نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 13 of 55

633Sunan Abu Dawood

صرف ایک کرتہ پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ: أَبُو حَرْمَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ.

عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ ؓ نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎۔

Abdur-Rahman bin Abu Bakr reported on the authority of his father Jabir bin Abdullah led us in prayer in a single shirt, having no sheet upon him. When he finished the prayer he said: I witnesses the Messenger of Allah ﷺ praying in a shirt.

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیحین میں ” ایک قمیص یا کرتا “ کی جگہ ” ایک کپڑا “ یا ” ایک تہبند “ کا لفظ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٩)، وقد أخرجہ: وقد ورد بلفظ: ” ثوب واحد “ عند: صحیح البخاری/الصلاة ٣ (٣٥٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٨)، مسند احمد (٣/٢٩٣، ٢٩٤) (ضعیف) (عبدالرحمن بن أبی بکر ملی کی ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیحین میں ” ایک کپڑا “ کے لفظ سے موجود ہے )
634Sunan Abu Dawood

چھو ٹے کپڑے میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ.

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا (رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ) آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ ﷺ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کرلیا۔ پھر ابن صخر ؓ آئے، وہ آپ ﷺ کی بائیں طرف کھڑے ہوگئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کردیا، مجھے آپ ﷺ کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا (کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں) ، پھر بات میری سمجھ میں آگئی، آپ ﷺ نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جابر!، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو ۔

Ubadah bin al-Samit said: we came to Jabir bin Abdullah. He said: I (Jabir) accompanied the Messenger of Allah ﷺ in a battle. He got up to pray. I had a sheet of cloth upon me, and I began to cross both the ends, but they did not reach (my shoulders). It had fringes which I turned over and crossed the two ends, and bowed down retaining it with my neck lest it should fall down. Then I came and stood on the left side of the Messenger of Allah ﷺ . He then took and brought me around him and set me on his right side. Then Ibn Sakhr came and stood on his left side. he then took us with his both hands and made us stand behind him. The Messenger of Allah ﷺ began to look at me furtive glances, but I could not understand. When I understood, he hinted at me tie the wrapper. When the Messenger of Allah ﷺ finished the prayer, he said (to me): O Jabir. I said; Yes, Messenger of Allah. He said; if it (the sheet) is wide, cross both its ends (over the shoulders); if it is tight, tie it over your loins.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (١٧٨٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٤ (٩٧٣)، مسند احمد (٣/٣٥١) (صحیح )
635Sunan Abu Dawood(637)

نماز میں اسبال (کپڑالٹکا نے) کا بیان

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فِي صَلَاتِهِ خُيَلَاءَ، فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا جَمَاعَةٌ، عَنْ عَاصِمٍ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص نماز میں غرور و تکبر کی وجہ سے اپنا تہہ بند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا تو اللہ تعالیٰ نہ اس کے لیے جنت حلال کرے گا، نہ اس پر دوزخ حرام کرے گا ؛ یا نہ اس کے گناہ بخشے گا اور نہ اسے برے کاموں سے بچائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے عاصم کے واسطے سے ابن مسعود ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہیں میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابوالاحوص اور ابومعاویہ ہیں۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying, or reported Umar as saying (the narrator is doubtful): if one of you has two (piece of) cloth, he should pray in them; if he has a single (piece of) cloth, he should use it as a wrapper, and should not hang it upon the shoulder like the Jews.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٩) (صحیح )
636Sunan Abu Dawood(638)

نماز میں اسبال (کپڑالٹکا نے) کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو ، چناچہ وہ گیا اور اس نے (دوبارہ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو ، چناچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Messenger of Allah ﷺ prohibited us to pray in a sheet of cloth without crossing both its ends, and he also prohibited us to pray in a wrapper without putting on a sheet.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وأعاده في اللباس (رقم: ٤٠٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤١) (ضعیف) (اس کے راوی ابوجعفر مؤذن لین الحدیث ہیں )
637Sunan Abu Dawood(635)

کپڑا چھوٹا ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھنا چاہئیے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا عمر ؓ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who lets his garment trail during prayer out of pride, Allah, the Almighty, has nothing to do with pardoning him and protecting him from Hell.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس طرح نہ اوڑھے کہ اس کے دونوں کنارے دونوں طرف لٹکے ہوئے ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٥٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٨) (صحیح )
638Sunan Abu Dawood(636)

