نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 15 of 55

673Sunan Abu Dawood

ستونوں کے بیچ میں صف قائم کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی (جگہ کی تنگی اور ہجوم کے سبب سے) ہم ستونوں کے بیچ میں کھڑے ہونے پر مجبور کردیئے گئے، تو ہم آگے پیچھے ہونے لگے، اس پر انس نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے ١ ؎۔

Narrated AbdulHamid ibn Mahmud (RA) : I offered the Friday prayer along with Anas ibn Malik. We were pushed to the pillars (due to the crowd of people). We, therefore, stopped forward and backward. Anas then said: We used to avoid it (setting a row between the pillars) during the time of the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے سے بچتے تھے کیونکہ اس سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٥ (٢٢٩)، سنن النسائی/الإمامة ٣٣ (٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣١) (صحیح )
674Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَي سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔

Abu Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: let those of your who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن النسائی/الإمامة ٢٣ (٨٠٨)، ٢٦ (٨١٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢) (صحیح )
675Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہوجائے گا، اور تم (مسجدوں میں) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو ۔

This tradition has also been transmitted by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators. This version adds: “Do not be irregular, so have your hearts irregular, and beware of tumult such as found in market”.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٤ (٢٢٨)، (تحفة الأشراف: ٩٤١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٣) (صحیح )
676Sunan Abu Dawood

امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Allah and His angels bless those who are on the right flanks of the rows.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٥ (١٠٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٧، ٨٩، ١٦٠)، (حسن) بلفظ: ” على الذين يصلون الصفوف “۔
677Sunan Abu Dawood

صف میں بچے کہاں کھڑے ہوں

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، حَدَّثَنَاشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: صَلَاةُ أُمَّتِي.

عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری ؓ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک ؓ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (میری امت کی) نماز اسی طرح ہے ۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے میری امت کی نماز فرمایا۔

Narrated Abu Malik al-Ashari (RA) : Should I not tell you how the Messenger of Allah ﷺ led the prayer? He said: He had the iqamah announced, drew the men up in line and drew up the youths behind them, then led them in prayer. He then mentioned how he conducted it. and said: Thus is the prayer of. . . . . . AbdulAla said: I think he must have said: My people.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤١، ٣٤٣، ٣٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں )
678Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر پہلی صف، اور سب سے بری آخری صف ہے، اور عورتوں کی ١ ؎ سب سے بہتر آخری صف، سب سے بری پہلی صف ہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: the best of the men’s row is the first and the worst of them is the last, but the best of the women’s rows is the last and the worst of them is the first.

Notes · وضاحت
١ ؎: مراد وہ عورتیں ہیں جو مردوں کے ساتھ نماز پڑھ رہی ہوں، رہیں وہ عورتیں جو مردوں سے الگ پڑھ رہیں ہوں تو ان کی بھی سب سے بہتر صف پہلی ہی صف ہوگی اور سب سے بری آخری صف ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٤٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٢ (٢٢٤)، سنن النسائی/الإمامة ٣٢ (٨٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٢ (١٠٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣٧، ١٢٥٨٩، ١٢٥٩٦، ١٢٧٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧، ٣٣٦، ٣٤٠، ٣٦٦، ٤٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٢ (١٣٠٤) (صحیح )
679Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو جہنم میں پیچھے ڈال دے گا ١ ؎۔

Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying the people will continue to keep themselves away from the front row until Allah will keep them away (from the front) in the Hell-fire.

Notes · وضاحت
١ ؎: وہاں عذاب کی شدت زیادہ ہوگی بہ نسبت آگے کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٦) (صحیح) (حدیث میں واقع لفظ في النار کے ثبوت میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ٥١٠، وتراجع الالبانی: ١٤٦ )
680Sunan Abu Dawood

عورتوں کی ص

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ لَهُمْ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کرام ؓ کو پہلی صف سے پیچھے رہتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: آگے آؤ اور میری پیروی کرو، اور تمہارے پیچھے جو لوگ ہیں وہ تمہاری پیروی کریں، کچھ لوگ ہمیشہ پیچھے رہا کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں پیچھے ڈال دے گا ١ ؎۔

Abu Saeed Al-Khudri said; The Messenger of Allah ﷺ saw a tendency among his companions to go to the back. He said to them; come forward and follow my lead, and let those who come after you follow your lead people will continue to keep to the back till Allah would put them at the back.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت و فضل عظیم، اور بلند مرتبہ سے پیچھے کر دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٨)، سنن النسائی/الإمامة ١٧ (٧٩٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩، ٣٤، ٥٤) (صحیح )
681Sunan Abu Dawood

امام صف کے آگے کہاں کھڑا ہو؟

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَسَمِعَتْهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Have the imam in the centre and close up the gaps.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٦٠٠) (ضعیف) (لیکن حدیث میں واقع دوسرا جملہ وسدوا الخلل صحیح ہے) (یحییٰ بن بشیر کی والدہ مجہول ہیں )
682Sunan Abu Dawood

صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الصَّلَاةَ.

