment? The Messenger of Allah ﷺ then took off his wrapper and combined it with his sheet, and put it on them. He got up and the Prophet of Allah ﷺ led us in prayer. When he finished the prayer, he said: Does every one of you have two garments?

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢) (صحیح )
630Sunan Abu Dawood

کپڑے کو گردن کے ارد گرد لپیٹ کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔

Sahl bin Saad said: I saw the people tying their wrappers over their necks like children due to the narrowness of the wrappers behind the Messenger of Allah ﷺ during prayer. Someone said: Body of women, do not raise your heads until the men raise (their heads).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦ (٣٦٢)، والأذان ١٣٦ (٨١٤)، والعمل في الصلاة ١٤ (١٢١٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٩ (٤٤١)، سنن النسائی/القبلة ١٦ (٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٣١) (صحیح )
631Sunan Abu Dawood

ایسے کپڑے پر نماز پڑھنا جس کا ایک حصہ کوئی دوسرا اوڑھے ہوئے ہو

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔

Aishah said; the prophet ﷺ prayed in a single (piece of) cloth whose one part was upon me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٧١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٤)، سنن النسائی/القبلة ١٧ (٧٦٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣١ (٦٥٢)، مسند احمد (٦/٢٠٤) (صحیح )
632Sunan Abu Dawood

صرف ایک کرتہ پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ، أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کرتے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی ۔

Narrated Salamah ibn al-Akwa (RA) : I said: Messenger of Allah, I am a man who goes out hunting; may I pray in a single shirt? He replied: Yes, but fasten it even if it should be with a thorn.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ١٥ (٧٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٩، ٥٤) (حسن )