کپڑا چھوٹا ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھنا چاہئیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے لحاف میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جاسکے، اور دوسری بات جس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔

Abu Hurairah said: while a man was praying letting his lower garment trail, the Messenger of Allah ﷺ said to him: Go and perform ablution. He, therefore, went and performed ablution and then returned. He (the prophet) again said: Go and perform ablution. He again went, performed ablution and returned. A man said to him (the prophet): Messenger of Allah, why did you order him to perform ablution? He said: he was praying with lower garment trailing, and does not accept the prayer of a man who lets his lower garment trail.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٨٧) (حسن )
639Sunan Abu Dawood

عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَتْ: تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا.

ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپالے۔

Zaid bin Qunfudh said that his mother asked Umm Salamah (RA) : In how many clothes should a woman pray? She replied; she would pray wearing a veil and a long shirt which covers the surface of her feet.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ١٠(٣٦) (ضعیف موقوف) (محمد بن زید بن قنفذ کی ماں أم حرام مجہول ہیں )
640Sunan Abu Dawood

عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (پڑھ سکتی ہے) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ ؓ پر ہی اسے موقوف کردیا ہے۔

Umm Salamah said that she asked the prophet ﷺ ; Can a woman pray in a shirt and veil without wearing a lower garment? He replied: if the shirt is ample and covers the surface of her feet. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Malik bin Anas, Bakr bin Mudar, Hafs bin Ghiyaht, Ismail bin Jafar, Ibn Abu Dhib, and Ibn Ishaq from Muhammad bin Zaid on the authority of his mother who narrated from Umm Salamah. None of these narrators mention the name of the Prophet ﷺ . They reported it directly from Umm Salamah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩١) (ضعیف) (مذکورہ سبب سے یہ مرفوع حدیث بھی ضعیف ہے )
641Sunan Abu Dawood

دوپٹہ کے بغیر عورت کی نماز درست نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah does not accept the prayer of a woman who has reached puberty unless she wears a veil. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Sa;id bin Abi Arubah from Qatadah on the authority of al-Hasan from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٦٠ (٣٧٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٢ (٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٠، ٢١٨، ٢٥٩) (صحیح )
642Sunan Abu Dawood

دوپٹہ کے بغیر عورت کی نماز درست نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ، وَقَالَ لِي: شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا، فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ طلحہ ؓ کی والدہ صفیہ ؓ کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ ﷺ نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کرلو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ ؓ کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہوچکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔

Muhammad said: Aisha (RA) came to Sufiyyah Umm Talhat al-Talhat and seeing her daughter she said: The Messenger of Allah ﷺ entered (into the house) and there was a girl in my apartment. He gave his lower garment (wrapper) to me and said; tear it into two pieces and give one-half to this (girl) and the other half to the girl with Umm Salamah. I think she has reached puberty, or (he said) I think have reached puberty. Abu Dawud said: Hisham has narrated it similarly from Muhammad bin sirin.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٦، ٢٣٨) (ضعیف) (ابن سیرین اور عائشہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
643Sunan Abu Dawood

سدل کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْعَطَاءٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِسْلٌ،عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل ١ ؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade trailing garments during prayer and that a man should cover his mouth. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Isi on the authority of Ata from Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade trailing garments during prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: سدل یہ ہے کہ کپڑے کے دونوں کنارے دونوں مونڈھوں پر ڈالے بغیر یوں ہی نیچے کی جانب لٹکتا چھوڑ دیا جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٦١ (٣٧٨)، مسند احمد (٢/٢٩٥، ٣٤٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٤ (١٤١٩) (حسن )
644Sunan Abu Dawood

سدل کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ١ ؎۔

Ibn Juraij said; I often saw Ata praying while letting his garment trail. Abu Dawud said: This (practice of Ata) weakens the tradition (narrated by Abu Hurairah).

Notes · وضاحت
١ ؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: الحجة فيما روى، لا فيما رأى نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہوگیا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود (صحیح )
645Sunan Abu Dawood

سدل کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے شعار یا لحاف ١ ؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: شعرنا کہا، یا: لحفنا ) ۔

Aishah said; The Messenger of Allah ﷺ would not pray on our sheets of cloth or on our quits. Ubaid allah said: My father doubted.