وابصہ بن معبد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اسے (نماز) لوٹانے کا حکم دیا۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں ہے نماز کو لوٹانے کا حکم دیا ١ ؎۔

Narrated Wabisah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a man praying alone behind the row. He ordered him to repeat. Sulayman ibn Harb said: The prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی نماز ظاہر حدیث کی رو سے فاسد ہے، یہی قول ابراہیم نخعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، مالک، اوزاعی اور شافعی کا کہنا ہے کہ اس کی نماز درست ہے، اور یہی قول اصحاب الرای کا بھی ہے ان لوگوں نے اس حدیث کی تاویل یہ کی ہے کہ اعادہ کا یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥٨ (٢٣٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥٤ (١٠٠٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٤/٢٢٧، ٢٢٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٣) (صحیح )
683Sunan Abu Dawood

امام کو رکوع میں جاتے ہوئے دیکھ کر صف میں داخل ہونے سے پہلے رکوع کرنا

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ.

ابوبکرہ ؓ کا بیان ہے کہ وہ مسجد میں آئے اور اللہ کے نبی کریم ﷺ رکوع میں تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا، تو نبی اکرم ﷺ نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: اللہ تمہارے شوق کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔

Abu Bakrah said that he came to the mosque when the prophet ﷺ was bowing. So I bowed outside the row (before joining it). The prophet ﷺ said; May Allah increase your eagerness! But do not do it again.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١٤ (٧٨٣)، سنن النسائی/الإمامة ٦٣ (٨٧٢)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٩، ٤٢، ٤٥، ٤٦، ٥٠) (صحیح )
684Sunan Abu Dawood

امام کو رکوع میں جاتے ہوئے دیکھ کر صف میں داخل ہونے سے پہلے رکوع کرنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زِيَادٌ الْأَعْلَمُ زِيَادُ بْنُ فُلَانِ بْنِ قُرَّةَ وَهُوَ ابْنُ خَالَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ الله.

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے، جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟ ، ابوبکرہ نے کہا: میں نے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص کو بڑھائے، آئندہ ایسا نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زياد الأعلم سے مراد زیاد بن فلاں بن قرہ ہیں، جو یونس بن عبید کے خالہ زاد بھائی ہیں۔

Al-Hasan reported: Abu Bakrah came when the Messenger of Allah ﷺ was bowing. So he bowed without the row (before joining it). He then went to the row. When the prophet ﷺ finished his prayer, he said: which of your bowed without the row, and then went to the row? Abu Bakrah said; it was i. the prophet ﷺ said: May Allah increase your eagerness! but do not do it again.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٩) (صحیح )
685Sunan Abu Dawood

سترہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ.

طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے (اونٹ کے) کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لی تو پھر تمہارے سامنے سے کسی کا گزرنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔

Talhah bin Ubaid Allah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When you place in front of you something such as the back of a saddle, then there is no harm if someone passes in front of you (i. e. the other side of it).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٤٩٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٨ (٣٣٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٠)، (تحفة الأشراف: ٥٠١١) وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦١، ١٦٢) (صحیح )
686Sunan Abu Dawood

سترہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَآخِرَةُ الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ.

عطاء (عطاء بن ابی رباح) کہتے ہیں کجاوہ کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کی یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔

Ata said: The back of the saddle is (about) one cubit (in height) or more than that.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٦٣) (صحیح )
687Sunan Abu Dawood

سترہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن نکلتے تو برچھی (نیزہ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ ﷺ کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔

Ibn Umar said: When the Messenger of Allah ﷺ would go out (for prayer) on the day ofEidd, he ordered to bring a lance, it was then setup in front of him and he would pray in its direction, and the people (stood) behind him. He used to do so during journey ; hence the rulers would take it (lance with them).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٩٠ (٤٩٤)، والعیدین ١٣ (٩٧٢)، ١٤ (٩٧٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠١)، تحفةالأشراف (٧٩٤٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین ٩ (١٥٦٦)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٦٤ (١٣٠٥)، مسند احمد (٢/٩٨، ١٤٢، ١٤٥، ١٥١)، سنن الدارمی/ الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
688Sunan Abu Dawood

سترہ کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ خَلْفَ الْعَنَزَةِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے سامنے برچھی (بطور سترہ) تھی، اور برچھی کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے تھے۔

Abu Juhaifah said: The Prophet ﷺ led them in prayer at al-Batha, with a staff set up in front of him. (He prayed) two rakahs of the Zuhr prayer and two rakahs of the Asr prayer. The women and the donkeys would pass in front of the staff.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٠ (١٨٧)، والصلاة ١٧ (٣٧٦)، ٩٣ (٤٩٥)، ٩٤ (٤٩٩)، والمناقب ٢٣ (٣٥٥٣)، واللباس ٣ (٥٧٨٦)، ٤٢ (٥٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨١٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٢٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٠٣ (١٣٧)، والأذان ١٣ (٦٤٤)، والزینة ١٢٣ (٣٥٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١١)، مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٥)، ١٢٤ (١٤٤٩) (صحیح )
689Sunan Abu Dawood

