ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے (اتار کر) نہ داہنی طرف رکھے اور نہ بائیں طرف، کیونکہ یہ دوسری مصلی کا داہنا ہے، سوائے اس کے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو اور چاہیئے کہ وہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When any of you prays, he should not place his sandals on his right side or on his left so as to be on the right side of someone else, unless no one is at his left, but should place them between his feet.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٥) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے،چاہیے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when any of you prays and takes off his sandals, he should not harm anyone by them. He should place them between his feet or pray with them on
عبداللہ بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور حائضہ ہوتی، جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا، آپ ﷺ چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
Maimunah bint al-Harith reported: the Messenger of Allah ﷺ used to pray while. I was by his side in the state of menstruation. Sometime his cloth would touch me when he prostrated. He would pray on a small mat.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٣٠ (٣٣٣)، والصلاة ١٩ (٣٧٩)، ٢١ (٣٨١)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٥١٣)، سنن النسائی/المساجد ٤٤ (٧٣٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠١ (١٤١٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں۔ وہ بھاری بھر کم تھے بھی، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا: آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا، رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔
Anas bin Malik (RA) reported: A man from the Ansar said: I am a corpulent man-and he was (actually) a fat man; I cannot pray along with you. He prepared food for him and invited him to his house. (he said) (please) pray (here) so that I may see how you pray, and then I would follow you. They (the people) washed one side of their mat. He (the prophet) then got up and prayed two Rak’ahs. Ibn al-Jarud asked Anas bin Malik (RA) : would he (the prophet) say the forenoon prayer? He replied: I did not see him offering this prayer except that day.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤١ (٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٠، ١٣١، ١٨٤، ٢٩١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ام سلیم ؓ کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔
Anas bin Malik (RA) said; the prophet ﷺ used to visit Umm Sulaim. Sometimes the time for prayer would come and he would pray on out carpet that was really a mat. She (Umm Sulaim) used to wash it with water.
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray on a mat and on a tanned skin.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٥٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٤) (ضعیف) (یونس بن الحارث ضعیف ہیں اور ابوعون کے والد عبیداللہ بن سعید ثقفی مجہول ہیں، نیز مغیرہ ؓ سے ان کی روایت منقطع ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہیں ٹیک پاتا تھا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔
Anas bin Malik (RA) said: we used to pray along with the Messenger of Allah ﷺ in intense heat. When any of us could not rest his face on bare ground while prostrating due to intense heat he spread his cloth and would prostrate on it.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥)، والمواقیت ١١ (٥٤٢)، والعمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠)، سنن الترمذی/الجمعة ٥٨ (٥٨٤)، سنن النسائی/ الکبری التطبیق ٥٧ (٧٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٤ (١٠٣٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس کرتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
Jabir bin Samurah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Why do you stand in rows as the angels do in the presence of their Lord? We asked: how do the angles stand in rows in the presence of their Lord? He replied: they make the first row complete and keep close together in the row.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٤٣٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٠ (٩٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٠١، ١٠٦) (صحیح )
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو۔ یہ (جملہ آپ نے تاکید کے طور پر) تین بار کہا۔ اللہ کی قسم تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں پھوٹ ڈال دے گا ، نعمان بن بشیر کہتے ہیں: تو میں نے آدمی کو اپنے ساتھی کے مونڈھے سے مونڈھا، گھٹنے سے گھٹنا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتے دیکھا۔
Al-Numan bin Bashir said: the Messenger of Allah ﷺ paid attention to the people and said three times; straighten your rows (in prayer); by Allah, you must straighten your rows, or Allah will certainly put your faces in contrary directions. I then saw that every person stood in prayer keeping his shoulder close to that of the other, and his knee close to that of the other, and his ankle close to that of the other.