Notes · وضاحت
١ ؎: جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
Takhrij · تخریج
انظر حديث رقم: 367، (تحفة الأشراف: ١٦٢٢١، ١٧٥٨٩، ١٩٢٩٦) (صحیح )
646Sunan Abu Dawood

بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي: مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي: مَغْرَزَ ضَفْرِهِ.

ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے غلام ابورافع ؓ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی ؓ کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔

Narrated Abu Rafi (RA) : Saeed ibn Abu Saeed al-Maqburi reported on the authority of his father that he saw Abu Rafi the freed slave of the Prophet ﷺ , passing by Hasan ibn Ali (Allah be pleased with them) when he was standing offering his prayer. He had tied the back knot of his hair. Abu Rafi untied it. Hasan turned to him with anger, Abu Rafi said to him: Concentrate on your prayer and do not be angry: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This is the seat of the devil, referring to the back knot of the hair.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامةالصلاة ١٦٧ (١٠٤٢)، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (حسن )
647Sunan Abu Dawood

بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث ؓ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ: اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Kurayb the freed slave of Ibn Abbas reported: Abdullah ibn Abbas saw Abdullah ibn al-Harith praying having the back knot of the hair. He stood behind him and began to untie it. He remained standing unmoved (stationary). When he finished his prayer he came to Ibn Abbas and said to him: What were you doing with my head? He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A man who prays with the black knot of hair tied is the one praying pinioned.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٢)، سنن النسائی/التطبیق ٥٧ (١١١٥)، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢١) (صحیح )
648Sunan Abu Dawood

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔

Narrated Abdullah ibn as-Saib: I saw the Prophet ﷺ praying on the day of the conquest of Makkah and he had placed his shoe at his left side.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨)، والقبلة ٢٥ (٧٧٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٥ (١٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح )
649Sunan Abu Dawood

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا، أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَحَذَفَ فَرَكَعَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ.

عبداللہ بن سائب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورة مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ ﷺ موسیٰ ١ ؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصے پر پہنچے (راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے) تو آپ ﷺ کو کھانسی آگئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب ؓ (سابقہ حدیث کے راوی) اس وقت وہاں موجود تھے ٢ ؎۔

Abdullah bin al-Saib said; the Messenger of Allah ﷺ led us in the morning prayer at Makkah. He began to recite Surah al-Mu;minin and while he came to description of Moses and Aaron or the description of Moses and Jesus the narrator Ibn Abbad doubts or other narrators differed amongst themselves on this word the prophet ﷺ coughed and gave up (recitation) and then bowed Abdullah bin al-Saib was present seeing all this incident.

Notes · وضاحت
١ ؎: موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر: ثم أرسلنا موسیٰ وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين (سورۃ المومنون: ٤٥) میں ہے، اور عیسیٰ کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد: وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين (سورۃ المؤمنون: ٥٠) میں ہے۔ ٢ ؎: اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦(٧٧٤ تعلیقاً )، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٥)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح )
650Sunan Abu Dawood

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ ؟ قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ: أَذًى، وَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ ﷺ کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: قذرا کہا، یا: أذى کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : While the Messenger of Allah ﷺ was leading his Companions in prayer, he took off his sandals and laid them on his left side; so when the people saw this, they removed their sandals. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he asked: What made you remove your sandals? The replied: We saw you remove your sandals, so we removed our sandals. The Messenger of Allah ﷺ then said: Gabriel came to me and informed me that there was filth in them. When any of you comes to the mosque, he should see; if he finds filth on his sandals, he should wipe it off and pray in them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٠، ٩٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٣ (١٤١٨)، (صحیح )
651Sunan Abu Dawood

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ: فِيهِمَا خَبَثٌ، قَالَ: فِي الْمَوْضِعَيْنِ خَبَثًا.

بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث (مرسلاً ) روایت کی ہے، اس میں لفظ: فيهما خبث ہے، اور دونوں جگہ خبث ہی ہے۔

This tradition has also been transmitted through a chain by Bakr bin Abdullah. This version has the word Khubuth (filth) and in two places the word Khubuthan (filth).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٤٣٦٢) (صحیح )
652Sunan Abu Dawood

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں ۔

Narrated Aws ibn Thabit al-Ansari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Act differently from the Jews, for they do not pray in their sandals or their shoes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٠) (صحیح )