مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں میں نے جب بھی رسول اللہ ﷺ کو کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا، تو آپ اسے اپنے داہنے ابرو یا بائیں ابرو کے مقابل کئے ہوتے، اسے اپنی دونوں آنکھوں کے بیچوں بیچ میں نہیں رکھتے ١ ؎۔
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad (RA) : I never saw the Messenger of Allah ﷺ praying in front of a stick, a pillar, or a tree, without having it opposite his right or left eyebrow, and not facing it directly.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ بت پرستوں سے مشابہت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤) (ضعیف) (اس کے رواة میں ولید لین الحدیث اور مہلب اور ضباعہ مجہول ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not pray behind a sleeping or a talking person.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ ( ٩٥٩ )، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٨ ) (حسن) (اس حدیث میں عبدالملک و عبداللہ بن یعقوب دونوں مجہول، اور عبداللہ کے شیخ مبہم ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل حدیث نمبر: ٣٧٥، و صحیح ابی داود: ٣؍٦٩١)
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے واقد بن محمد نے صفوان سے، صفوان نے محمد بن سہل سے، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے، یا (بغیر اپنے والد کے واسطہ کے) نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد ؓ سے، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔
Narrated Sahl ibn AbuHathmah (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you prays facing a sutrah he should keep close to it, and not let the devil interrupt his prayer. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Waqid bin Muhammad from Safwan from Muhammad bin Sahl on the authority of his father, or on the authority of Muhammad bin Sahl from the Prophet ﷺ . Some have narrated it from Nafi bin Jubair on the authority of Sahl bin Saad. There is a variation in the chain of its narrators.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلة ٥ (٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢) (صحیح )
سہل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے کھڑے ہونے کی جگہ اور قبلہ (کی دیوار) کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کے بقدر جگہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ نفیلی کے ہیں۔
Sahl said: The distance between the place where the Prophet ﷺ stood and the qiblah (i. e. the sutrah or the wall of the mosque) was as much as to allow a goat to pass.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کرے (یعنی سختی سے روکے) کیونکہ وہ شیطان ہے ١ ؎۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you prays, he should not let anyone pass in front of him; he should turn him away as far as possible; but if he refuses (to go), he should fight him, for he is only a devil.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شیطانوں کا سا کام کر رہا ہے روکنے سے بھی نہیں مانتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٩ (٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٤١١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٠(٣٣)، مسند احمد (٣/٣٤، ٤٣، ٤٤، ٤٩، ٥٧، ٩٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو کسی سترے کی طرف منہ کر کے پڑھے، اور اس سے قریب رہے ۔ پھر ابن عجلان نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you prays, he should pray facing the sutrah (screen or covering) and he should keep himself close to it. He then narrated the tradition to the same effect.
سلیمان بن عبدالملک کے دربان ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء بن زید لیثی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے دیکھا، تو میں ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے مجھے واپس کردیا، پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) کہا: ابو سعید خدری ؓ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص طاقت رکھے کہ کوئی شخص اس کے اور قبیلہ کے بیچ میں حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے (یعنی سامنے سے گزرنے والے کو روکے) ۔
Abu Ubaid said: I saw Ata bin Yazid al-Laithi praying in a standing posture. So I went to him passing in front of him; he, therefore, turned me away. He then said to me: Abu Saeed al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone of you can do that he should not let anyone pass between him and the qiblah, he should do it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤١٥٩) (حسن صحیح )
ابوصالح کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری ؓ کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا اور سنا، وہ تم سے بیان کرتا ہوں: ابو سعید خدری ؓ مروان کے پاس گئے، تو عرض کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو (جسے وہ لوگوں کے لیے سترہ بنائے) سامنے کر کے نماز پڑھے، پھر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ سینہ پر دھکا دے کر اسے ہٹا دے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے (یعنی سختی سے دفع کرے) کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا بیان ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور کوئی آدمی میرے سامنے سے اتراتے ہوئے گزرتا ہے تو میں اسے روک دیتا ہوں، اور کوئی ضعیف العمر کمزور گزرتا ہے تو اسے نہیں روکتا۔
Abu Salih said: I narrate what I witnesses from Abu Saeed and heard from him. Abu Saeed entered upon Marwan and said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When one of you prays facing any object which conceals him from people, and someone wishes to pass in front of him, he should strike him at his chest; if he refuses (to go), he should fight him; he is only a devil. Abu Dawud said: Sufyan Ath-Thawri said: A person arrogantly walks in front of me while I am praying, so I stop him, and a weak person passes, so I dont stop him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٣) (صحیح )
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی ؓ نے انہیں ابوجہیم ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے سامنے سے گزرنے والا یہ جان لے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے، تو اس کو مصلی کے سامنے گزرنے سے چالیس (دن یا مہینے یا سال تک) وہیں کھڑا رہنا بہتر لگتا ۔ ابونضر کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے چالیس دن کہا یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔
Narrated Abu Juhaim: The Messenger of Allah ﷺ as saying: If one who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would prefer to stand still for forty. . . rather than pass in front of him. Abu al-Nadr said: I do not know whether he said forty days, or months, or years. Abu Dawud (RA) : Sufyan al-Thawri said: If a man passes proudly in front of me while I am praying, I shall stop him, and if a weak man passes, I shall not stop him.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٩ (٣٣٦)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٧ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٦) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر ؓ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ١ ؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
Hafs reported that the Messenger of Allah ﷺ as saying, and the other version of this tradition transmitted through a different chain has: Abu Dharr said (and not the Prophet): If there is not anything like the back of a saddle in front of a man who is praying, then a donkey, a black dog, and a woman cut off his prayer. I asked him: Why has the black dog been specified, distinguishing it from a red, a yellow and a white dog? He replied: My nephew, I also asked the Messenger of Allah ﷺ the same question as you asked me. He said: The black dog is a devil.