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہماری صفیں درست کیا کرتے تھے، جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں (اور یہ سلسلہ برابر جاری رہا) یہاں تک کہ آپ کو یقین ہوگیا کہ ہم نے اسے آپ سے خوب اچھی طرح سیکھ اور سمجھ لیا ہے، تو ایک روز آپ متوجہ ہوئے، اتنے میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا سینہ صف سے آگے نکالے ہوئے ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں برابر رکھو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ۔
Al-Numan bin Bashir said: the prophet ﷺ used to straighten us in the rows of prayer as the arrow is straightened, until he thought that we had learned it from him and understood it. One day he turned towards us, and shoulders in order, and say; Do not be irregular. And he would say: Allah and his Angels bless those who near the first rows.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٥ (٢٢٧)، سنن النسائی/الإمامة ٢٥ (٨١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٠ (٩٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفوں کے اندر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے اور ہمارے سینوں اور مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے (یعنی ہمارے سینوں اور مونڈھوں کو برابر کرتے تھے) ، اور فرماتے تھے: (صفوں سے) آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دل مختلف ہوجائیں گے ، آپ ﷺ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: The Messenger of Allah ﷺ used to pass through the row from one side to the other; he used to set out chests and shoulders in order, and say: Do not be irregular. And he would say: Allah and His angels bless those who are near the first rows.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأذان ١٤ (٦٤٧)، والإمامة ٢٥ (٨١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥١ (٩٩٣)، مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٨٥، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤)، دی/الصلاة ٤٩(١٢٩٩) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں درست فرماتے، پھر جب ہم لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ الله أكبر کہتے۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: The Messenger of Allah ﷺ used to straighten our rows when we stood up to pray, and when we were straight, he said: Allah is most great (takbir).
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ (قتیبہ کی روایت میں جسے انہوں نے ابوزاہریہ سے، اور ابوزاہریہ نے ابوشجرہ (کثیر بن مرہ) سے روایت کیا ہے، ابن عمر کا ذکر نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنی صفیں درست کرو، اور اپنے کندھے ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اور (صفوں کے اندر کا) شگاف بند کرو، اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لیے خالی جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو شخص صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لينوا بأيدي إخوانکم کا مطلب ہے کہ جب کوئی شخص صف کی طرف آئے اور اس میں داخل ہونا چاہے تو ہر ایک کو چاہیئے کہ اس کے لیے اپنے کندھے نرم کر دے یہاں تک کہ وہ صف میں داخل ہوجائے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Set the rows in order, stand shoulder to shoulder, close the gaps, be pliant in the hands of your brethren, and do not leave openings for the devil. If anyone joins up a row, Allah will join him up, but if anyone breaks a row, Allah will cut him off. Abu Dawud said: The name of Abu Shjrah is Kathir bin Murrah.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٣١ (٨٢٠)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٠، ١٩٢٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Stand close together in your rows, bring them near one another, and stand neck to neck, for by Him in Whose hand my soul is, I see the devil coming in through openings in the row just like a small black sheep.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٦٠، ٢٨٣) (صحیح )
صاحب مقصورہ محمد بن مسلم بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز انس بن مالک ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، تو انہوں نے کہا: کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کا علم نہیں، انس نے کہا: رسول اللہ ﷺ اس پر اپنا ہاتھ رکھتے تھے، اور فرماتے تھے: برابر ہوجاؤ، اور اپنی صفیں سیدھی رکھو ۔
Muhammad bin Muslim bin al-Saib said: one day I prayed by the side of Anas bin Malik (RA) . He said ; Do you know why this stick is placed here ? I said: No, by Allah. He said; The Messenger of Allah ﷺ used to put his hand upon it and say: Keep straight and straighten your rows.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٥٤) (ضعیف) (مصعب اور محمد بن مسلم دونوں ضعیف ہیں )
اس سند سے بھی انس ؓ سے یہی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو اپنے داہنے ہاتھ سے پکڑتے، پھر (نمازیوں کی طرف) متوجہ ہوتے، اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ، اپنی صفیں درست کرلو ، پھر اسے بائیں ہاتھ سے پکڑتے اور فرماتے: سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں درست کرلو ۔
This tradition has also ben transmitted by Anas through a different chain of transmitters. This version goes: when the Messenger of Allah ﷺ stood for prayer, he took it (the stick) in his right hand and turning (to the right side) said; keep straight and straighten your rows. He then took it in his left hand and said; keep straight and straighten your rows.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٧٤) (ضعیف) (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Complete the front row, then the one that comes next, and if there is any incompleteness, let it be in the last row.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٣٠ (٨١٩)، (تحفة الأشراف: ١١٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٢، ٢١٥، ٢٣٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: The best of you are those whose shoulders are soft in prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صفیں درست کرنے کے لئے مصلیوں کو اگر کوئی آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے ہٹاتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نماز میں سکون و اطمینان کا پورا خیال کرتے ہیں، ادھر ادھر نہیں دیکھتے، اور نہ کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ صفوں کے درمیان شگاف کو بند کرنے کے لئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے صف کے بیچ میں آ کر کوئی داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے داخل ہوجانے دیتے ہیں اس سے مزاحمت نہیں کرتے۔