جب سترہ کے لئے لکڑی نہ ہو تو زمین پر لکیر کھینچ لیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے، تو اپنے آگے (بطور سترہ) کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر (خط) کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays, he should put something in front of his face, and if he can find nothing, he should set up his staff; but if he has no staff, he should draw a line; then what passes in front of him will not harm him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٠)، وقد أخرجہ: حم ( ٢/٢٤٩، ٢٥٤، ٢٦٦) (ضعیف) (اس حدیث کے روای ابوعمرو اور ان کے دادا حریث کے ناموں میں بڑا اختلاف ہے، نیز یہ دونوں مجہول راوی ہیں، آگے مؤلف اس کی تفصیل دے رہے ہیں )
690Sunan Abu Dawood

جب سترہ کے لئے لکڑی نہ ہو تو زمین پر لکیر کھینچ لیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ،عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَطِّ، قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ نَجِدْ شَيْئًا نَشُدُّ بِهِ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَجِئْ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا أَحْفَظُ إِلَّا أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ سُفْيَانُ: قَدِمَ هَاهُنَا رَجُلٌ بَعْدَ مَا مَاتَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَطَلَبَ هَذَا الشَّيْخُ أَبَا مُحَمَّدٍ حَتَّى وَجَدَهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ فَخَلَطَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ سُئِلَ عَنْ وَصْفِ الْخَطِّ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: هَكَذَا عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وسَمِعْت مُسَدَّدًا، قَالَ: قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: الْخَطُّ بِالطُّولِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ غير مرة، فقال هكذا يعني بالعرض حورا دورا مثل الهلال، يعني منعطفا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا، پھر سفیان نے لکیر کھینچنے کی حدیث بیان کی۔ سفیان کہتے ہیں: ہمیں کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے اس حدیث کو تقویت مل سکے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں: میں نے سفیان سے پوچھا: لوگ تو ابو محمد بن عمرو بن حریث کے نام میں اختلاف کرتے ہیں؟ تو سفیان نے تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد کہا: مجھے تو ان کا نام ابو محمد بن عمرو ہی یاد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ کی وفات کے بعد ایک شخص یہاں (کوفہ) آیا، اور اس نے ابو محمد کو تلاش کیا یہاں تک کہ وہ اسے ملے، تو اس نے ان سے اس (حدیث خط) کے متعلق سوال کیا، تو ان کو اشتباہ ہوگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، آپ سے متعدد بار لکیر کھینچنے کی کیفیت کے بارے میں پوچھا گیا: تو آپ نے کہا: وہ اس طرح ہلال کی طرح چوڑائی میں ہوگی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور میں نے مسدد کو کہتے سنا کہ ابن داود کا بیان ہے کہ لکیر لمبائی میں ہوگی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل (رح) سے لکیر کی کیفیت کے بارے میں متعدد بار سنا، انہوں نے کہا: اس طرح یعنی چوڑائی میں چاند کی طرح محور اور مدور یعنی مڑا ہوا۔

This tradition has also been reported by Abu Hurairah through a different chain of narrators. Abu Hurairah reported: The Prophet ﷺ said: . . . . . . He then narrated the tradition about drawing the line. Sufyan said: We did not find anything by which we could reinforce this tradition, and this has been narrated only through this chain. He (Ali bin al-Madini, a narrator) said: I said to Sufyan: There is a difference of opinion of the name (Abu Muhammad bin Amr). He pondered for a moment and then said: I do not remember except Abu Muhammad bin Amr Sufyan said: A man had come to Kufah after the death of Ismail bin Umayyah ; he was seeking Abu Muhammad until he found him. He asked him (about this tradition) but he became confused. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal who was questioned many times how the line should be drawn. He replied: In this way. horizontally like crescent. Abu Dawud said: I heard Musaddad say: Ibn Dawud said: The line should be drawn perpendicularly. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal describing many times how the line should be drawn. He said: In this way horizontally in the round semi-circular form like the crescent, that is (the line should be) a curve.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٠) (ضعیف) (مذکورہ سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے )
691Sunan Abu Dawood

جب سترہ کے لئے لکڑی نہ ہو تو زمین پر لکیر کھینچ لیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ.

سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔

Sufyan bin Uyainah said: I saw Sharik who led us in the Asr prayer during a funeral ceremony. He placed his cap in front of him, that is, for saying the obligatory prayer the time of which had come.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (صحیح )
692Sunan Abu Dawood

اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے اونٹ کو قبلہ کی طرف کر کے اس کی آڑ میں نماز پڑھتے تھے۔

Ibn Umar said: The Prophet ﷺ used to pray facing his camel.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤٩ (٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ٧٩٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٥٠ (٤٣٠)، مسند احمد (٢/١٠٦، ١٢٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٦ (١٤٥٢) (صحیح )