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤١ (٣٣٨)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥١، ١٥٥، ١٦٠، ١٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے) : نماز حائضہ عورت اور کتا (مصلی کے سامنے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Qatadah said: I heard Jabir ibn Zayd who reported on the authority of Ibn Abbas; and Shubah reported the Prophet ﷺ as saying: A menstruating woman and a dog cut off the prayer. Abu Dawud said: Saeed, Hisham and Hammam narrated this tradition from Qatadah on the authority of Jabir bin Zaid as a statement of Ibn Abbas.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/القبلہ ٧ (٧٥٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٤٩)، مسند احمد (١/٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہوجاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے) ، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ikrimah reported on the authority of Ibn Abbas, saying: I think the Messenger of Allah ﷺ said: When one of you prays without a sutrah, a dog, an ass, a pig, a Jew, a Magian, and a woman cut off his prayer, but it will suffice if they pass in front of him at a distance of over a stones throw. Abu Dawud said: There is something about this tradition in my heart. I used to discuss it with Ibrahim and others. I did not find anyone who narrated it from Hisham and knew it. I did not know anyone who reported it from Hisham and knew it. I did not know anyone who related it from Hisham. I think the confusion is on the part of Ibn Abi Saminah that is, Muhammad bin Ismail al-Basri, the freed slave of Banu Hisham. In this tradition the mention of words a Magian is rejected; the mention of the words at a stones throw and a pig is rejected. Abu Dawud said: I did not hear this tradition except from Muhammad bin Ismail bin Samurrah and I think he was mistaken because he used to narrate to us from his memory.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٥) (ضعیف) (ابن أبی سمینہ ثقہ راوی ہیں، ممکن ہے یحییٰ بن أبی کثیر سے وہم واقع ہوا ہو، نیز یحییٰ مدلس ہیں، ممکن ہے تدلیس سے کام لے کر موقوف کو أحسبہ کے ذریعہ مرفوع بنادیا ہو، ابن عباس ؓ پر موقوفاً یہ روایت صحیح ہے )
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔
Yazid bin Namran said: I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet ﷺ who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٤، ٥/٣٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں )
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی ۔
This tradition as also been reported by Saeed through the same chain of narrators and to the same effect. He added: He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. Abu Dawud said: This version narrated by Mushir on the authority of Saeed has: He cut off our prayer.
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ ﷺ تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے ، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے ، چناچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہوسکا۔
Saeed bin Ghazwan reported on the authority of his father that he made his stay at Tabuk (during his journey) for performing Hajj. All of a sudden he saw a crippled man and asked him about his condition. He said: I relate to you a tradition, but do not narrate it to anyone so long as I am alive: The Messenger of Allah ﷺ encamped at Tabuk near a date-palm and he said: This is our qiblah (direction for praying). He then offered prayer facing it. I came running, when I was a boy, until I passed the place between him and the tree. He said (cursing): He cut off our prayer, may Allah cut off his walking. I could not, therefore, stand upon them (feet) till today.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن غزوان مجہول ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اذاخر ١ ؎ کی گھاٹی میں اترے تو نماز کا وقت ہوگیا، آپ ﷺ نے ایک دیوار کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آ کر آپ ﷺ کے سامنے سے گزرنے لگا، تو آپ اسے دفع کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا پیٹ دیوار میں چپک گیا، وہ سامنے سے نہ جاسکے، آخر وہ آپ ﷺ کے پیچھے سے ہو کر چلا گیا، مسدد نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Amr bin Shuaib reported from his father on the authority of his grand-father: We came down from the mountain pass of Adhaakhir in the company of the Messenger of Allah ﷺ . The time of prayer came and he prayed facing a direction of prayer, and we were (standing) behind him. Then a kid came and passed in front of him. He kept on stopping it until he brought his stomach near the wall (to detain it), and at last it passed behind him, or as Musaddad said.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨١١، ألف)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٩٦) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے وأنا حائض اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I was sleeping in front of the Prophet ﷺ with my legs between him and the qiblah. Shubah said: I think she said: I was menstruating. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Zuhri, Ata, Abu Bakr bin Hafs, Hisham bin Urwah, Irak bin Malik, Abu al-Aswad and Tamim bin Salamah; all transmitted from Urwah on the authority of Aisha (RA) . Ibrahim narrated from al-Aswad on the authority of Aisha (RA) . Abu al-Duha narrated from Masruq on the authority of Aisha (RA) . Al-Qasim bin Muhammad and Abu Salamah narrated it from Aishah. All these narrators did not mention the words And I was menstruating.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٨٢)، ٢١ (٣٨٣)، ١٠٣ (٥١٢)، ١٠٤ (٥١٣)، والوتر ٣ (٩٩٧)، والعمل في الصلاة ١٠ (١٢٠٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، والمسافرین ١٧ (١٣٥)، سنن النسائی/القبلة ١٠ (٧٦٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٠ (٩٥٦)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١(٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣)، مسند احمد (٦/٩٤، ٩٨، ١٧٦) (صحیح) دون قولہ: وأنا حائض
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔
Urwah reported on the authority of Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray at night and she (Aishah) would lie between him and the qiblah, sleeping on the bed on which he would sleep. When he wanted to offer the witr prayer, he awakened her and she offered the witr prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠٢، ١٦٣٣٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ ﷺ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
Aishah said: I used to sleep with my legs in front of the Messenger of Allah ﷺ when he would offer his prayer at night (i. e. tahajjud prayer offered towards the end of the night. ). When he prostrated himself he struck my legs, and I drew them up and he then prostrated.